Zumar Voice

Zumar Voice

Share

تمام لوگ ہمارے پیج پے پوسٹ دیکھیں پسندآہے تو اپنے سب دوستوں کو invite کریں.

ایسی مزید اچھی پوسٹوں کے لئے ہمارے پیج کو لائک
کریں.

29/12/2024

2 Pcs Women's Stitched Arabic Lawn Embroidered Shirt And Trouser
Fabric: Lawn
Pattern: Embroidered
Neck Type: Round Neck
Shirt - Pattern: Embroidered
Trouser - Pattern: Plain
Available Sizes: Medium, Large
Shirt Length: 40 Inches
Shirt Chest: 21 Inches (M), 23 Inches (L)
Trouser Length: 37 Inches
Trouser Waist: 27 Inches
No. Of Pieces: 2 Pcs
Package Includes: 1 x Shirt, 1 x Trouser
Price with delivery:1700

Note: There might be an error of 1-3 cm due to manual measurement, and slight color differences may occur as a result of varying lighting and monitor effects.

Product Code: MZ41000000006LSEEKS

29/12/2024

2 Pcs Women's Stitched Shamoz Silk Embroidered Maxi
Women's
Fabric: Shamoz Silk
Pattern: Embroidered
Number Of Pieces: 2 Pcs
Package Includes: 1 x Maxi, 1 x Koti
Size Measurement:
Chest Size : 20
Koti Length : 19
Maxi Length: 52
Price with delivery: 1700

Note: There might be an error of 1-3 cm due to manual measurement, and slight color differences may occur as a result of varying lighting and monitor effects.

05/07/2024

‏بجلی کے بل زیادہ کیوں آ رہے ہیں؟

☆پہلی وجہ IPPs سے وہ capacity payment کے وہ معاہدے ہیں جو PDM میں شامل حکومتوں نے اپنے بھاری اور مسلسل کمشنز کیلئے کر کے ملکی معیشت پر وہ بھاری پتھر رکھ دیا جو دن بدن وزنی ہوتا جا رہا ہے

☆دوسری وجہ یہ ہے کہ حکومت نے بجلی کے بل کو صرف الیکٹرسٹی چارجز کی بجائے ہر قسم کے ٹیکس عائد کر کے بھتہ وصول کرنے کا جائز ہتھکنڈہ بنا لیا ہے۔۔۔

☆ تیسری وجہ بداعتمادی کے باعث اس حکومت کو کوئی دوسرا ملک سپورٹ کرنے پر تیار نہیں۔
اوورسیز ملک میں گھریلو اخراجات کے علاوہ سرمایہ کاری کیلئے ایک پیسہ نہیں بھیج رہے۔ ایکسپورٹرز کیلئے مشکلات اور ٹیکسز ہیں اس وجہ سے ایکسپورٹ میں کمی سے زرمبادلہ کم ہوا ہے اس سب کا حل حکومت نے یہ نکالا ہے کہ عوام کی ہڈیوں سے گودا بھی نچوڑ لیا جائے اس کا واحد ذریعہ بجلی کا بل بنا لیا گیا ہے جس میں غیر متعلقہ ٹیکسز کے علاوہ ایسے ایسے ٹیکس شامل کئے ہیں جن کی کوئی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ اس وقت بجلی کے بل میں قریبا 70 فیصد ٹیکس شامل ہوتے ہیں

یہ سب کچھ اس بے حسی کے باعث ہے جس کی ابتدا ذاتی مفاد سے شروع ہو کر ذاتی مفاد پر ختم ہوتی ہے

08/06/2024

پچھلے دنوں ہمارے محلّے میں کرایہ دار اور مالک مکان کے بچّوں کے درمیان کرکٹ میچ ہوا، کرایہ داروں کے بچّے شروع سے ہی گھبرائے گھبرائے اور ڈرے ڈرے نظر آئے، ویسے کرایہ دار ہونا کوئ عیب کی بات نہیں ہے مگر یہاں مسئلہ یہ تھا کہ کرایہ دار کرایہ بھی وقت پر ادا نہیں کرتے تھے اور بعض دفعہ تو کئی کئی مہینے کرایہ دیتے ہی نہیں تھے، پھر اس پر ستم یہ کہ کرایہ داروں کی راشن اور دوسری ضروریات بھی مالک مکان ہی پوری کرتے تھے، کرایہ داروں نے مالک مکان سے قرض بھی لے رکھا تھا۔

اگر کھیل کی بات کی جائے تو کرایہ داروں کے بچّے پروفیشنل کرکٹر تھے اور مالک مکان کے بچّے صرف شوق کے لیے کبھی کبھار کرکٹ کھیل لیتے تھے، اُن کے پاس کوئ باقاعدہ کوچ یا سہولیات بھی نہیں تھی، تماشائیوں کا خیال تھا کہ کرایہ داروں اور مالک مکان کے بچوں کے درمیان کوئ مقابلہ ہی نہیں اور کرایہ داروں کے بچّے آرام سے یہ میچ جیت جائیں گے۔

مگر عقل مند اور ذی شعور لوگوں کو معلوم تھا کہ کرایہ داروں کے بچّے کبھی مالک مکان سے جیت ہی نہیں سکتے کیوں کہ مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ مالک مکان گھر سے نکال دیں گے بلکہ مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنا قرض بھی واپس مانگیں گے، راشن بھی نہیں دیں گے اور کسی مجبوری کی صورت میں امداد بھی نہیں ملے گی، اور آخر وہی ہوا جو ہونا تھا، کرایہ داروں کے بچّے ہار گئے اور مالک مکان کے بچّے جیت گئے۔

#نوٹ: اس تحریر کا پاکستان اور امریکا کے کرکٹ میچ سے کوئ تعلق نہیں۔😊

12/04/2024

بھاولنگر واقعہ سے سبق حاصل کرنا چاہیئے

بھاولنگر میں پولیس اور فوج کا آپس میں صلح ہوچکی ہے، اب آتے ہیں کہ اصل حقائق کی جانب جس کی وجہ سے مُلک کے دو بڑے ادارے یعنی بڑا بھائی چھوٹے بھائی سے لڑپڑا-

اصل حقائق :

بھاولنگر کے تھانہ مدرسہ کے ایس ایچ او رضوان پہلے پولیس میں سپاہی تھا - گیارہ سال کی نوکری کے بعد ایک امتحان پاس کرکے اے ایس آئی ہوگیا بعد میں ترقی پا کر سب انسپیکٹر ہوگیا !!! اب تک ان کو پولیس میں 24 سال ہوگئے ہیں، کافی تجربہ کار پولیس افسر ہیں کافی تھانوں میں ایس ایچ او رہ چُکے ہیں-

ایس ایچ او رضوان کے پاس ایک سپاہی علی نام کا ہے، علی اور رضوان پولیس میں کانسٹیبل ایک ساتھ بھرتی ہوئے تھے بطور کانسٹیبل گیارہ سال تک ایک ساتھ کام کیا تھا !!!! اسی وجہ سے جہاں بھی کوئی اطلاع یا ریڈ ہوتا ایس ایچ او رضوان، کانسٹیبل علی کو اپنے ساتھ رکھتا تھا

کانسٹیبل علی نے ایک ملزم سے ایک پسٹل برآمد کیا اور ایس ایچ او رضوان نے ملزم سے چالیس ہزار لے کر اُس کو چھوڑ دیا ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران بتایا کہ اُس نے یہ پسٹل عمران نامی بندے سے خریدا ہے!!!!

کانسٹیبل علی، عمران کو گرفتار کرکے لاتا ہے اور پوچھ گچھ کے دوران عمران بتاتا ہے کہ اُس نے پسٹل رفاقت نامی شخص سے خریدا ہے!!! ملزم عمران کو بھی ایس ایچ او رضوان چالیس ہزار کی ڈیل کے بعد چھوڑ دیتا ہے !!! اب رفاقت کی گرفتاری اور “ رہائی” کی باری تھی

ایس ایچ او رضوان اور کانسٹیبل علی، رفاقت کو گرفتار کرنے چلے جاتے ہیں !!! رفاقت گھر پر نہیں تھا!!! رفاقت کے بھائی انور سے ایس ایچ او نے ایک لاکھ روپیہ مانگا کہ یا تو رفاقت کو پیش کرو یا ایک لاکھ دو !!!! انور نے حامی بھرلی کہ دوسرے دن وہ ایک لاکھ کا بندوبست کرکے ایس ایچ او رضوان کو تھانہ پر دے آئے گا

دوسرے دن انور سے ایک لاکھ کا بندوبست نہیں ہوسکا اس پر ایس ایچ او صاحب بُہت ناراض ہوئے اور انور اور رفاقت کو گرفتار کرنے اُن کے گھر پر چلے گئے!!! انور کا ایک بھائی پاک فوج میں کمانڈو ہے وہ بھی اُس وقت گھر پر موجود تھا!!! گھر پر ایس ایچ او اور انور والوں کی تقرار ہوگئی!!!
اہل محلہ بھی جمع ہوگئے اُن لوگوں نے ایس ایچ او اور کانسٹیبل علی کو پکڑ کر بٹھا لیا کہ ایک لاکھ روپیہ کس چیز کا لینے آئے ہو !!!! ایس ایچ او رضوان نے 15 پر فون کرلیا !!! 15 سے Elite force کی تین چار گاڑیاں انور کے گھر پہنچیں اور Elite force کے جوانوں نے سب بندوں کو مار مار کر گاڑیوں میں ڈالا اسی دوران انور کے بزرگ والدہ اور بھابی کو بھی مارا گیا

تھانے آکر ایس ایچ رضوان نے سب کی اچھی طرح سے دُھلائی کی یہاں تک کہ انور ورک اور دوسرے گرفتار شُدہ افراد کو پیچھے سے پیٹرول بھی ڈالا گیا اور سب کے خلاف کار سرکار میں مُداخلت کا پرچہ دے دیا گیا !!! پرچے میں عورتوں کے نام بھی ڈال دیئے گئے

ڈی پی او صاحب کو بتایاگیا کہ ڈکیتوں کا ایک گروپ پکڑا گیا ہے، ڈی پی او صاحب نے ایس ایچ او رضوان کو کہا کہ ان کو تُن کے رکھو !!!! ڈی پی او صاحب کے ایسے ایس ایچ او “ کمائو پتر “ ہوتے ہیں اور اُن کو ڈی پی او صاحب کی غیر مشروط حمایت حاصل ہوتی ہے

پولیس کے بے پناھ تشدد کی وجہ سے انور اور دیگر ساتھیوں جس میں فوج کے حاضر سروس جوان بھی تھے اُن کی حالت خراب ہوگئی!!! دوسرے دن انور کے رشتیداروں نے ایس ایچ او رضوان سے رابطہ کیا !!! رضوان نے مُبینہ طور پر اُن سے پانچ لاکھ روپیہ کا مطالبا کیا !!!! تھانے سے مایوس ہوکر انور کے رشتداروں نے ہائیکورٹ میں پٹیشن داخل کردی: ہائیکورٹ نے ایس ایچ او کو نوٹس کردیا کہ ملزمان کو ہائیکورٹ میں پیش کیا جائے !!!!

ایس ایچ او رضوان نے ڈی پی او کو بتایا کہ عدالت کا ریڈ نہ ہوجائے اور ڈی پی او کی رضامندی سے ملزمان کو تخت محل تھانہ میں منتقل کردیا گیا !!!!
تھانہ تخت محل کے ایس ایچ او نے جب دیکھا کہ ملزمان کی حالت خراب ہے اور سارے لوگ پولیس کے تشدد کی وجہ سے زخمی ہیں تو ایس ایچ او تخت محل نے ملزمان کو سول ہسپتال بھاولنگر میں چھوڑ کر چلا گیا:
جیساکہ پولیس تشدد کی وجہ سے زخمیوں میں فوج کے جوان بھی تھے انھوں نے ہسپتال سے اپنے یونٹ کمانڈر سے فون پر رابطہ کیا اور یونٹ کمانڈر سول ہسپتال پہنچ گیا اور اُس کو ساری صورت حال کا وہاں پتہ چلا اور اُس نے اپنے سینئر کمانڈ کو ساری صورت حال کا بتایا !!!!

فوج کے سینئر افسران نے ہسپتال میں زخمیوں سے معلومات لیں اور انور کی والدہ، والد اور بہن کو Elite کے جوانوں زردکوب کیا تھا اور اُن کو لاتین ماری گئی تھیں اُن سے بھی پوچھ گچھ کی گئی اور بعد میں فیصلہ کیا گیا کہ ان کا بھی وہی حشر کیا جائے جس طرح پولیس نے کیا ہے !!!!!

اُس کے بعد فوج کا کیا ردعمل آیا اُس کے متعلق کچھ لکھنے کی اسلیئے ضرورت نہیں کہ لوگ سوشل میڈیا پر سب کچھ دیکھ چُکے ہیں:!!!!

ہر عمل کا ردعمل ہوتا ہے !!!! اب یہ فیصلہ قارئین نے کرنا ہے کہ قصور وار کون ہے !!!! ایسے واقعات ایسے اضلاع میں ہوتے ہیں جہاں کے ڈی پی او یا ایس ایس پی صآحبان سائلوں سے دور بھاگتے ہیںُ- تھانے کا ایس ایچ او یہ سب کچھ کررہا ہے اور اُس کو روکنے ٹوکنے اور لگام دینے والا ڈی پی او آگر اُس کے ساتھ کھڑا ہو تو اس قسم کا ردعمل آنا قدرتی بات ہے!!!!

k

New Urdu Story | ہر کسی کو دلدار نہیں ملتا - kahaniinurdu 07/11/2023

صباء عجیب سی لڑکی تھی بہت سخت مزاج مجال ہے گھر میں اس کے سامنے کوئی بولتا ہو۔ گھر والوں نے تو نام رکھا تھا صباء لیکن اہنے سخت رویے کی وجہ سے سب اسے ہٹلر کہتے تھے۔ علی گھر آیا صباء دروازے پہ کھڑی تھی ہاں جناب کدھر منہ اٹھائے ہوئے۔ علی آہستہ سے مسکرا کر بولا گھر آ رہا ہوں اور کہاں۔ صباء ہاتھ میں جوتا پکڑے میرا فیس واش لے کر آئے ہو ۔ علی ہلکا سا مسکرایا میں نہں جانا تمہارا کچھ بھی سامان لینے شرم آتی ہے مجھے۔ صباء جھٹ سے بولی شرم اور تم کو میرا منہ نہ کھلوانا اب ۔ وہ تمہاری محبوبہ ہے نا دکان والوں کی عافیہ سب جانتی ہوں۔...

New Urdu Story | ہر کسی کو دلدار نہیں ملتا - kahaniinurdu صباء عجیب سی لڑکی تھی بہت سخت مزاج مجال ہے گھر میں اس کے سامنے کوئی بولتا ہو۔ گھر والوں نے تو نام رکھا تھا صباء لیکن اہنے سخت رویے کی وجہ سے سب اسے ہٹلر New Urdu Story

استاد نے سمیرا کے کپڑے اتارے ہوئے تھے اور اس سے بد فعلی - urdu kahani 01/05/2023

استاد نے سمیرا کے کپڑے اتارے ہوئے تھے اور اس سے بد فعلی – urdu kahani

استاد نے سمیرا کے کپڑے اتارے ہوئے تھے اور اس سے بد فعلی - urdu kahani سمیرا کو سبق یاد نہیں ان میری دوست میں ایک مدرسے میں پڑھنے جاتی تھی۔ جہاں میرے جیسی بہت سی لڑکیاں اور لڑکے پڑھتے تھے ۔ صبح سات سے آٹھ اور شام کو چار سے چھ

نئی نویلی دلہنوں کے نام ایک پیغام 01/05/2023

نئی نویلی دلہنوں کے نام ایک پیغام

نئی نویلی دلہنوں کے نام ایک پیغام انسانی جذبات ایسی چیز ہے کہ نہ چاہتے ہوئے بھی ان میں بہہ جاتا ہے ۔ جب نوجوان بچی بچیوں کی شادی چھوٹی عمر میں ہوتی ہے ۔ تو ان کے محبت کے جذبات عروج پہ نئی نویلی دلہنوں

Want your school to be the top-listed School/college in Chichawatni?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Burewala Road
Chichawatni
57200