08/06/2026
کچھ شخصیات تاریخ کے ہجوم میں پیدا نہیں ہوتیں، بلکہ تاریخ خود ان کے قدموں کے نشانات سے اپنا راستہ متعین کرتی ہے۔ ان کی ابتدا بظاہر کسی گمنام بستی، کسی خاموش وادی یا کسی دور افتادہ پہاڑ کے دامن سے ہوتی ہے، لیکن ان کا نورِ کردار مشرق و مغرب اور شمال و جنوب کے افقوں کو روشن کر دیتا ہے۔
ایسی ہی ایک نابغۂ روزگار شخصیت، جسے دنیا "مختارُ الامہ" حضرت سید مفتی مختار الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے جانتی ہے، کربوغہ شریف کی خاموش پہاڑیوں کے دامن سے طلوع ہوئی۔ وہ پہاڑ جو صدیوں سے خاموش کھڑے تھے، شاید خود بھی اس حقیقت سے ناواقف تھے کہ ان کی آغوش سے ایک ایسا آفتابِ ہدایت طلوع ہونے والا ہے جس کی کرنیں لاکھوں دلوں کو منور کریں گی۔
حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فیض یافتہ اس مردِ درویش نے اپنے مشائخ کے امانت سپرد مشن کو سینے سے لگایا اور "تحریکِ ایمان و تقویٰ" کی بنیاد رکھ کر ایک ایسی روحانی نہر جاری کی جس سے پیاسے دل سیراب ہونے لگے۔ یہ صرف ایک تحریک نہ تھی، بلکہ ایمان کی حرارت، تقویٰ کی خوشبو، اخلاص کی روشنی اور امت کے درد سے لبریز ایک قافلہ تھا، جس کی قیادت ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں تھی جس کا دل امت کے غم سے دھڑکتا تھا اور جس کی نگاہ اللہ کی رضا پر مرکوز تھی۔
پھر وہ منظر دنیا نے دیکھا کہ کربوغہ شریف کی پہاڑیوں سے طلوع ہونے والا یہ آفتاب قریہ قریہ، بستی بستی، شہر شہر اور ملک ملک اپنے نور کی شعاعیں بکھیرنے لگا۔ اس کی روشنی صرف پاکستان کے میدانوں تک محدود نہ رہی، بلکہ سمندروں کو عبور کرتی ہوئی دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچی۔ اللہ تعالیٰ نے اس مردِ مومن سے وہ کام لیا کہ ہزاروں نہیں، لاکھوں دل ایمان کی حرارت سے آشنا ہوئے، بے شمار آنکھوں نے ہدایت کی روشنی پائی اور لاتعداد زندگیوں نے تقویٰ اور للہیت کا راستہ اختیار کیا۔
علماء نے ان کے علم سے فیض پایا، خواص نے ان کی صحبت سے روشنی حاصل کی اور عوام نے ان کی شفقت و اخلاص کے سائے میں سکون پایا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ایک سورج اپنے گرد صرف روشنی ہی نہیں، بلکہ محبت، اتحاد، اخلاص اور دردِ امت کی حرارت بھی پھیلا رہا ہو۔
مگر قدرت کے فیصلے اپنی حکمتوں کے ساتھ آتے ہیں۔
ابھی بہت سے سفر باقی تھے، بہت سے چراغ جلنے تھے، بہت سی بستیاں اس نور کی منتظر تھیں کہ اچانک وقت نے کروٹ لی اور یہ آفتابِ ہدایت بہت جلد اپنے رب کے حضور حاضر ہو گیا۔
آج جب کربوغہ شریف کی خانقاہ کے پس منظر میں غروب ہوتا سورج نظر آتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے فطرت خود حضرت کے سفرِ حیات کی تصویر پیش کر رہی ہو۔ وہی پہاڑ جن کے دامن سے یہ سورج طلوع ہوا تھا، انہی کے سائے میں وہ غروب بھی ہو گیا۔ لیکن یہ ایسا غروب نہ تھا جس کے بعد اندھیرا چھا جائے؛ یہ ایسا غروب تھا جس نے اپنے پیچھے روشنی کے بے شمار چراغ چھوڑ دیے۔ ایسے چراغ جو آج بھی دلوں کو منور کر رہے ہیں، ایمان کو تازگی بخش رہے ہیں اور دعوتِ حق کی صداؤں کو دنیا کے کناروں تک پہنچا رہے ہیں۔
سورج ڈوب جاتا ہے، مگر اس کی روشنی افقوں پر باقی رہتی ہے۔ اولیاء و صالحین اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کا اخلاص، ان کا فیض، ان کی محنت اور ان کی تربیت نسلوں تک زندہ رہتی ہے۔ حضرت سید مفتی مختار الدین شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ بھی انہی زندہ جاوید شخصیات میں سے ہیں جن کے جسم مٹی کی آغوش میں آرام کرتے ہیں، لیکن جن کی دعوت، جن کا پیغام اور جن کا فیض آج بھی زندہ ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک زندہ رہے گا۔
اللہ تعالیٰ ہمارے حضرت پر اپنی بے شمار اور ان گنت رحمتیں نازل فرمائے، ان کے درجات کو بلند سے بلند تر فرمائے، ان کی قبر مبارک کو انوارِ رحمت سے بھر دے، اور ان کے لگائے ہوئے اس شجرِ ایمان و تقویٰ کو روز افزوں ترقی عطا فرمائے۔
اللہ تعالیٰ ان کے تمام متعلقین، تلامذہ، خلفاء، محبین اور اس مشن سے وابستہ ہر فرد کو دین کی خدمت کے لیے قبول فرمائے، اور اس مردِ خدا کی بلند کی ہوئی دعوتِ ایمان و تقویٰ کی صدا کو چار دانگِ عالم میں عام فرما دے۔
آمین یا رب العالمین۔
مولانا خورشید حیدر
نگران حفاظ ایجوکیشن سسٹم پاکستان