PSO degree college Chaman٫

PSO degree college Chaman٫ Rules and responsibilities for college and university

07/05/2026

't_invent_leader💌
Afghan
Imran Khan
Mehmood Khan Achakzai

📢 چمن میں بند اسکولوں کی حقیقت — عوام کی آوازآج صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا کہ چمن میں اس وقت کوئی بھی اسکول بند نہیں ہے۔م...
28/04/2026

📢 چمن میں بند اسکولوں کی حقیقت — عوام کی آواز

آج صوبائی حکومت نے دعویٰ کیا کہ چمن میں اس وقت کوئی بھی اسکول بند نہیں ہے۔
مگر حقیقت اس کے برعکس ہے… اور ہم یہ حقیقت ثبوتوں کے ساتھ سامنے لائیں گے۔

📍 نمبر 2 👇
(کلی وارث غبیزئی پرائیمری اسکول)

❗ چمن میں درجنوں اسکول بند پڑے ہیں
❗ کچھ کئی سالوں سے بند ہیں
❗ طلبہ تعلیم سے محروم ہیں

ہم آج سے ایک مہم شروع کر رہے ہیں:
👉 ایک ایک کرکے تمام بند اسکولوں کو سامنے لائیں گے
👉 25 سے زائد اسکول ہماری فہرست میں شامل ہیں
👉 ہر پوسٹ ثبوت (تصویر/مقام) کے ساتھ ہوگی

⚠️ یہ تعلیم کا مسئلہ ہے، ہمارے مستقبل کا مسئلہ ہے
یہ سیاست نہیں، بچوں کا بنیادی حق ہے

📚 تعلیم ہمارا حق ہے —

✊ اگر آپ کے علاقے میں بھی کوئی اسکول بند ہے:
📩 ہمیں اس کی تصویر اور معلومات بھیجیں
تاکہ ہم اس آواز کو مزید مضبوط بنا سکیں




PashtoonKhwa Students Organization Chaman Education Campaign Rally 2026.
20/04/2026

PashtoonKhwa Students Organization Chaman Education Campaign Rally 2026.





18/04/2026

🫡

16/04/2026




16/04/2026

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن کے زیرِ اہتمام آج ایک بھرپور اور منظم اسکول داخلہ مہم ریلی کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت ضلع سیکرٹری احسان اللہ اچکزئی نے کی۔ ریلی میں سینکڑوں طلباء، بچوں اور بچیوں کے ساتھ پشتونخوا میپ مرکزی سیکرٹری ناظم صلاح الدین اچکزئی، زونل ڈپٹی آرگنائزر صدام خان اچکزئی، پشتونخوا میپ ضلعی سیکرٹری حاجی جمال خان اچکزئی، سنئير معاون شیر علی خان اور پارٹی قیادت نے بھر پور شرکت کرکے تعلیم کے حق میں اپنی آواز بلند کی۔ اس موقع پر ضلع سینئر معاون ممتاز احمد اچکزئی نے ریلی کی قراردادیں پیش کیں جبکہ صدارتی خطاب احسان اللہ اچکزئی نے کیا۔ریلی کا سٹیج ضلعی ایگزیکٹو یونس خان نے کیا اور تلاوت ضلع ایگزیکٹو مولوی محمد حسن صاحب نے کیا.
ریلی کا بنیادی مقصد “ہر بچہ اسکول میں، ہر استاد کلاس میں، اور ہر گاؤں میں اسکول” کے نعرے کو عملی شکل دینا تھا، جس کے ذریعے عوام میں تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا اور حکومت کی توجہ ضلع چمن میں درپیش سنگین تعلیمی مسائل کی جانب مبذول کرائی گئی۔
ریلی کے شرکاء نے متفقہ طور پر متعدد اہم قراردادیں منظور کیں جن میں کیڈیٹ کالج چمن کی کلاسز کو فوری طور پر چمن میں شروع کرنے، بند اسکولوں کی بحالی، غیر حاضر اساتذہ کے خلاف کارروائی، عارضی اساتذہ کے نظام کے خاتمے، گرلز اسکولز کی بہتری، PTSMC کمیٹیوں کی تشکیل، دانش طرز کے معیاری اسکول کے قیام، کالجز میں BS پروگرامز کی توسیع، طلباء کے لیے وظائف، اور جدید پبلک لائبریریوں کے قیام جیسے اہم مطالبات شامل ہیں۔
پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن حکومتِ وقت سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ ان تمام قراردادوں پر فوری، سنجیدہ اور عملی اقدامات کیے جائیں۔ بصورت دیگر تنظیم اپنے آئندہ لائحہ عمل کے تحت احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر مجبور ہوگی.

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن



د پښتون سټوډنټس ارګنایزیشن (PSO) چمن​ د سکول داخله مهم په مناسبت د عامه پوهاوي ریلي​نن د پښتون سټوډنټس ارګنایزیشن  لخوا ...
16/04/2026

د پښتون سټوډنټس ارګنایزیشن (PSO) چمن
​ د سکول داخله مهم په مناسبت د عامه پوهاوي ریلي
​نن د پښتون سټوډنټس ارګنایزیشن لخوا د پښتنو ماشومانو د تعلیمي کچې لوړولو او په سکولونو کې د داخلې شرحې زیاتولو په موخه یوه شانداره ریلی وویستل شوه. په دغه ریلی کې د سازمان غړو، زده کونکو، مدني فعالانو او د د پشتونخواملي عوامي کوند مشرانو په پراخه کچه ګډون وکړ.

​تعلیم زموږ بنیادي حق دی: د سازمان مشرانو په خپلو ویناګانو کې ټینګار وکړ چې تعلیم یوازې یو ضرورت نه، بلکې د هر پښتون ماشوم او ماشومې آییني او فطري حق دی.
​ د ریلی ګډونوالو وویل چې د پښتونخوا د پرمختګ یوازینۍ لاره قلم او کتاب دی. موږ غواړو چې د ټوپک پر ځای د ماشومانو په لاسونو کې قلمونه وګورو.
​د میندو او پلرونو ته پیغام: په بیان کې له ټولو میندو او پلرونو هیله وشوه چې خپل ماشومان په سکولونو کې داخل کړي او د هغوی راتلونکی روښانه کړي.
​زموږ غوښتنې

چمنپریس کلب معزز صحافی حضرات جیسے کہ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشتونخوا وطن کے مترقی، روشن ف...
10/04/2026

چمن
پریس کلب
معزز صحافی حضرات
جیسے کہ آپ سب کو بخوبی علم ہے کہ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پشتونخوا وطن کے مترقی، روشن فکر، جمہوری اور وطن دوست طلباء کا نمائندہ سیاسی تنظیم ہے۔ جس نے پشتونخوا وطن کے ترقی، فلاح و بہبود اور قوی اہداف کے حصول کیلئے تاریخی جدوجہد کی ہے۔ پشتونخوا وطن کے تعلیمی نظام میں بہتری اور طلباء کے حقوق کیلئے پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن نے تاریخی اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
معزز صحافی حضرات!

پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن آپ کے توسط سے حکومتِ بلوچستان، محکمہ تعلیم اور دیگر متعلقہ اداروں کی توجہ ضلع چمن میں جاری شدید اور مسلسل بڑھتے ہوئے تعلیمی بحران کی طرف مبذول کروانا چاہتی ہے۔
چمن جو کہ ایک اہم سرحدی، تجارتی اور گنجان آباد علاقہ ہے، آج تعلیمی لحاظ سے انتہائی پسماندگی کا شکار ہے۔
موجودہ حالات میں جہاں ایک طرف چمن کے عوام شدید معاشی مشکلات اور بے روزگاری سے دوچار ہیں، وہیں دوسری طرف تعلیمی سہولیات کی کمی نے نوجوان نسل کے مستقبل کو مزید تاریک بنا دیا ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے چند سالوں میں چمن کی ایک پوری نسل تعلیم، شعور اور ترقی کے مواقع سے مکمل طور پر محروم ہو جائے گی۔

ضلع چمن میں اسکولوں کی صورتحال —
بند (غیرفعال) اسکولز
ضلع چمن میں تقریباً 25 سرکاری اسکول مکمل بند پڑے ہیں، جو کہ نہایت افسوسناک اور تشویشناک صورتحال ہے۔
ان اسکولوں کے بند ہونے کی بنیادی وجوہات میں
اساتذہ کی عدم تعیناتی
فنڈز کی کمی
انتظامی غفلت
شامل ہیں۔
ان اسکولوں کے بند ہونے سے سینکڑوں طلباء و طالبات تعلیم سے محروم ہو چکے ہیں، جو معاشرتی بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے۔

خستہ حال اسکول عمارتیں
تقریباً 30 اسکولز ایسی حالت میں ہیں جہاں بنیادی مرمت اور رنگ و روغن نہ ہونے کی وجہ سے وہ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں۔
دیواریں ٹوٹی ہوئی
چھتیں کمزور
فرنیچر کا فقدان
صاف پانی اور واش رومز کی کمی
یہ حالات نہ صرف تعلیمی ماحول کو خراب کرتے ہیں بلکہ طلباء کی صحت اور حفاظت کے لیے بھی خطرناک ہیں۔
مرمت کے محتاج اسکولز
تقریباً 10 اسکولز فوری مرمت کے منتظر ہیں۔
اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کسی بھی وقت حادثات پیش آ سکتے ہیں۔

عارضی اساتذہ اور ناقص نظام
تقریباً 35 فیصد اسکولز میں عیوضی (عارضی) اساتذہ تعینات ہیں، جو تعلیمی معیار کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ:
کم عمر نوجوان طلباء کو ہی بطور ٹیچر رکھا گیا ہے
صرف 6 سے 8 ہزار روپے تنخواہ دی جا رہی ہے
یہ نہ صرف غیر پیشہ ورانہ عمل ہے بلکہ بچوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ ہے۔

گھوسٹ اسکولز اور اساتذہ کی غیر حاضری
تقریباً 5 گھوسٹ اسکولز موجود ہیں
30 فیصد اساتذہ مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں
یہ دونوں عوامل کرپشن، نااہلی اور نگرانی کے ناقص نظام کی نشاندہی کرتے ہیں۔

نئے اسکولز کی ضرورت
چمن کے کئی دیہات آج بھی اسکولوں سے محروم ہیں، جس کی وجہ سے
بچوں کو دور دراز سفر کرنا پڑتا ہے
بچیوں کی تعلیم تقریباً ختم ہو جاتی ہے.

معزز صحافی حضرات.
1. نصابی کتب کی شدید کمی
ضلع چمن کے تقریباً تمام سرکاری اسکولز میں اس وقت نصابی کتب کی شدید قلت پائی جاتی ہے، جو طلباء کے تعلیمی مستقبل کے لیے ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔
طلباء کو مکمل نصابی کتب دستیاب نہیں
کئی کلاسز میں طلباء ایک ہی کتاب کو شیئر کرنے پر مجبور ہیں
کچھ طلباء بالکل کتابوں سے محروم ہیں
یہ صورتحال نہ صرف تعلیمی عمل کو متاثر کر رہی ہے بلکہ طلباء کی ذہنی اور تعلیمی ترقی میں بھی رکاوٹ بن رہی ہے۔
حکومتِ بلوچستان اور محکمہ تعلیم فوری طور پر چمن کے تمام سرکاری اسکولوں میں نصابی کتب کی مکمل فراہمی یقینی بنائے
آئندہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل کتابوں کی بروقت تقسیم کا نظام بنایا جائے

2. پیرنٹ ٹیچر اسٹوڈنٹ مینجمنٹ کمیٹی (PTSMC) کا فعال نظام
تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے والدین، اساتذہ اور طلباء کے درمیان رابطہ نہایت ضروری ہے، مگر بدقسمتی سے چمن میں یہ نظام تقریباً غیر فعال ہے۔
والدین اور اسکول کے درمیان رابطہ نہ ہونے کے برابر
طلباء کی کارکردگی اور مسائل پر کوئی باقاعدہ گفتگو نہیں
اسکولز میں احتساب کا فقدان
تمام سرکاری اسکولز میں ہر تین ماہ بعد باقاعدہ PTSMC (Parent Teacher Student Management Committee) اجلاس منعقد کیے جائیں
والدین، اساتذہ اور انتظامیہ کے درمیان مؤثر رابطہ قائم کیا جائے
طلباء کی کارکردگی، مسائل اور بہتری کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جائے

3. اساتذہ کی ڈگریوں کی تصدیق (HEC Verification)
چمن کے سرکاری اسکولز میں کنٹریکٹ بنیادوں پر بھرتی ہونے والے اساتذہ کے حوالے سے بھی سنجیدہ خدشات موجود ہیں۔
Phase 1، Phase 2، Phase 3 کے تحت بھرتی اساتذہ کی ڈگریوں کی تصدیق کا عمل شفاف نہیں
غیر تصدیق شدہ یا مشکوک اسناد رکھنے والے افراد کی موجودگی کا خدشہ
تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے.
تمام میل و فیمیل کنٹریکٹ اساتذہ کی ڈگریاں ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے فوری اور باقاعدہ ویریفائی کی جائیں
جعلی یا غیر تصدیق شدہ اسناد رکھنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے
میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے

4. کنٹریکٹ آسامیوں میں شفافیت اور گراؤنڈ ڈیمانڈ
اساتذہ کی بھرتی میں اقرباء پروری اور سفارش کلچر تعلیمی نظام کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
کنٹریکٹ آسامیوں کا اعلان گراؤنڈ ڈیمانڈ کے مطابق نہیں
کئی اسکولز میں اساتذہ کی کمی جبکہ کہیں اضافی عملہ.
کنٹریکٹ بیس آسامیوں کا اعلان حقیقی ضرورت (Ground Demand) کے مطابق کیا جائے
جس اسکول میں اساتذہ کی کمی ہو، وہاں فوری تعیناتی کی جائے
بھرتیوں میں مکمل شفافیت، میرٹ اور انصاف کو یقینی بنایا جائے
اقرباء پروری اور سیاسی اثر و رسوخ کا مکمل خاتمہ کیا جائے

معزز صحافی حضرات.
آئے اب چمن کے کالجز — ایک نظر انداز شدہ شعبے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے.

چمن جیسے بڑے شہر میں کالجز کی صورتحال نہایت مایوس کن ہے، جو حکومت اور محکمہ تعلیم کی عدم توجہی کو ظاہر کرتی ہے۔

1. محدود BS پروگرامز
بوائز اور گرلز کالجز میں صرف 2 سے 3 مضامین میں BS پروگرامز دستیاب ہیں، جو کہ ایک بڑے ضلع کے لیے انتہائی ناکافی ہیں۔

اس کے وجہ سے ہزاروں طلباء اعلیٰ تعلیم سے محروم ہے.
طلباء کو کوئٹہ یا دیگر شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے
غریب طلباء کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا
نتیجتاً تعلیم ادھوری چھوڑ دی جاتی ہے.
2. اساتذہ کی شدید کمی
کالجز میں مستقل اور اہل اساتذہ کی شدید کمی ہے۔
کئی مضامین میں اساتذہ موجود ہی نہیں
موجودہ اساتذہ پر اضافی بوجھ.
یہ صورتحال تعلیمی معیار کو شدید متاثر کر رہی ہے۔
چمن کے طلباء
FA/FSc یا ADA/ADS مکمل کرنے کے بعد
مزید تعلیم جاری نہیں رکھ سکتے
یہ صورتحال ایک پوری نسل کو ادھوری تعلیم کے ساتھ چھوڑ رہی ہے، جو نہ ملازمت کے قابل رہتی ہے اور نہ ہی اعلیٰ تعلیم حاصل کر پاتی ہے۔
چمن کے عوام پہلے ہی بے روزگاری کا شکار ہیں، ایسے میں دوسرے شہروں میں تعلیم حاصل کرنا مہنگا ہے
رہائش، فیس اور دیگر اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں
نتیجتاً نوجوان تعلیم چھوڑ کر بے روزگاری یا غیر ہنر مند کاموں کی طرف چلے جاتے ہیں۔
معزز صحافی حضرات.
پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن مطالبہ کرتی ہے کہ
بوائز اور گرلز کالجز میں فوری طور پر مستقل اساتذہ کی بھرتی کی جائے
تمام اہم مضامین میں BS پروگرامز شروع کیے جائیں
کالجز میں لیبارٹریز اور لائبریریوں کو فعال کیا جائے
جدید تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں
چمن کے طلباء کے لیے اسکالرشپ اور سپورٹ پروگرامز شروع کیے جائیں
چمن کو تعلیمی لحاظ سے خصوصی پیکیج دیا جائے
بصورت دیگر، تنظیم اپنا آئینی اور جمہوری احتجاجی حق محفوظ رکھتی ہے۔
کیڈیٹ کالج چمن
چمن کا واحد کیڈیٹ کالج، جو پشتونخوا میپ کے دور حکومت میں قائم کیا گیا تھا، آج تک نامکمل ہے۔
عمارت نامکمل
عملہ تعینات نہیں
تعلیمی سرگرمیاں شروع نہیں
یہ ایک اہم منصوبہ تھا جو اگر مکمل ہو جائے تو چمن کے طلباء کو معیاری اور جدید تعلیم فراہم کر سکتا ہے۔
کیڈیٹ کالج کو فوری مکمل کر کے فعال کیا جائے۔

معزز صحافی حضرات.
اور چمن میں پبلک لائبریریوں کی شدید کمی ہے.
چمن جیسے بڑے ضلع میں پبلک لائبریریوں کا نہ ہونا یا نہ ہونے کے برابر ہونا ایک بہت بڑا تعلیمی خلا ہے۔
طلباء کے لیے مطالعہ کا مناسب ماحول موجود نہیں
مقابلے کے امتحانات کی تیاری کے لیے کوئی سہولت نہیں
علمی و ادبی سرگرمیاں محدود.
ضلع چمن میں فوری طور پر معیاری پبلک لائبریریاں قائم کی جائیں
لائبریریوں میں جدید کتب، انٹرنیٹ اور اسٹڈی ماحول فراہم کیا جائے
نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے

معزز صحافی حضرات.
پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن گزشتہ کئی سالوں سے اسکول داخلہ مہم، ہر بچہ اسکول میں، ہر استاد کلاس میں اور ہر گاؤں میں اسکول کے شعاروں کے زیر اہتمام شروع کرنے کا اعلان کرتی ہے۔ اس تعلیمی مہم کے زیر اثر ہر سال ہزاروں بچے اسکولوں میں داخل ہوتے ہیں۔ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن کے تمام باسیوں سے درخواست کرتی ہے کہ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ان شعاروں تلے جاری تعلیمی مہم کو ضلع چمن کے ہر کونے تک پہنچانے کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔
پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن کی جانب سے اسکول داخلہ مہم کے لیے ایک بڑی ریلی منعقد کی جا رہی ہے:
چمن کے تمام باشعور، قوم دوست، طلباء، اساتذہ اور تعلیم دوست افراد سے بھرپور شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔
معزز صحافی حضرات
پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن یہ واضح کرتی ہیں کہ چمن کے تعلیمی نظام پر کسی قسم کا سمجھوتا نہیں کریگی اور موجودہ صوبائی حکومت محکمہ تعلیم اور دیگر زمہ واران کو خبردار کرتی ہیں کہ تعلیمی نظام کی بہتری، بند اسکولوں کی فعالی، غیر حاضر اساتذہ کی حاضری اور اسکولوں کی انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے جلد از جلد عملی اقدامات کریں،
اگر حکومت اور محکمہ تعلیم نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو بصورت دیگر پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن ضلع چمن سخت احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ہوگی، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہوگی۔

شکریہ
پشتونخوا سٹوڈنٹس آرگنائزیشن
ضلع چمن

27/03/2026

🥀❤️‍🩹

پشتونخوامیپ ضلع چمن نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ معزز قبائلی شخصیت حاجی نیاز محمد خان اچکزئی کو انتظامیہ کی جانب سے ...
26/03/2026

پشتونخوامیپ ضلع چمن نے اپنے مذمتی بیان میں کہا ہے کہ معزز قبائلی شخصیت حاجی نیاز محمد خان اچکزئی کو انتظامیہ کی جانب سے نشانہ بنانا نہ صرف قانون کے خلاف ہے بلکہ ایک منظم سازش معلوم ہوتا ہے۔ ایک باوقار شخصیت کو “مہاجر” قرار دے کر ان کی جائیداد سیل کرنا قابلِ مذمت اقدام ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اچکزئی اور نورزئی قبائل صدیوں سے چمن میں آباد ہیں اور 1963ء کے انتقالی ریکارڈز ان کی ملکیت اور پاکستانی شناخت کا واضح ثبوت ہیں پشتونخوامیپ نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات پشتون قوم کی تذلیل اور مزید انتشار کا سبب بن رہے ہیں۔ پارٹی نے مطالبہ کیا کہ فوری نوٹس لے کر فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور باعزت قبائلی شخصیات کی تذلیل بند کی جائے بصورت دیگر ردعمل شدید ہو سکتا ہےمزید کہا گیا کہ انتظامیہ اپنی توجہ امن و امان کی بحالی، چوری ڈکیتی کے خاتمے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ پر مرکوز کرے، نہ کہ بے جا کارروائیوں میں توانائیاں ضائع کرے۔

Address

College Road Chamam
Chaman
86000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when PSO degree college Chaman٫ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share