{خوشخبری}
صوبہ خیبر پختون خواہ میں خواتین کی اسلامی تعلیم و تربیت کا قدیم ترین ادارہ جامعہ بنات عائشہ رضی اللہ عنہا چارسدہ میں رواں سال حفظ و تجوید، مکمل درسِ نظامی، تدریبُ المعلمات، تخصص فی الفقہ، تجوید لِلعالمات بطرزِ وفاق المدارس اور دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ پرائمری تا مڈل سکول کا اہتمام بھی کیا گیا ہے.
(خصوصیاتِ جامعہ)
1:- عربی اردو بول چال•
2:- چوبیس گھنٹے تجربہ کار معلمات کی نگرانی•
3:- طالبات کی دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ ساتھ ماہانہ جائزہ•
4:-جدید سہولیات سے آراستہ،صاف ستھرا ماحول،قیام و طعام کا بہترین انتظام•
5:-مناسب فیس•
نوٹ؛ >نئے داخلے07شوال1444ھ بمطابق 28 اپریل 2023 بروز جمعہ سے شروع ہونگے۔
قدیم طالبات کی حاضری09شوال1444ھ بمطابق 30 اپریل 2023 بروز اتوار کو ہوگی۔
خواہش مند حضرات بَر وقت رابطہ کریں.
03339450433
03119042525
Jamea Banat-e-Ayesha Charsadda
Education
16/06/2022
🥀 _*غیر محسوس مگر تباہ کن سزائیں*_ 🥀
کسی شاگرد نے اپنے استاذ سے کہا : ہم رات دن اللّٰه تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں مگر اللّٰه تعالٰی ہمیں سزا نہیں دیتا.
استاذ محترم نے جواب دیا : ایسی بات نہيں بلکہ اللّٰه تعالی ہمیں کتنی سزائیں دیتا ہے مگر ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا.
اللّٰه تعالی کی سزائیں کیا ہوتی ہیں سنو...
1- *مناجات الہی کی لذت سے محرومی:*
کیا رب سے مناجات کی لذت تم سے چھین نہیں لی گئی؟
2- *قساوت قلبی* :
اس سے بڑی سزا کیا ہو سکتی ہے کہ انسان کا دل سخت ہو جائے؟
3 *-نیکیوں کا توفیق نہ ملنا:* ایک بڑی سزا یہ بھی ہے کہ تمہیں نیکیوں کی توفیق بہت کم ملے ۔
4- *تلاوت قرآن سے غفلت* : کیا ایسا نہیں ہوتا کہ دن کے دن گزر جاتے ہیں مگر تلاوت قرآن کی توفیق نہیں ملتی بلکہ بسا اوقات قرآن کی یہ آیت سنتے ہیں جس ميں اللّٰه تعالى نے فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑ پر نازل ہوتا تو اللّٰه کے خوف سے ریزہ ریزہ ہوجاتا ہم یہ آیت سنتے ہیں مگر ہمارے دلوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا؟
5- *تہجد سے محرومی:*
لمبی لمبی راتیں گزر جاتی ہیں مگر کبھی تہجد کی توفیق نہیں ملتی؟
6- *نیکیوں کے موسم بہار کی ناقدری* :
نیکیوں کے موسم بہار آتے اور گزر جاتے ہیں جیسے رمضان کے روزے، شوال کے روزے اور ذوالحجہ کے مبارک ایام وغيرہ .... مگر ان موسم میں کما حقہ عبادت کرنے کی توفیق نہیں ملتی اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟
7- *عبادت کو بوجھ محسوس کرنا* :
کیا تم عبادت کو بوجھ نہیں محسوس کرتے؟
8- *ذکر الہی سے لاپرواہی* : کیا اللّٰه کے ذکر سے تمہاری زبان خاموش نہیں رہتی؟
9- *نفسانی خواہشات کے سامنے شکست* :
کیا نفسانی خواہشات کے سامنے خود کو کمزور نہیں محسوس کرتے؟
10- *دنيا کی محبت* :
کیا تم مال و دولت اور منصب و شہرت کی بے جا حرص و لالچ ميں مبتلا نہیں ہو؟ اس سے بڑی سزا اور کیا ہو سکتی ہے؟
11- *کبیرہ گناھوں کو معمولی سمجھنا:*
کیا ایسا نہیں کہ تم بڑے بڑے گناہوں کو معمولی اور حقیر سمجھتے ہو جیسے جهوٹ غیبت چغلی؟
12- *فضول کاموں میں مشغولیت* :
کیا بیشتر اوقات تم فضول اور لا یعنی چیزوں ميں مشغول نہیں رہتے؟
13- *آخرت سے غفلت:*
کیا تم نے آخرت کو بھلا کر دنیا کو اپنا سب سے بڑا مقصد نہیں بنا لیا ہے؟
یہ ساری محرومیاں اور بے توفیقی بھی اللّٰه کی طرف سے عذاب اور سزائیں ہیں مگر تمہیں اس کا احساس نہیں ہوتا.
*یاد رکھو!!!*
اللّٰه تعالی کا یہ بہت معمولی عذاب ہے جسے ہم اپنے مال و اولاد اور صحت میں محسوس کرتے ہیں اور حقیقی عذاب اور سب سے خطرناک سزا وہ ہے جو دل کو ملتی ہے.
اس لئے اللّٰه تعالیٰ سے عافیت کی دعاء مانگو اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو کیونکہ گناہ کے سبب بندہ عبادت کی توفیق سے محروم کر دیا جاتا ہے.
*اللَّهُم أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ، وحُسنِ عِبَادتِك.*
*ترجمہ* ۔۔۔۔۔۔اے اللہ ! آپ مجھے اپنا ذکر کرنے، شکر کرنے اور بہترین طریقہ پر عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں آمین ثم آمین
▱▰▱▰▱▰▱▰
1️⃣🥀 اِصــــــــلاحِ معاشِرہ🥀 WhatsApp Group Invite
عَنْ الْبَرَاءِ،قَالَ:قال رَسُولُ اللہِ:
ﷺما مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ، فَيَتَصَافَحَانِ،إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَفْتَرِقَا .
*رسول اللہ ﷺکا فرمان*
جو کوئی دو مسلمان ملاقات کرتے اور پھر مصافحہ کرتے ہیں،تو جدا ہونے سے پہلے ہی ان دونوں کی مغفرت فرما دی جاتی ہے ۔‘‘
مسلمان کیساتھ محبت سے ملنا اور مصافحہ کرنا بہت فضیلت رکھتا ہے
*حوالہ*:سُنَنِ ابی داود حدیث نمبر 5212
12/06/2022
*حافظہ قوی کرنے کا وظیفہ*
سوال
میرا حافظہ بہت کم زور ہے، میں یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کررہا ہوں، جب امتحان ہوتے ہیں کافی محنت کرتا ہوں۔ جب پیپر دینے جاتا ہوں جو یاد کیا ہے، وہ سب کچھ بھول جاتا ہوں، کوئی وظیفہ یا دعا بتائیں!
جواب
ہر فرض نماز کے بعد دایاں ہاتھ پیشانی پر رکھ کر گیارہ مرتبہ "یَاقَوِيُّ" پڑھیں، نیز ہر فرض نماز کے بعد دایاں ہاتھ دل کی طرف رکھ کر سورہ طہ پارہ نمبر 16 کی آیت 25 تا 28،سات مرتبہ پڑھ لیا کریں۔
واضح رہے کہ حافظہ کی تیزی میں وظائف سے زیادہ ذہنی یک سوئی اور گناہوں سے اجتناب کا کردار ہے، گناہوں سے حافظہ کم زور ہوتا ہے، اور جوعمل علمی یک سوئی کو متاثر کرے اس سے بھی حافظہ متاثر ہوتاہے، تعلیم کے دوران ایسی کوئی بھی مشغولیت جو توجہ تقسیم یا منتشر کردے وہ نقصان دہ ہے، خصوصاً موبائل اور انٹرنیٹ وغیرہ کا بے جا استعمال ۔
نیز نہار منہ کشمش اور بادام کااستعمال تقویتِ حافظہ کے لیے مفید ہے، مسواک کا پنج گانہ نماز سے پہلے وضو میں استعمال اور کثرتِ تلاوتِ قرآن مجید و استغفار سے باطن روشن ہوتا ہے، جو قوتِ حافظہ کا باعث ہے۔حصولِ علم میں مسلسل محنت ، بلاعذر ناغہ نہ کرنا قوتِ حافظہ کے لیے اچھے اعمال ہیں۔
کم خوابی بھی حافظہ اور ذہانت پر زہر کا اثر کرتی ہے، اس سے ذہنی الجھن پیدا ہوتی ہے، لہٰذا نیند پوری کرنے کے اہتمام کے ساتھ دوپہر کے اوقات میں قیلولہ کی عادت ڈالیں، اس سے ذہن بیدار رہنے کے ساتھ حافظہ بھی اچھا ہوتاہے۔ فقط واللہ اعلم
فتوی نمبر : 144105200150
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
*ALHAFEEZ Media bayanat0️⃣5️⃣*
https://chat.whatsapp.com/C7kIiP9dKfMA49RAK0lTZd
✔️✔️
https://chat.whatsapp.com/KoJHuR44Mpn8ETk09nDD0h
✒️✒️
https://chat.whatsapp.com/Fc7RK2ryWDg8D2dxbKKahC
https://chat.whatsapp.com/KmsFGtRdXNNFewwPsb5aY7
https://chat.whatsapp.com/L3pmDhuslmb2Gx16LfAth5
https://chat.whatsapp.com/LkFg1j7noho3r07if8L5Bp
👇👇👇👇
🖋️مجرباتِ اکابر📝✒️0️⃣1️⃣
https://chat.whatsapp.com/GONan961ahrIdU0r2sQgIp
📢فکرانسانیت📿1️⃣1️⃣
https://chat.whatsapp.com/JmcR3YhDjDwAZjeFSba13C
ALHAFEEZ Media bayanat0️⃣5️⃣ WhatsApp Group Invite
12/06/2022
قربانی کے احکام ومسائل
زیرِ نظر فقہی مضمون حضرت مفتی اعظم پاکستان مفتی ولی حسن ٹونکی نور اللہ مرقدہٗ کا تحریر کردہ ہے، جو اس سے پہلے بھی موقع کی مناسبت سے ماہنامہ بینات کی زینت بن چکا ہے۔ اس سال بھی ذوالحجہ اور قربانی کے ایام کی مناسبت سے افادۂ عام کی خاطر قندِ مکرر کے طور پر نذرِ قارئین ہے۔ (ادارہ)
عشرۂ ذی الحجہ کے فضائل آنحضرت a نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے عشرۂ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں، ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ) قرآن مجید میں سورۂ ’’والفجر‘‘ میں اللہ تعالیٰ نے دس راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ دس راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرۂ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔ خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گزشتہ اورایک سا ل آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات میں بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے۔ تکبیر تشریق ’’ أللّٰہ أکبر أللّٰہ أکبر لا إلٰہ إلا اللّٰہ واللّٰہ أکبر أللّٰہ أکبر وللّٰہ الحمد ‘‘۔ نویں تاریخ کی صبح سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک ہر نماز کے بعد بآوازِ بلند ایک مرتبہ مذکورہ تکبیر کہنا واجب ہے۔ فتویٰ اس پر ہے کہ باجماعت اور تنہا نماز پڑھنے والے اس میں برابر ہیں، اس طرح مرد وعورت دونوں پر واجب ہے، البتہ عورت بآوازِ بلند تکبیر نہ کہے، آہستہ سے کہے۔ (شامی) عید الاضحی کے دن مذکورہ ذیل امور مسنون ہیں: صبح سویرے اُٹھنا، غسل ومسواک کرنا، پاک وصاف عمدہ کپڑے جو اپنے پاس ہوں پہننا، خوشبولگانا، نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا، عید گاہ کو جاتے ہوئے راستہ میں بآوازِ بلند تکبیر کہنا۔ نمازِ عید نماز عید دو رکعت ہیں۔ نماز عید اور دیگر نمازوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ اس میں ہر رکعت کے اندر تین تین تکبیریں زائد ہیں۔ پہلی رکعت میں ’’سبحانک اللّٰہم ‘‘پڑھنے کے بعد قراء ت سے پہلے اور دوسری رکعت میں قراء ت کے بعد رکوع سے پہلے۔ ان زائد تکبیروں میں کانوں تک ہاتھ اٹھانے ہیں۔ پہلی رکعت میں دوتکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیں، تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لیں۔ دوسری رکعت میں تینوں تکبیروں کے بعد ہاتھ چھوڑ دیئے جائیں، چوتھی تکبیر کے ساتھ رکوع میں چلے جائیں۔ ٭…اگر دورانِ نماز امام یا کوئی مقتدی عید کی زائد تکبیریں یا ترتیب بھول جائے تو ازدہام کی وجہ سے نماز درست ہوگی، سجدۂ سہو بھی ضروری نہیں۔ ٭…اگر کوئی نماز میں تاخیر سے پہنچا اور ایک رکعت نکل گئی تو فوت شدہ رکعت کو پہلی رکعت کی ترتیب کے مطابق قضاء کرے گا، یعنی ثناء ’’سبحانک اللّٰہم‘‘ کے بعد تین زائد تکبیریں کہے گا اور آگے ترتیب کے مطابق رکعت پوری کرے گا۔ نمازِ عید کے بعد خطبہ سننا مسنون ہے۔ خطبہ سننے کا اہتمام کرنا چاہیے، خطبہ سے پہلے اٹھنا درست نہیں ہے۔ فضائل قربانی قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ a نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی، کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور a نے لگاتار کیا اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ aنے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ aکا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا وجوب ثابت ہے۔ جو لوگ حدیث پاک کے مخالف ہیں اور اس کو حجت نہیں مانتے، وہ قربانی کا انکار کرتے ہیں، ان سے جو لوگ متأثر ہوتے ہیں، وہ کہتے ہیںکہ پیسے دے دیئے جائیں یا یتیم خانہ میں رقم دے دی جائے، یہ بالکل غلط ہے، کیونکہ عمل کی ایک تو صورت ہوتی ہے، دوسری حقیقت ہے، قربانی کی صورت یہی ضروری ہے، اس کی بڑی مصلحتیں ہیں، اس کی حقیقت اخلاص ہے۔ آیت قرآنی سے بھی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ قربانی کی بڑی فضیلتیں ہیں مسند احمد کی روایت میں ایک حدیث پاک ہے، حضرت زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ a سے صحابہ کرامؓ نے عرض کیا کہ: یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ a نے فرمایا: قربانی تمہارے باپ ابراہیم m کی سنت ہے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا: ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپ a نے فرمایا: اس کے ایک ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔ اون کے متعلق فرمایا: اس کے ایک ایک بال کے عوض بھی ایک نیکی ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں: رسول اللہ a نے ارشاد فرمایا: قربانی کے دن اس سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں، قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوںاور کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے، اس لیے تم قربانی خوش دلی سے کرو۔ ابن عباسؓ فرماتے ہیں: قربانی سے زیادہ کوئی دوسرا عمل نہیں، الا یہ کہ رشتہ داری کا پاس کیا جائے۔ (طبرانی) رسول اللہ a نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ t سے ارشاد فرمایا کہ: تم اپنی قربانی ذبح ہوتے وقت موجود رہو، کیونکہ پہلا قطرہ خون گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔ قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں، اس لیے اہل اسلام سے درخواست ہے کہ اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کریں جو اسلام کے شعائر میں سے ہے۔ اور اس سلسلہ میں جن شرائط وآداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے،اُنہیں اپنے سامنے رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں۔ قربانی سے متعلق مسائل آئندہ سطور میں درج کیے جارہے ہیں: مسائل قربانی مسئلہ نمبر: ۱…جس شخص پر صدقۂ فطر واجب ہے، اُس پر قربانی بھی واجب ہے۔ ٭…یعنی قربانی کے تین ایام (۱۰،۱۱،۱۲ ؍ذو الحجہ) کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا مال یا اشیا جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو تو اس پر قربانی لازم ہے، مثلاً: رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو، خواہ تجارت کے لیے ہو یا نہ ہو، اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہو تو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔ مسئلہ نمبر: ۲…مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ مسئلہ نمبر:۳…قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہوجانے کے بعد درست نہیں۔ قربانی کا جانوردن کو ذبح کرنا افضل ہے، اگرچہ رات کو بھی ذبح کرسکتے ہیں، لیکن افضل بقرہ عید کا دن،پھر گیارہویں اور پھر بارہویں تاریخ ہے۔ مسئلہ نمبر:۴…شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کے لیے عید الاضحی کی نماز پڑھ لینے سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتے ہیں۔ اگر شہری اپنا جانور قربانی کے لیے دیہات میں بھیج دے تو وہاں اس کی قربانی بھی نمازِ عید سے قبل درست ہے اور ذبح کرانے کے بعد اس کا گوشت منگواسکتا ہے۔ مسئلہ نمبر:۵… اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یا بارہویںتاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے، یا کسی نادار آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو غروبِ شمس سے پہلے اتنا مال آجائے کہ صاحب نصاب ہوجائے تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ ٭…نیز اگر مسافر مالدار ہو، دورانِ سفر قربانی کے لیے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصہ کے لیے رہائش پذیر ہونے کے باوجود بآسانی قربانی کرسکتا ہو تو قربانی کرلینا بہتر ہے۔ مسئلہ نمبر:۶… قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا زیادہ اچھا ہے، اگر خود ذبح نہ کرسکتا ہو تو کسی اور سے بھی ذبح کراسکتا ہے۔ ٭…بعض لوگ قصاب سے ذبح کراتے وقت ابتداء ًخود بھی چھری پر ہاتھ رکھ لیا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ قصاب اور قربانی والے دونوں مستقل طور پر تکبیر پڑھیں، اگر دونوں میں سے ایک نے نہ پڑھی تو قربانی صحیح نہ ہوگی۔ (شامی،ج:۶،ص:۳۳) مسئلہ نمبر:۷…قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں، دل میں بھی پڑھ سکتا ہے۔ مسئلہ نمبر: ۸…قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلہ رخ لٹائے اور اس کے بعد یہ دعا پڑھے: ’’إِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِیْفاً وَّمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ، إِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، لَاشَرِیْکَ لَہٗ وَبِذٰلِکَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ، أَللّٰہُمَّ مِنْکَ وَلَکَ‘‘۔ اس کے بعد ’’بسم اللّٰہ أللّٰہ أکبر‘‘ کہہ کرذبح کرے۔ (کذا فی سنن ابی داؤد) ذبح کرنے کے بعد یہ دعا پڑھے:’’أللّٰہم تقبّلہ منّی کما تقبّلت من حبیبک محمد وخلیلک إبراہیم علیہما الصلوٰۃ والسلام‘‘۔ مسئلہ نمبر:۹…قربانی صرف اپنی طرف سے کرنا واجب ہے، اولاد کی طرف سے نہیں، اولاد چاہے بالغ ہو یا نابالغ، مالدار ہو یا غیر مالدار۔ مسئلہ نمبر: ۱۰…درج ذیل جانوروں کی قربانی ہوسکتی ہے:اونٹ، اونٹنی، بکرا، بکری، بھیڑ، دُنبہ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا۔ بکرا، بکری، بھیڑ اور دُنبہ کے علاوہ باقی جانوروںمیں سات آدمی شریک ہوسکتے ہیں، بشرطیکہ کسی شریک کا حصہ ساتویں حصہ سے کم نہ ہو اور سب قربانی کی نیت سے شریک ہوں یا عقیقہ کی نیت سے، صرف گوشت کی نیت سے شریک نہ ہوں۔ ٭…گائے، بھینس اور اُونٹ وغیرہ میں سات سے کم افراد بھی شریک ہوسکتے ہیں، اس طور پر کہ مثلاً چار آدمی ہوں تو تین افراد کے دو دو حصے اور ایک کا ایک حصہ ہوجائے۔ نیز اگر پورے جانور کو چار حصوں میں تقسیم کرلیں، یہ بھی درست ہے۔ یا یہ کہ دو آدمی موجود ہوں تو نصف نصف بھی تقسیم کرسکتے ہیں۔ ٭… اسی طرح اگر کئی افراد مل کرایک حصہ ایصالِ ثواب کے طور پر کرنا چاہیں تو یہ بھی جائز ہے، البتہ ضروری ہے کہ سارے شرکا اپنی اپنی رقم جمع کرکے ایک شریک کو ہبہ کردیں اور وہ اپنی طرف سے قربانی کردے، اس طرح قربانی کا حصہ ایک کی طرف سے ہوجائے گا اور ثواب سب کو ملے گا۔ مسئلہ نمبر:۱۱… اگر قربانی کا جانور اس نیت سے خریدا کہ بعد میں کوئی مل گیا تو شریک کرلوں گا اور بعد میں کسی اور کو قربانی یا عقیقہ کی نیت سے شریک کیا تو قربانی درست ہے اور اگر خریدتے وقت کسی اور کو شریک کرنے کی نیت نہ تھی، بلکہ پورا جانور اپنی طرف سے قربانی کرنے کی نیت سے خریدا تھا تو اب اگر شریک کرنے والا غریب ہے تو کسی اور کو شریک نہیں کرسکتا اور اگر مالدار ہے تو شریک کرسکتا ہے، البتہ بہتر نہیں۔ ٭…ایک جانور قربانی کرنے کے لیے خریدا،اگر اس کے بدلے دوسرا حیوان دینا چاہے تو جائز ہے، مگر یہ لحاظ رکھنا ضروری ہے کہ دوسرا حیوان کم از کم اسی قیمت کا ہو، اگر اس سے کم قیمت کا ہو تو زائد رقم اپنے پاس رکھنا جائز نہیں، بلکہ صدقہ کرنا ضروری ہے۔ ہاں! اگر زبانی طور پر جانور کو متعین نہ کیا ہو، بلکہ یہ ارادہ کیا ہو کہ اگر اچھی قیمت میں فروخت ہورہا ہو تو فروخت کردیں گے۔ اس صورت میں اصل قیمت سے زائد رقم اپنے پاس رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ مسئلہ نمبر: ۱۲… قربانی کا جانور گم ہوا، اس کے بعد دوسرا خریدا، اگر قربانی کرنے والا امیر ہے تو ان دونوں جانوروں میں سے جس کو چاہے ذبح کرے، جب کہ غریب پر ان دونوں جانوروں کی قربانی واجب ہوگی۔ وضاحت:اگر کسی آدمی نے قربانی کے لیے جانور خریدا اور خریدنے کے بعد وہ جانور قربانی کرنے سے پہلے گم ہوجائے تو صاحب حیثیت آدمی پر قربانی کے لیے دوسرا جانور خریدنا ضروری ہے، کیونکہ اس پر قربانی شرعاً واجب تھی اور واجب ادا نہیں ہوا، جبکہ فقیر آدمی پر دوسرا جانور خریدنا اور قربانی کرنا لازم نہیں تھا، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور بھی خریدلیا، اب اگر مالدار اور غریب ہر دو کا پہلا گم شدہ جانور مل جائے تو امیر پر صرف شرعی واجب (قربانی) کا ادا کرنا لازم ہے، جس جانور کو ذبح کردے کافی ہے، جب کہ غریب پر خود سے واجب کردہ جانوروں کی قربانی کرنا لازم ہے۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ امیر آدمی پر نصاب کی وجہ سے قربانی واجب تھی، اس نے وہ ادا کردی، اس کے حق میں جانور متعین نہیں ہوا تھا، اُسے اختیار ہے کہ جس جانور کو چاہے ذبح کردے، جبکہ غریب آدمی پر قربانی لازم نہیں تھی، غریب نے از خود جانور خرید کر اپنے پر قربانی کو لازم کرلیا اور جو جانور اس نے خریدا وہ بھی متعین ہوگیا، اب پہلا جانور جو غریب کے حق میں قربانی کے نام سے متعین ہوچکا، اگر وہ گم ہوجائے تو اس کے بدلے دوسری قربانی لازم نہ تھی، اس کے باوجود غریب نے دوسرا جانور خرید کر اپنے پر قربانی لازم کرلی، اس بنا پر فقیر آدمی پر دوسری قربانی بھی لازم ہوئی۔ لہٰذا غریب آدمی دونوں جانوروں کی قربانی کرے گا۔ بخلاف مالدار کے کہ اس پر صرف قربانی لازم ہے، جانور متعین نہیں ہے، دونوں جانوروں میں سے کسی ایک کی قربانی کردے تو کافی ہے۔ مسئلہ نمبر:۱۳…قربانی کے جانور میں اگر کئی شرکاء ہیں تو گوشت وزن کرکے تقسیم کریں۔ مسئلہ نمبر:۱۴…بھیڑ، بکری جب ایک سال کی ہوجائے، گائے، بھینس دوسال کی اور اونٹ پانچ سال کا تو اس کی قربانی جائز ہے، اگر اس سے کم ہے تو جائز نہیں۔ ہاں! دنبہ اور بھیڑ (نہ کہ بکرا) اگر اتنا موٹا تازہ ہو کہ سال بھر کا معلوم ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ ٭…موجود ہ دور میں جانوروں کو تول کر (وزن کرکے) خرید وفروخت کرنا بھی جائز ہے، ایسی قربانی بلاشبہ درست ہے۔ مسئلہ نمبر:۱۵…قربانی کا جانور اگر اندھاہو، یا ایک آنکھ کی ایک تہائی یا اس سے زائد روشنی جاتی رہی ہو،یا ایک کان ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا دُم ایک تہائی یا اس سے زیادہ کٹ گئی ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ ٭…گائے اور بھینس کے دو تھن یا بکری کا ایک تھن خشک ہو چکا ہو یا پیدائشی طور پر نہ ہوں تو ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں۔ مسئلہ نمبر: ۱۶…اسی طرح اگر جانور ایک پاؤں سے لنگڑا ہے، یعنی تین پاؤں سے چلتا ہے، چوتھے پاؤں کا سہارا نہیں لیتا تو ایسے جانور کی قربانی بھی جائز نہیں۔ ہاں! اگر وہ چوتھے پاؤں سے سہارا لیتا ہے، لیکن لنگڑا کے چلتا ہے تو ایسے جانور کی قربانی درست ہے۔ مسئلہ نمبر: ۱۷…قربانی کا جانور خوب موٹا تازہ ہونا چاہیے، اگر جانور اس قدر کمزور ہو کہ ہڈیوں میں گودا بالکل نہ رہا ہو، تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ ٭…بعض لوگ موٹا تازہ جانور محض دکھلاوے یا ریا ونمود کے لیے خرید تے ہیں، ایسے لوگ قربانی کے ثواب سے محروم ہوتے ہیں، ان پر لازم ہے کہ وہ موٹا تازہ جانور تلاش کرتے ہوئے محض ثواب کی نیت کریں۔ مسئلہ نمبر: ۱۸…اگر کسی جانور کے تمام دانت گر گئے ہوں تو اس کی قربانی جائز نہیں ہے اور اگر اکثر دانت باقی ہوں، کچھ گر گئے ہوں تو قربانی جائز ہے۔ ٭…اگر کسی جانور کی عمر پوری ہو اور دانت نہ نکلے ہوں تو بھی قربانی ہوسکتی ہے، تاہم اس سلسلہ میں صرف جانوروں کے عام سود اگروں کی بات معتبر نہیں ہے، بلکہ یقین سے معلوم ہونا ضروری ہے یا یہ کہ خود گھر میں پالا ہوا جانور ہو تو اس کی قربانی کی جاسکتی ہے۔ مسئلہ نمبر: ۱۹…جس جانور کے پیدائشی کان ہی نہ ہوں، اس کی قربانی جائز نہیں ہے۔ مسئلہ نمبر: ۲۰…اگر کسی جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ چکے ہوں، اس طور پر کہ دماغ اس سے متأثر ہوا ہو تو ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں اور اگر معمولی ٹوٹے ہوں یا سرے سے سینگ ہی نہ ہوں، جیسے: اونٹ تو بلا کراہت جائز ہے۔ ٭…اسی طرح گائے، بکری وغیرہ کے اگر پیدائشی سینگ نہ ہوں تو اس کی قربانی بھی جائز ہے۔ مسئلہ نمبر: ۲۱…خارش زدہ جانور کی قربانی جائز ہے، البتہ اگر خارش کی وجہ سے بے حد کمزور ہوگیا ہو تو پھر جائز نہیں۔ مسئلہ نمبر: ۲۲…اگر قربانی کے جانور میں کوئی عیب پیدا ہوا جس کے ہوتے ہوئے قربانی درست نہ ہو تو مالدار شخص کے لیے یہ ضروری ہے کہ دوسرا جانور اس کے بدلے خرید کرقربانی کرے، غریب ہے تو اسی جانور کی قربانی کرسکتا ہے۔ ٭…اگر قربانی کے جانور کو ذبح کرنے کے لیے گراتے ہوئے کوئی عیب پیدا ہوجائے، مثلاً: ٹانگ کی ہڈی ٹوٹ جائے یا سینگ وغیرہ ٹوٹ جائے تو اس سے قربانی پر اثر نہیں پڑے گا، البتہ جانور کو گراتے وقت احتیاط کرنا چاہیے۔ مسئلہ نمبر: ۲۳…قربانی کے گوشت میں بہتر یہ ہے کہ تین حصے کرے، ایک حصہ اپنے لیے رکھے، ایک حصہ اپنے رشتہ داروں کو دے اور ایک حصہ فقراء ومساکین کو دے، لیکن اگر سارے کا سارا اپنے لیے رکھے تب بھی جائز ہے۔ مسئلہ نمبر: ۲۴…قربانی کی کھال کسی کو خیرات کے طور پر دے یا فروخت کرکے اس کی قیمت فقراء کو دے، البتہ اگر کسی دینی تعلیم کے مدرسہ اور جامعہ کو دے دے تو سب سے بہتر ہے، کیونکہ علم دین کا احیاء سب سے بہتر ہے۔ مسئلہ نمبر: ۲۵…قربانی کی کھال کو اپنے مصرف میں بھی لایا جاسکتاہے، اس طور پر کہ اس کا عین باقی رہے، مثلاً: مصلیٰ بنائے یا رسی یا چھلنی بنائے تو درست ہے۔ مسئلہ نمبر: ۲۶… قربانی کی کھال کی قیمت مسجد کی مرمت یا امام ومؤذن یا مدرس یا خادم کی تنخواہ میں نہیں دی جاسکتی، نہ اس سے مدارس کی تعمیر ہوسکتی ہے اور نہ شفاخانوں یا دیگر رفاہی اداروں کی۔ مسئلہ نمبر: ۲۷…قربانی کی کھال قصائی کو اجرت میں دینا جائز نہیں۔ ٭…اگر کسی کی قربانی کی کھال چوری ہوگئی یا چھن گئی تو اُسے چاہیے کہ وہ کھال کی رقم صدقہ کردے، اگر استطاعت نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، قربانی پر فرق نہیں پڑے گا۔ مسئلہ نمبر: ۲۸…اگر قربانی کے تین دن گزر گئے اور قربانی نہیں کی تو اب ایک بکری یا بھیڑ کی قیمت خیرات کردے، اور اگر جانور خریدا تھا، مگر قربانی نہیں کی تو بعینہ وہی جانور خیرات کردے۔ مسئلہ نمبر: ۲۹…ایصال ثواب کے لیے قربانی کاگوشت خود بھی کھا سکتا ہے اور دوسروں کو بھی کھلا سکتا ہے۔ مسئلہ نمبر: ۳۰…اگر کسی شخص کے حکم کے بغیر اس کی طرف سے قربانی کی تو قربانی نہیں ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص کو اس کے حکم واجازت کے بغیر قربانی میں شریک کیا تو کسی کی بھی قربانی نہیں ہوگی، اسی طرح اگر حصہ داروں میں سے کوئی ایک صرف گوشت کی نیت سے شریک ہے تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔ مسئلہ نمبر: ۳۱… قربانی کا گوشت غیر مسلم کو بھی دے سکتا ہے، البتہ کسی کو اجرت میں نہیں دے سکتا۔ مسئلہ نمبر: ۳۲…گابھن جانور کی قربانی صحیح ہے، اگربچہ زندہ نکلے تو اس کو بھی ذبح کردے۔ اور گوشت آپس میں تقسیم کرنے کی بجائے صدقہ کردیا جائے۔ ٭…قربانی کے جانور کے بال کاٹنا یا دودھ دوھنا درست نہیں ہے، اگر کسی نے ایسا کیا تو اُسے صدقہ کرے، اگر بیچ دیا تو اس کی رقم کو صدقہ کرنا واجب ہے۔ (بدائع،ج:۵،ص:۷۸) مسئلہ نمبر: ۳۳…جو شخص قربانی کرنا چاہے اس کے لیے مستحب یہ ہے کہ یکم ذو الحجہ سے قربانی کا جانور ذبح ہونے تک نہ اپنے جسم کے بال کاٹے اور نہ ناخن۔ (ابوداؤد) ٭…البتہ اگر زیر ناف اور بغل کے بالوںپرچالیس روز کا عرصہ گزر چکا ہو تو ان بالوں کی صفائی کرنا بہتر ہے۔ مسئلہ نمبر: ۳۴… قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ تک بھی رکھ سکتا ہے۔ (ابوداؤد) مسئلہ نمبر: ۳۵…جانور ذبح کرنے کے لیے چھری خوب تیز ہونی چاہیے، تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو۔ (ابوداؤد) مسئلہ نمبر: ۳۶…اگر کوئی شخص اپنی قربانی کا گوشت سارا کا سارا کسی اور کوکھلا دے، خود کچھ بھی نہ کھائے تو ایسا کرسکتا ہے۔ (کتاب الآثار) مسئلہ نمبر: ۳۷… خصی جانور کی قربانی جائز، بلکہ افضل ہے، کیونکہ اس میں دوسرے کی بہ نسبت گوشت زیادہ ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر: ۳۸…ذبح کرتے وقت تکبیر کے علاوہ کچھ اور نہیں کہنا چاہیے، مثلاً:’’باسم اللّٰہ تقبل من فلان‘‘۔ (کتاب الآثار) مسئلہ نمبر: ۳۹…اگر کسی نے قربانی کی نذر مانی اور وہ کام ہوجائے تو قربانی واجب ہے، اس کے گوشت سے خود نہیں کھا سکتا، سارا فقراء اور مساکین کو کھلادے۔ مسئلہ نمبر: ۴۰…اگر کسی شخص کی ساری یا اکثر آمدنی حرام کی ہو تو اس کو اپنے ساتھ قربانی میں شریک نہیں کرنا چاہیے۔ اگر شریک کیا تو کسی کی قربانی نہیں ہوگی۔ ایسا شخص جس کی ساری کمائی حرام کی ہو، اس پر قربانی لازم نہیں، کیونکہ اس کا سارا مال واجب التصدق (بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا ضروری ) ہے۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ حرام مال سے کسی کا صدقہ قبول نہیں فرماتے، بلکہ وہاں صرف پاکیزہ مال سے کیا ہوا صدقہ وخیرات قبول ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر: ۴۱…بکری کے علاوہ دوسرے کسی جانور میں تمام شرکاء اپنا اپنا حصہ تقسیم کئے بغیر فقراء کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔ ٭…البتہ اگر نذر کی قربانی ہو یا مرحوم کی وصیت کے تحت قربانی کررہے ہیں تو پھر تقسیم سے پہلے کسی فقیر کو دینا درست نہیں۔ مسئلہ نمبر: ۴۲… کسی نے مرتے وقت وصیت کی کہ میرے مال سے قربانی کی جائے تو اس قربانی کا سارا گوشت خیرات کرنا ضروری ہے، خود کچھ بھی نہ کھائے۔ ۹اللہ تعالیٰ امت مسلمہ کو قربانی کی روح اور حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری یہ ظاہری قربانی حقیقی قربانی کے لیے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری ومادی قربانی کی طرح اللہ کے حکم پر اپنی جان کی قربانی کے لیے بھی ہمیشہ تیار رہیں۔ واللّٰہ الموفق والمعین وصلی اللّٰہ تعالٰی علٰی خیر خلقہٖ محمد وآلہٖ وصحبہٖ أجمعین
Please visit:
Learn online Quran with Tajweed - GuidancetoQuran.com Learn online Quran from professional scholars. Different Quran courses are available. Contact us & start your free trial classes today.
12/06/2022
پیغمبر اسلام ﷺ کا حضرت عائشہؓ سے نکاح
مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
___________________________
نبی کی حیثیت عام انسانوں کی نہیں ہوتی، وہ خالق کائنات کا نمائندہ اور اس کی مرضیات کا ترجمان ہوتا ہے، اس کا اٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، کھانا پینا، دوستوں اور دشمنوں کے ساتھ اس کا رویہ، سفر وحضر، غرض کہ زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک حرکت وعمل انسانیت کے لئے اسوہ اور نمونہ ہوتا ہے، اس کے بولنے میں بھی انسانیت کے لئے سبق ہے اور اس کی خاموشی میں بھی، نبوت کا سلسلہ جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکمل ہوگیا، آپ کے بعد نہ کوئی نبی آیا ہے اور نہ آسکتا ہے؛ اس لئے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات والا صفات سو دو سو اور ہزار دو ہزار سال کے لئے نہیں؛ بلکہ قیامت تک کے لئے نمونہ ہے، اور آپ کی سیرت وسنت کی اتباع میں آخرت کی بھی فلاح ہے اور دنیا کی بھی کامیابی ہے۔
زندگی کا ایک اہم شعبہ ازدواجی اور خاندانی زندگی ہے، جس سے ہر انسان گزرتا ہے، ہر شخص حاکم اور قاضی نہیں بنتا، ہر شخص تجارت اور کاروبار نہیں کرتا؛ لیکن تقریبا ہر شخص خاندان کا حصہ ہوتا ہے، شادی بیاہ کے مرحلہ سے گزرتا ہے اور اس کے ذریعہ ایک نیا خاندان وجود میں آتا ہے، خاندان کا حصہ مرد بھی ہوتے ہیں اور عورتیں بھی ہوتی ہیں، اس کوقدم قدم پر رہنمائی کی ضرورت پیش آتی ہے، اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو عام لوگوں کے مقابل زیادہ نکاح کی اجازت دی گئی، آپ نے مختلف قبائل میں نکاح کئے، جس سے اسلام کی اشاعت میں مدد ملی، خواتین نیز خاندانی زندگی سے متعلق احکام کی تفصیلات مہیا ہوئیں، آپ نے بحیثیت مجموعی جن خواتین سے نکاح کیا، ان کی تعداد گیارہ ہے، ان میں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ سب کی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں، آپ نے پہلا نکاح حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کیا جو عمر میں آپ سے پندرہ سال بڑی تھیں، اور ایک بیوہ خاتون تھیں، بچپن ۵۵؍ سال کی عمر ہونے تک آپ کے نکاح میں ایک ہی بیوی رہیں: حضرت خدیجہؓ اور ان کے بعد حضرت سودہؓ، زندگی کے آخری آٹھ سالوں میں بقیہ ازواج آپ کے نکاح میں آئیں۔
غرض کہ پہلا نکاح آپ نے پچیس سال کی عمر میں چالیس سال کی خاتون سے کیا ، دوسرے: ایک کے سو ا آپ کی تمام بیویاں بیوہ یا مطلقہ تھیں، تیسرے: جو انسانی زندگی میں اصل زمانۂ شباب ہوتا ہے، اس میں آپ نے ایک ہی بیوی پر اکتفا فرمایا اور عمر کے آخری مرحلہ میں متعدد نکاح کئے، اگر ان نکات کو ملحوظ رکھا جائے تو وہ بہت سے غلط فہمیاں دور ہو جائیں گی، جو اعداء اسلام کی طرف سے پھیلائی جاتی ہیں،جن میں سے ایک حضرت عائشہؓ سے نکاح بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہؓ کا رشتہ پہلے جبیر ابن مطعم کے لڑکے سے طئے ہو چکا تھا، یہ خاندان ابھی مسلمان نہیں ہوا تھا، جبیر کی بیوی نے کہا کہ اگر ابو بکر کی لڑکی ہمارے گھر آگئی تو ہمارا گھر بھی بددین ہو جائے گا؛ اس لئے ہم کو یہ رشتہ منظور نہیں (مسند احمد: ۶؍۲۱۱) ؛ اس لئے یہ رشتہ ختم ہو گیا، پھر جب حضرت خدیجہؓ کا انتقال ہوگیا تو حضرت خولہؓ نے آپ سے حضرت سودہؓ اور حضرت عائشہؓ کا رشتہ پیش کیا، حضرت سودہؓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہم عمر تھیں، آپ نے ان سے نکاح فرمایا اور بعض غیبی اشاروں کی بنا، پر حضرت عائشہؓ کے رشتہ کو بھی قبول فرمالیا، اور حضرت خولہؓ سے خواہش کی کہ وہ اس بات کو آگے بڑھائیں، حضرت خولہؓ نے حضرت ابو بکرؓ کے سامنے یہ بات رکھی، حضرت ابو بکر کو یوں تو یہ رشتہ دل وجان سے محبوب تھا؛ لیکن چوں کہ زمانہ جاہلیت میں منھ بولے بھائی کی بیٹی سے نکاح کو حرام سمجھا جاتا تھا؛ اس لئے اس پر تأمل ہوا، جب حضرت خولہؓ نے حضور سے یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا کہ ابو بکرؓ دینی بھائی ہیں نہ کہ سگے بھائی، اس لئے ان کی بچی سے میرا نکاح ہو سکتا ہے، تو پھر وہ کھٹک بھی دور ہوگئی، اس طرح حضرت عائشہؓ سے آپ کا نکاح ہوا، نکاح کے وقت راجح قول کے مطابق حضرت عائشہؓ کی عمر چھ سال تھی اور رخصتی کے وقت نو سال ، دوسرے قول کے مطابق نکاح کے وقت حضرت عائشہؓ کی عمر اٹھارہ سال تھی؛ لیکن نو سال والی روایت کو امام بخاریؒ نے اپنی کتاب میں نقل کیا ہے، اور اہل علم کے نزدیک یہی روایت زیادہ صحیح ہے۔
حضرت عائشہؓ سے نکاح کے کئی بڑئ فوائد حاصل ہوئے:
ایک تو جاہلیت کی یہ رسم ختم ہو گئی کہ منھ بولا بھائی سگے بھائی کی طرح ہے اور سگے بھائی کی بیٹی کی طرح اس کی بیٹی سے بھی نکاح کی ممانعت ہے، اگر آپ نے اپنے عمل کے ذریعہ اس جاہلانہ رسم کے خاتمہ کا اعلان نہ کیا ہوتا، اور صرف زبانی ہدایت پر اکتفا کیا ہوتا تو شاید بھائی اور بھتیجی کے مصنوعی رشتہ کا تصور آسانی سے ختم نہیں ہوتا، اور صدیوں سے آئے ہوئے اس رواج کی مخالفت لوگوں کو گوارا نہیں ہوتی؛ لیکن جب آپ نے خود منھ بولے بھائی کی صاحبزادی سے نکاح کر لیا تو ہمیشہ کے لئے یہ تصور ختم ہوگیا۔
دوسرے: اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو غیر معمولی ذکاوت وذہانت سے نوازا تھا، ۳۵۰؍صحابہ وتابعین نے ان سے حدیث حاصل کی اور ان سے جو حدیثیں منقول ہیں، ان کی تعداد ۲۲۱۰؍ ہے، (سیر اعلام النبلاء، ۲؍۱۳۹)سات صحابہ وہ ہیں، جن کو روایت حدیث میں مکثرین کہا جاتا ہے، یہ وہ صحابہ ہیں، جنھوں نے ایک ہزار سے زیادہ حدیثیں آپ سے نقل کی ہیں، ان میں جہاں چھ مردوں کے نام ہیں، وہیں ایک نام حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بھی ہے، فتاویٰ میں بھی حضرت عائشہؓ کا پایہ بہت بلند تھا اور ان کا شمار عہد صحابہ کے ان اصحاب فتویٰ میں ہوتاتھا، جنھوں نے کثرت سے فتاویٰ دئیے ہیں، ماضی قریب کے معروف عالم وفقیہ ڈاکٹر رواس قلعہ جی نے حضرت عائشہؓ کے فتاویٰ کو ’’ موسوعہ فقہ عائشہ‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے، جو ۷۶۷؍ صفحات پر مشتمل ہے، اس سے فقہ وفتاویٰ کے میدان میں ان کی خدمات کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، عربی زبان میں ایک اصطلاح ’’استدراک‘‘ کی ہے، کسی شخص کی بات یا تصنیف میں کوئی غلطی یا غلط فہمی ہو گئی ہو تو اس کی اصلاح کو استدراک کہتے ہیں، حضرت عائشہؓ نے اکابر صحابہ پر استدراک کیا ہے، جس کو علامہ جلال الدین سیوطیؒ نے ’’ عین الاصابۃ فی استدراک عائشۃ علی الصحابۃ‘‘ کے نام سے جمع کیا ہے، اور اہل علم کی رائے ہے کہ عموما ان استدراکات میں حضرت عائشہؓ کا نقطہ نظر زیادہ درست ہے، پھر یہ کہ حضرت عائشہؓ جیسی ذہین خاتون کے آپ کے نکاح میں ہونے کی وجہ سے خواتین اور خاندانی زندگی سے متعلق بہت سارے مسائل کا حل ان ہی کی روایات سے ہوا ہے؛ اس لئے امت کو آپ کے ذریعہ جو علمی اور فکری فائدہ پہنچا، وہ بظاہر کسی اور سے نہیں ہو سکتا تھا۔
رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے بعد حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۴۷؍ سال زندہ رہیں، اور ان کی ہدایت واصلاح اور تعلیم وتربیت کا چشمہ جاری رہا، کہا جاتا ہے کہ بیس سال میں ایک نسل بدل جاتی ہے، اس طرح حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بھی دو نسلیں ان سے فیضیاب ہوئیں، یہ اسی لئے ممکن ہو سکا کہ وہ کم عمری میں آپ کے نکاح میں آگئی تھیں۔
اس سکے ساتھ ساتھ ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہوا کہ اس نکاح کے ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سب سے بڑے معاون ومددگار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے خاندان کو عزت سے سرفراز فرمایا، چار رفقاء نے سب سے بڑھ کر آپ کی مدد کی، ان میں سے دو حضرت ابو بکر وحضرت عمرؓ کی صاحبزادیوں کو آپ نے اپنے نکاح میں لے کر عزت بخشی، اور دو رفقاء حضرت عثمانؓ وحضرت علیؓ کے نکاح میں اپنی صاحبزادیوں کو دے کر عزت افزائی کی، اور اس طرح آپ نے ان چاروں دوستوں کی قربانی کے مقابلہ دلداری فرمائی، آپ حضرت ابو بکر کو کتنی ہی نعمتیں دے دیتے؛ لیکن حضرت عائشہؓ سے نکاح کی وجہ سے اس خاندان کو جو عزت ملی، اور جو سعادت حاصل ہوئی، وہ کسی اور طرح نہیں ہو سکتی تھی؛ اس لئے نہ کبھی حضرت ابو بکر کو پچھتاوا ہوا کہ عمر کے کافی تفاوت کے ساتھ آپ نے اپنی صاحبزادی کا نکاح کر دیا اور نہ خود حضرت عائشہؓ کو؛ بلکہ وہ اس نسبت کو اپنے لئے باعث عزت وافتخار سمجھتے تھے، اور جب ایک موقع پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات کو اختیار دیا کہ چوں کہ آپ کے ساتھ رہتے ہوئے بہت صبرو شکیب کی زندگی گزارنی پڑتی تھی، اس لئے ازواج مطہرات اگر چاہیں تو اپنے حقوق لے کر علیحدگی اختیار کر لیں تو سب سے پہلے حضرت عائشہؓ نے اس کو رد کر دیا، اور کہا کہ وہ ہر حال میں آپ کے ساتھ ہی رہیں گی، رشتہ نکاح کا تعلق اصل میں بیوی کے ساتھ ہوتا ہے، تو جب بیوی خود اس رشتہ کو اپنے لئے باعث سعادت سمجھتی ہو اور خوش دلی کے ساتھ باعث افتخار جانتے ہوئے اس پر راضی رہے تو کیسے کسی کو اس پر اعتراض کا حق ہو سکتا ہے؟
جہاں تک نکاح کے وقت کم سنی کی بات ہے تو اس کا تعلق اصل میں سماجی تعامل ورواج، موسمی حالات اور غذا سے ہے؛ اسی لئے مختلف علاقوں میں بلوغ کی عمریں الگ الگ ہوتی ہیں، عرب میں کم عمری میں لڑکیوں کے نکاح کا رواج تھا، عہد نبوت میں بھی اور آپ کے بعد بھی اس کی کئ مثالیں ملتی ہیں، جن میں دس سال سے کم عمر میں لڑکیوں کا نکاح کر دیا گیا، اور جلد ہی وہ ماں بھی بن گئیں، خود حضرت عائشہؓ کے نکاح میں حضرت خولہ ؓ نے رشتہ پیش کیا، اور حضرت ابو بکرؓ نے رضاعی بھائی ہونے کا بھی عذر کیا؛ لیکن عمر کے تفاوت پر کسی تامل کا اظہار نہیں کیا، پھر یہ کہ حجاز کا موسم گرم ہوتا ہے اور اس زمانے میں وہاں کی غذا کھجور اور اونٹنی کا دودھ ہوا کرتا تھا، جس میں بہت زیادہ غذائیت پائی جاتی تھی؛ اس لئے وہاں کے حالات کو ہندوستان پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔
اس کے علاوہ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ دنیا کے دوسرے مذاہب میں بھی کم عمر لڑکیوں کی شادی کا رواج رہا ہے، مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت مریم علیہا السلام کسی کی بیوی نہیں بنیں، اور معجزاتی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی؛ لیکن عیسائیوں کے بعض فرقوں کا خیال ہے کہ جوسف نامی شخص سے حضرت مریمؑ کا نکاح ہوا تھا، اس وقت جوسف کی عمر ۹۹؍ برس اور حضرت مریم کی بارہ برس تھی، ۱۹۸۳ء تک کیتھولک کینان نے اپنے پادریوں کو بارہ سال کی لڑکی سے شادی کرنے کی اجازت دے رکھی تھی، ۱۹۲۹ء سے پہلے برطانیہ میں چرچ آف انگلینڈ نے بھی بارہ سال کی لڑکی سے شادی کی اجازت دی تھی، امریکہ کے اسٹیٹ آف ڈیلویرا میں ۱۸۸۰ء تک لڑکی کی شادی کی کم سے کم عمر ۸؍ سال اور کیلی فورنیا میں ۱۰؍ سال مقرر تھی، یہاں تک کہ کہا جاتا ہے کہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں لڑکیوں کی شادی کی عمر کافی کم رکھی گئی ہے، امریکہ کی ایک ریاست ’’ میسیچوسس‘‘ ہے، جہاں لڑکیوں کی شادی کی عمر ۱۲؍ سال مقرر ہے، اور ایک دوسری ریاست نیوہیمسفر‘‘ میں ۱۳؍ سال مقرر ہے۔
اگر ہندو مذہب کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں کم عمری کی شادی کی بہت حوصلہ افزائی کی گئی ہے، منوسمرتی میں ہے کہ لڑکی کے بالغ ہونے سے پہلے اس کی شادی کر دینی چاہئے، (گوتما: ۱۵۔۔۲۱) اور یہ کہ باپ کو چاہئے کہ اپنی لڑکی کی شادی اسی وقت کر دے جب وہ بے لباس گھوم رہی ہو؛ کیوں کہ اگر وہ بلوغت کے بعد بھی گھر میں رہے تو اس کا گناہ باپ کے سر ہوگا۔ (بہ حوالہ: many ix, 88,htpp:/www.payer.de.dharam shastra/dharmash083 htm)منوسمرتی میں میاں بیوی کی شادی کی عمر یوں مقرر کی گئی ہے: لڑکا ۳۰؍ سال اور لڑکی ۱۲؍ سال، یا لڑکا ۲۴؍سال اور لڑکی ۸؍ سال کی ۔
مہا بھارت میں شادی سے متعلق جو ہدایت دی گئی ہے، اس میں لڑکی کی عمر ۱۰؍ سال اور۷؍ سال ہے، جب کہ شلوکاس میں شادی کی کم از کم عمر ۴؍ سے ۶؍ سال اور زیادہ سے زیادہ ۸؍ سال مقرر ہے۔
آج کل برادران وطن رام جی کو سب سے آئیڈیل شخصیت مانتے ہیں تو رامائن سے پتہ چلتا ہے کہ رام اور سیتا کی شادی کے وقت سیتا کی عمر صرف چھ سال تھی (رامائن، ارینہ کانڈ، سرگ: ۴۷، اشلوک: ۱۱،۴،۱۰)
غرضیکہ کم عمری میں لڑکی کا نکاح اور بیوی وشوہر کے درمیان عمر کا فرق طرفین کی باہمی رضامندی ، معاشی رواج، موسم، صحت اور بلوغ سے متعلق ہے، مشرق ومغرب کے اکثر سماج میں کم عمر لڑکیوں کا نکاح ہوتا رہا ہے، مختلف مذہبی کتابوں میں نہ صرف اس کی اجازت دی گئی ہے؛ بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے، اور خاص کر ہندو سماج میں اس کا رواج زیادہ رہا ہے، اور مذہب کی مقدس شخصیتوں نے اس عمر میں نکاح کیا ہے۔
https://play.google.com/store/apps/details?id=com.arshad.rahihijaziurducalender&hl=en
Tuepflis Global Village Library ist in seinem 17. Lebensjahr an Altersschwäche sanft entschlafen. Er war ein ganz lieber, liebenswerter, gutmütiger, anhänglicher, tollpatschiger Kater. Wir verdanken ihm sehr viel Liebes und Schönes. Er hat sehr zur Atmosphäre beigetragen, in der Tüpflis Global Village Library wachsen und ged...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Charsadda
Opening Hours
| Monday | 07:00 - 17:00 |
| Tuesday | 07:00 - 17:00 |
| Wednesday | 07:00 - 17:00 |
| Thursday | 07:00 - 17:00 |
| Friday | 07:00 - 17:00 |
| Saturday | 07:00 - 17:00 |
| Sunday | 07:00 - 17:00 |