14/06/2020
سرکاری وپرائیویٹ سکولوں میں اصلاحات کی ضرورت ھے۔مولانافضل الرحمن کے اس بات سے دوسوفیصد متفق ھوں۔کیونکہ ان اداروں میں اب صرف اسلامیات سے کام نہیں چلےگا اب نصاب میں قرآن شامل کرنے کا وقت آگیاھے۔
مدارس کے لئے پانچ ارب بجٹ مستردکرتاھوں۔مولاناصاحب کے اس بات سے سخت اختلاف کرتاھوں۔کیونکہ مدارس نکلنے والے علماء سائنسی مضامین،کمپیوٹر اورجدیدتعلیم سے آراستہ ھونگے تب ھی تووہ جج جنرل اے سی ڈی سی بنیں گے اور نظام میں موجود بھیڑیوں کوبے نقاب کرسکیں گے۔مولاناصاحب کا اپنا ایک بھائی کمشنرھے تو باقی علماء کو وہ اھم عہدوں پرکیوں نہیں دیکھناچاھتا۔ھمیں اس جدید دور میں فتنوں سے لڑنے کے لئے اھم عہدوں پر علماء چاھئے۔علماء کو صرف مساجد میں عوام کے چندوں کا محتاج بنانااب بندکردیناچاھئے۔اب پارلیمنٹ سمیت ھرادارے میں ایسے سربراھان چاھئے جو اپنے ماتحتوِں کی امامت خودکریں۔
اگر پارلیمنٹ سے تنخوااور فنڈز لینے پر مولانافضل الرحمن اورجے یوآئی ف اراکین کا ایمان مضبوط ھے تو پھر پانچ ارب سے مولانامدارس کے لاکھوں مضبوط ایمان والے علماء کو کیوں ڈرارھے ھیں؟
11/06/2020
12/05/2019
12/05/2019