Jamia Ayesha Siddiqa LiL Banat Sokhta جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات سوختہ

Jamia Ayesha Siddiqa LiL Banat Sokhta  جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات سوختہ

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Jamia Ayesha Siddiqa LiL Banat Sokhta جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات سوختہ, Education, Sokhta, Charsadda.

24/02/2022

سالانہ ختم بخاری و چادرپوشی
19 فروری 2022 بروز ہفتہ

15/01/2022

سالانہ امتحانات 1443 کے لیے جدول/ڈیٹ شیٹ
للبنین

15/01/2022

سالانہ امتحانات 1443 کے لیے جدول/ڈیٹ شیٹ
للبنات

14/01/2022
30/07/2021

تعطیلات عید الاضحی ختم
کل بروز ہفتہ انشاءللہ اسباقِ کا دوبارہ آغاز ہوگا۔
انتظامیہ جامعہ ھٰذہ

30/06/2021

✔️اچھی قربانی کی ترغیب
🎤حضرت الشیخ مولانا محمد الیاس گھمن حفظہ اللّٰہ

11/05/2021

جمعہ کے دن عید ہو تو جمعہ کے خطبہ کا حکم
سوال
اگر عید جمعہ کو ہو، صبح نماز عید کے لیے خطبہ پڑھ لیا جائے تو نماز جمعہ کے لیے دوبارہ پڑھنا چاہیے یا نہیں؟

جواب
صورتِ مسئولہ میں جمعہ کے لیے دوبارہ خطبہ پڑھا جائے گا، کیوں کہ خطبہ جمعہ کی شرائط میں سے ہے۔ نیز ملحوظ رہے کہ عید کا خطبہ دینا سنت ہے جب کہ جمعہ کا خطبہ فرض ہے، دونوں الگ ہیں۔عید کا خطبہ جمعہ کے لیے کافی نہیں ہوسکتا۔

شامی میں ہے :

"أما مذهبنا فلزوم كل منهما. قال في الهداية ناقلا عن الجامع الصغير: عيدان اجتمعا في يوم واحد فالأول سنة والثاني فريضة ولا يترك واحد منهما اهـ". (۲ / ۱۶۶، سعید) فقط واللہ اعلم

فتوی نمبر : 144112200188

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
🔵▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️🔵
مزید بہترین پوسٹ کیلئے ہمارے پیج کو لائیک اور شیئر کیجئے⬇️
https://www.facebook.com/MuftiZarMuhammad/

11/05/2021

سوال
عید کی نماز فرض ہے کیا؟

جواب
عید کی نماز ادا کرنا فرض نہیں، بلکہ واجب ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ عید کی نماز ادا کرنا لازم نہیں ہے، واجب کا مطلب بھی یہ ہوتا ہے کہ یہ عمل کرنا لازم ہے، بس فرق یہ ہے کہ جو کسی قطعی دلیل مثلًا: قرآن کریم کی کسی واضح آیت یا متواتر حدیث سے ثابت ہو اسے فرض کہتے ہیں، جب کہ "واجب" ظنی دلیل سے ثابت شدہ عمل کو کہا جاتا ہے۔

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (2/ 165):

باب العيدين .... (تجب صلاتهما) في الأصح (على من تجب عليه الجمعة بشرائطها) المتقدمة (سوى الخطبة) فإنها سنة بعدها.

فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144109203206

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
🔵▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️🔵
مزید بہترین پوسٹ کیلئے ہمارے پیج کو لائیک اور شیئر کیجئے⬇️
https://www.facebook.com/MuftiZarMuhammad/

10/05/2021

عید کے موقع پر گلے لگانا
سوال
عید کے موقع پر یا اور خوشی کے موقع پر مسجد میں گلے لگانا اور مبارکی کرنا کیسا ہے ؟

جواب
عید کی نماز کے بعد یا اسی طرح کسی دوسری خواشی کے موقع پر معانقہ کرنے میں حرج نہیں،البتہ لازم سمجھ کر یا دین کا حصہ سمجھ کر کرنا درست نہیں۔

کفایت المفتی (3 /302)میں ہے:

’’عیدین میں معانقہ کرنا یا عید کی تخصیص سمجھ کر مصافحہ کرنا شرعی نہیں، بلکہ محض ایک رسم ہے‘‘۔ (کتاب الصلاۃ،چھٹا باب:عیدین کی نماز،عنوان:عید کے دن گلےملنا، ط: دارالاشاعت، کراچی)

عید کی مبارک باد دینا اس کے بابرکت ہونے کی دعا دینا ہے ،جوکہ بذاتِ خود جائز ہے ، اس لیے عید کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارک باد دینا جائز، بلکہ مستحب عمل ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک دوسرے کو یہ دعا دیتے تھے کہ «تَقَبَّلَ اللّٰهُ مِنَّا وَ مِنْکُمْ صَالِحَ الْأَعْمَالِ»، (اللہ تمہارے اور ہمارے نیک اعمال قبول فرمائے )۔علامہ شامی رحمہ اللہ نے محقق ابن امیر حاج سے نقل کیا ہے کہ ہمارے شام میں لوگ ایک دوسرے کو ”عید مبارک “ کہتے ہیں، تو اس کو بھی اس دعا کے عموم میں شامل کیا جاسکتا ہے، اس لیے جس شخص کے اعمال قبول ہوگئے تو وہ زمانہ اس کے لیے بابرکت ہوگیا ، اس لیے برکت کی دعا دینا جائز ہے،لیکن عید مبارک کہنا فرض یا واجب نہیں؛ اس لیے اس کو لازم سمجھنا اور اس پر اصرار کرنا درست نہیں ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله : لاتنكر ) خبر قوله: "والتهنئة"، وإنما قال كذلك؛ لأنه لم يحفظ فيها شيء عن أبي حنيفة وأصحابه، وذكر في القنية: أنه لم ينقل عن أصحابنا كراهة، وعن مالك: أنه كرهها، وعن الأوزاعي: أنها بدعة، وقال المحقق ابن أمير حاج: بل الأشبه أنها جائزة مستحبة في الجملة، ثم ساق آثاراً بأسانيد صحيحة عن الصحابة في فعل ذلك، ثم قال: والمتعامل في البلاد الشامية والمصرية "عيد مبارك عليك" ونحوه، وقال: يمكن أن يلحق بذلك في المشروعية والاستحباب؛ لما بينهما من التلازم، فإن من قبلت طاعته في زمان كان ذلك الزمان عليه مباركاً، على أنه قد ورد الدعاء بالبركة في أمور شتى؛ فيؤخذ منه استحباب الدعاء بها هنا أيضاً" اهـ (2/169،ط:دارالفکر) فقط والله أعلم

فتوی نمبر : 144109201499

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن
🔵▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️▪️🔵
مزید بہترین پوسٹ کیلئے ہمارے پیج کو لائیک اور شیئر کیجئے⬇️
https://www.facebook.com/MuftiZarMuhammad/

22/04/2021

سالانہ امتحانات 1442ھ درجہ کتب کے نتائج 24اپریل بروز ہفتہ بعد نماز ظہر اعلان کیا جائے

24/03/2021

جامعہ عائشہ صدیقہ للبنات سوختہ ( ملحق وفاق المدارس العربیہ پاکستان )

Want your school to be the top-listed School/college in Charsadda?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Address


Sokhta
Charsadda