01/05/2026
#روٹی کا رشتہ
ہم میز پر بیٹھ کر روٹی کھاتے ہیں،
لیکن اس روٹی کے پیچھے کسی کا پسینہ، کسی کی نیند، کسی کی ساری زندگی۔
کسان زندہ باد۔
یوم #مزدور مبارک ہو! ❤️🤲
This page is an advocates for the conservation, preservation, and safeguarding of plants . social and economical issues of farmer from Pakistan
to knowledge about crop protection sciences and technology.
01/05/2026
#روٹی کا رشتہ
ہم میز پر بیٹھ کر روٹی کھاتے ہیں،
لیکن اس روٹی کے پیچھے کسی کا پسینہ، کسی کی نیند، کسی کی ساری زندگی۔
کسان زندہ باد۔
یوم #مزدور مبارک ہو! ❤️🤲
Celebrating my 5th year on .
Thank you for your continuing support.
I could never have made it without you.love you all
🙏🤗🎉
28/04/2026
آج کی کہانی #موسم گرما کے ہیرو
26/04/2026
#خیبرپختونخوا
#خیبرپختونخوا پاکستان کا ایک خوبصورت اور جغرافیائی لحاظ سے متنوع صوبہ ہے جہاں پہاڑ، وادیاں اور میدانی علاقے موجود ہیں۔ اس صوبے کے کئی اضلاع ایسے ہیں جہاں گرمیوں کے موسم میں لوکل بادل (Local Clouds) بننے کا عمل بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بادل عموماً دن کے وقت درجہ حرارت میں اضافے اور زمین سے اٹھنے والی گرم ہوا کے باعث بنتے ہیں، جو بعد میں بارش، ژالہ باری یا تیز آندھی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔
صوبے کے شمالی اور پہاڑی اضلاع جیسے #سوات، دیر (بالائی و زیریں)، #چترال، کوہستان، مانسہرہ اور #دریائے ایبٹ آباد اس عمل کے لیے نہایت موزوں ہیں۔ ان علاقوں میں بلند پہاڑ، گھنے جنگلات اور نمی کی مناسب مقدار پائی جاتی ہے، جو بادلوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سورج کی تپش زمین کو گرم کرتی ہے تو گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے اور ٹھنڈی ہو کر بادلوں میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
اسی طرح مردان (خاص طور پر رستم اور قریبی پہاڑی علاقے)، #صوابی، #بونیر، باجوڑ، #خیبر، ہنگو اور #وزیرستان کے علاقے بھی لوکل بادلوں کی تشکیل کے لیے اہم سمجھے جاتے ہیں۔ اگرچہ ان میں سے کچھ علاقے مکمل طور پر پہاڑی نہیں ہیں، لیکن ان کے اردگرد موجود پہاڑی سلسلے اور درجہ حرارت میں تیزی سے تبدیلی بادلوں کے بننے کے عمل کو تیز کر دیتی ہے۔
لوکل بادلوں کی تشکیل زراعت کے لیے نہایت اہمیت رکھتی ہے کیونکہ یہ بارش کا سبب بنتے ہیں، جو فصلوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ تاہم بعض اوقات یہ بادل تیز آندھی، ژالہ باری یا شدید بارش کی صورت میں نقصان بھی پہنچا سکتے ہیں، جس سے فصلیں اور بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوتا ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ خیبرپختونخوا کے مذکورہ اضلاع اپنے مخصوص جغرافیے، درجہ حرارت اور موسمی حالات کی وجہ سے لوکل بادلوں کی تشکیل کے لیے نہایت موزوں ہیں، جو نہ صرف قدرتی حسن میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ موسمی نظام اور زراعت پر بھی گہرا اثر ڈالتے ہیں۔
08/04/2026
یہ جو آپ نے اپنے لان کے درمیان مٹی کے گولوں کا ایک چھوٹا سا ٹاور دیکھا ہے. یہ دراصل ایک خاص قسم کے کیڑے یا حشرات کی سرگرمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ عام طور پر اسے زمین میں رہنے والی مکھی ( Bee) یا تتئی/بھڑ ( ) بناتی ہے، جبکہ بعض اوقات یہ کام دیمک ( ) یا چیونٹیاں ( ) بھی کرتی ہیں۔
یہ حشرات زمین میں اپنے گھونسلے بنانے کے لیے مٹی کو کھود کر باہر نکالتے ہیں۔ کھودی گئی مٹی کو وہ گول گول شکل دے کر سوراخ کے اردگرد رکھتے ہیں، جس سے ایک چھوٹا سا ٹاور یا ڈھیر بن جاتا ہے۔ درمیان میں جو سوراخ ہوتا ہے، وہ دراصل ان کا داخلہ اور راستہ ہوتا ہے جہاں سے وہ اندر باہر آتے جاتے ہیں۔
خاص طور پر بارش کے بعد یا نمی والے موسم میں یہ سرگرمی زیادہ نظر آتی ہے، کیونکہ اس وقت مٹی نرم ہوتی ہے اور کھودنا آسان ہوتا ہے۔ یہ حشرات اپنے ان گھونسلوں میں انڈے دیتے ہیں اور اپنے بچوں کی پرورش کرتے ہیں، اس لیے یہ ساخت ان کے لیے بہت اہم ہوتی ہے۔
عام طور پر یہ نقصان دہ نہیں ہوتے، لیکن اگر ان کی تعداد زیادہ ہو جائے یا وہ بار بار لان میں ایسے ڈھیر بنانے لگیں تو یہ گھاس اور زمین کی خوبصورتی کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ایسے میں ہلکی سی صفائی یا مناسب کیڑے مار تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔
مختصر یہ کہ آپ کے لان میں نظر آنے والا مٹی کا یہ ٹاور کسی چھوٹے زمین میں رہنے والے کیڑے کا گھر ہے، جو اس نے اپنی حفاظت اور افزائش کے لیے بنایا ہے۔
#افعانستان سے سیلابی ریلہ کی امد
افغانستان کے مختلف دریاوں کا پانی کسی بھی وقت داخل ہو سکتا ہے، سرکاری ذرائع
پشاور، افغانستان کے مختلف دریاوں کا سیلابی پانی پاکستانی سرحد کے قریب پہنچ چکا ہے
#پشاور، شدید بارشوں کی وجہ سے افغانستان کے چھوٹے اور بڑے دریاوں میں طغیانی کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے
پشاور، دریاؤں میں طغیانی مل کر دریائے کابل میں سیلابی ریلے کی صورت اختیار کر رہے ہیں
پشاور، #دریائے کابل بذات خود موجزن ہے اور اس میں دریائے پنج شیر، کونڑ، خوگیانڑو، چپلیار، ایسار، شینواری، غنی خیل، مومند درہ، شیرزاد، پچیراگام اور خیوا کے بھپرے ہوئے دریا بھی شامل ہو رہے ہیں جو اونچے درجے کے سیلاب کا باعث بن چکے ہیں
پشاور، مختلف صوبوں اور اضلاع سے دریائے کابل میں شامل ہونے والے دریاوں کی صورتحال بھی تشویشناک ہے
پشاور، خوگیانڑو سے 4 دریا، چپلیار سے 6 دریا، شیرزاد سے 5 دریا، پچیراگام سے 5 دریا اور خیوا سے 4 موجزن دریا پہلے سے بھپرے ہوئے #دریا کابل میں شامل ہو رہے ہیں
#ٹرائیکوڈرما ایک مفید فنگس ہے جو زرعی میدان میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ دور میں جب کیمیائی ادویات کے نقصانات بڑھ رہے ہیں، ٹرائیکوڈرما کو ایک محفوظ اور ماحول دوست حل کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہ نہ صرف پودوں کو بیماریوں سے بچاتی ہے بلکہ ان کی نشوونما میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹرائیکوڈرما ایک بہترین بایو کنٹرول ایجنٹ ہے۔ یہ مٹی میں موجود نقصان دہ فنگس اور جراثیم کو ختم کرتی ہے، جس سے پودے مختلف بیماریوں جیسے جڑوں کی سڑن اور ولٹ سے محفوظ رہتے ہیں۔ اس طرح کسانوں کو مہنگی کیمیائی ادویات پر کم انحصار کرنا پڑتا ہے۔
اس کے علاوہ ٹرائیکوڈرما پودوں کی جڑوں کو مضبوط بناتی ہے اور غذائی اجزاء کے حصول میں مدد دیتی ہے۔ یہ مٹی میں نامیاتی مادوں کو توڑ کر پودوں کے لیے مفید غذائیت فراہم کرتی ہے، جس سے فصل کی پیداوار بہتر ہوتی ہے۔ مزید یہ کہ یہ #مٹی کی زرخیزی کو بھی بڑھاتی ہے اور زمین کو صحت مند رکھتی ہے۔
ٹرائیکوڈرما کا ایک اور اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ ماحول کے لیے نقصان دہ نہیں ہے۔ کیمیائی سپرے کے برعکس، یہ انسانی صحت، #جانوروں اور زمین کے لیے محفوظ ہے۔ اسی وجہ سے اسے جدید اور پائیدار #زراعت میں خاص اہمیت حاصل ہے۔
آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ٹرائیکوڈرما ایک سستا، مؤثر اور ماحول دوست حل ہے جو کسانوں کو بہتر فصل حاصل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اس کا استعمال نہ صرف بیماریوں کے کنٹرول میں مددگار ہے بلکہ #زرعی پیداوار کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
06/04/2026
بارش کے بعد فروٹ پودوں کی دیکھ بھال نہایت ضروری ہوتی ہے کیونکہ نمی اور زیادہ پانی کی وجہ سے پودے بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کسانوں اور باغبانوں کو چاہیے کہ بارش کے فوراً بعد مناسب حفاظتی اقدامات کریں تاکہ پودے صحت مند رہیں اور بہتر پیداوار دیں۔
بارش کے بعد تمام فروٹ پلانٹس پر ہلکا سپرے کرنا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس مقصد کے لیے Antracol یا Ridomil جیسے فنگس کش ادویات استعمال کی جاتی ہیں، جو پودوں کو فنگس اور دیگر بیماریوں سے بچاتی ہیں۔ اس کے ساتھ Confidor شامل کرنے سے نقصان دہ کیڑوں کا خاتمہ ہوتا ہے، جبکہ Seaweed پودے کی نشوونما کو بہتر بناتا ہے اور اسے جلد مضبوط بننے میں مدد دیتا ہے۔
یہ مرکب سپرے پودوں کو نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے بلکہ ان کی قوت مدافعت بھی بڑھاتا ہے۔ نتیجتاً پودے زیادہ تیزی سے بڑھتے ہیں اور اچھی کوالٹی کے پھل پیدا کرتے ہیں۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ بارش کے بعد مناسب سپرے اور دیکھ بھال پودوں کی صحت اور بہتر پیداوار کے لیے نہایت اہم ہے۔ کسان اگر ان ہدایات پر عمل کریں تو وہ اپنے باغات کو بیماریوں سے محفوظ رکھ سکتے ہیں اور زیادہ فائدہ حاصل کر سکتے ہیں۔