شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے محمد ایاز نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اُن کی وفاداری ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہے اور وہ کسی بھی گمراہ یا شدت پسند عنصر کی حمایت نہیں کرتے۔
محمد ایاز نے اس وقت ہی اپنے بیٹے رضا اللہ سے لاتعلقی اختیار کر لی تھی جب اُس کے کالعدم تنظیم میں شامل ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
بیٹے کی ہلاکت کے بعد بھی محمد ایاز اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے اور دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ان کی وفاداری ریاستِ پاکستان کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی خوارجی یا گمراہ گروہ کے ساتھ۔
KPDiary9
Here You Will Get All The KP Pakistan Stuff.
15/02/2026
باجوڑ کے تھانہ واڑہ ماموند پر دہـشـت گردوں کے حملے کے دوران ایڈیشنل ایس ایچ او گل مانو دین نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دشمن سے مقابلہ کیا اور فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہو گئے۔
پولیس حکام کے مطابق گل مانو دین نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دہـشـت گـردوں کا مقابلہ کیا اور علاقے میں امن و امان قائم رکھنے کی کوشش کی۔
12/02/2026
افغانستان میں اسرائیلی اسلحہ اور جعلی مزاحمتی بیانیہ: نفسیاتی جنگ اور نظریاتی منافقت ‼️‼️
حالیہ دنوں میں خوارج کا خود کو ابو عبیدہ جیسی فلسطینی مزاحمتی علامتوں کے انداز میں پیش کرنا ایک منظم نفسیاتی حربہ دکھائی دیتا ہے۔
انہی ویڈیوز اور پوسٹرز میں جدید اسرائیلی ساختہ اسلحہ، بالخصوص رونی گلاک چیسیس کٹس کی نمائش، اس بیانیے کو مزید مشکوک بناتی ہے۔
اوپن سورس شواہد بتاتے ہیں کہ یہ کٹس CAA انڈسٹریز (اسرائیل) کی تیار کردہ ہیں، جو عام گلاک پستول کو مختصر مگر زیادہ مؤثر فائر پاور میں تبدیل کر دیتی ہیں۔
اسلامی مزاحمت کے نعروں کے ساتھ اسرائیلی ٹیکنالوجی کی نمائش ایک واضح بیانیاتی تضاد ہے، جو جذباتی ہمدردی سمیٹنے کے لیے استعمال ہو رہا ہے۔
اصل سوال یہ ہے کہ خود کو دین کا علمبردار کہنے والے خوارج اپنے ہی دعوائی نظریے کے برخلاف اسرائیلی اسلحے پر انحصار کیوں کر رہے ہیں: کیا یہ ان کی فکری دیوالیہ پن اور عملی منافقت کا کھلا اعتراف نہیں؟
پشاور میں منعقد ہونے والی خیبر پختونخوا کی ایپیکس کمیٹی کے اعلامیے نے ایک بار پھر اس حقیقت کو واضح کیا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف عسکری اقدامات کافی نہیں بلکہ مؤثر گڈ گورننس ناگزیر ہے۔ اعلامیے کی شق نمبر 7 میں اس امر کا اعتراف دراصل اُن مسلسل مؤقف کی توثیق ہے جس پر قومی سطح پر بارہا زور دیا جاتا رہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر مکمل عملدرآمد ہی پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔ سکیورٹی فورسز اپنی ذمہ داریاں کائنیٹک سطح پر ادا کر رہی ہیں، مگر انتظامی، سماجی اور حکومتی اصلاحات صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہیں، جہاں گڈ گورننس مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔
اعلامیے میں دہشتگردی کے خلاف سب کے ایک پیج پر ہونے کی بات یقیناً حوصلہ افزا ہے، تاہم قومی چیلنجز صرف بیانات سے حل نہیں ہوتے بلکہ عملی اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ریاستی اداروں کو تنقید کا محور بنانے کے بجائے حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے نکات پر سنجیدگی سے عمل، مؤثر انتظامی اصلاحات اور عوامی مسائل کے حقیقی حل ہی وہ راستہ ہیں جو صوبے کو عدم استحکام سے نکال کر پائیدار امن کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
اس اعلامیے نے قوم میں ایک نئی امید ضرور پیدا کی ہے کہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ عزم اب عملی شکل اختیار کرے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وعدوں اور اعلانات کو ٹھوس اقدامات میں بدلا جائے تاکہ ملک اور خصوصاً خیبر پختونخوا کو دہشتگردی کی لعنت سے مستقل نجات دلائی جا سکے۔ قومی یکجہتی، مؤثر حکمرانی اور نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عمل ہی ایک محفوظ، پرامن اور مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔
07/02/2026
تاریخی شہر پشاور کا مشہور تجارتی مرکز بورڈ بازار شدید ماحولیاتی آلودگی کا شکار ہو چکا ہے۔ بازار کے وسط سے گزرنے والی نہر، جو کبھی پانی کے بہاؤ کا ذریعہ تھی، اب گندگی اور کچرے کا ڈھیر بن چکی ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ علاقہ “منی کابل” کے نام سے جانا جاتا ہے کیونکہ یہاں دکانوں کی اکثریت افغان شہریوں کی ملکیت ہے۔ الزام ہے کہ متعدد دکاندار دکانوں کا کوڑا کرکٹ، پلاسٹک بیگز اور دیگر فضلہ بلا جھجھک نہر میں پھینک دیتے ہیں، جس سے نہ صرف پانی آلودہ ہو رہا ہے بلکہ شدید بدبو اور بیماریوں کا خدشہ بھی بڑھ گیا ہے۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ نہ صرف نہر کی فوری صفائی کی جائے بلکہ کچرا پھینکنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی اور مستقل مانیٹرنگ کا نظام بھی نافذ کیا جائے تاکہ پشاور جیسے تاریخی شہر کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔
05/02/2026
ضلع خیبر : گزشتہ روز وادی تیراہ کے علاقے میدان میں واقع اریا سالار چوک کے مقام پر سیکیورٹی فورسز اور دہشـت گردوں کے درمیان شدید کراس فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں فتنہ الخوارج گل بہادر کے ایک اہم دہـشـت گرد کمانڈر شفیق عرف اسامہ کو ہلاک کیا گیا۔کمانڈر شفیق کا تعلق پشاور کے علاقے بڈھ بیر کے شیخ محمدی گاوں سے تھا۔
02/02/2026
لکی مروت:پولیس نے نصرخیل درگہ اور ملحقہ علاقوں میں مؤثر سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے متعدد ٹھکانے مسـمار کر دیے۔ کارروائی میں کمانڈر توصیف اور کمانڈر عمران کے محفوظ کیمپ تبـاہ کیے گئے، جہاں سے تخـریبی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جاتی تھی۔
آپریشن کے دوران بڑی مقدار میں بـارودی مـواد، تیار شدہ آئی ای ڈیـز اور شہری سے چھینی گئی ہنڈا 125 موٹر سائیکل سمیت مشتبہ اشیاء برآمد ہوئیں۔
02/02/2026
آسٹریلیا نے افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار کے بعد سفارتی سطح پر ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے افغان سفارتخانہ بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
آسٹریلوی میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان سفارتخانہ جون 2026 کے بعد اپنی سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دے گا۔
آسٹریلیا کے محکمۂ خارجہ و تجارتی امور کا کہنا ہے کہ وہ طالبان کی جانب سے مقرر کردہ کسی بھی سفارتکار، اعزازی قونصل یا نمائندے کو تسلیم نہیں کرے گا۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ طالبان حکومت کو افغان عوام کا جائز نمائندہ تسلیم نہ کرنے کی پالیسی کے تحت کیا گیا ہے۔
02/02/2026
سیکیورٹی فورسز نے کاروائی کے دوران افغ،،،ان شہری اور فتنہ الخوارج کا رکن جبار ولد عبدالعلی کو پاکستان میں غیر قانونی دراندازی کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا۔
ملزم کے قبضے سے اسلحہ، بارودی مواد، مواصلاتی آلات اور دیگر مشتبہ اشیاء برآمد ہوئیں۔
31/01/2026
باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ اور جمرود جلسہ حقائق کیا ہیں اور فسانہ کیا؟
📌 ستمبر 2025 میں تیراہ کے مقامی مشران نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے موجودہ وزیر اعلیٰ (جو اس وقت ایم پی اے تھے) کی موجودگی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں تیراہ میں دہشتگردی اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
📌علی امین گنڈاپور کے ساتھ ہونے والی نشست میں یہ بھی طے کیا گیا کہ فتنہ الخوارج سے رابطہ کیا جائے گا اور انہیں تیراہ سے چلےجانے کا کہا جائے گا۔
📌 جرگہ قرآن لے کر خوارج کے پاس گیا لیکن خوارج نے قبائلی روایات کے برعکس جرگے کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور تیراہ سے نکلنےپر راضی نہ ہوئے۔
📌 28 اکتوبر 2025 کو ڈپٹی کمشنر خیبر نے پی ڈی ایم اے (PDMA) کو پہلا خط لکھا جس میں متوقع نقل مکانی اور موجودہ وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں اس کے لیے ضروری انتظامات کرنے کا کہا گیا۔
📌 اسی دوران، 14 نومبر 2025 کو صوبائی کابینہ نے تیراہ کے بے گھر افراد کی آبادکاری کے لیے اصولی طور پر 4 ارب روپے کی منظوری دی۔
📌 تین ماہ کے وقفے کے بعد (11 دسمبر 2025 کو)، تیراہ کے مقامی مشران نے ضلع خیبر کی انتظامیہ سے رابطہ کیا اور آگاہ کیا کہ دہشت گردوں کو علاقہ خالی کرنے پر قائل کرنے کی ان کی کوششیں ناکام ہو گئی ہیں، لہٰذا وہ علاقہ خالی کرنے کے لیے رضاکارانہ طور پر عارضی نقل مکانی کے لیے تیار ہیں۔
📌 17 دسمبر 2025 کو علاقے کے 26 معززین (24 +2) پر مشتمل ایک جرگے نے ضلع انتظامیہ خیبر سے ملاقات کی اور نقل مکانی کے حوالے سے اپنے مطالبات پیش کیے۔ جرگے کی اسی طرح کی ملاقاتیں 18 اور 19 دسمبر 2025 کو بھی جاری رہیں۔
📌 26 دسمبر 2025 کو چیف سیکرٹری نے تیراہ کے بے گھر افراد کی دوبارہ آبادکاری کے لیے 4 ارب روپے کی منظوری دی۔
📌 31 دسمبر 2025 کو جرگے نے چیف سیکرٹری سے ملاقات کی جس میں نقل مکانی کے طریقہ کار کو حتمی شکل دی گئی اور جرگے کے مطالبات تسلیم کر لیے گئے۔ رجسٹریشن کے عمل کے بعد نقل مکانی 14 جنوری 2026 تک مکمل ہونی تھی، جس کی ذمہ داری صوبائی حکومت کی تھی، بعد ازاں اس مدت میں 26 جنوری 2026 تک توسیع کر دی گئی۔
📌 جرگہ کے اصل حقائق یہ ہیں کہ، آفریدی قوم کے 8 قبیلے ہیں جن میں سے تیراہ میں موجود 6 قبیلوں میں سے ہر قبیلے نے 4 نمائدے منتخب کیے تھے - لہذا 24 رکنی جرگہ بنایا گیا جو تیراہ کے لوگوں کے اصل نمائیدگان تھے -
📌 ہفتے کے دن باڑہ سیاسی اتحاد جرگہ منعقد ہونا تھا، اسکو CM KP ، مینا خان جیسے لوگوں نے ڈسکریڈٹ کرنے کے لئے اتوار کے روز جمرود میں سیاسی جلسہ بھی رکھ لیا -
📌 حکومت نے 4 ارب روپے تیراہ کے لوگوں میں بانٹنے کی بجائے اور جرگے کو نظر انداز کر کے،اپنے نظر شفقت political workers میں بانٹے تاکہ political mileage حاصل کیا جا سکے -
📌سب کچھ پتہ ہونے کے باوجود اور ستمبر سے لے کر جنوری تک یہ تاخیر ان کی بدنیتی کا ثبوت ہے کہ کس طرح تیراہ کے لوگوں کو سیاسی ڈھال بنایا گیا-
📌 90 ہزار لوگوں کے لئے صرف 2 ریجسٹریشن پوائنٹس بنائے گئے تاکہ انسانی المیہ بنایا جائے - لہذا ان سب وجوہات کی بنا پر پی ٹی آئی اور جرگے کے عمائدین کے درمیان ٹھن گئی ہے۔
📌پی ٹی آئی کے رہنما کی جانب سے تیراہ جرگہ کے ممبران کو "ٹاؤٹ" قرار دینا شرمناک ہے۔ یہ جرگہ صدیوں سے مقامی لوگوں کی نمائندگی کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جب پی ٹی آئی قیادت ان معتبر مقامی افراد کو خریدنے میں ناکام رہی، تو اب انہیں بدنام کرنے پر اتر آئی ہے۔
📌اطلاعات کے مطابق اقبال آفریدی، مینا خان، سہیل آفریدی کے بھائی اور غنی آفریدی نے متاثرین کے لیے مختص فنڈز کی تقسیم میں بڑے پیمانے میں خورد برد کی -
📌جرگہ پی ٹی آئی کے اِن سیاستدانوں کی جانب سے کی جانے والی جعلی رجسٹریشنز کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے، کیونکہ جرگہ نہیں چاہتا کہ حق داروں کا حق مار کر سیاسی من پسند افراد کو نوازا جائے۔ اسی مزاحمت کی وجہ سے اب ان سیاستدانوں نے جرگے کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
📌پی ٹی آئی تیراہ کے عوام کے لیے مختص 4 ارب روپے کو اپنے حامیوں میں بانٹ کر ان کو 8 فروری کے جلسے میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے استعمال کرنا چاہتی ہے۔
📌 اصل جرگہ ہفتے کو منعقد ہوگا ، اتوار کو جمرود میں ہونے والا جلسہ سیاسی چال ہے ، تاکہ لوگوں کو ورغلایا جائے اور آٹھ فروری کے جلسے میں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جائے ۔
31/01/2026
تاجکستان کے سرحدی محافظوں نے افغانستان سے تاجکستان میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے تین افغ،،،ان دہشتگردوں کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اسی گروہ کے دو افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
اقوام متحدہ رپورٹ کے مطابق افغ،،،انستان میں 20 سے زیادہ دہشتگرد گروپ موجود ہے جو ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کیلئے جاتے ہیں اور ان دہشتگردوں کو افغ،،،ان طال،،،بان کی سرپرستی بھی حاصل ہے جو علاقائی سلامتی کیلئے بہت بڑا خطرہ ہے.
28/01/2026
مقامی ذرائع سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق افغ،،،انستان کے صوبہ ک،نڑ کے ضلع ڈا،،نگام میں ایک بڑا برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں فتنہ الخوارج کے تقریباً 70 ارکان ملبے تلے دب گئے ہیں۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Charsadda