DAWN Computer Academy

DAWN Computer Academy DAWN Computer Acadey

04/07/2025

🌟 خوشخبری برائے طلبہ و طالبات 🌟
درسِ نظامی کے داخلے جاری ہیں
سالانہ امتحانات 1446ھ کے داخلے جاری ہیں
جامعہ شمس العلوم ایجوکیشنل سسٹم، چونڈہ
تمام طلبہ و طالبات اور والدین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ
درسِ نظامی (تحتِ نظامِ تعلیم: تنظیم المدارس پاکستان)
کے سالانہ امتحانات 1446ھ / 2025ء کے لیے داخلے جاری ہیں۔
📌 کلاسز:
🔹 ناظرہ قرآن، حفظ، ابتدائی تا عالیہ
🔹 درسِ نظامی (1st تا 8th سال)
🔹 مرد و خواتین کے لیے الگ الگ کلاسز
🕋 نصاب: خالص دینی و اسلامی تعلیم پر مبنی، عربی و اردو
🧕 خواتین کے لیے پردے کا مکمل انتظام

📍 پتہ:
جامعہ شمس العلوم ایجوکیشنل سسٹم، چونڈہ، ضلع سیالکوٹ
📞 رابطہ نمبر: 03494188423
📚 مدیرہ: محترمہ شمسہ کنول

🔖 ہر قسم کی تعلیمی معلومات اور سرکاری جابز کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں

21/05/2025

🔖 ہر قسم کی تعلیمی معلومات کے لیے ہمارا واٹس ایپ چینل فالو کریں

رمضان مبارک
03/03/2025

رمضان مبارک

۔. *حالات پہ کنٹرول*ماہرین کہتے ہیں آپ کے آس پاس کے حالات پر آپ کا اختیار صرف ١٠ فیصد ہوتا ہے لیکن خوش رہنے کا ٩٠ فیصد ا...
31/10/2024

۔. *حالات پہ کنٹرول*
ماہرین کہتے ہیں آپ کے آس پاس کے حالات پر آپ کا اختیار صرف ١٠ فیصد ہوتا ہے لیکن خوش رہنے کا ٩٠ فیصد اختیار
آپ کے اپنے پاس ہے, خوش رہنا ایک آرٹ ہے .اس آرٹ کو سکھانے والے ماہرین چند سائنسی تحقیق پر ثابت شدہ ٹپس بتاتے ہیں، ضروری نہیں سب آپ کے کام کی ہوں مگر ٹرائی ضرور کیجئے کوئی ایک ضرور کام کرے گی
1.دن میں ایک بار اپنی دستیاب نعمتیں شمار کر کے لکھ لیں
2. رات میں چھ سے آٹھ گھنٹے بھرپور نیند لیں اور دوپہر میں بیس سے تیس منٹ آرام ضروری ہے
3. ہفتے میں کم از کم تین بار گھر کے سب افراد کے ساتھ
بیٹھ کر کھانا کھائیں
4. گھر کے اندر کچن گارڈن بنائیں دن کا کچھ وقت پودوں کے ساتھ گزاریں
5. پانچ سے سات منٹ ہلکی ورزش کیجیئے
6. دن میں کسی نہ کسی کی مدد ضرور کریں
7. زرا سی اداسی آنے پر وضو کر لیں
8. اپنی پسند کی خوشبو لگائیں
9. پانی زیادہ پئیں کم از کم تین لیٹر جب اداس ہوں تو دو گلاس پئیں
10. " نو کمپلین ڈے " بنائیں, آج کسی سے کوئی شکایت نہیں پھر دن بڑھاتے جائیں, نو کمپلین ویک, نو کمپلین منتھ
11. گھر میں دفتر میں جدت ترازی کی مہم چلائیں, ہر روز ماحول میں کچھ تبدیلی کی کوشش کریں, گھر میں موجود سامان کی ترتیب بدلتے رہا کریں
12. خاندان، دوست احباب، رشتہ داروں کو فون کریں ان کے دکھ درد میں حوصلہ دیں اور خوشیوں پر کھل کر مبارکباد پیش کریں
13. مہینے میں دو بار دعوت کریں, کبھی رشتے داروں کو، کبھی دوست احباب کو کبھی اپنے بچوں کے دوستوں کو دعوت پر بلائیں
14. لوگ کیا کہیں گے..! یہ سوچنا چھوڑ دیں
15. اپنی زندگی کا سب سے خوشگوار دن یاد کیجئے اور ایسا زندگی بھر ہر روز کیا کیجیئے, چھوٹی سی چھوٹی خوشی کو یاد کریں, یہ یادیں آپ کو سارا دن خوش رکھیں گی
16. صدقہ دیں اور سب سے آسان صدقہ مسکراہٹ ہے, ہلکی سی ایک مسکراہٹ تیز دھوپ میں بادل کے ٹکڑے کی طرح دل کو ترو تازہ کردیتی ہے, خوش رہیں اور خوشیاں بانٹیں
17:اور پانچوں نمازیں وقت پر قائم کریں عبادات کریں ۔“

‏حکیم صاحب کے مطب پر ایک شخص آیا اور کہا پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے۔ کئی دن سے ٹوائلٹ نہیں گیا۔حکیم صاحب سمجھ گئے کہ قبض ...
31/10/2024

‏حکیم صاحب کے مطب پر ایک شخص آیا اور کہا پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے۔ کئی دن سے ٹوائلٹ نہیں گیا۔
حکیم صاحب سمجھ گئے کہ قبض ہے۔
پھر اس سے پوچھا:- گھر کتنی دور ہے تمھارا؟
مریض:- دو کلومیٹر
حکیم صاحب نے کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور ایک بوتل میں سے چار چمچے دوائی نکال کر ایک کٹوری میں ڈالی۔
حکیم صاحب:- گاڑی سے آئے ہو یا چل کر ؟
مریض:- چل کر
حکیم صاحب نے پھر سے کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور تھوڑی سی دوائی کٹوری سے واپس نکال لی۔
حکیم صاحب:- گھر کون سی منزل پر ہے؟
مریض:- تیسری منزل پر
حکیم صاحب نے دوبارہ کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور کٹوری سے تھوڑی سی مزید دوا نکال لی۔
حکیم صاحب اب آخری سوال کا جواب دو:- گھر کے مین گیٹ سے ٹائلٹ کتنی دور ہے؟
مریض:- 20 فٹ
حکیم صاحب نے آخری بار کیلکولیٹر پر کچھ حساب کیا اور کٹوری سے تھوڑی دوا اور نکال لی۔
حکیم:- پہلے یہ دوا پیو، اور فٹا فٹ گھر کی طرف نکل لو، کہیں رکنا مت۔ پھر مجھے گھر سے فون کرنا۔
مریض نے ویسا ہی کیا،
آدھے گھنٹے بعد مریض کا فون آیا اور ایکدم ڈھیلی آواز میں بولا:- دوا تو آپ کی بہت اچھی تھی، مگر حکیم صاحب ! آپ سے تھوڑی مِس کیلکولیشن ہو گئی۔
آپ نے ناڑا کھولنے کا ٹائم کیلکولیٹ نہیں کیا۔ ہم دو سیکنڈ سے ہار گئے۔۔!

ایک مرتبہ ایک پروفیسر اور کسان ایک ساتھ ریلوے سے سفر کررہے تھے۔ سفر کی بوریت دورکرنے کیلئے اور کچھ رقم اینٹھنے کیلئے پرو...
31/10/2024

ایک مرتبہ ایک پروفیسر اور کسان ایک ساتھ ریلوے سے سفر کررہے تھے۔ سفر کی بوریت دورکرنے کیلئے اور کچھ رقم اینٹھنے کیلئے پروفیسر نے کسان سے کہا کہ چلو ہم ایک کھیل کھیلتے ہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے سوال پوچھیں گے۔ جس کو سوال کا جواب معلوم نہ ہوگا، وہ سو روپیہ دے گا۔
(پروفیسر کو یقین تھا کہ یہ بیچارہ کسان میرے مقابلے میں کیا جانتا ہو گا)۔
کسان نے کہا ٹھیک ہے لیکن میری گزارش ہے کہ آپ پروفیسر ہیں، بہت کچھ جانتے ہیں میں ان پڑھ غریب کسان ہوں اگر آپ کو کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو آپ سو روپے دیں گے اور اگر مجھے کسی سوال کا جواب نہ آتا ہوا تو میں پچاس روپے دوں گا۔ پروفیسر نے بخوشی منظور کر لیا۔
پہلا سوال کسان نے کیا کہ وہ کون سے چیز ہے جو زمین پر چلتی ہے تو دو ٹانگ پر اور ہوا میں اڑتی ہے تو اس کے تین پیر ہوجاتے ہیں۔
پروفیسر نے بہت سوچا، لیکن کوئی جواب نہ دے پایا اور اس کے بعد خاموشی سے ایک سو روپیہ کسان کی طرف بڑھا دیا اور کہا کہ مجھے جواب نہیں آتا کسان نے سو روپیہ لے کر رکھ لیا۔
پروفیسر نے کہا کہ اب تم اس سوال کا تو جواب بتاؤ کسان نے پچاس روپے پروفیسر کی طرف بڑھا دیئے اور کہا کہ اس سوال کا جواب مجھے بھی نہیں آتا۔
تو جناب حاصل مضمون یہ کہ کبھی کسی کو کمتر نہ جانئیے۔
خوش اور آباد رہیے۔

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہو...
30/10/2024

امریکہ کے ایک ریسٹورنٹ میں ویٹریس نے لنچ کا مینو ایک شخص اور اس کی بیوی کو دیا اور اس سے پہلے کہ وہ مینو کو دیکھتے، انہوں نے اس سے کہا کہ وہ انہیں دو سستے ترین کھانے پیش کرے کیونکہ ان کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں۔ کئی مہینوں سے تنخواہیں نہیں مل رہیں۔ جس کی وجہ سے وہ مشکل وقت سے گذر رہے ہیں ۔
ویٹریس سارہ نے زیادہ دیر نہیں سوچا۔ اس نے انہیں دو ڈشیں تجویز کیں اور وہ بغیر کسی ہچکچاہٹ کے مان گئے کہ وہ سب سے سستے ہیں۔ وہ دونوں آرڈر لے کر آئی اور انہوں نے بھوک کی شدت سے جلدی سے کھانا کھایا، اور جانے سے پہلے انہوں نے ویٹریس سے بل مانگا۔ وہ اپنے بلنگ والیٹ میں کاغذ کا ایک ٹکڑا لے کر ان کے پاس واپس آئی جس پر اس نے لکھا تھا کہ : "میں نے آپ کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ کا بل اپنے ذاتی اکاؤنٹ سے ادا کیا۔ یہ میری طرف سے تحفے کے طور پر ایک سو ڈالر کی رقم ہے، اور میں آپ کے لیے کم سے کم اتنا تو کر سکتی ہوں۔ آپ کی آمد کے لیے شکریہ۔ سارہ کے دستخط شدہ۔
ریستوراں سے نکلتے ہی یہ جوڑا بہت خوش تھا۔
مشکل صورتحال میں مبتلا سارہ کے لئے حیرت انگیز بات یہ تھی کہ اس نے اپنے سخت مالی حالات کے باوجود جوڑے کے کھانے کا بل ادا کرنے میں بے حد خوشی محسوس کی۔ حالانکہ وہ تقریباً ایک سال سے ایک آٹومیٹک واشنگ مشین خریدنے کے لئے پیسے بچا رہی تھی کیونکہ پرانی واشنگ مشین سے کپڑے دھونے میں اسے بہت مشکل ہوتی تھی
لیکن جس چیز نے اسے سب سے زیادہ دکھ پہنچایا وہ یہ تھا کہ جب اس کی دوست کو اس معاملے کا پتہ چلا تو سارہ کی دوست نے اسے بہت ڈانٹا۔ کیونکہ اس نے خود اپنی اور اپنے بچے کی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر یہ پیسے بچائے تھے اسے دوسروں کی مدد کرنے سے زیادہ اپنے لئے واشنگ مشین خریدنے کی ضرورت تھی۔
اسی دوران اسے اپنی ماں کا فون آیا جس میں اسے اونچی آواز میں کہا گیا: "سارہ تم نے کیا کیا؟"
اس نے ایک ناقابل برداشت جھٹکے سے ڈرتے ہوئے دھیمی، کانپتی ہوئی آواز میں جواب دیا: ’’میں نے کچھ نہیں کیا۔ کیا ہوا؟"
اس کی والدہ نے جواب دیا: "فیس بک تمہاری تعریف کرنے اور تمہارے طرز عمل کی تعریف کرنے میں زمین آسمان ایک کر رہا ہے۔ اس بندے اور اسکی اہلیہ نے فیس بک پر تمہارا پیغام پوسٹ کیا جب تم نے ان کی طرف سے بل ادا کیا اور بہت سے لوگوں نے اسے شیئر کیا۔ مجھے تم پر فخر ہے۔" ...
اس نے بمشکل اپنی والدہ کے ساتھ اپنی بات چیت مکمل کی تھی جب اسکول کے ایک دوست نے اسے فون کیا جس سے یہ ظاہر ہوا کہ اس کا پیغام تمام ڈیجیٹل سوشل پلیٹ فارمز پر وائرل ہو چکا ہے۔
جیسے ہی سارہ نے اپنا فیس بک اکاؤنٹ کھولا، اسے ٹیلی ویژن کے پروڈیوسروں اور پریس رپورٹرز کے سینکڑوں پیغامات ملے جن میں اس سے ملنے کے لیے کہا گیا تاکہ وہ اپنے مخصوص اقدام کے بارے میں بات کریں۔
اگلے دن، سارہ سب سے مشہور اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے امریکی ٹیلی ویژن شوز میں سے ایک پر نمودار ہوئی۔ پروگرام پیش کرنے والے نے اسے ایک بہت ہی پرتعیش واشنگ مشین، ایک جدید ٹیلی ویژن سیٹ اور دس ہزار ڈالر دیے۔ اس ایک الیکٹرانکس کمپنی سے پانچ ہزار ڈالر کا پرچیز واؤچر حاصل کیا۔ اس پر تحائف کی بارش ہوئی یہاں تک کہ اس کے عظیم انسانی رویے کی تعریف میں حاصل ہونے والی رقم $100,000 سے زیادہ تک پہنچ گئی۔
دو کھانے جن کی قیمت چند ڈالر + $100 سے زیادہ نہیں تھی نے اس کی زندگی بدل ڈالی۔
سخاوت یہ نہیں ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت نہیں ہے وہ کسی کو دے دیں بلکہ سخاوت یہ ہے کہ جس چیز کی آپ کو ضرورت ہے وہ کسی دوسرے ضرورت مند کو دے دیں۔
حقیقی غربت انسانیت اور رویوں کی غربت ہے۔
ظہیر احمد قریشی

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُ...
30/10/2024

ایران کا ایک بادشاہ سردیوں کی شام جب اپنے محل میں داخل ہو رہا تھا تو ایک بوڑھے دربان کو دیکھا جو محل کے صدر دروازے پر پُرانی اور باریک وردی میں پہرہ دے رھا تھا۔
بادشاہ نے اُس کے قریب اپنی سواری کو رکوایا اور اُس ضعیف دربان سے پوچھنے لگا:
"سردی نہیں لگ رہی؟"
دربان نے جواب دیا: "بہت لگتی ھے حضور۔ مگر کیا کروں، گرم وردی ہے نہیں میرے پاس، اِس لئے برداشت کرنا پڑتا ہے۔"
"میں ابھی محل کے اندر جا کر اپنا ہی کوئی گرم جوڑا بھیجتا ہوں تمہیں۔"
دربان نے خوش ہو کر بادشاہ کو فرشی سلام کہے اور بہت تشکّر کا اظہار کیا،
لیکن بادشاہ جیسے ہی گرم محل میں داخل ھوا، دربان کے ساتھ کیا ہوا وعدہ بھول گیا۔
صبح دروازے پر اُس بوڑے دربان کی اکڑی ھوئی لاش ملی اور قریب ہی مٹّی پر اُس کی یخ بستہ انگلیوں سے لکھی گئی یہ تحریر بھی:
"بادشاہ سلامت،
میں کئی سالوں سے سردیوں میں اِسی نازک وردی میں دربانی کر رہا تھا
مگر کل رات آپ کے گرم لباس کے وعدے نے میری جان نکال دی۔"
*سہارے انسان کو کھوکھلا کر دیتے ہیں اسی طرح امیدیں کمزور کر دیتی ہیں اپنی طاقت کے بل بوتے جینا شروع کیجیے۔**۔
سہاروں کی بساکھیاں پھینک کر اپنی طاقت آزمائیے!

یہ مضمون اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق ہم جو پانی پیتے ہیں، چاہے وہ نلکے کا ہو یا بوتل میں بن...
30/10/2024

یہ مضمون اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ جدید سائنسی تحقیقات کے مطابق ہم جو پانی پیتے ہیں، چاہے وہ نلکے کا ہو یا بوتل میں بند، اسے "مردہ پانی" سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ جسم کے لیے مکمل طور پر مفید نہیں ہوتا۔ تحقیق کے مطابق جب پانی کو مٹی کے برتنوں میں رکھا جاتا ہے تو اس کی توانائی بحال ہو جاتی ہے، جو کہ ان پائپوں کے دباؤ سے متاثر ہوئی ہوتی ہے جن کے ذریعے یہ پانی ہمارے گھروں تک پہنچتا ہے۔
مٹی کے برتن پانی کی زندگی اور طاقت کو بحال کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ مٹی انسان کے جسم کے لیے سب سے قریب ترین مواد ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق جب پانی پہلی بار پیدا ہوا تو وہ اپنی اصل اور صحیح حالت میں تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اس میں بے قاعدگی پیدا ہو گئی، اور وہ بے قاعدہ پانی مردہ پانی کہلاتا ہے، جبکہ قاعدہ مند پانی کو زندہ پانی کہا جاتا ہے۔
زندہ پانی وہ ہے جس کی ذرات کی تنظیم دوبارہ مقناطیسی توانائی کے ذریعے بحال کی گئی ہو۔ زندہ پانی کے فوائد میں شامل ہیں:
1. **مٹی کی منفی چارج**: مٹی کے برتن کی چارج منفی ہوتی ہے، جو کہ زمین کی طرح ہے۔ یہ منفی چارج پانی میں موجود نقصان دہ ذرات کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے، کیونکہ زیادہ تر نقصان دہ جراثیم کی چارج مثبت ہوتی ہے۔
2. **پانی کی قلوی حالت**: مٹی کے برتن میں رکھا پانی قلوی بن جاتا ہے، یعنی اس کا pH لیول 7.5 یا اس سے زیادہ ہو جاتا ہے، جو کہ جسم کی صحت کے لیے مفید ہے۔
3. **خون کا pH قلوی بننا**: قلوی پانی پینے سے خون کا pH لیول بھی قلوی ہو جاتا ہے، جو کہ کینسر کی خلیات کے بڑھنے کو روکتا ہے، کیونکہ یہ خلیات قلوی ماحول میں تقسیم نہیں ہو سکتیں۔
4. **آکسیجن کی زیادہ مقدار**: مٹی کے برتن میں پانی میں آکسیجن کی مقدار عام پانی کے مقابلے میں 200 گنا زیادہ ہوتی ہے، جو کہ جسم کے لیے بہت مفید ہے، کیونکہ آکسیجن کی زیادہ مقدار کینسر کی خلیات اور دیگر بیماریوں کے جراثیم کو ختم کر دیتی ہے۔
5. **نمکیات کی کم مقدار**: مٹی کے برتن میں پانی میں نمکیات کی مقدار عام پانی کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔
یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ مٹی کے برتن کو قدرتی طور پر تیار کیا جانا چاہیے، اس میں کوئی کیمیائی مواد شامل نہ ہو، اور اسے رنگا ہوا نہیں ہونا چاہیے تاکہ پانی کی اصلیت برقرار رہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، اور مٹی زندگی اور توانائی کو محفوظ رکھنے کے لیے بہترین مواد ہے۔ ہمارے اجداد بھی پانی، تیل اور دیگر اشیاء کو مٹی کے برتنوں میں محفوظ رکھتے تھے اور ان کی فطرت سلیمہ تھی۔ آج ہم نے پلاسٹک اور دھات کے برتنوں میں چیزیں محفوظ کرنا شروع کر دیا ہے، جو ہماری صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔

* دنیا کی سب سے لمبی ریل کی پٹڑیاں امریکہ میں موجود ہیں، جن کی لمبائی تقریباً 250,000 کلومیٹر ہے۔ امریکی ریلوے نیٹ ورک م...
29/10/2024

* دنیا کی سب سے لمبی ریل کی پٹڑیاں امریکہ میں موجود ہیں، جن کی لمبائی تقریباً 250,000 کلومیٹر ہے۔ امریکی ریلوے نیٹ ورک ملک کے وسیع حصوں پر محیط ہے اور یہ سامان اور افراد کو امریکہ بھر میں نقل و حمل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے بعد چین ہے جس کی ریلوے کی لمبائی تقریباً 100,000 کلومیٹر ہے، جہاں تیز رفتار ٹرینوں کے ساتھ ریلوے کا تیزی سے ارتقاء ہوا ہے جو بڑے شہروں کو آپس میں جوڑتی ہیں۔ روس تیسرے نمبر پر ہے، جس کی ریلوے پٹڑیوں کی لمبائی تقریباً 85,000 کلومیٹر ہے، جس میں مشہور ٹرانس سائبیریا ریلوے لائن شامل ہے جو ماسکو کو ولاڈی واسٹوک سے جوڑتی ہے۔ بھارت چوتھے نمبر پر ہے جس کی ریلوے کی پٹڑیاں تقریباً 68,000 کلومیٹر طویل ہیں، اور یہ دنیا کی سب سے زیادہ مصروف نیٹ ورکس میں سے ایک ہے، جس پر روزانہ لاکھوں افراد کا انحصار ہے۔
* دنیا کی پہلی ریلوے لائن 1830 میں انگلینڈ کے دو شہروں لیورپول اور مانچسٹر کے درمیان قائم کی گئی تھی۔ یہ ریلوے لائن ٹرینوں کے ذریعے نقل و حمل کے میدان میں ایک سنگ میل تھی اور انیسویں صدی میں نقل و حمل کے ذرائع میں ایک بڑی تبدیلی سمجھی جاتی تھی۔ اس پٹڑی پر استعمال ہونے والی ٹرین کا نام "دی راکٹ" (The Rocket) تھا، جسے جارج اسٹیفنسن نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس منصوبے نے ریلوے کے انقلاب کی اصل شروعات کی جو بعد میں یورپ، شمالی امریکہ اور دنیا کے دیگر حصوں میں پھیل گئی، جس نے معیشت، صنعت اور روزمرہ کی زندگی میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں لائیں۔

"ایک سائنسی تجربے میں"انہوں نے ایک مینڈک کو پانی میں رکھا اور پانی کو آگ پر گرم کیا۔ جوں جوں پانی گرم ہوتا گیا، مینڈک اپ...
29/10/2024

"ایک سائنسی تجربے میں"
انہوں نے ایک مینڈک کو پانی میں رکھا اور پانی کو آگ پر گرم کیا۔ جوں جوں پانی گرم ہوتا گیا، مینڈک اپنے جسم کی حرارت کو اسی حساب سے ایڈجسٹ کرتا گیا، اور پانی اسے معمولی اور قابل قبول محسوس ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پانی اُبلنے لگا، اور مینڈک اس تجربے میں مر گیا۔
تجربے کے بعد، سائنسدانوں نے مینڈک کے اس رویے کا مطالعہ کیا کہ جیسے جیسے پانی کی حرارت بڑھتی گئی، وہ اپنے جسم کی حرارت کو ایڈجسٹ کرتا رہا۔ برتن، جس میں مینڈک رکھا گیا تھا، اوپر سے کھلا تھا، اس کے باوجود مینڈک نے اُچھل کر باہر نکلنے کی کوشش نہیں کی، یہاں تک کہ جب پانی اُبلنے لگا اور وہ مر گیا۔
سائنسدانوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ مینڈک کو اُبلتا پانی نہیں مارا، بلکہ مینڈک کا مسلسل اپنے آپ کو ایڈجسٹ کرنے کا اصرار تھا جس نے اس کی توانائی کو ختم کر دیا، یہاں تک کہ اسے اپنی زندگی بچانے کے لیے بھی طاقت نہیں بچی۔
اس سارے تجربے کی حکمت یہ ہے کہ:
اپنی زندگی میں جب آپ کسی تعلق میں ہوں، چاہے وہ کسی بھی قسم کا انسانی رشتہ ہو، اور آپ اس میں آرام دہ نہ ہوں، اور آپ بار بار خود کو ایڈجسٹ کرنے کی کوشش کریں، اپنی جسمانی، نفسیاتی، ذہنی، اور عصبی توانائی کا استعمال کریں، تو ایک وقت ایسا آتا ہے جب آپ اپنی تمام تر توانائی کھو دیتے ہیں، اور پھر آپ خود کو کھو بیٹھتے ہیں۔
《اپنی تمام تر توانائی خرچ نہ کریں، یہ جانیں کہ کب چھلانگ لگا کر اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو بچانا ہے۔》

Address

Behind Faysal Bank & UBL Moh. HAQ SAIN
Chawinda
51420

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 19:00
Thursday 09:00 - 19:00
Friday 09:00 - 17:00
Saturday 11:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00

Telephone

+92526210567

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when DAWN Computer Academy posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to DAWN Computer Academy:

Shortcuts

Share