10/10/2024
سلگتے دل کے آنگن میں ہوئی خوابوں کی پھر بارش
کہیں کونپل مہک اٹھی، کہیں پتا نکل آیا
گماں تھا زندگی بے سمت و بے منزل بیاباں ہے
مگر اک نام پر پھولوں بھرا رستا نکل آیا
(ساون کی شجر کاری مہم میں گلی میں لگائے گئے کاٹن وڈ کے درخت پر پہلا پھول)
09/04/2024
When your time comes, nothing can stop you.
25/11/2023
35 سالہ ڈاکٹری کا حاصل تجربہ
اگر آپکے گھر میں چھوٹے بچے ہیں تو اپنے گھر سے متعلق ان ہدایات پر عمل کریں:
تمام والدین کو آگاھ کریں۔یہ صدقہ جاریہ ہے ۔جزاك الله
1۔مٹی کا تیل ,واشروم کلینر , فصلوں کے سپرے ،کیمیکلز کو کھانے پینے ,پرانی کولڈ ڈرنکس کی بوتلوں یا برتنوں میں نہ رکھیں۔ کیوں کہ بچے کھانے والے برتن يا بوتل میں رکھی چیز کو چکھ کر دیکھتے ہیں۔
2۔تیز دھار آلات جیسے چھری، چاقو اور دیگر آلات جیسے پیچ کس بچے کی پہنچ سے دور رکھیں۔ ان سے کام کرتے وقت نظر رکھیں کہ بچہ محفوظ رہے۔
3۔کچن میں چائے ,ہانڈی سوپ بناتے ہوئے یا پانی گرم کرتے وقت دھیان رکھیں کہ چھوٹا بچہ چولہے کے قریب نہ آئے۔بچہ جل سکتا ہے۔
4۔ایسی مشینری جسکو تار لگی ہو، اُسکی تار نیچے نہ لٹکنے دیجیۓ۔ کیوں کہ بچے تار کھینچ کر مشین کو خود پر گرا سکتے ہیں۔
5۔بالٹی یا کسی بھی بڑے برتن میں پانی صرف اُس وقت ڈالیں جب ضرورت ہو۔ بالٹی پانی سے بھری ہو تو بچے پر نظر رکھیں کہ اسکے قریب نہ جائے۔ بچے بالٹی یا ٹب میں بھی ڈوب جاتے ہیں
6۔تمام ادویات، شیمپو، ماؤتھ واش بچوں کی پہنچ سے دور،کسی ایسی الماری میں رکھیں جسکو تالا لگایا جا سکتا ہو۔
7۔گھر میں مچھر کی گول کواٸل ہرگز نہ جلائیں۔ اس کے شعلے سے آگ لگنے خطرہ ہوتا ہے۔لیکوڈ استعمال کریں
8۔کتابوں کی الماری اور ٹیلی ویژن کو پیچھے سے دیوار کے ساتھ جوڑ کر رکھیں۔ بچے ان پر اپنا وزن ڈال کر انکو اپنے اوپر گرا سکتے ہیں۔
9۔جب بچے زمین پر رینگنا یا چلنا شروع کر دیں تو سیڑھیوں پر گیٹ لگا کر بند کریں۔ایسے بچے جو چل سکتے ہیں وہ ہر وقت کسی بڑے کی نگاہ میں ہونے چاہئیے۔
10۔بچے کو اٹھا کر سیڑھیاں اترتے وقت اپنا ایک ہاتھ ریلنگ پرضرور رکھیں ۔
11۔اگر آپکے گھر میں پالتو جانور ہے تو بچے کو اس کے پاس اکیلا مت چھوڑیں۔بچے کو نقصان پہنچا سکتا ہے
12۔گھر میں بڑے شاپنگ بیگ نہ رکھیے۔ یا بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔بچے سر پر لپیٹ کر پھنس جاتے ہیں اور یہ دم گھٹنے کاباعث بن سکتا ہے
13۔ بچوں کو چار سال تک مونگ پھلی يا اس جیسی دانے دار کھانے والی چیزیں ہرگز نہ دیں۔یہ سانس کی نالی میں جانے کا خطرہ ہے۔
14۔ ربڑ کا غبارا اگر پھٹ جائے تو بچے کو اس سے کھیلنے نہ دیجئے۔ یہ ربڑ بچے کے سانس کے عمل کو خراب کر سکتی ہے۔ اسی طرح ایسے کھلونے جو انتہائی چھوٹے ہوں یا جن میں چھوٹے سیل ہوں، بچوں کھیلنے کے لیے خرید کر نہ دیں۔
15۔گھر میں کام کرنے والے ملازم اور ملازمہ پر نظر رکھیں۔وہ بچے پر تشدد کر سکتے ہیں۔ خاص کر اس عمر میں کہ جب بچہ آپکو بول کر خود سے بتا نہیں سکتا۔
16۔ بجلی کے تمام پلگ یا سوٸچ جو بچے کی پہنچ میں ہوں، انکو موٹی ٹیپ کے ساتھ بند کر دیں یا کور کریں۔ تاکہ بچہ اس میں انگلی ڈال کر کرنٹ نہ لگوا لے۔
17-کار کی چابی سنبھال کر رکھیں۔بچے کار میں بیٹھ کر خود کو بند کر لیتے ہیں اور پھر دم گھٹنے یا گرمی سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔
18-چاۓ پیتے ہوۓ یا جب بھی کوٸ ایسی گرم چیز آپکے ہاتھ میں ہو تو بچے کو ہر گز نہ اٹھاٸیں ۔بچہ جل سکتا ہے
19-گھر میں تاریں ,رسی یا پردوں کے ساتھ خوبصورتی کے لیے لگاٸ گٸ رسیوں کو بچوں کی پہنچ سے دور رکھیں۔ بچے ان سے کھیلتے ہوۓ گردن کے گرد لپیٹ کر پھندا لگوا سکتے ہیں
20-بچوں کے لیے بےبی واکر کے استعمال گریز کریں ۔ریسرچ سے ثابت ہوا ہے کہ اس کے استعمال سے بچے جلدی نہیں چلنا شروع کرتے اور یہ الٹا حادثات کا باعث بن سکتا ہے
19/11/2023
منفی جذبات
جو کھانا ہم کھاتے ہیں، اسے 24 گھنٹے میں ہضم کر کے جسم سے باہر پھینکنا پڑتا ہے، ورنہ ہم بیمار پڑ جائیں گے۔
جو پانی ہم پیتے ہیں وہ ہمارے جسم میں داخل ہو جاتا ہے اور 4 گھنٹے میں باہر پھینک دیا جاتا ہے ورنہ ہم بیمار ہو جائیں گے۔
ہم جس ہوا میں سانس لیتے ہیں اسے ایک منٹ میں باہر پھینکنا پڑتا ہے ورنہ ہم مر جائیں گے۔
نفرت، غصہ، غیبت، حسد، عدم تحفظ جیسے منفی جذبات کے بارے میں کیا خیال ہے جو ہم اپنے جسم/ذہن میں دنوں، مہینوں اور سالوں تک رکھتے ہیں۔
اگر ان منفی جذبات کو باقاعدگی سے باہر نہ پھینکا جائے تو ہم نفسیاتی امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔
#تعلیم
17/11/2023
بچے بات کیوں نہیں مانتے ہیں؟
سب سے پہلے بچے کو ایک جیتا جاگتا انسان سمجھیں ۔
پھر اپنے آپ کو اس کی جگہ پر رکھیں اور سوچیں کہ سارا دن کوئ آپ کو ڈکٹیٹ کرے کہ اٹھ جاو، سو جاو، کھا لو، پی لو، یہ پہن لو ، یہ نہ کھیلو، یہ نہ کرو ، ایسے نہ بولو، پڑھ لو
آپ کی اپنی فرسٹریشن کا لیول کتنا بڑھ جائے گا؟
پھر اس کے بعد جب کوئ پیار سے بھی آپ کو کچھ کہے گا مگر ہو گی وہ ڈکٹیشن ہی تو کیا آپ اس کی بات ماننا پسند کریں گے؟ نہیں۔۔۔۔آپ اپنی مرضی سے سانس لینا چاہیں گے، اپنی مرضی سے اٹھنا، سونا چاہیں گے۔
بس یہ ہی کچھ ان چھوٹے روبوٹس کے ساتھ کو رہا ہوتا ہے۔ جن کے لیے ہم تو ہر کام بھلائ کی نیت سے کرتے ہیں مگر ان کو وہ سونے کا پنجرہ زہر لگ رہا ہوتا ہے۔
اب کرنا یہ ہوتا ہے کہ بچوں کو اپنے ساتھ ملا کر پارٹنر بنا کر کام کرتے ہیں ۔ آؤ اب ہم یہ کر لیں ؟ آپ کا کیا خیال ہے؟ اس وقت سونے کا وقت یے تو چلو پہلے اچھل لیتے ہیں پھر سو جاتے، بچہ بڑا ہے تو آؤ پہلے کہانی سنا دیتی ہوں پھر سوتے ہیں ،مزید بڑا ہے تو آؤ یہ گیم کھیلتے ہیں پھر سو جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
اس کے مزاج اور دل کو سمجھ کر اپنی بات پیار سے منوا لیں ۔
ان کو بچہ سمجھیں ۔۔۔روبوٹ نہیں ان کی پسند نا پسند جذبات سب موجود ہیں ۔
منقول
14/11/2023
... "اسمِ اعظم" ...
وہ شخص ساری زندگی اسمِ اعظم کی تلاش میں رہا، اس نے بہت سی کتابوں کا مطالعہ کیا! وہ جانتا تھا کہ اسم اعظم وہ اللہ کا پاک نام ہے جس سے اسے پکارا جائے تو سارے بگڑے کام بن جاتے ہیں، بہت تحقیق کی ، سب کی رائے مختلف تھی، کوئی کہتا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے، کوئی کہتا کہ حی القیوم اسم اعظم ہے کوئی کہتا ، واحد اسم اعظم ہے۔ کوئی کہتا کہ العَلیُّ العظیم اسم اعظم ہے،کوئی کہتا کہ ذوالجلالِ وَالاِکرَام اسم اعظم ہے، اس نے پڑھا تھا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو اسم اعظم کا علم تھا ،یہ مبارک نام ان کی انگوٹھی پر نقش تھا، جس کی وجہ سے ساری دنیا پر انھوں نے حکومت کی۔
اس کا دِین سے کوئی خاص لگاؤ بھی نہیں تھا، مگر یہ اسم اعظم کا خیال اس کے سر پر ہمیشہ سوار رہتا ، وہ اللہ کے مختلف نام جو اس کے خیال میں اسم اعظم ہوسکتے ہیں لے کر پکارتا! پھر مشاہدہ کرتا کہ کیا اس سے اس کے حالات میں کوئی تبدیلی رونما ہورہی ہے۔ مگر اس کے حالات پہلے کی طرح ہی خستہ تھے!
آج وہ سخت مایوس تھا، ہر طرف سے ناکامی کے بعد،جیسے اس نے زندگی کی آرزو ہی چھوڑ دی ہو، اس نے خودکشی کا فیصلہ کیا! اس نے خودکشی کے مختلف طریقوں پر غور کیا، پھر اسے خیال آیا کہ اگر کچھ ادویات زیادہ مقدار میں کھا لی جائیں تو اس سے آدمی مر جاتا ہے۔ اسے اس بات کا علم نہیں تھا کہ یہ کون سی ادویات ہوتی ہیں، اس کے گھر میں ادویات کا ذخیرہ تھا، جو مختلف اقسام کی تھیں! اس میں سیرپ، اور بہت سی گولیاں تھیں، اس نے کافی مقدار میں گولیاں کھائیں اور سیرپ پر سیرپ پینے شروع کردئیے!جب وہ یہ سب کچھ کرچکا ،تو اسے اللہ کا خیال آیا، اسے اس بات کا خیال آیا کہ خودکشی حرام ہے، اور اس کی سزا جہنم ہے۔ اس پر شدید خوف طاری ہوگیا، کچھ اس بات سے کہ وہ عنقریب مرنے والا ہے کچھ اس بات سے کہ جس طریقے سے مر رہا ہے وہ بھی حرام ہے۔
اس نے رونا شروع کردیا، کچھ دیر بعد اٹھا، وضو کیا ، جائے نماز بچھایا اور نماز پڑھنے لگا، اس کے آنسو جائے نماز پر گر رہے تھے۔ نماز کے بعد اس نے دعا کے لیے اللہ کے سامنے ہاتھ پھیلائے! آج جیسے پہلی بار دل سے دعا کررہا تھا، یااللہ مجھے بچا لے! میں ناسمجھ ہوں، یااللہ میں آئندہ کبھی بھی اس طرح کا عمل نہیں کروں گا۔ کافی دیر تک دعا میں روتا رہا۔ سارا دن پریشان رہا کہ جو اس نے ادویات کھائی ہیں کہیں اس کی وجہ سے اس کا برا حال نہ ہوجائے! مگر دن خیریت سے گزر گیا اور اسے کچھ نہ ہوا!
اب اسے سمجھ آئی کہ اسمِ اعظم، اللہ کو دل سے پکارنے کا نام ہے، چاہے جس نام سے مرضی پکارو! اللہ سنتا ہے۔
منقول
13/11/2023
کیا آپ نے وہ دعا سیکھ لی ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے؟؟!
کسی مربی کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی سے ایک بڑا سبق سیکھا۔ ہوا یوں کہ وہ ایک مرتبہ سورہ احقاف حفظ کر رہی تھی۔ اچانک مجھ سے سوال کر بیٹھی:
ابو جان! آپ کی عمر کتنی ہے؟
میں نے اسے مسکراتے ہوئے جواب دیا: 44 سال۔
کہنے لگی گویا آپ چار سال پہلے ہی 40 سال کے ہو چکے ہیں۔ پھر کیا آپ وہ دعا پڑھتے ہیں جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد پڑھی جاتی ہے؟
میں نے بڑی حیرت سے پوچھا: کیا ایسی بھی کوئی خاص دعا ہے جو چالیس سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد کی جاتی ہے؟
بیٹی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
ابو جان! ہماری ٹیچر نے سورہ احقاف کی ان آیات کی تفسیر کرتے ہوئے ہمیں یہ دعا سکھائی ہے:
وَوَصَّيْنَا الْإِنسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا ۖ حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا ۖ وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا ۚ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُ وَبَلَغَ أَرْبَعِينَ سَنَةً قَالَ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ (15) أُولَٰئِكَ الَّذِينَ نَتَقَبَّلُ عَنْهُمْ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَنَتَجَاوَزُ عَن سَيِّئَاتِهِمْ فِي أَصْحَابِ الْجَنَّةِ ۖ وَعْدَ الصِّدْقِ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ (16).
ترجمہ: اور ہم نے انسان کو اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرنے کا حکم دیا ہے اس کی ماں نے اسے تکلیف جھیل کر پیٹ میں رکھا اور تکلیف برداشت کرکے اسے جنا، اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی اور چالیس سال کی عمر کو پہنچا تو کہنے لگا اے میرے پروردگار مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔
یہی وہ لوگ ہیں جن کے نیک اعمال تو ہم قبول فرما لیتے ہیں اور جن کے بد اعمال سے درگزر کر لیتے ہیں ( یہ ) جنتی لوگوں میں ہیں ۔ اس سچے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا ہے ۔
ہماری ٹیچر نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ ان کے والد صاحب صاحب 30 سال سے پابندی کے ساتھ یہ دعا پڑھ رہے ہیں اور اب 80 سال پہنچنے کے قریب ہیں اس کے باوجود وہ اچھی صحت و تندرستی کے ساتھ جی رہے ہیں۔
اس بہترین نصیحت کے لئے میں نے اپنی بیٹی کا شکریہ ادا کیا اور اس کے سر کو بوسہ دیتے ہوئے ہوئے اللہ کی تعریف کی کہ اس نے مجھے ایسی بیٹی سے نوازا ہے جس کے ذریعے مجھے یہ سبق سیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔
بیٹی نے کہا: ابو جان! آپ بھی یہ دعا برابر ہر پڑھے رہا کریں:
رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ .
اے میرے پروردگار! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اس نعمت کا شکر بجا لاؤں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر انعام کی ہے اور یہ کہ میں ایسے نیک عمل کروں جن سے تو خوش ہو جائے اور تو میری اولاد کو بھی صالح بنا ۔ میں تیری طرف رجوع کرتا ہوں اور میں مسلمانوں میں سے ہوں۔
Courtesy:
Basharat Hamid