Khalid-Bin-Waleed Islamia Model School Turangzai Charsadda

Khalid-Bin-Waleed Islamia Model School  Turangzai Charsadda

Share

A leading Islamic Madrassah in District Charsadda

13/12/2025

چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT)

چیٹ جی پی ٹی (ChatGPT) ایک ایسا اے آئی ٹول ہے جو استاد کی سوچ کو وسعت دیتا ہے اور تدریس کے عمل کو منظم کرتا ہے۔ یہ ٹول دراصل انسانی گفتگو کے انداز کو سمجھنے اور اسی انداز میں جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی بنیاد لینگویج ماڈل پر ہے، یعنی یہ الفاظ، جملوں اور خیالات کے درمیان تعلق کو سمجھ کر جواب تیار کرتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ سبق، مثال، سرگرمی اور سوالات بھی ترتیب دے سکتا ہے۔
جب ایک استاد روزانہ کلاس میں داخل ہوتا ہے تو اس کے سامنے کئی عملی مسائل ہوتے ہیں۔ کہیں وقت کم ہے، کہیں نصاب زیادہ ہے، کہیں بچے کمزور ہیں اور کہیں وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ چیٹ جی پی ٹی ایسے تمام حالات میں استاد کے ساتھ ایک معاون ٹول کی طرح کام کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی نان فارمل اسکول میں ایک ہی ٹیچر کو مختلف جماعتوں کو پڑھانا ہو تو وہ چیٹ جی پی ٹی سے ہر جماعت کے لیے الگ مگر مربوط سرگرمیاں بنوا سکتا ہے، جو ایک ہی موضوع کے گرد گھومتی ہوں مگر سطح کے مطابق ہوں۔
عملی تدریس کی ایک مثال دیکھیں۔ فرض کریں جماعت سوم کے بچوں کو “اسم” سمجھانا ہے، مگر بچے تعریف یاد نہیں کر پا رہے۔ استاد چیٹ جی پی ٹی سے یہ لکھ کر مدد لے سکتا ہے کہ “جماعت سوم کے بچوں کو اسم کھیل کے ذریعے سمجھانے کا طریقہ بتائیں”۔ جواب میں چیٹ جی پی ٹی ایسی سرگرمی تجویز کرے گا جس میں بچے کلاس روم میں موجود چیزوں کے نام خود بولیں، لکھیں یا گروپس میں بانٹیں۔ یوں سبق رٹا لگانے کے بجائے تجربے سے سیکھا جائے گا۔
اسی طرح ریاضی میں جمع یا تفریق پڑھاتے وقت اکثر بچے گھبرا جاتے ہیں۔ استاد چیٹ جی پی ٹی سے کہہ سکتا ہے کہ “روزمرہ زندگی کی مثالوں سے جمع سمجھانے کی کہانی بنائیں”۔ ٹول بچوں کی عمر کے مطابق ایسی کہانی تیار کر دے گا جس میں ٹافیاں، آم، یا سکے شامل ہوں، جنہیں بچے فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ استاد اس کہانی کو زبانی بھی سنا سکتا ہے اور تختہ سیاہ پر مثال بنا کر بھی سمجھا سکتا ہے۔
سائنس کی تدریس میں یہ ٹول خاص طور پر مفید ثابت ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر موضوع “پودوں کی نشوونما” ہو اور اسکول میں کوئی چارٹ یا ماڈل موجود نہ ہو تو استاد چیٹ جی پی ٹی سے سادہ زبان میں مرحلہ وار وضاحت لے سکتا ہے۔ پھر اسی وضاحت کو بنیاد بنا کر بچوں سے سوالات پوچھ سکتا ہے، جیسے بیج کو پانی نہ ملے تو کیا ہوگا؟ سورج کی روشنی کیوں ضروری ہے؟ اس طرح ایک عام سبق تحقیقی گفتگو میں بدل جاتا ہے۔
چیٹ جی پی ٹی اسیسمنٹ کے میدان میں بھی استاد کا بوجھ کم کرتا ہے۔ استاد اگر چاہے تو مکمل سبق پڑھانے کے بعد چیٹ جی پی ٹی سے اس سبق پر مبنی مختصر سوالات، زبانی سوالات، یا گھریلو کام تیار کروا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر “جماعت پنجم کے لیے پانچ سوچ پر مبنی سوالات بنائیں” لکھنے پر ٹول ایسے سوالات دے گا جو صرف یادداشت نہیں بلکہ سمجھ کو جانچتے ہیں۔
اساتذہ کی اپنی پیشہ ورانہ بہتری کے لیے بھی یہ ٹول انتہائی کارآمد ہے۔ اگر کسی استاد کو محسوس ہو کہ کلاس کنٹرول میں مسئلہ آ رہا ہے، یا بچے دلچسپی نہیں لے رہے، تو وہ چیٹ جی پی ٹی کو پورا مسئلہ لکھ کر بتا سکتا ہے۔ جواب میں یہ ٹول تدریسی حکمتِ عملیاں، رویے بہتر بنانے کے طریقے، اور عملی تجاویز فراہم کرے گا، جو فوری طور پر آزمائی جا سکتی ہیں۔
ایک اور عملی پہلو زبان سیکھنے کا ہے۔ اردو میڈیم اسکولوں میں انگریزی پڑھانا اکثر مشکل بن جاتا ہے۔ چیٹ جی پی ٹی سے روزمرہ استعمال کے جملے، مکالمے، اور رول پلے سرگرمیاں تیار کروائی جا سکتی ہیں۔ استاد بچوں کو دو دو کے گروپ میں بانٹ کر وہ مکالمے بولنے کی مشق کروا سکتا ہے، جس سے بولنے کا اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
جہاں تک اس ٹول کے استعمال کا تعلق ہے، یہ نہایت آسان ہے۔ موبائل یا کمپیوٹر میں انٹرنیٹ موجود ہو تو چیٹ جی پی ٹی فوراً دستیاب ہے۔ ویب براؤزر میں chat.openai.com کھولیں، یا موبائل ایپ اسٹور سے ChatGPT ایپ ڈاؤنلوڈ کریں۔ اکاؤنٹ بنانے کے بعد سیدھا سوال لکھیں، جیسے آپ کسی سینئر استاد سے بات کر رہے ہوں۔ کوئی خاص تکنیکی مہارت درکار نہیں، صرف سوال واضح ہونا چاہیے۔
یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ چیٹ جی پی ٹی ایک معاون ٹول ہے، حتمی فیصلہ اور اختیار استاد کے پاس ہی رہتا ہے۔ استاد کو چاہیے کہ وہ اس ٹول سے حاصل شدہ مواد کو اپنے حالات، بچوں کی سطح اور مقامی ماحول کے مطابق ڈھال کر استعمال کرے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اچھا استاد اور ایک عام صارف میں فرق پیدا ہوتا ہے۔
(منصور اختر غوری)

(آپ نے یہ تحریر مکمل پڑھی ھے مطلب آپ دلچسپی رکھتے ہیں اے آئی عملی طور پر سیکھنے کے لیے کمنٹس میں دیا گیا گروپ جوائن کرسکتے ہیں)

#منصوراخترغوری #تعلیم

08/12/2025

*تمام میٹرک اینول ٹو ایگزام دینے والے طلباء کو مطلعہ کیا جاتا ہے کہ میٹرک اینول ٹو ایگزام کا رزلٹ دسمبر کے آخری ہفتے یعنی 26 دسمبر کو نکلے گا انشااللہ*

05/10/2025

#ٹیچرڈی

05/10/2025

30/09/2025
جامع مسجد کی تعمیر میں تعاون کی اپیل

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے گھر کی تعمیر کے کام میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہماری جامع مسجد جو زیرِ تعمیر ہے، اُس کے اکثر مراحل اللہ کے نیک بندوں کے تعاون سے مکمل ہوتے رہے ہیں۔ اب یہ مسجد اپنے آخری مراحل میں ہے اور ایک بڑے برآمدے کی تعمیر باقی ہے تاکہ نمازی زیادہ سہولت اور سکون کے ساتھ نماز ادا کر سکیں۔

اس برآمدے کی تکمیل کے لئے درج ذیل سامان کی فوری ضرورت ہے:

دو ہزار (2000) فٹ ماربل

پچاس (50) بوری سیمنٹ

ایک ڈمپر ریت

یہ تمام چیزیں مسجد کی خوبصورتی، پائیداری اور نمازیوں کی سہولت کے لئے نہایت ضروری ہیں۔

ہم دل کی گہرائیوں سے اُن تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس بابرکت کام میں اپنا حصہ ڈالا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں دیا گیا ہر روپیہ اور ہر تعاون آخرت میں صدقۂ جاریہ بنے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو اللہ کے لئے مسجد بنائے، اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا" (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

لہٰذا ہم تمام اہلِ ایمان سے گزارش کرتے ہیں کہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ چاہے وہ ماربل کا تعاون ہو، سیمنٹ یا ریت کی فراہمی ہو یا مالی معاونت، آپ کا ہر تعاون ہمارے لئے باعثِ برکت اور آپ کے لئے دائمی اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گا۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی توفیق عطا فرمائے اور اس مسجد کو قیامت تک ہدایت، ایمان اور اخلاص کا مرکز بنائے۔ آمین۔
رابطہ نمبر: 03335858813/03336979719/03139191048 30/09/2025

جامع مسجد میں تعمیر کی اپیل

جامع مسجد کی تعمیر میں تعاون کی اپیل اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اُس نے ہمیں اپنے گھر کی تعمیر کے کام میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔ ہماری جامع مسجد جو زیرِ تعمیر ہے، اُس کے اکثر مراحل اللہ کے نیک بندوں کے تعاون سے مکمل ہوتے رہے ہیں۔ اب یہ مسجد اپنے آخری مراحل میں ہے اور ایک بڑے برآمدے کی تعمیر باقی ہے تاکہ نمازی زیادہ سہولت اور سکون کے ساتھ نماز ادا کر سکیں۔ اس برآمدے کی تکمیل کے لئے درج ذیل سامان کی فوری ضرورت ہے: دو ہزار (2000) فٹ ماربل پچاس (50) بوری سیمنٹ ایک ڈمپر ریت یہ تمام چیزیں مسجد کی خوبصورتی، پائیداری اور نمازیوں کی سہولت کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ ہم دل کی گہرائیوں سے اُن تمام مسلمان بھائیوں اور بہنوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس بابرکت کام میں اپنا حصہ ڈالا۔ یقیناً اللہ تعالیٰ کے گھر کی تعمیر میں دیا گیا ہر روپیہ اور ہر تعاون آخرت میں صدقۂ جاریہ بنے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "جو اللہ کے لئے مسجد بنائے، اللہ اس کے لئے جنت میں گھر بنائے گا" (صحیح بخاری و صحیح مسلم) لہٰذا ہم تمام اہلِ ایمان سے گزارش کرتے ہیں کہ اس کارِ خیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ چاہے وہ ماربل کا تعاون ہو، سیمنٹ یا ریت کی فراہمی ہو یا مالی معاونت، آپ کا ہر تعاون ہمارے لئے باعثِ برکت اور آپ کے لئے دائمی اجر و ثواب کا ذریعہ بنے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنی توفیق عطا فرمائے اور اس مسجد کو قیامت تک ہدایت، ایمان اور اخلاص کا مرکز بنائے۔ آمین۔ رابطہ نمبر: 03335858813/03336979719/03139191048

30/09/2025

*سبق آموز کہانی*
ہم 1988 میں جب نویں کلاس میں پڑھتے تھے ، اس وقت اسکول یونیفارم میں اونٹ کے رنگ کی شلوار قمیض اور سفید جوتے ہوتے تھے ۔
ہیڈ ماسٹر صاحب یونیفارم کے معاملے میں بہت سختی سے پیش آتے تھے اس لئے تمام طلباء یونیفارم پہن کر آتے تھے سوائے دو ایک کے جو غریب تھے۔

ایک دن صبح کی اسمبلی کے دوران میٹرک کے طالب علم *بیکھو مٙل* بغیر یونیفارم کے اسمبلی کی قطار میں کھڑا تھا ، *جیسے ہی ہیڈ ماسٹر* کی نظر اس پر پڑی بہت ہی غصے میں *بیکھو مٙل* کو کالر سے پکڑ کر باہر لیکر آیا ، ہیڈ ماسٹر کا غصہ دیکھتے ہوئے *بیکھو مل زور زور سے کہنے لگا*
*سائیں میری بات سنیں* ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *میری بات سنیں*
*میرا باپ باسو مل* غریب آدمی ہے وہ مجھے کہاں سے یونیفارم اور جوتے لیکر دے ؟
مجھے آپ ماریں نہیں میں کل سے اسکول نہیں آؤں گا ۔
*ہیڈ ماسٹر استاد غلام حیدر کھوکھر* نے اسے چھوڑ دیا اور اسٹیج پر چڑھ کر تمام طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ اسمبلی کے بعد *بیکھو مٙل* ایک ایک کلاس میں آئے گا ، آج آپ کو جو خرچی ملی ہے وہ آپ بیکھو مل کو دے دینا تاکہ وہ یونیفارم خرید کر سکے۔
*میرے پاس حسب معمول آٹھ آنے جیب خرچ ملتا تھا* سوچا آج کے دن سموسہ نہیں کھاؤں گا وہ میں بیکھو مل کو دے دوں گا ۔
کلاس میں ابھی بیٹھے ہی تھے کہ کلاس کے *ٹیچر استاد فقیر* *محمد حیات ہسبانی* کلاس میں آ گئے ، تھوڑی دیر بعد بیکھو مٙل بھی استاد سے اجازت لیکر ہماری کلاس میں داخل ہوا ۔

اس کے ہاتھ میں ایک ایک روپے کے چند نوٹ اور کچھ سکّے تھے جو شاید اس نے اپنی کلاس سے جمع کئے تھے ۔
*استاد فقیر محمد حیات ہسبانی* بہت غصے میں تھے ہم سب کو منع کیا کہ کوئی بھی اس کو پیسے نہیں دے گا اور بیکھو مٙل کی جانب دیکھتے ہوئے غصے میں کہا کہ ڈوب نہیں مرتے جو بھیک مانگتے پھرتے ہو ۔
کیا غربت کی آڑ میں ساری زندگی بھیک مانگتے پھرو گے ؟
واپس اپنے کلاس میں جاؤ اور جن جن سے پیسے لئے ہیں ان کو واپس کر کے آؤ میں تمہیں یونیفارم لیکر دوں گا
بیکھو مٙل استاد کے کہنے پر واپس اپنی کلاس میں گیا اور سب کو ان کے پیسے واپس کر کے آ گیا ۔

*استاد فقیر محمد حیات ہسبانی نے پوچھا کہ شام کے وقت کون سا کام کر سکتے ہو ؟*
بیکھو مٙل نے جواب دیا کہ میرا باپ موچی ہے ، میں بوٹ پالش کرنا اور جوتوں کی مرمت کا کام کر سکتا ہوں مگر میرے پاس سامان خرید کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں۔
استاد نے پوچھا کتنے پیسے چاہئے ہونگے ؟
اس نے کہا ایک لکڑی کی پیٹی اور چند برش ، پالش وغیرہ سب ملا کر کوئی ڈیڑھ سو روپے چاہئے ان میں سب سامان آ جائے گا ۔
*استاد نے اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور ڈیڑھ سو روپے* گن کر دیئے اور کہا کہ یہ ادھار ہے ، تم مجھے روز کے حساب سے ہر ہفتے سات روپے واپس کرنا۔
اس کے بعد مجھ سے کاپی مانگی اور اس کے تین کورے صفحات پھاڑ کر نکال لئے اور ان پر کچھ لکھنے لگے تینوں چٹھیاں بیکھو مٙل کو دیتے ہوئے کہا ایک چٹھی رشید پنجابی کو دینا وہ تمہیں کپڑا دے گا اور تمہیں ایک روپے روزانہ کے حساب سے اس کا قرض واپس کرنا ہے ، دوسری چٹھی خالق منگی کو دینا وہ تجھے نئے جوتے دے گا اسے بھی ایک روپیہ روز کے حساب سے قرضہ واپس کرنا ہے ، یہ تیسری چٹھی یوسف درزی کو دینا وہ تمہیں یونیفارم سی کر دے گا اسے بھی ایک روپے روزانہ دینے ہیں، چار روپے قرضہ اتارنے کیلئے تمہیں ہر صورت میں اتنا کمانا ہیں تاکہ تم قرضہ چکا سکو اور اسے کے بعد تمہیں اپنی محنت کے ذریعے آگے بڑھنا ہے .

*ایک بار بھیک مانگنے کی عادت پڑ گئی تو ساری زندگی بھیک مانگتے ہی گزرے گی*
بیکھو مٙل وعدہ کر کے چلا گیا بعد میں استاد نے ہمیں کہا کہ آپ لوگ اپنے جوتوں کی مرمت اور بوٹ پالش ہمیشہ بیکھو مٙل سے کروایا کریں
وقت تیزی سے گزر گیا 12 سال پلک جھپکتے گزر گئے
*1999 میں ہائے اسکول کرونڈی میں دسویں کلاس کے طلباء کی الوداعی پارٹی ہو رہی تھی* ، استادوں کے ساتھ شہر کی معززین کو بھی دعوت تھی۔
*دعوت دی گئی ، کاٹن کے سوٹ میں ملبوس ، ماتھے پر ری بین کا چشمہ رکھے اپنی تقریر میں اسی اسکول میں پیش آئے 1988 کا قصہ سناتے ہوئے زار و قطار روتے ہوئے اسٹیج پر بیٹھے اپنے استاد فقیر محمد حیات ہسبانی کے پیروں کو چھوتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ایک کامل استاد نے مجھے بھیک مانگنے سے بچایا اور محنت کا سبق دیا ۔ آج کل مدد کے نام پر جو بھیک بانٹی جا رہی ہے, اس سے ھم مستقل بھکاری پیدا کئے جا رہے ہیں ، اس کی تصیح کے لئے بھی کسی استاد فقیر محمد حیات حیسبانی جیسا مرد قلندر درکار ھے"*
(محترم محمد ایوب قمبرانی کی سندھی تحریر کا اردو ترجمہ)cp
R. S"TANHA"S"

*تحریر کو صدقہ جاریہ اور اللہ کی رضا کی نیت سے اپنے عزیز و اقارب اور مقامی گروپس میں شیئر کیجئے ہو سکتا ہے کہ اللہ پاک آپ کی تھوڑی سی محنت یا کوشش سے کسی کی زندگی بدل دے*

30/09/2025

ماشاءاللہ بہت عمدہ تلاوت

Want your school to be the top-listed School/college in Charsadda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Charsadda