"Duniya Ko Hai Phir Maarka Rooh-o-Badan Pesh" #IqbalPoetry asr-e-haazir kay mutabiq. #342 #Jaam-e-Arsalan series. شاعرِ مشرق، دانائے راز، حکیم الامت، عندلیب باغِ حجاز، ترجمانِ حقیقت، مصورِ پاکستان اور ہمارے قومی شاعر سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال آنے والے دَور کے شاعر ہیں
آپ کا پیامِ مشرق آپ کی شاعری کی صورت میں محفوظ ہے۔ آپ نے پیامِ اقبال کو نوائے عاشقانہ، نوائے سحری، نوائے پریشاں، نوائے خون شدہ
، التجائے مسافر، طرزِ فغاں، دردِ نہاں، رونا، درد انگیز نالے، نالۂ خوابیدہ، بے تاب جوہر، جلوے، آتش نوائی، آہِ صبحگاہ، آئینۂ گفتار، اسرارِ کتاب، نذر، تحفہ، آبگینہ، فکرِ بلند اور سیلِ معانی جیسے طرح طرح کے ناموں سے پکارا ہے
شاعرِ مشرق کے پیامِ مشرق کا مرکز و محور ایک ایسا مثالی انسان ہے جو کہ مشرق کی تقدیر بدل کے رکھ دے گا جو نئے آدم کے خواب میں ن۔م۔راشد کا آدرشی انسان ہے
آپ آنے والے دَور میں ہمالیہ کی اوٹ میں سرخ لباس میں ملبوس ایک طلوع ہوتے سورج کو دیکھتے ہیں اور اس امیرِ خاور اور مہرِ منیر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یاد رہے سرخ رنگ چین کے پرچم کا رنگ ہے
شاعرِ مشرق کی شاعری کی ابتدا ہی ہمالہ سے ہے
اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تُو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے
کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر
اے ہمالہ! نیلا آسماں تیری پیشانی کو جھک کر اس لیے چومتا ہے کہ وہ تیری اوٹ میں چین سے نئے زمانے کے سورج کو طلوع ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے جس سے عالمِ مشرق کی تقدیر بدل جائے گی ہمالہ کے رخسار پر شفق کا سرخ رنگ کے غازہ سے مراد چینی پرچم کی سرخ رنگت نظروں کے سامنے آتی ہے مشرق کی اس شفق سے طلوع ہونے والا آفتاب عالمتاب ، فضیلت مآب ، لالہ آتشیں پیرہن، ساقی لالہ فام، مردِ ہنر جناب صدر شی جِن پِنگ ہیں
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
اے ہمالہ! یہ تیرا رخسار جو سرخ رنگ سے رنگا گیا ہے کتنا خوشنما اس لیے لگ رہا ہے کہ سرخ رنگ خوشی، زندگی، روشنی اور ترقی کا رنگ ہے
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک
خضر سوچتا ہے وُلر کے کنارے
چھُپے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تک
گُہر ہیں آبِ وُلر کے تمام یک دانہ
نصیب خطہ ہو یا رب وہ بندۂ درویش
کہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ
اور یہ بندۂ درویش، مردِ درویش آج کا کلیم بادشاہی چوغہ میں ملبوس ہے اللہ نے اس کو خسروانہ انداز دیے ہیں اسے ملک کا بادشاہ بنایا ہے
ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ
دیدہ ام تدبیر ہای غرب و شرق
وانما تقدیر ہای غرب و شرق
میں نے مغرب و مشرق کی تدابیر دیکھی ہیں
اب مجھ پر مشرق و مغرب کی تقدیریں بھی ظاہر فرمائیں
غرق در نور شفق گون دیدمش
سرخ مانند طبر خون دیدمش
میں نے (مشرق و مغرب کی تقدیروں کو) سرخ شفق کے نور میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا میں نے انہیں عناب کی مانند خون کی طرح سرخ دیکھا
رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عُنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی اُفُق تابی ہے
تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا
دیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہ
کہا لالۂ آتشیں پیرہن نے
کہ اسرارِ جاں کی ہوں مَیں بے حجابی
لالۂ صحرائی کی نمود میرے خون کی وجہ سے ہے
کیونکہ میرا پیالہ مئے سرخ سے بھر دیا گیا ہے
سراغِ او ز خیابانِ لالہ میگیرند
نوای خون شدۂ ما ز ما چہ میجوئی
ہماری خون شدہ نوا کو ہم سے کیا تلاش کرتا ہے
اس کا سراغ لالہ کے خیابان سے ملتا ہے
سرِ خاک شہیدے برگہاے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہالِ ملت ما سازگار آمد
-----میں اقبال شہید (ملت اسلامیہ) کی قبر پر لالہ کی پتیاں اس لیے بکھیر رہا ہوں-----
-----کیونکہ لالے کا (سرخ) خون ہماری ملت کے نوخیز پودے کے لیے بہت ساز گار ہے-----
لالہ کی اخوت(Connectivity)، مساوات(Win-Win Outcomes)، حُریت(Belt and Road Forum) اور Eternal محبت سے مردۂ مشرق کی رگوں میں اب خونِ زندگی دوڑ رہا ہے
عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی
اقبال نے کلیم اور ضربِ کلیمی کا تصور قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سورة البقرة کی آیت کریمہ نمبر 50 اور آیت کریمہ نمبر 60 سے لیا ہے
جب حضرت موسیٰ کلیم اللّٰه علیہ السلام کے عصا مبارک کی ضرب سے دریا میں بارہ راستے بن جاتے ہیں اور آپ ہی کی پتھر پر ضربِ کلیمی سے بارہ چشمے پھوٹ پڑتے ہیں
وَاِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنَاكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُـمْ تَنْظُرُوْنَ (البقرة : 50)
اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں تو بچا لیا اور تمہارے دیکھتے دیکھتے فرعونیوں کو ڈبو دیا
پھر جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنے عصا سے پتھر پر ضرب مار، سو اس سے بارہ چشمے بہہ نکلے ہر قوم نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو اور زمین میں فساد مچاتےنہ پھرو۔
اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمد (صل الله عليه وسلم)
آیاتِ الہٰی کا نگہبان کدھر جائے
آج کا کلیم صدر شی جِن پِنگ اپنے کلیمانہ انداز سے بی۔آر۔آئی BRI کی ضربِ کلیمی سے 6 راستے بنا رہا ہے جن میں سے ایک سی پیک راہداری ہے جس سے وافر رزق ملے گا سیارہ زمین پر امن کا بول بالا ہو گا اور مغرب کا مچایا ہوا فساد اپنی موت آپ مر جائے گا
لالہ کا داغ : BRI
چمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا
1- چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری
China-Pakistan Economic Corridor
( CPEC )
2- چین ۔ منگولیا ۔ روس اقتصادی راہداری
China-Mongolia-Russia Economic Corridor
( CMREC )
3- چین ۔ وسطی ایشیا ۔ مغربی ایشیا اقتصادی راہداری
China-Central and West Asia Economic Corridor
( CCWAEC )
4- نیو ایرویشین لینڈ برج (اقتصادی راہداری)
New Eurasian Land Bridge
( NELB )
5- چین ۔ انڈو چائنا جزیرہ نما اقتصادی راہداری
China-Indo-China Peninsula Economic Corridor
( CICPEC )
6- بنگلہ دیش ۔ چین ۔ انڈیا ۔ میانمار اقتصادی راہداری
Bangladesh-China-India-Myanmar Economic Corridor
( BCIMEC )
گفت "ہنگام طلوع خاور" است
آفتاب تازہ او را در بر است
کہنے لگا: مشرق کے پہلو سے ایک نئے آفتاب کے طلوع کا وقت آ گیا ہے
لعل ہا از سنگ رہ آید برون
یوسفان او ز چہ آید برون
اہلِ مشرق (کے) راستے کے پتھر وں سے لعل نکلیں گے؛ اس کے یوسف کنویں سے باہر آئیں گے
اے امیرِ خاور! اے مہرِ منیر!
می کنی ہر ذرہ را روشن ضمیر
اے سپہ سالارِ مشرق ! اے آفتابِ درخشاں!
تُو (مشرق کے) ذرہ ذرہ کو چمکا دیتا ہے
اس کی نگہِ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرہ میں پوشیدہ ہے جو قوتِ اشراق
خاکِ مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے
پھر ہم کو اسی سینۂ روشن میں چھپا لے
اے مہرِ جہاں تاب نہ کر ہم کو فراموش
پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن
خوش بیا صبح مراد آوردہ ئی
ہر شجر را نخل سینا کردہ ئی
تیرا آنا مبارک ہو، تُو میری (اہلِ مشرق کی) صبح لایا ہے اور میری دلی مراد پوری کر دی ہے
تُو نے ہر درخت(ہر ملک کو) کو درخت طور کی طرح چمکا دیا ہے
شاعرِ مشرق نے آپ کو سالارِ کارواں، امیرِ خاور، مہرِ منیر، بندۂ درویش، بندۂ حق بیں، بندۂ آزاد، بندۂ حُر، مردِ حُر، مردِ بزرگ، مردِ درویش، مردِ میداں، مردِ مجاہد، مردِ خدا، مردِ خود آگاہ خدا مست، مردِ ہنر، مردِ آفاقی، لالہ، آفتابِ درخشاں، خورشید، ساقی، ساقی لالہ فام، معمارِ جہاں، صاحبِ امروز، دلِ زندہ، پیکرِ خاکی، مہر جہاں تاب، مرغ سحر خیز، باز، شاہین، خدائی کا رازداں، اہلِ نظر، لالۂ پیکانی، میرِ لشکر، قافلہ سالار، اہلِ جنوں، صاحبِ ادراک، صاحبِ الہام، صاحبِ ساز، فاتح عالَم، صاحبِ ایجاد، صاحبِ یقیں، مشرق سے ابھرتا ہوا سورج، قلزمِ خاموش، ہند کے نفسیاتی غلاموں کا ماہرِ نفسیات، خونیں جگر، صاحبِ نظر، مرغِ بہار ، کارواں سالار اور دانائے راز(اقبال کے بعد دوسرا) جیسے القابات سے اپنی فکرِ بلند کی مدد سے ملقب فرمایا ہے
شاعرِ مشرق نے سپہ سالارِ مشرق کی ضربِ کلیمی بی۔آر۔آئی یعنی بیلٹ اینڈ روڈ اینی شی ایٹو (جو کہ سوشیو اکنامِک ورلڈ آرڈر ہے)کو بھی بہت ہی پیارے ناموں سے یاد کیا ہے
کھلتے نہیں اس قلزمِ خاموش کے اسرار
جب تک تُو اسے ضرب کلیمی سے نہ چیرے
اس قلزمِ خاموش امیرِ خاور شی جِن پِنگ جس کے فقر میں کلیمانہ انداز ہیں اس کے اسرار اس کی ضربِ کلیمی بی.آر.آئی سے آشکار ہو رہے ہیں. اس کے بی۔آر۔آئی اور سی پیک سے اسلامی اقدار مساوات، اخوت، حریت اور محبت پروان چڑھ رہی ہیں
بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا
سی پیک اور بی۔آر۔آئی میں تمام معاہدے win-win نتائج پر مشتمل ہیں جس میں اسلامی قدر مساوات فروغ پا رہی ہے۔
سی پیک کنیکٹیویٹی کا ماسٹر پیس ہے اور کنیکٹیویٹی میں اسلامی قدر اخوت پنہاں ہے جو سارے خطہ کو ایک ہی زنجیر میں جوڑ رہی ہے اور بی۔آر۔آئی تو اخوت کی جہانگیری ہے اور جناب صدر ژی کی ذات تو محبت کا ایک استعارہ ہے اور آپ مشرق کی ان بکھری قوموں کو اقبال کے مشن کو مکمل کرتے ہوئے ایک ہی تسبیح میں پرو رہے ہیں
یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی
بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں اسلامی قدر حریت کارفرما ہے کیونکہ یہ حریت کا سرچشمہ ہے جہاں آنکھوں ہی آنکھوں میں کام ہو جاتا ہے کوئی کشکول نہیں اٹھانا پڑتا بادشاہو!
عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تُو اس خواب کی تعبیر دیکھ
کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ
شاعرِ مشرق نے امیرِ خاور کی ضربِ کلیمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹِو کو ابرِ بہاری، صدائے آبشاراں، شرابِ لالہ گوں، بادِ سحر، کرشمۂ ساقی، فکرِ حکیمانہ، جزبِ کلیمانہ، جرأتِ رندانہ، وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل، فردوسِ نظر، مے خرام، طوفان، جلوۂ تقدیر، جلوۂ خورشید، سحر کا نور، بہار، داغِ لالہ، چراغِ لالہ، آبِ بقائے دوام، نویدِ صبح، نسیمِ صبح، عصرِ حاضر کا تقاضا، مئے شبانہ، انقلاب، ساقی کی یلغار، ضربِ کلیمی، عروسِ لالہ، رقصِ جان، نئی بہار، مضمونِ صبح اور نغمہ بہشت گوش کے الفاظ کے ساتھ اپنے اشعار میں مزیّن فرمایا ہے اور سی پیک کو جوئے سرود آفریں سے تشبیہ دی ہے
جوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے
پی کے شراب لالہ گوں مئے کدۂ بہار سے
شاعرِ شرق نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کیا ہے گویا کہ آسمان سے تارے توڑ لائے ہیں آپ نے اس فورم کو میخانۂ شرق، مےکدۂ بہار، قافلۂ بہار، قافلۂ لالہ ہائے صحرائی، محفلِ نَو، محفلِ انجم، بادہ خواروں کی انجمن، بزمِ جہاں، کارواں، جمعیت اقوامِ مشرق، قافلہ مورِ ناتواں، وہ گلشن جہاں پھول احرامِ حیات باندھتے ہیں، مرغانِ سحر خیز، تصویرِ درد اور خیل نغمہ پردازاں کے ناموں سے پکارا ہے
کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلہ سخت جاں!
Want your school to be the top-listed School/college in Chiniot?