X Chenabians

X Chenabians

Share

we are those luckiest person who get the chance to be a part of aws0me institution like CHENAB COLLE like this page.

21/06/2016

Before posting your meals on social media, think of the millions in need, who can't even afford a mouthful of food. Have a heart!

03/01/2015

hey how r u all? kon kon dr ban rha hai :P aur kon kon engr :P kahn kahn ka name roshan kr rhy ho.?

05/08/2013

shab e qadir mubarik 2 all... remember me in ur prayers... :)

26/07/2013

rozy kaisy ja rhy chenabians..:D zaida piyas tw ni lagti ^SAM^

26/07/2013

اس خاتون سے ہوائی اڈے پر جہاز کے انتظار میں وقت ہی نہیں کٹ پا رہا تھا۔ کچھ سوچ کر دکان سے جا کر وقت گزاری کیلئے ایک کتاب اور کھانے کیلئے بسکٹ کا ڈبہ خریدا۔ واپس انتظار گاہ میں جا کر کتاب پڑھنا شروع کی۔ اس عورت کے ساتھ ہی دوسری کرسی پر ایک اور مسافر بیٹھا کسی کتاب کا مطالعہ کر رہا تھا۔ ان دونوں کے درمیان میں لگی میز پر رکھے بسکٹ کے ڈبے سے جب خاتون نے بسکٹ اٹھانے کیلئے ہاتھ بڑھایا تو اسے یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ اس ساتھ بیٹھے مسافر نے بھی اس ڈبے سے ایک بسکٹ اٹھا لیا تھا۔ خاتون کا غصے کے مارے برا حال ہو رہا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا، ورنہ تو وہ اُس کے منہ پر اس بے ذوقی اور بے ادبی کیلئے تھپڑ تک مارنے کا سوچ رہی تھی۔
اس کی حیرت اس وقت دو چند ہوگئی جب اس نے دیکھا کہ جیسے ہی وہ ڈبے سے ایک بسکٹ اٹھاتی وہ مسافر بھی ایک بسکٹ اٹھا لیتا۔ غصے سے بے حال وہ اپنی جھنجھلاہٹ پر بمشکل قابو رکھ پا رہی تھی۔
جب ڈبے میں آخری بسکٹ آن بچا تو اب اس کے دل میں یہ بات جاننے کی شدید حسرت تھی کہ اب یہ بد تمیز اور بد اخلاق شخص کیا کرے گا، کیا وہ اب بھی اس آخری بسکٹ کی طرف ہاتھ بڑھائے گا یا یہ آخری بسکٹ اس کیلئے رکھ چھوڑے گا؟
تاہم اس کی حیرت اپنے عروج پر جا پہنچی جب مسافر نے اس آخری بسکٹ کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آدھا خود اٹھا لیا اور آدھا اس کیلئے چھوڑ دیا تھا۔ خاتون کیلئے اس سے بڑھ کر اہانت کی گنجائش نہیں رہتی تھی۔ آدھے بسکٹ کو وہیں ڈبے میں چھوڑ کر، کتاب کو بند کرتے ہوئے، اٹھ کر غصے سے پاؤں پٹختی امیگریشن سے ہوتی ہوئی جہاز کی طرف چل پڑی۔
جہاز میں کرسی پر بیٹھ کر اپنے دستی تھیلے کو اس میں سے عینک نکالنے کیلئے کھولا تو یہ دیکھ کر حیرت سے اس کی جان ہی نکل گئی کہ اس کا خریدا ہوا بسکٹ کا ڈبہ تو جوں کا توں تھیلے میں بند رکھا ہوا تھا۔
ندامت اور شرمندگی سے اس کا برا حال ہو رہا تھا۔ اسے اب پتہ چل رہا تھا کہ وہ ہوائی اڈے پر بسکٹ اس شخص کے ڈبے سے نکال کر کھاتی رہی تھی۔
اب دیر سے اسے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ شخص کس قدر ایک مہذب اور رحمدل انسان تھا، جس نے کسی شکوے اور ہچکچاہٹ کے بغیر اپنے ڈبے سے اسے بسکٹ کھانے کو دیئے تھے۔ وہ جس قدر اس موضوع پر سوچتی اسی قدر شرمدنگی اور خجالت بڑھتی جا رہی تھی۔
اس شرمندگی اور خجالت کا اب مداوا کیا ہو سکتا تھا، اس کے پاس نا تو اتنا وقت تھا کہ جا کر اس آدمی کو ڈھونڈھے، اس سے معذرت کرے، اپنی بے ذوقی اور بے ادبی کی معافی مانگے، یا اس کی اعلٰی قدری کا شکریہ ادا کرے۔ بے چینی سے نا تو اسے مناسب الفاظ مل پارہے تھے جن سے اس شخص کو تعبیر کرتی اور سفر کی مجبوری اسے کہیں جانے نہیں دے رہی تھی۔
mOuJ

11/05/2013

kis kis ny vote cast kr lia..?? mainy tw kr lia..

10/05/2013

chenabians kal phr kis ko vote dy rhy ho...??

28/04/2013

kaisy ho guyx..?? ksa mosam hai ap ky areas me.. aur load sheding ki sunao... mri trf tw fit hai mosam..

31/01/2013

Shaam Ke Surmai Andheron Mein
Yun Mere Dil Ke Daagh Jaltay Hain

Jaisay Parbat Ke Sabz Pairron Par
Barf Ke Baad Dhoop Parti Hai

Jaisay Sehra Ki Rait Urr Urr Kar
Ajnabi Ka Tawaf Karti Hai

Door Reh Kar Jo Dil Mein Rehta Hai
Woh Situm Gar Bhi Ghair Kehta Hai

Kitni Masoom Arzoo'on Ko
Es Tarah Log Tor Jatay Hain

Jaisay Dam Tortay Musfir Ko
Qaafilay Waalay Chorr Jatay Hain

Aahain Bharta Hoon Ashk Peeta Hoon
Roz Marta Hoon Phir Bhi Jeeta Hoon

Teri Yaadon Ki Tishnagi Abb Tak
Yun Meray Dil Ko Thaam Leti Hai

Jaisay Ik Taza Qabar Par Bewa
Marnay Walay Ka Naam Leti Hai

Want your school to be the top-listed School/college in Chiniot?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chiniot