سائنسی معلومات sicence informations

سائنسی معلومات sicence informations

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from سائنسی معلومات sicence informations, Education & Learning, umarzai, Charsadda.

02/10/2022

گائے کے بارے میں کچھ عجیب وغریب معلومات:
1. دنیا میں تقریباً 800 اقسام کے گائے پائے جاتے ہیں۔
2. تمام گائے نارمل زندگی میں صرف گھاس کھاتے ہیں کبھی بھی گوشت نہیں کھاتے ہیں۔
3. گائے سرخ رنگ نہیں دیکھ سکتے ہیں ۔
4. گائے چھ میلوں تک مختلف قسم کی بو سونگھ سکتے ہیں ۔
5. گائے سماجی زندگی کو پسند کرتے ہیں، ان میں اپنے دوست بھی ہوتے ہیں، دوستوں کی جدائی میں بیمار بھی ہوسکتے ہیں ، پالنے والے سے پیار بھی کرتے ہیں اور نام سے بلانے پر خوش بھی ہوتے ہیں ۔
6. دن میں 4 گھنٹوں تک مکمل طور پر سوتے ہیں اگرچے آرام 8 تک کرتے ہیں اور گائے کھڑے کھڑے بھی سو سکتے ہیں ۔
7. گائے کی 32 دانت اور 120 فارنہائٹ ٹمپریچر ہوتا ہے ۔
8. انڈیا میں گائے مارنے پر 7 سال تک قید اور جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔

منقول

02/10/2022

جب ایک مرے چوہے کی باڈی decompose ہوتی ہے تو اس سے بہت زیادہ بدبو آتی ہے۔ اس کے مقابلے میں پرندے جو چوہوں سے بڑے ہوتے ہوتے ہیں انک باڈی سے بہت کم بدبو آتی ہے۔ اسکی کیا وجہ ہے۔

یہ جانور پرندے کے کھانے کی وجہ سے ہے۔ پرندے زیادہ تر دانے وغیرہ کھاتے ہیں اور چوہے مردار اور گندی چیزیں کھاتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی نوٹ کیا ہوگا جو حلال جانور ہیں گھاس اور پودے کھاتے ہیں ان کے پاخانے سے بدبو نہیں آتی بلکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ بھینس کا گوبر لوگ گھروں دیواروں پر لیپ کرتے تھے۔ جبکہ حرام جانور جو گوشت خور ہیں جیسا کہ بلی کتا ان کے پاخانہ کی بدبو برداشت بھی نہیں ہوتی۔ تو یہ سب کچھ ان کے کھانے پر منحصر ہے۔

01/10/2022

فالج کیا ہے؟

ہم جانتے ہیں کہ ہمارے جسم، اس کی حرکت، ہمارے بولنے ، ہماری زبان ، ہمارے ہوش ، ہمارے سوچنے سمجھنے کو ہمارا برین یعنی ہمارا دماغ کنٹرول کرتا ہے اور جس طرح کسی بھی چلتی گاڑی کو فیول کی یا پیٹرول کی ضرورت ہوتی ہے بالکل اسی طرح ہمارے دماغ کو آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے جو اسے خون کے ذریعے ملتی ہے۔ اب اگر کسی بھی وجہ سے دماغ کو اس خون کی فراہمی متاثر ہو جائے۔ اس میں رکاوٹ پیدا ہو جائے، یا اس میں کمی ہو جائے تو دماغ کے کچھ خلیات مر جاتے ہیں اور ان خلیات کی موت کے نتیجے میں فالج کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔

مثال کے طور پر اگر اگر ہمارے دماغ کے ان خلیات کو نقصان پہنچتا ہے جو ہماری زبان، ہماری بول چال قابو کرتے ہیں تو فالج کے نتیجے میں ہم بول نہیں پاتے۔ اسی طرح اگر دماغ کا وہ حصہ متاثر ہوتا ہے جو ہماری جسمانی حرکت کو کنٹرول کرتا ہے تو ہم جسمانی طور پر مفلوج ہو جاتے ہیں، معذور ہو جاتے ہیں۔ سو اس طرح فالج کے دورے کے بعد ہر گزرتے منٹ میں آپ کا دماغ انیس لاکھ خلیات سے محروم ہو رہا ہوتا ہے اور ایک گھنٹے تک علاج کی سہولت میسر نہ آنے کی صورت میں دماغی عمر میں ساڑھے تین سال کا اضافہ ہو جاتا ہے۔

یعنی آپ دماغی طور پر اچانک بوڑھے ہو جاتے ہیں۔ علاج ملنے میں جتنی تاخیر ہو گی اتنا ہی بولنے میں مشکلات، یادداشت سے محرومی اور رویے میں تبدیلیوں جیسے مسائل کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ چنانچہ فالج کو جتنا جلد پکڑ لیا جائے اتنا ہی اس کا علاج زیادہ مؤثر طریقے سے ہو پاتا ہے اور دماغ کو ہونے والا نقصان اتنا ہی کم ہوتا ہے۔

فالج کی اقسام

فالج کی پہلی قسم جو نسبتاً کم خطرناک ہوتی ہے اور اسے چھوٹا فالج یا اسکیمک فالج بھی کہتے ہیں۔ یہ دماغ کی جانب خون کی فراہمی میں اچانک کمی کے باعث واقع ہوتی ہے اور یہ نسبتاً عام ہے، یعنی کہ اسی فیصد سے زائد فالج اسی قسم سے تعلق رکھتے ہیں، اب یہ کمی کیوں واقع ہوتی ہے تو اس کی وجوہات میں خون سپلائی کرنے والی شریانوں کا تنگ اور سخت ہو جانا جنہیں اتھیر وسکلروسس بھی کہتے ہیں اور جسم کے دیگر حصوں بالخصوص دل میں خون کے لوتھڑوں کا بننا جو کہ دماغ کی طرف خون کی کم سپلائی کا باعث بنتا ہے، شامل ہیں۔

فالج کی دوسری قسم جسے ہیموریجک فالج یا بڑا فالج بھی کہتے ہیں یہ اتنی عام نہیں لیکن بہت خطرناک ہوتی ہے۔ آپ نے اکثر سنا ہو گا کہ فلاں فرد کی دماغی شریان پھٹ گئی یا اسے برین ہیمرج ہو گیا، تو اس مراد یہی قسم ہوتی ہے یعنی اس میں کسی خون کی شریان سے دماغ میں خون خارج ہونے لگتا ہے۔ اور اس طرح دماغ کو اپنی کارکردگی کے لئے جو خون چاہیے ہوتا ہے وہ اس تک نہیں پہنچ پاتا اور دماغ مکمل طور پر کام نہیں کر پاتا۔

فالج کی علامت کیا ہوتی ہیں؟

ان دونوں اقسام کے فالج کی زیادہ تر علامات اور نشانیاں ایک جیسی ہوتی ہیں اور فالج کی کچھ انتباہی نشانیاں یعنی وارننگ سائنس اصل دورے سے ایک ہفتہ قبل ہی سامنے آنے لگتے ہیں۔ سو ان میں یہ علامات شامل ہیں جیسے:

اچانک مسلسل شدید سر درد، آدھے سر کا درد جو اگر مائیگرین نہ ہو، مسلسل چکر آنا
ایک کی جگہ دو چیزیں نظر آنا
سن ہونے کی کیفیت مثلاً چہرے پر، کسی عضو یا کسی عضو یا بدن کے کسی حصے یا ہاتھ پیروں کا سن ہو جانا
اعضائی اور بدنی کمزوری، عام طور پر جو جسم کے ایک طرف ہو
توازن یعنی جسم کے بیلنس کا اچانک چلے جانا
غیر واضح گفتگو، بولنے میں مشکل، تھوک گرنا، نگلنے میں دشواری، منہ کا ٹیڑھا پن

بالکل اسی طرح لوگوں کو درست الفاظ کے انتخاب یا کسی چیز کے بارے میں پوری توجہ سے سوچنے میں مشکلات کا سامنا ہونا فالج کی عام علامت میں سے ایک ہے۔

نظر کی دھندلاہٹ، دہری بصارت
غنودگی، بے ہوشی یا کوما
اسی طرح چلتے چلتے اچانک گر جانا یا گردن میں درد بھی اس کی نشانی ہو سکتے ہیں۔

فالج سے پہلے اور فالج کے دوران بلڈ پریشر بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے اور کوئی چیز کھانا پینا یا نگلنا دشوار ہو جاتا ہے۔

کون کون فالج کے زیادہ خطرے میں ہے؟

وہ لوگ جن کا جسمانی وزن نارمل سے زیادہ ہو یا وہ جو تمباکو نوشی یا الکحل استعمال کرتے ہیں اور ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض اور مستقل ذہنی دباؤ یا ڈپریشن کے شکار افراد میں فالج کا خطرہ سب سے زیادہ پایا جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں موت کا امکان بھی پچپن فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اسی طرح اپنی غذا میں نمک کا زیادہ استعمال کرنے والے لوگ، اور وہ لوگ جن کی عمر پچاس سال سے زائد ہو، یا وہ لوگ جن کی دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی یا ایک کنڈیشن جسے ایٹریل فبریلیشن کہتے ہیں موجود ہو، یہ سب فالج کے حملے کے زیادہ رسک پر ہوتے ہیں۔

اسی طرح مرغن غذاؤں کے شوقین موٹے لوگوں میں فالج کا حملہ کسی وقت بھی ہو سکتا ہے۔ جو لوگ زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں اور کسی قسم کی ورزش نہیں کرتے ، ان میں بھی فالج کا حملہ ہونے کے خدشات زیادہ ہوتے ہیں

ہم کیسے فالج کے حملے کو روک سکتے ہیں؟

اس کا جواب اگر آسان لفظوں میں اور ایک لائن میں دوں تو وہ یہ ہے کہ اپنا بلڈ پریشر چوبیس گھنٹے قابو میں رکھیں۔ آپ کا اوپر والا بی پی ایک سو چالیس سے کم ہو اور نیچے والا نوے ایم ایم ایچ جی سے کم ہو اور بلڈ پریشر کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔

اسی طرح فالج سے بچنے کے لیے روزانہ ورزش کی بہت اہمیت ہے کیونکہ ورزش سے خون کی گردش صحیح رہتی ہے اور اس میں کسی قسم کی رکاوٹ کا خطرہ نہیں رہتا ، سو ہفتے میں کم از کم پانچ دن روزانہ پچاس منٹ کی ورزش ضرور کریں۔ مینٹل اسٹریس کم سے کم رکھیں، اپنا وزن کم کریں اور قابو میں رکھیں۔

ہائی بلڈپریشر، ذیابیطس اور فالج کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگر ان دو بیماریوں کا علاج نہ کیا جائے تو پھر فالج کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان بیماریوں کا مکمل علاج کروایا جائے۔

اپنا بلڈ کولیسٹرول قابو میں رکھیں۔ نقصان دہ کولیسٹرول ایل ڈی ایل کی سطح میں اضافے اور فائدہ مند ایچ ڈی ایل کولیسٹرول کی سطح میں کمی سے شریانوں میں مواد جمع ہونے لگتا ہے، جو خون کا بہاؤ کم کرتا ہے جس سے فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔ اپنی غذا میں چربی اور ٹرانس فیٹ میں کمی لانا فالج کے رسک کو کم کرتا ہے۔
#ڈاکٹر سید اکرم

01/10/2022

؟

نیند نہ آنے کی شکایت کو رات میں تارے گننے سے تشبہیہ دی جاتی جو عام طور پرمحبوب کی یاد میں گننے جاتے ہے۔ لیکن طبی ماہرین رات میں تارے گننے کی سائنسی توجہیہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دور حاضر میں اس مرض کےعام ہونےکی سب سے بڑی وجہ الیکٹریکل لائٹس ( مصنوعی روشنی) خصوصاً اسکرین لائٹس کا بڑھتا ہوا استعمال ہے۔

نیند کی دواؤں کے ایک ماہر پروفیسر 'چارلس زیسلر' کہتے ہیں کہ برقی بلب اور الیکٹریکل مصنوعات مثلاً ٹیلی وژن ،کمپیوٹر، لیپ ٹاپ اور اسمارٹ فونزکی اسکرین سے خارج ہونے والی مصنوعی روشنیاں دراصل ہماری نیند کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہیں ۔

'ہارورڈ میڈیکل اسکول' سے تعلق رکھنے والے پروفیسر زیسلرکا کہنا ہے کہ انسانی جسم کی قدرتی گھڑی Circadian Rhythm اسے دن کے آغاز پر جگاتی ہے اور رات کا اندھیرا پھیلنے پرنیند کی طرف راغب کرتی ہے لیکن، مصنوعی روشنیاں انسانی دماغ میں موجود اس قدرتی گھڑی کےتوازن کو بگاڑ دیتی ہیں جس سے ہمارے سونے اورجاگنےکا قدرتی عمل متاثر ہوتا ہے۔

'جرنل نیچرل ' میں شائع ہونے والی تحقیق کا مقصد مصنوعی روشنی کے استعمال سے لوگوں کے سونے کی عادت پر پڑنے والے مضراثرات سےبچاؤ کے لیئے انسانی رویےمیں تبدیلی لانا اور تکنیکی طریقوں کی مدد سے اس کا حل تلاش کرنا تھا ۔

پروفیسر زیسلرکا کہنا ہے کہ، وہ لوگ جو ہر روز رات میں نیند پوری نہیں کرتے ہیں ،ان میں فربہ ہونا، یاسیت، اسٹروک اور دل کے امراض میں مبتلا ہونے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے جبکہ نیند کی کمی بچوں میں توجہ میں کمی کے مسائل پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے ۔

انھوں نے بتایا کہ مصنوعی روشنیاں انسانی دماغ میں نیند کے لیے بننے والے ہارمون Melatonin)) کے اخراج میں رکاوٹ کا باعث بنتی ہیں جو انسانی جسم کو سونے میں مدد فراہم کرتا ہے تو دوسری طرف اعصابی خلیہ Neurons)) (پیغام رسانی کا خلیہ )کو فعال بنا دیتی ہے جس سے جسم مزید چوکنا ہو جاتا ہے اور اس طرح یہ مصنوعی روشنیاں دماغ کو بے وقوف بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہیں کہ ابھی دن کا سماں ہے لہذا سونے کے عمل کو مزید ٹالا جا سکتا ہے ۔

وہ لکھتے ہیں کہ ، برقی بلب کی روشنی سے کہیں زیادہ کمپیوٹر اوراسمارٹ فونز کی 'ایل ای ڈی ' لائٹس سونے کے قدرتی نظام کو متاثر کرتی ہیں ،جو دماغ میں موجود کمیکلز پرکیفین کی طرح اثرکرتی ہیں اور رات دیرتک جاگنے پر اکساتی ہیں۔

'' لوگوں کی نیند پوری نہ ہونے کے پیچھےکئی عوامل کار فرما ہیں جن میں صبح سویرے کام پر جانا، ثقیل غذائیں، مشروبات اور کیفین لینے کی عادت شامل ہے لیکن ہم اکثر جاگنےکی سب سے بڑی وجہ الیکٹریکل لائٹس کو بالکل نظر اندازکر دیتے ہیں جو جسم کی قدرتی گھڑی کو کسی دوا سے بھی زیادہ متاثر کرتی ہیں ۔''


ان کا کہنا تھا کہ ، ماڈرن دورمیں لوگوں کی مصروفیات کا سلسلہ دن کے بعد رات میں بھی جاری رہتا ہےبہت سے لوگوں کو رات میں کئی بار ای میل چیک کرنے کی عادت ہوتی ہے تو کچھ لوگ رات میں ٹی وی پروگرام دیکھنا پسند کرتے ہیں اور اس دوران انھیں آدھی رات واشروم جانے کا احساس تک نہیں ہوتا ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ '' ٹیکنالوجی نے ہمارے دن کے 24 گھنٹوں میں سونے اور جاگنے کے معاملات کو بدل کر رکھ دیا ہے رات میں دیر سے بیڈ پر جانا اورصبح سویرے اٹھتے ہی خود کو جگائے رکھنے کے لیے چائے اور کافی پینے کی عادت سے ہماری نیند کا دورانیہ مزید سکڑتا جا رہا ہے۔''

( وائس آف امریکہ VOA)

01/10/2022

"ایمیزون Amazon "

ایمزون کا جنگل دنیا کے 9 ممالک تک پھیلا ہوا ہے،
جس میں سرفہرست برازیل ہے۔

اس کا کل رقبہ 55 لاکھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے، جبکہ پاکستان کا رقبہ 7 لاکھ 95 ہزار مربع ہے ایمزون ایک یونانی لفظ ہے جسکا مطلب لڑاکو عورت ہے
زمین کی 20 فیصد آکسیجن صرف ایمزون کے درخت اور پودے پیدا کرتے ہیں،

دنیا کے 40 فیصد جانور ، چرند، پرند، حشرات الارض ایمزون میں پائے جاتے ہیں

یہاں 400 سے زائد جنگلی قبائل آباد ہیں، انکی آبادی کا تخمینہ 45 لاکھ کے قریب بتایا گیا ہے۔
یہ لوگ اکیسیوں صدی میں بھی جنگلی سٹائل میں زندگی گذاررہے ہیں۔

ایمیزون جنگل کے کچھ علاقے اتنے گھنے ہیں کہ وہاں سورج کی روشنی نہیں پہنچ سکتی اور دن میں بھی رات کا سماں ہوتا ہے،

یہاں ایسے زیریلے حشرات الارض بھی پائے جاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو کاٹ لیں تو وہ چند سیکنڈ میں مرجائے گا،
ایمزون کا دریا پانی کے حساب سے دنیا کا سب سے بڑا دریا ہے, اسکی لمبائ 7ہزار کلومیٹر ہے،

دریائے ایمزون میں مچھلیوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں
ایمزون کے جنگلات میں 60 فیصد جاندار ایسے ہیں جو ابھی تک بے نام ہیں،

یہاں کی مکڑیاں اتنی بڑی اور طاقتور ہوتی ہیں کہ پرندوں تک کو دبوچ لیتی ہیں،

یہاں پھلوں کی 30 ہزار اقسام پائ جاتی ہیں

مہم جو اور ماہر حیاتیات ابھی تک اس جنگل کے محض 10 فیصد حصے تک ہی جاسکے ہیں

اگر آپ ایمزون کے گھنے جنگلات میں ہوں اور انتہا کی طوفانی و موسلا دھار بارش شرع ہوجائے تو تقریبن 12 منٹ تک آپ تک بارش کا پانی نہیں پہنچے گا.

Want your school to be the top-listed School/college in Charsadda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Culinary Team

Attire

Address


Umarzai
Charsadda
KHAN