14/04/2025
کیا ہم یوسفؑ کے خریداروں میں شامل ہیں؟
جب یوسف علیہ السلام کو مصر کے بازار میں فروخت کیا جا رہا تھا، تو خریداروں کا ہجوم لگا ہوا تھا۔ کوئی سونے کے سکے لا رہا تھا، کوئی چاندی، اور کوئی قیمتی موتی۔
اسی بھیڑ میں ایک کمزور سی بوڑھی عورت آئی، جس کے سر پر روئی کا گٹھا تھا۔
لوگوں نے مذاق اُڑایا:
"اماں! یوسف کو خریدنے آئی ہو؟ یہ تو قیمتی خریداروں کے لیے ہے!"
اس نے بے ساختہ جواب دیا:
"میں جانتی ہوں کہ یوسفؑ اس روئی سے نہیں خریدے جا سکتے، مگر قیامت کے دن اگر آواز دی جائے کہ 'یوسف کے خریدار سامنے آئیں' تو میں بھی کہہ سکوں کہ میں بھی وہاں کھڑی تھی!"
آج فلسطین لہو میں نہا رہا ہے۔ بچے، عورتیں، جوان، بوڑھے سب قربانی دے رہے ہیں۔
ہم نہ توپ رکھتے ہیں، نہ ٹینک… لیکن ہمارے پاس روئی جیسا کچھ نہ کچھ ضرور ہے—چاہے وہ دُعا ہو، صدقہ ہو، بائیکاٹ ہو، یا سچ بولنے کی ہمت۔
بس قیامت کے دن یہ تو کہہ سکیں:
"یا اللہ! ہم تماشائی نہیں تھے… ہم ظالموں کے نہیں، مظلوموں کے ساتھ کھڑے تھے!"
مفتی ابو سفیان عثمانی