Learn Quran with Abu Saeed Siddique

Learn Quran with Abu Saeed Siddique

Share

اسلامی حکایات و واقعات جس سے بندہ نصیحت لیکر اپنی اصلاح کرسکے۔
اور ہاں اپنے بچوں کو آنلائن قران بھی آپ یہاں سے سکھا سکتے ہیں۔

15/12/2025

🏛️ علم اور اقتدار کا فلسفہ: ارسطو بمقابلہ سکندر کی سوچ کا تسلسل
یہ تجزیاتی بیانیہ طاقت، علم، اور تعلیم کی تقسیم کے مابین ازلی کشمکش کا جائزہ لیتا ہے، جس کا ماخذ یونانی فلسفی ارسطو اور ان کے شاگرد فاتحِ عالم سکندر اعظم کے درمیان ہونے والی تاریخی خط و کتابت ہے۔
۱. 🧠 تاریخی بنیاد: علم بحیثیت انحصاری ہتھیار
سکندر اعظم کی ابتدائی دنیا مادی وسائل جیسے زمین، سونا، اور انسانی قوت (فوج) کو حتمی طاقت سمجھتی تھی۔ ارسطو کی آمد نے اس تصور کو چیلنج کیا اور سکندر کو ’خیال اور دانش‘ کی غیر مرئی مگر پائیدار طاقت سے متعارف کرایا۔
> نجی علم اور اجارہ داری: ارسطو کی تعلیم دو حصوں پر مشتمل تھی: ’عام مباحث‘ (حکمرانی، قانون) اور ’خفیہ علوم‘ (روحانیت، زندگی کا مقصد، اخلاقیاتِ تنہائی)۔ سکندر اس نجی تعلیم کو اپنی برتری کا ذاتی سرمایہ سمجھتا تھا۔
>
جب ارسطو نے یہ گہرے فلسفیانہ مضامین عام طوماروں کی شکل میں شائع کیے، تو سکندر نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ سکندر کا یہ خدشہ تاریخی طور پر دستاویزی حیثیت رکھتا ہے کہ اگر اعلیٰ ترین علم سب کے لیے میسر ہو گیا، تو اس کی ذاتی عظمت اور فضیلت کس بنیاد پر قائم رہے گی؟ اس کی سوچ کے مطابق، علم بھی ایک جنگی ہتھیار تھا، جس کی اجارہ داری اس کے اقتدار کو استحکام بخشتی تھی۔
۲. 📜 ارسطو کا فلسفیانہ موقف
اس کے برعکس، ارسطو نے واضح کیا کہ علم سونے کے سکّے کی طرح نہیں جو بانٹنے سے کم ہو جائے۔ اس کا فلسفہ یہ تھا کہ سچائی کو ایک حکمران کے خیمے یا کسی مخصوص طبقے کی ملکیت نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کی مضبوطی اور بقا اس کے زیادہ سے زیادہ اذہان تک پہنچنے میں مضمر ہے۔ ارسطو کی اشاعت کا اقدام دراصل علم کو مطلق العنان طاقت سے ’آزاد‘ کرانے کی ایک فکری کوشش تھی۔
۳. 🏔️ اطلاقِ فکرو عمل: خیبر پختونخوا کا تناظر
اگر ہم دو ہزار سال کا سفر طے کر کے موجودہ جنوبی ایشیائی، بالخصوص خیبر پختونخوا (KP) کے سماجی و سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیں، تو ہمیں سکندر کی اس سوچ کا ایک متبادل ورژن نظر آتا ہے۔ یہاں طاقت کا مطلب تبدیل ہو چکا ہے، مگر ’علم پر کنٹرول‘ کا بنیادی فارمولا کئی جگہ وہی ہے۔
* طاقت کا تحفظ بذریعہ محدود علم: کئی علاقوں میں بااثر سیاسی اور جاگیردارانہ طبقات کی یہ خاموش حکمت عملی ہوتی ہے کہ عوام کو صرف اتنا ہی علم دیا جائے جس سے وہ حکم ماننے کے اہل ہوں، مگر اتنا نہیں کہ وہ سوال اٹھا سکیں یا اختیارات کو چیلنج کر سکیں۔
* تعلیمی ڈھانچے کا سیاسی استحصال: سرکاری اسکولوں کی عمارتوں کا ناقص ہونا، اساتذہ کی پوسٹوں کو اقربا پروری کی بھینٹ چڑھانا، یا تعلیمی بجٹ کو دیگر سیاسی منصوبوں پر صرف کرنا – یہ سب بالواسطہ طور پر علم کی رسائی کو محدود کرنے کے مترادف ہیں۔ جب کوئی حکومتی نمائندہ تعلیمی معیار بہتر کرنے کی بجائے صرف رسمی نصاب (جس میں رٹا لگایا جا سکے مگر سوچ نہ سکے) کو نافذ کرتا ہے، تو وہ لاشعوری طور پر وہی سکندری غلطی دہرا رہا ہوتا ہے: میری سیاسی اونچائی تمہاری تعلیمی پسماندگی پر کھڑی رہے۔
* ثقافتی کشمکش: وہ طالب علم جو وسائل کی کمی کے باوجود کتاب سے دنیا کو سمجھنا چاہتا ہے، اور وہ دیہی استاد جو پرانے نصاب کو استعمال کر کے بھی بچوں میں تنقیدی سوچ بیدار کرتا ہے، وہ سب ارسطو کے فکری ورثے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ وہ اعلان کرتے ہیں کہ تعلیم کسی مراعات یافتہ طبقے کی میراث نہیں، بلکہ آخری بنچ پر بیٹھے پختون بچے کا بھی بنیادی حق ہے۔
۴. 🌟 نتیجہ: پائیدار ترقی کا راستہ
سکندر کی سلطنت بکھر گئی اور اس کی حسد بھری سوچ (علم پر اجارہ داری) بھی پائیدار نہ ہو سکی۔ جو فکری ورثہ بچا وہ ارسطو کا ہے – علم کی آزادی اور افادیت کا سفر۔
آج خیبر پختونخوا کے سامنے یہ سوال ہے کہ کیا ہم ’چھوٹے چھوٹے سکندروں‘ کے صوبے بنے رہیں گے جو اپنی محدود سیاسی کرسیوں کے لیے بچوں کے ذہنوں کو محدود رکھتے ہیں، یا ہم ارسطو کی طرح سوچیں گے جو سب سے قیمتی خیال کو بھی اس وقت تک ادھورا سمجھتا تھا جب تک وہ معاشرے کے سب سے محروم فرد تک نہ پہنچ جائے۔
اصل عظمت اور پائیدار ترقی اب اس میں نہیں کہ آپ تعلیم کو قابو میں رکھیں، بلکہ اس میں ہے کہ آپ تعلیم کو اس قدر وسیع اور معیاری بنا دیں کہ کوئی بھی نوجوان یہ محسوس نہ کرے کہ حکمت، کامیابی یا اعلیٰ علم تک رسائی کسی اور کا خاندانی حق ہے۔

https://chat.whatsapp.com/HtlqDu0FrxRGZu9oVquvoT

22/11/2025

قانُونِ فطرت تو یہی ہے کہ
گدھی
گدھے کو ہی جنم دیتی ہے

ہمارے ہی اجداد،
جو انگریز کا ایک من وزن صرف ایک روپے میں راولپنڈی سے مری تک لے کر جاتے،
ان کے پاؤں میں جوتی تک نہیں ہوتی،
پنڈی سے مری ستر کلومیٹر کا سفر ایک من وزن اٹھا کر دو دن میں مکمل ہوتا.
یہ لوگ انگریز کی خدمت کرتے،
اپنی پیٹھ پر سوار کر کے سیر کراتے اور
انگریز خوش ہو کر اپنا بچا ہوا کھانا انہیں دے دیتا..

ہمارے اجداد نے ہی انگریزوں کی نوکریاں کیں.
تنخواہ لے کر اپنے ہی لوگوں سے لڑتے رہے.
انگریز نے ہندوستان پر سو سال حکومت کی،
اس دوران کبھی بھی انگریزوں کی مجموعی تعداد پچیس ہزار سے زیادہ نہیں رہی.

انگلینڈ میں ایک مائیگریشن رجسٹر ہے۔
جس میں برطانیہ سے ہندوستان جانے والے 15،447 فوجیوں کے نام لکھے ہوئے ہیں.
تین لاکھ ہندوستانی تھے جو انگریزی فوج میں بھرتی ہوئے.
بنگال رجمنٹ،
پنجاب رجمنٹ،
بلوچ رجمنٹ انگریزوں نے بنائی۔
برصغیر کے بُھوکے ننگے،
دو چار روپے ماہانہ وظیفے پر لڑنے مرنے کو تیار تھے.
پلاسی کی جنگ میں سراج الدولہ کے خلاف انگریزی فوج میں نوے فیصد ہندوستانی ہی تھے،
غداری کرنے والا بھی میر جعفر ہی تھا.
سلطان حیدر علی اور اس کے بیٹے ٹیپو سلطان کے خلاف چار جنگیں لڑنے والے کون تھے؟
کوئی اور نہیں۔
میرے اور آپ کے اجداد تھے۔۔۔
انگریزوں کے خلاف سندھ حر پگاڑو کے لڑے اور
انگریزوں کا ساتھ مری بلوچ، بگٹی بلوچ نے دیا
بدلے میں سانگھڑ میں ان کو جاگیریں ملیں
سرنگاپٹم سے میسور تک میر جعفر نے کس طرح سلطان سے غداری کی،
انگریز کو کس طرح وفاداری بیچی..
سب کچھ لکھا ہؤا ہے۔
بس آنکھیں کھول کر پڑھنے والا چاہیے ۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:-
*جعفر از بنگال و صادق از دکن*
*ننگِ دیں، ننگِ قوم، ننگِ وطن*

پنجاب میں رنجیت سنگھ جو انگریزوں کو مشکل وقت دکھا رہا تھا،

مُسلمانوں کو اس کے خلاف جہاد پر لگا دیا. ا.
انگریز دار العلوم دیوبند کے سالانہ دورے کرتا تھا،
کچھ دیوبندیوں کو وظائف دیتا تھا.
اکابرین بریلوی اور اہلِ حدیث بھی حکومتی وظیفے لیتے رہے ہیں۔۔۔۔

اسلام کی آمد سے اب تک 1500 سالوں میں پوری دنیا میں اتنے
پِیر ، دَستگیر ،
وَلی ،
محدث ، مجدد ،
قطب ،
مُفسر ، مناظر ،
مقرر پیدا نہیں ہوۓ،
جتنے انگریز کے 100 سالہ دور میں برصغیر میں پیدا ہوئے تھے۔۔۔
کوئی اُڑتا رہا ،
کوئی لمحے میں غائب ہو کر مدینہ پہنچ جاتا،
کوئی غوث اعظم کے نام پر لطائف گھڑتا،
کوئی لال شہباز قلندر کو پرواز کرواتا رہا،
کسی نے نبیﷺ کے نور یا بشر پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالی ،
کسی نے حیات و ممات پر مسلمانوں کو دست و گریباں کروایا
یہ سب انگریز وظائف دے کر اپنی سلطنت کو دوام بخشنے اور مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کیلئے کرواتے رہے ہیں۔۔۔۔

آپ کا کیا خیال ہے، پاکستان آزاد ہو گیا ہے؟
انگریز کی بنائی رجمنٹ آج بھی حکمران ہے. عوام آج بھی محکوم ہے۔
آج بھی راشن کی قطاروں میں مر رہے ہیں۔
اور اشرافیہ آج بھی انگریزی وفاداری نبھا رہی ہے.
جب کئی سال بعد دنیا کی تاریخ لکھی جائے گی تو ایک قوم
"*المجرمین پاکستان*"
کے بارے میں بھی تاریخ لکھی جائے گی ۔۔۔

مؤرخ لکھے گا۔۔۔
قومِ عاد۔۔۔
قوم ثمود۔۔۔
اور قومِ لُوط کے سارے مجموعی گناہ اس قوم میں پائے جاتے تھے۔۔۔

یہ ایک ایسی قوم تھی جو نام تو اللہ کا لیتی تھی،
مگر مانتی اپنے اپنے اپنے آلہ کاروں کو تھی۔۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس کو تعلیم صرف جاہل بنانے کے لئے دی جاتی تھی۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس کے مذہبی پیشوأ،
خود تو دنیا کی ہر آسائش سے لطف اندوز ہوتے تھے،
مگر ان کو غربت افلاس کے فائدے بتا کر جنت کے ٹکٹ دیتے تھے۔

ان کے حکمران بادشاہوں کی طرح زندگی گزارتے تھے۔
مگر اس قوم کے نچلے طبقے کے پاس کھانے کو روٹی نہیں تھی۔۔۔

مؤرخ لکھے گا:-
اس قوم کا انصاف بکتا تھا۔
طاقتور کے لئے علیحدہ قانون،
اور غربأ کے لئے الگ قانون تھا۔

اس قوم کے قاضی اُنہی کی طرح کرپٹ اور انصاف سے عاری تھے۔۔۔

لکھا جائے گا:-
اس قوم کے سیاستدان خود غرض،
نا اہل اور بےحس تھے۔
مگر یہ قوم ایسے سیاستدانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی تھی اور
اُن کے لئے ایک دوسرے کی گردن کاٹنے کو بھی تیار رہتی تھی۔

ایک ایسی قوم تھی جو لمبی لمبی دعائیں اور بددعائیں کرتی تھی۔
مگر اس کا عملی کردار انتہائی ناگفتہ بہہ اور بیہودہ تھا۔۔۔

ایک ایسی قوم تھی جس میں حرام خور عزت دار کہلاتے تھے
اور
محنت کر کے کھانے والے کمی کمین۔۔۔

27/08/2025

کیا ہم نے کھبی سوچا ہے کہ
انسان کبھی مکمل اچھا نہیں اور کبھی مکمل برا نہیں ہوتا

شہنشاہ جہانگیر کے دربار کے باہر وہ مشہور زنجیرِ عدل لٹکی رہتی تھی جسے ہلا کر مظلوم براہِ راست انصاف کے لیے بادشاہ کو پکار سکتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جہانگیر خود دربار سے نکل کر فیصلے کرتا۔ یہ عدل کی ایک عظیم نشانی تھی۔
لیکن تاریخ کے اوراق کھولیں تو یہی جہانگیر اپنی محبوبہ نورجہاں کے شوہر شیر افگن کو قتل کروانے کے الزام میں سامنے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایک طرف عدل کا استعارہ اور دوسری طرف ایک بے گناہ شوہر کا خون — تو کیا جہانگیر عدل کا پیکر تھا یا ایک قاتل؟

اسی طرح شاہجہان کو لیجیے۔ محبت کی یادگار، تاج محل، اس کے نام کے ساتھ جُڑی ہے۔ وہ سنگِ مرمر کا ایسا خواب ہے جس پر دنیا آج تک حیران ہے۔ مگر یہی شاہجہان تخت نشینی کے وقت اپنے بھائیوں اور ممکنہ وارثوں کو قتل کراتا ہے تاکہ اقتدار پر کوئی دوسرا سایہ نہ پڑے۔ اب فیصلہ کیجیے کہ شاہجہان کو عشق کے خانے میں رکھا جائے یا سنگ دلی کے؟

اورنگ زیب عالمگیر کی تصویر اور بھی پیچیدہ ہے۔ وہی بادشاہ جو روزی کے لیے ٹوپیاں سیتا اور چٹائیاں بُنتا، جس نے وصیت کی کہ میرا کفن انہی کمائیوں سے خریدا جائے۔ وہی جس نے بادشاہی مسجد لاہور کی بنیاد رکھتے وقت کہا کہ بنیاد وہ رکھے جس نے بلوغت کے بعد فرض تو کیا، تہجد تک ترک نہ کی ہو، اور پھر خود آگے بڑھا۔ بلا شبہ یہ زہد و تقویٰ کی اعلیٰ مثال ہے۔
لیکن یہی اورنگ زیب اپنے بھائی دارا شکوہ کو گرفتار کرتا ہے، اسے ذلت کے ساتھ ہاتھی پر بٹھا کر گھماتا ہے، آنکھوں میں دہکتے ہوئے لوہے کی سلاخیں ڈلواتا ہے اور بالآخر قتل کرا کے سر دہلی بھجواتا ہے۔ یہی نہیں، اپنے والد شاہجہان کو بھی زندگی کے آخری آٹھ برس قید میں رکھا، اور وہ باپ اپنی ہی بنائی ہوئی عمارت تاج محل کو دریچے سے دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہوا۔ اب اورنگ زیب کو درویش کہیں یا جابر؟ صوفی کہیں یا سنگ دل؟

اصل حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک الماری ہے۔ ایک خانہ روشنی کا، دوسرا اندھیرے کا۔ ایک دروازہ سخاوت کا، دوسرا ظلم کا۔ لیکن ہماری عادت یہ ہے کہ ہم صرف ایک خانہ کھول کر پورے انسان کو اسی ایک صفت میں قید کر دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ کبھی اندھی عقیدت میں پڑ جاتے ہیں اور کبھی اندھی نفرت میں۔

یہ اصول صرف سلاطین پر نہیں، ہم سب پر لاگو ہوتا ہے۔
وہ نمازی جو ہمیشہ پہلی صف میں کھڑا رہتا ہے، کاروبار میں لوگوں کو لوٹ بھی سکتا ہے۔ اور وہ آدمی جو زبان سے سخت اور تلخ ہے، شاید وہی یتیم کے بچوں کی فیس چپکے سے ادا کرتا ہو۔
اسی طرح بڑے بڑے نام بھی دیکھ لیجیے:

ہٹلر لاکھوں یہودیوں کا قاتل تھا، مگر جرمنی کی معیشت کھڑی کر گیا۔

چرچل دوسری جنگِ عظیم کا ہیرو ہے، مگر اس کی پالیسیوں نے بنگال میں قحط پیدا کیا اور لاکھوں مر گئے۔

گاندھی آزادی کے استعارہ ہیں، مگر ان کی ذاتی زندگی کے برہمچریہ کے تجربات متنازعہ ہیں۔

قائداعظمؒ مغربی طور طریقوں کے قائل تھے، لیکن یہی پاکستان کے بانی ہیں۔

اب سوال یہ ہے: یہ سب لوگ مکمل اچھے تھے یا مکمل برے؟

انسان کو سمجھنا بالکل شطرنج کی طرح ہے۔ کچھ خانے سفید ہیں، کچھ کالے۔ کھیل انہی دونوں سے بنتا ہے۔ صرف سفید ہوں یا صرف کالے، تو کھیل ہی ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کی زندگی بھی ایسی ہی ہے — روشنی اور سائے ساتھ ساتھ۔

اصل حکمت یہ ہے کہ ہم compartments میں پرکھیں۔ سیاست دان کو سیاست میں دیکھیں، استاد کو علم میں، گلوکار کو فن میں۔ کسی ایک پہلو کو دیکھ کر فیصلہ کرنا سراسر ناانصافی ہے۔

یاد رکھیے:
جو لوگ کسی کو مکمل اچھا یا مکمل برا سمجھتے ہیں، وہ حقیقت میں عقل کی پہلی سیڑھی پر ہیں۔ اصل عقل یہ ہے کہ ہم الماری کے تمام دروازے کھولیں اور ہر خانے کو الگ الگ دیکھیں۔

اگر آپ کسی انسان کی نیکی کو اس کی برائی پر ترجیح دینا سیکھ لیں تو دنیا حسین لگنے لگتی ہے۔ جیسے باغ میں کانٹے بھی ہوتے ہیں، لیکن اگر آپ پھول پر نگاہ رکھیں تو خوشبو ہی یاد رہتی ہے۔ یہی طریقہ ہے جس سے دنیا میں یہ ماننا آسان ہو جاتا ہے کہ اکثر لوگ اپنی اچھائی میں پچاس فیصد سے اوپر ہی ہیں۔

---

🔹 نتیجہ یہ کہ انسان کبھی مکمل اچھا نہیں اور کبھی مکمل برا نہیں ہوتا۔
اصل بصیرت یہ ہے کہ ہم ہر ایک کو اس کے مختلف خانوں میں دیکھیں اور انصاف کے ساتھ پرکھیں۔

اگر تحریر اچھی لگے تو دوستو کے ساتھ نشر کریں نہیں تو اپنی رائے ضرور دیں

25/08/2025
27/07/2025

پاکستان کی سیاست: اسکینڈلز کی تاریخ اور "صحیح حکمران" کی تلاش

پاکستان 1947 میں ایک نظریاتی ریاست کے طور پر وجود میں آیا، جہاں عوام نے ایک ایسا نظام چاہا جو عدل، دیانت، اور فلاح پر مبنی ہو۔ لیکن قیام پاکستان سے لے کر آج 2025 تک کی سیاسی تاریخ پر نگاہ دوڑائیں تو سوال ابھرتا ہے:
"کیا کوئی حکمران صحیح گزرا ہے؟ یا سب صرف کرپشن اور اقتدار کی ہوس میں ڈوبے رہے؟"

یہ سوال ہر باشعور پاکستانی کے دل میں موجود ہے، اور اس کا جائزہ ہم صرف جذبات نہیں بلکہ حقائق، واقعات، اور تاریخ کی روشنی میں لیں گے۔

---

🧨 پاکستان میں سیاسی کرپشن اور مشہور اسکینڈلز

پاکستانی سیاست پر ہمیشہ کرپشن، اقربا پروری، اور بدانتظامی کے سائے چھائے رہے ہیں۔ ذیل میں چند مشہور اسکینڈلز کا ذکر کیا جاتا ہے:

✅ مہران بینک اسکینڈل (1990s)

آئی ایس آئی نے مبینہ طور پر سیاستدانوں میں پیسے تقسیم کیے تاکہ بینظیر بھٹو کو ہروایا جا سکے۔ عدالت نے اسے قومی خیانت قرار دیا مگر کوئی بڑی سزا نہ ہوئی۔

✅ پانامہ پیپرز (2016)

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں پر لندن فلیٹس چھپانے کا الزام لگا۔ عدالت نے انہیں نااہل کیا، لیکن عوام آج بھی تقسیم ہیں کہ سزا انصاف پر مبنی تھی یا سیاسی۔

✅ فیک اکاؤنٹس کیس

آصف زرداری اور اومنی گروپ پر اربوں کی منی لانڈرنگ کا الزام۔ کیس ابھی تک عدالتوں میں زیرِسماعت ہے، لیکن گرفتاریوں کے باوجود کوئی واضح انجام نہیں۔

✅ شوگر و آٹا اسکینڈلز (2020)

جہانگیر ترین، شریف خاندان، اور دیگر بڑی شخصیات پر الزام لگا کہ انہوں نے قلت پیدا کر کے اربوں کا منافع کمایا۔

✅ بلین ٹری اور رنگ روڈ اسکینڈل

تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران منصوبوں میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگے، لیکن حتمی تحقیقات کا کوئی نتیجہ عوام کے سامنے نہیں آیا۔

---

🤔 کیا پاکستان میں کوئی "صحیح" حکمران آیا؟

یہ سوال ہمیشہ کے لیے اہم رہے گا۔ لیکن اگر "صحیح" سے مراد ایمانداری، اخلاص، اور عوامی فلاح ہے، تو ہمیں کچھ ایسے کردار ضرور ملتے ہیں جن کی نیت پر شک نہیں کیا جا سکتا، اگرچہ ان کی کارکردگی مکمل مثالی نہ تھی۔

🔹 لیاقت علی خان (1947–1951)

سادہ، مخلص، دیانتدار۔ ان کی شہادت نے ملک کو بہت پیچھے دھکیل دیا۔

🔹 محمد خان جونیجو (1985–88)

سادہ طبیعت، اصول پسند۔ فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ناپسندیدگی کی وجہ سے برطرف کر دیے گئے۔

🔹 عمران خان (2018–2022)

کرپشن مخالف بیانیہ، احساس پروگرام، بین الاقوامی سطح پر متحرک۔ مگر سیاسی ناتجربہ کاری، ٹیم میں کرپٹ عناصر اور معیشت میں ناکامی نے شفافیت پر سوال اٹھایا۔

🔹 ذوالفقار علی بھٹو، ایوب خان: ان دونوں نے ترقیاتی کام کیے، مگر سیاسی انتقام، آزادیوں پر قدغن، اور اقتدار سے چمٹے رہنے کی پالیسی نے ان کی دیانت پر بھی دھند ڈال دی۔

---

📉 اصل مسئلہ: صرف حکمران نہیں، نظام بھی

پاکستان میں صرف حکمرانوں میں خرابی نہیں، بلکہ پورا نظام مفلوج ہے:

ادارے آزاد نہیں۔

انتخابی نظام شفاف نہیں۔

عوام ووٹ کے بعد خاموش ہو جاتے ہیں۔

کرپشن ایک "قابل قبول کلچر" بن چکی ہے۔

احتساب صرف مخالفین تک محدود ہے، اپنوں پر خاموشی چھا جاتی ہے۔

---

🧭 نتیجہ: کیا کوئی "صحیح" گزرا؟

ہاں، کچھ شخصیات نے خلوص سے کام کیا، مگر مکمل طور پر صاف شفاف اور کامیاب کوئی بھی نہیں تھا۔
بدقسمتی یہ ہے کہ جو صحیح تھے، وہ کمزور ثابت ہوئے؛ اور جو طاقتور تھے، وہ خود غلطیوں میں الجھ گئے۔

---

✍️ آخری بات

پاکستان میں اگر ہم "صحیح حکمران" کے منتظر ہیں تو یہ انتظار کبھی ختم نہیں ہوگا، جب تک عوام خود بیدار نہ ہوں، اور نظام کو بدلنے کی جدوجہد نہ کریں۔
یہ قوم بدترین حالات سے نکل سکتی ہے، اگر ہر فرد اپنے حصے کا چراغ جلائے۔

> "خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا"

https://chat.whatsapp.com/HtlqDu0FrxRGZu9oVquvoT?mode=r_t

26/07/2025

🟤 حسن خیل قبیلہ – ایک تاریخی و خاندانی جائزہ

تعارف:

حسن خیل قبیلہ خیبر پختونخوا کے ضلع چارسدہ کے باوقار اور پرانے پشتون قبائل میں شمار ہوتا ہے۔ یہ قبیلہ بنیادی طور پر یوسفزئی پشتونوں کی ایک ذیلی شاخ ہے، جس کی نسبت محمد زئی قبیلے سے ملتی ہے۔

---

تاریخی پس منظر:

یوسفزئی قبائل 15ویں صدی عیسوی کے لگ بھگ موجودہ افغانستان کے علاقوں سے پنجکوڑہ، سوات اور دیر کی طرف ہجرت کر کے آئے۔ بعد ازاں ان قبائل کی ایک بڑی شاخ نے دریائے سوات، کابل، پنجکوڑہ اور دریائے جندول کے کنارے بسنے کے بعد میدانی علاقوں کی طرف پیش قدمی کی۔

ان میں سے ایک شاخ محمد زئی کہلائی،

اور محمد زئی کی مختلف ذیلی شاخوں میں حسن خیل بھی ایک معزز اور سرگرم شاخ کے طور پر نمایاں ہوئی۔

---

چارسدہ میں آبادکاری:

جب یوسفزئی اور محمد زئی قبائل نے چارسدہ کی زرخیز وادیوں کا رخ کیا تو یہاں دل زاک، خٹک، خلیل، اور دیگر قبائل پہلے سے آباد تھے۔ مگر محمد زئی قبائل نے یہاں جنگ و صلح، رشتے داری، اور زمینوں کی تقسیم کے ذریعے اپنا حصہ حاصل کیا۔

حسن خیل قبیلہ اسی محمد زئی شاخ کی ایک اہم اکائی بن کر چارسدہ شہر اور اطراف میں آباد ہوا۔

یہ قبیلہ چارسدہ کے ان علاقوں میں موجود ہے جہاں آج بھی روایتی پشتون اقدار جیسے حجرہ، مہمان نوازی، غیرت اور شریعت پسندی زندہ ہیں۔

---

معاشرتی مقام:

حسن خیل قبیلہ ہمیشہ سے:

جرأت و غیرت کا نشان رہا ہے۔

علماء، اساتذہ، اور مجاہدین اسی قوم سے تعلق رکھتے رہے۔

معاشرتی مسائل میں جرگہ سسٹم، فیصلے، امن قائم رکھنا، اور علاقائی خدمت ہمیشہ ان کی پہچان رہی ہے۔

---

اہم خصوصیات:

1. مذہب سے لگاؤ: اس قبیلے نے کئی دینی مدارس، علماء، اور حفاظ پیدا کیے۔

2. تعلیم کی طرف رغبت: جدید تعلیم میں بھی نوجوان نسل سرگرم ہے۔

3. ہجرت اور قربانی: کچھ خاندان معاشی یا سیاسی حالات کے باعث دوسرے علاقوں یا ملکوں میں ہجرت کر چکے ہیں، مگر اپنی شناخت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

مختصرا یہ کہ

حسن خیل قبیلہ ایک تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، جنہوں نے افغانستان سے لے کر چارسدہ تک کا سفر صرف زمین کے لیے نہیں، بلکہ غیرت، دین اور عزت کی بقا کے لیے کیا۔ آج کے نوجوانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ:

اپنے تاریخی پس منظر کو جانے

اپنی پشتون شناخت پر فخر کریں

اور علم، اتحاد اور اخلاق کے ذریعے اپنا قبیلہ دوبارہ عروج کی طرف لے جائیں۔

https://chat.whatsapp.com/HtlqDu0FrxRGZu9oVquvoT?mode=r_t

11/06/2025

*پاکستان کا بجٹ اور آئمہ مساجد کی معاشی حالت: ایک اہم پہلو نظرانداز کیوں؟*
پاکستان کا ہر سال پیش کیا جانے والا وفاقی بجٹ ملک کی معاشی ترجیحات، ترقیاتی منصوبوں اور دفاعی ضروریات کا عکاس ہوتا ہے۔ اربوں کھربوں روپے کے اس حجم میں جہاں مختلف شعبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی جاتی ہیں، وہیں معاشرے کے ایک اہم طبقے، آئمہ مساجد، کی معاشی حالت کو اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ان کا کردار معاشرتی، مذہبی اور اخلاقی تربیت میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔

آئمہ مساجد کا معاشرتی کردار اور ان کی معاشی جدوجہد

آئمہ مساجد صرف نماز پڑھانے والے نہیں ہوتے بلکہ وہ کمیونٹی رہنما، مبلغ، معلم اور سماجی مصلح کا کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم دیتے ہیں، اخلاقی اقدار کی ترویج کرتے ہیں، معاشرتی برائیوں کی نشاندہی کرتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے مساجد نہ صرف عبادت کے مراکز بنتی ہیں بلکہ علم و عرفان کے روشن مینار بھی ثابت ہوتی ہیں۔
اس عظیم کردار کے باوجود، آئمہ حضرات کی اکثریت شدید مالی مشکلات کا شکار ہے۔ ان کی آمدنی کا انحصار عام طور پر مسجد کمیٹیوں یا مقامی مخیر حضرات کی ماہانہ امداد پر ہوتا ہے جو کہ اکثر اوقات انتہائی ناکافی ہوتی ہے۔ اس معمولی آمدنی سے انہیں اپنے خاندان کی کفالت، بچوں کی تعلیم اور صحت کے اخراجات پورے کرنے پڑتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے آئمہ حضرات اپنے معاشی حالات کو بہتر بنانے کے لیے چھوٹی موٹی مزدوری یا کاروبار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، جو ان کی بنیادی ذمہ داریوں سے توجہ ہٹانے کا باعث بنتا ہے۔ معاشی عدم تحفظ کی یہ صورتحال آئمہ کے ذہنی سکون کو متاثر کرتی ہے اور انہیں پوری یکسوئی کے ساتھ دین کی خدمت کرنے سے روکتی ہے۔
بجٹ میں آئمہ کے لیے خصوصی فنڈز کی ضرورت
اگر ہم اپنے آئمہ کو مضبوط اور باوقار دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ وہ معاشرے کی مؤثر طریقے سے رہنمائی کر سکیں، تو حکومتی سطح پر ان کے لیے مالی معاونت کا انتظام ناگزیر ہے۔ پاکستان کے سالانہ بجٹ میں دفاع، ترقیاتی منصوبوں اور دیگر شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں آئمہ حضرات کے لیے ایک مخصوص اور قابل ذکر فنڈ کا قیام کوئی بڑا بوجھ نہیں بنے گا، لیکن اس کے اثرات دور رس ہوں گے۔
ایک تجویز یہ ہے کہ وفاقی بجٹ میں ایک "نیشنل آئمہ سپورٹ فنڈ" قائم کیا جائے، جس کے ذریعے ملک بھر کے مستحق آئمہ کو ماہانہ اعزازیہ دیا جا سکے۔ اس فنڈ کا انتظام وزارت مذہبی امور کے تحت کیا جا سکتا ہے، جس میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔ اس فنڈ سے نہ صرف آئمہ کو مالی تحفظ ملے گا بلکہ وہ معاشرے میں مزید عزت اور وقار کے ساتھ اپنا کردار ادا کر سکیں گے۔
طویل مدتی فوائد اور اثرات
آئمہ حضرات کو مالی تحفظ فراہم کرنے کے کئی مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں:
* اخلاقی اور مذہبی تربیت کا فروغ: معاشی طور پر مستحکم آئمہ زیادہ بہتر طریقے سے نوجوان نسل کی اخلاقی اور مذہبی تربیت کر سکیں گے۔
* معاشرتی ہم آہنگی: آئمہ معاشرتی امن اور ہم آہنگی کے فروغ میں مزید فعال کردار ادا کر سکیں گے۔
* انتہا پسندی کا مقابلہ: انہیں معاشی طور پر مضبوط بنا کر ہم انہیں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے بیانیے کا مقابلہ کرنے کے لیے مزید بااختیار بنا سکتے ہیں۔
* بہتر خدمات: جب آئمہ اپنی معاشی ضروریات سے مطمئن ہوں گے، تو وہ زیادہ توجہ اور لگن کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے۔
حکومت سے اپیل
پاکستان کی حکومت سے پرزور اپیل ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تیاری کے دوران آئمہ مساجد کے اس اہم مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ ایک مناسب فنڈ کا قیام اور ان کے لیے مستقل آمدنی کا بندوبست نہ صرف آئمہ کے لیے بھلائی کا باعث بنے گا بلکہ یہ معاشرے میں اسلامی اقدار کے فروغ اور سماجی استحکام کے لیے بھی ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ آئمہ کی بہتری درحقیقت پورے معاشرے کی بہتری ہے۔

پاکستان کا مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ 10 جون 2025 کو پیش کیا گیا ہے۔
اس بجٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
* کُل حجم: 17 ہزار 573 ارب روپے (17.573 ٹریلین روپے)
* دفاعی بجٹ: 2550 ارب روپے (جو جی ڈی پی کا 1.97 فیصد اور مجموعی وفاقی بجٹ کا 14.5 فیصد ہے)
* وفاقی حکومت کی خالص آمدنی: 11 ہزار 072 ارب روپے
* FBR محصولات کا تخمینہ: 14 ہزار 131 ارب روپے
* صوبوں کا حصہ: 8206 ارب روپے
* وفاقی نان ٹیکس ریونیو: 5147 ارب روپے
* سود کی ادائیگی: 8207 ارب روپے (کل اخراجات کا تقریباً نصف)
* اقتصادی ترقی کی شرح (متوقع): 4.2 فیصد
* افراط زر کی شرح (متوقع): 7.5 فیصد
* بجٹ خسارہ (جی ڈی پی کا): 3.9 فیصد
* سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ: 10 فیصد
* پنشن میں اضافہ: 7 فیصد
* بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام: 716 ارب روپے مختص
* بجلی اور دیگر شعبوں کی سبسڈی: 1186 ارب روپے مختص
یہ بجٹ معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی کو فروغ دینے پر مرکوز ہے، جس میں ٹیکس ریفارمز اور اخراجات میں کمی کی کوششیں شامل ہیں۔

https://chat.whatsapp.com/HtlqDu0FrxRGZu9oVquvoT

04/06/2025

مگر سچ ایک بار پھر ان کے منہ پر زوردار طمانچہ بن کر اترا: 🔺 نہ قاتل کوئی داڑھی والا تھا،
🔺 نہ مقتولہ کسی مدرسہ کی طالبہ،
🔺 اور نہ ہی اس تعلق کو مذہب نے پروان چڑھایا۔

آزاد خیالی کا انجام یا غیرت کا جنون؟
لبرل ازم کا فریب، دوغلا پن اور سچائی کا گلا گھونٹتا بیانیہ!

ایک چترالی بیٹی، جسے کسی قبیلے یا غیرت کے علمبردار نے نہیں، بلکہ فیصل آباد کے ایک پنجابی نوجوان نے بے دردی سے قتل کیا۔
تفصیل کچھ یوں ہے کہ جب گھر میں صرف پھپھو موجود تھیں، موصوف "مہمان" بن کر تشریف لائے، اور پھپھو کے مطابق دونوں کے تعلقات "مہذب معاشروں" کے معیار پر بھی ناپسندیدہ تھے۔

تو اب سوال یہ ہے: کیا یہ واقعی غیرت کا قتل تھا؟ یا وہی پرانا "آزاد محبت" کا زہریلا پھل، جو بالآخر خون میں ڈوبا ہوا ملا؟

لیکن ادھر واقعہ ہوا، اُدھر خود ساختہ روشن خیالوں کا لشکر حسبِ عادت چیخنے لگا:

> "یہ غیرت کے نام پر قتل ہے!"
"اسلامی معاشرہ خواتین کے لیے جہنم ہے!"
"مولوی ذمہ دار ہے!"

اصل میں یہ اُس "آزادی" کا انجام ہے، جو بغیر حدود کے دی گئی۔
یہ وہی "محبت" ہے جسے سوشل میڈیا پر لائکس اور فالوورز کے نشے میں چڑھایا جاتا ہے۔
یہ وہی ذہنیت ہے جسے "میرا جسم، میری مرضی" جیسے کھوکھلے نعروں نے جنم دیا ہے۔

⚠️ افسوس کا مقام یہ ہے کہ جب کوئی عشقِ ممنوعہ، خون میں نہا کر ختم ہوتا ہے، تو کوئی لبرل یہ نہیں پوچھتا:

> محبت کی یہ شکل کیوں پنپی؟
نوجوان نسل کے رشتے اتنے غیر محفوظ کیوں ہیں؟
لڑکیوں کو بے دھڑک آزادی دے کر ہم نے کیا کھویا؟

لیکن ہدف ایک ہی ہوتا ہے: 🛑 اسلام
🛑 علما
🛑 غیرت

کبھی عاشق کے کردار پر سوال نہیں،
کبھی مقتولہ کے طرزِ زندگی پر غور نہیں،
بس ہر بار دین کو گالیاں،
اور پھر خود کو "ترقی پسند" کہلوانے کی خواہش۔

حقیقت یہ ہے: ❌ یہ مذہب کی ناکامی نہیں، لبرل اخلاقیات کی موت ہے۔
❌ یہ مولوی کا فتویٰ نہیں، فیس بکی عشق کا خونی انجام ہے۔
❌ یہ غیرت کا جنون نہیں، بے لگام آزادی کی قیمت ہے۔

ہر ماں باپ کے لیے لمحہ فکریہ ہے:

https://chat.whatsapp.com/HtlqDu0FrxRGZu9oVquvoT

29/11/2024

جنات

80 کی دہائی تک جنات کی زبان کچھ اور تھی، وہ انسانوں کو دیکھ کر ’آدم بو آدم بو‘ کیا کرتے تھے۔ 90 کی دہائی تک وہ ’ہوہوہاہا‘ کرتے رہے۔ آج کل شاید گونگے ہوگئے ہیں، بولتے کچھ نہیں بس کسی سائے کی طرح جھلک دکھا کر غائب ہوجاتے ہیں۔ گئے وقتوں میں عورتیں چھت پر کھلے بال جاتی تھیں تو جن عاشق ہوجاتے تھے، آج کل چھتوں پر ڈانس کرتی ہیں،سوشل میڈیا پر ڈالتی ہیں لیکن جنات ایک نظر بھی ڈالنا گوارا نہیں کرتے۔ پہلے رات کے وقت لوگ گھروں میں دبک جاتے تھے کیوں کہ جنات انہیں راستے میں چمٹ جایا کرتے تھے، آج کل رات کو نکلیں تو پیچھے سے ون ٹو فائیو کی آواز سن کر دل دہل جاتا ہے۔چالیس پچاس سال پہلے تک اگر کوئی باامر مجبوری درخت کو ’سیراب‘ کرتا تھا تو جنات اُسے بھی چمٹ جایا کرتے تھے اور اس بدتمیزی کے بدلے اسے عجیب و غریب بیماریوں میں مبتلا کردیتے تھے۔ آج کل شایدجنات اس لئے کسی کو کچھ نہیں کہتے کہ کس کس سے بدلہ لیں۔ آپ کو یاد ہوگا ویران گزر گاہوں پر الٹے پائوں اور لمبے دانتوں والی چڑیل گھوما کرتی تھی۔ وہ بھی شاید مرکھپ گئی ہے کیوں کہ آج کل ویرانوں میں زیادہ رونق ہوگئی ہے۔ پہلے وقتوں میں جنات کے سینگ ہوا کرتے تھے، اب نہیں ہوتے بلکہ ان کی جگہ ’سِنگ اے سونگ‘ والے جن آگئے ہیں۔ پرانے جن تہذیب یافتہ اور پردہ دار تھے، ان کی صرف حرکتیں دکھائی دیتی تھیں، وہ خود نظروں سے اوجھل رہنا ہی پسند کرتے تھے۔ یہ اکثر کسی کے گھر اینٹیں وغیرہ یا دیواروں پر خون کے چھینٹے وغیرہ پھینک کر دل بہلا لیا کرتے تھے۔ آج کل یہ جس گھر میں بھی جاتے ہیں وہاں کے درودیوار پہلے ہی خون میں لت پت ہوتے ہیں۔ کتنے اچھے جنات تھے پرانے۔ صرف اکیلے بندے کو ڈراتے تھے۔ ایک سے زیادہ بندوں کی صورت میں یہ خود ڈر جایا کرتے تھے۔یہ جس لڑکی پر بھی عاشق ہوتے تھے اس کی شادی اس کی پسندکے لڑکے سے کرواکے چھوڑتے تھے
جنات قبرستان میں بھی رہتے تھے ،تاہم، شہر پھیلنے کی وجہ سے ان کی اکثریت کوچ کرچکی ہے البتہ کبھی کبھار کوئی انسانی شکل والا جن کسی لڑکی کی قبر کھود تے ہوئے پکڑا جاتا ہے۔ سچ پوچھیں توکبھی کبھی لگتاہے جیسے جنات بھی اپنا شاندار ماضی بھولتے جارہے ہیں۔ پہلے یہ کسی جلالی بابے کے دم سے ہی نکل جایا کرتے تھے، اب یہ انسان کو نکال دیتے ہیں اور خود اندر ہی رہتے ہیں۔ کہاں گئے وہ جنات جو اناج کی بوریاں کھاجایا کرتے تھے؟ اب تو ذخیرہ اندوزوں کے گودام کے گودام بھرے رہتے ہیں اور کوئی چوری نہیں ہوتی۔ شایدسی سی ٹی وی کیمروں کی وجہ سے جنات بھی محتاط ہوگئے ہیں۔ ہوا میں اڑنے والے جن بھی ناپید ہوگئے ہیں۔پہلے جنات پلک جھپکتے دنیا بھر کی خبریں لادیا کرتے تھے اب شاید کسی جن سے یہ سہولت مانگی جائے تو وہ گھور کر کہے گا’’ماما گوگل کر‘‘۔

عشروں پہلے کے جنات لگ بھگ جانوروں جیسی شکل کے ہوا کرتے تھے، ان کی دم بھی ہوتی تھی اورجسم پر لمبے لمبے بال بھی۔ اس کے باوجود وہ چوں کہ شرم و حیا والے جنات تھے لہٰذا ان کی جتنی بھی تصاویر رسالوں میں شائع ہوتی تھیں ان میں انہوں نے باقاعدہ سترپوشی کی ہوتی تھی۔پرانے جنات ہر مذہب کے ہوتے تھے لہٰذا جلالی بابا کے پوچھنے پر اپنا مذہب وغیرہ فوراً بتا دیا کرتے تھے۔ اب بارڈر کراس کرنا کوئی آسان کام نہیں رہا لہٰذا جنات بھی ہر جگہ لوکل ہوگئے ہیں۔ وہ وقت یاد کیجئے جب کسی جگہ جنات کا شبہ ہوتا تھا تو شاہ جنات کا حوالہ دینے پر کوئی وقوعہ پیش نہیں آتا تھا۔ کتنے اچھے تھے وہ جنات جنہیں کوئی دکھ ہوتا تھا تو رات کے وقت بلی کے جسم میں گھس کر دھاڑیں مار مار کر رو لیا کرتے تھے۔ بلی کے رونے کی آواز تو آج بھی سنائی دیتی ہے لیکن اس میں جن کی بجائے جدائی کا دکھ زیادہ محسوس ہوتاہے۔ یہ کبھی کبھی گدھے کے جسم میں بھی گھس جاتے تھے، تاہم، کچھ ظاہری علامات کی وجہ سے سیانوں کو پتا چل جاتا تھا کہ اس گدھے میں جن آچکا ہے۔ان جنات کے بچے بھی ہوتے تھے جو ماں باپ کے منع کرنے کے باوجود انسانوں کو تنگ کرتے تھے۔ ظاہری بات ہے اب تک یہ بچے جوان ہوچکے ہوں گے اور سمجھ چکے ہوں گے کہ انسانوں کو تنگ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، یہ کام انسان اُن سے بہتر کرسکتے ہیں۔ پرانے جنات عموماً چراغوں اور پرانی بوتلوں میں اپنی سزا کے دن گزارا کرتے تھے اور جوکوئی بھی انہیں رہائی دلاتا تھا اس کی دو تین خواہشیں ضرور پوری کیا کرتے تھے۔ اب یہ شاید اس لئے بھی نظر نہیں آتے کیونکہ انسان کی کوئی ایک خواہش تو رہی نہیں۔پہلے وقتوں میں گھر کے چاروں کونوں میں کلمات پڑھ کر پھونکنے سے جنات نہیں آتے تھے۔ اب گھس آتے ہیں، دروازے توڑ کر، دیواریں پھلانگ کر۔ یہ جدید جنات کسی کی نہیں سنتے۔ ماضی کے جنات کی ایک خاص پہچان تھی کہ وہ جب انسانی شکل اختیار کرتے تھے تو پلکیں نہیں جھپکتے تھے۔ میں نے کل کچھ لڑکوں کو دیکھا اور مجھے یقین ہے کہ یہ جنات تھے کیونکہ وہ گرلز کالج کے باہر موجود تھے جونہی چھٹی ہوئی ان کی آنکھیں گیٹ کی طرف اٹھیں۔ میں کافی دیر تک ان کی آنکھوں کی طرف دیکھتی رہی، اِن میں سے کسی نے ایک لمحے کے لئے بھی پلکیں نہیں جھپکیں…

https://chat.whatsapp.com/HtlqDu0FrxRGZu9oVquvoT

Want your school to be the top-listed School/college in Charsadda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Hassan Khail
Charsadda
24420