Educational Updates Chaman

Educational Updates Chaman Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Educational Updates Chaman, Education, Chaman.

”بچوں کو اخلاقی کہانیاں کیوں سنانی چاہییں؟“بشکریہ ذیشان افضل آج ٹیچرز کی ورکشاپ میں جب بات بچوں کی تربیت پر آئی تو میں ن...
02/06/2025

”بچوں کو اخلاقی کہانیاں کیوں سنانی چاہییں؟“

بشکریہ

ذیشان افضل

آج ٹیچرز کی ورکشاپ میں جب بات بچوں کی تربیت پر آئی تو میں نے ایک سادہ مگر دل سے نکلی بات کی۔
"ہمیں بچوں کو اخلاقی کہانیاں ضرور سنانی چاہییں۔"یہ جملہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچ، ایک فلسفہ اور ایک تربیتی اصول تھا۔
”سر!بچوں کو اخلاقی کہانیاں کیوں سنانی چاہییں؟“ایک ٹیچر نے پوچھا:-
میں نے وضاحت کی کہ بچے خالی کینوس کی مانند ہوتے ہیں۔ جو رنگ ہم ان پر چڑھاتے ہیں وہی ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کہانیاں ان رنگوں میں سب سے نرم، سب سے خوبصورت اور سب سے پائیدار رنگ ہوتی ہیں۔ایک اچھی کہانی صرف تفریح نہیں دیتی بلکہ وہ بچے کے دل میں کسی نیکی کا بیج بو دیتی ہے۔
جب ہم حضرت عمرؓ کا عدل۔ حضرت حسنؓ و حسینؓ کی بہادری یا کسی سچے بچے کی سچائی پر مبنی کہانیاں سناتے ہیں تو دراصل ہم اس کے شعور کی مٹی کو نرم کر رہے ہوتے ہیں تاکہ جب وقت آئے تو وہ سچ بولے، عدل کرے اور بہادری سے حق کا ساتھ دے۔میں نے یہ بھی عرض کیا کہ جب ہم بچوں کو کہانیوں کے ذریعے سبق دیتے ہیں تو وہ نصیحت کی صورت میں نہیں بلکہ محبت کی صورت میں دل میں اترتی ہیں۔کہانی کے کردار ان کے جذبات، ان کی غلطیاں اور اصلاحات سب بچے کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ہمیں بچوں کو "نصیحت" نہیں، "مثال" دینی ہے۔ اور بہترین مثال کہانی کے ذریعے دی جاتی ہے۔
"اخلاقی کہانیاں سنانا محض تفریح نہیں یہ نسل سازی ہے۔ یہ وہ چراغ ہیں جو ہم ہاتھوں میں لے کر اگلی نسل کے اندھیروں کو روشن کرتے ہیں۔" میں نے مزید کہا.
بچوں کی زندگی میں اخلاقی کہانیوں کا کردار نہایت اہم، مؤثر اور دیرپا ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں بچوں کی شخصیت سازی، سوچ کی تشکیل اور کردار کی تعمیر میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔پھر ایک سوال پوچھا گیا۔۔
"سر!اخلاقی کہانیوں سے بچوں کی زندگیوں پر کیا کیااثر پڑتا ہے؟"
(الفاظ تھوڑے بہت آگے پیچھے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن کہا اسی انداز میں تھا)
نمبر1:-اخلاقی اقدار کی تعلیم
اخلاقی کہانیاں بچوں کو سچ بولنے، ایمانداری، ہمدردی، صبر، شکر، قربانی، عدل، احسان اور دیگر اعلیٰ اخلاقی اقدار سے روشناس کراتی ہیں۔ جب بچے یہ اقدار کسی دلچسپ کہانی کے کرداروں میں دیکھتے ہیں تو ان کی تاثیر کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔
نمبر2:-مثبت کرداروں سے متاثر ہونا
کہانیوں میں موجود نیک اور بہادر کردار، جیسے سچ بولنے والے، کمزوروں کا ساتھ دینے والے یا قربانی دینے والے، بچوں کے لیے رول ماڈل بنتے ہیں۔ وہ ان کرداروں کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نمبر 3:-نیکی اور بدی میں فرق
اخلاقی کہانیاں نیکی اور بدی کے درمیان واضح فرق قائم کرتی ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھ آتا ہے کہ نیکی کا انجام اچھا اور بدی کا انجام برا ہوتا ہے.جو ان کے ذہن میں زندگی بھر نقش ہو جاتا ہے۔
نمبر 4:-فیصلہ سازی کی تربیت
جب بچے کہانی کے کسی موڑ پر یہ سوچتے ہیں کہ
"اگر میں ہوتا تو کیا کرتا؟"
تو وہ لاشعوری طور پر اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنا رہے ہوتے ہیں۔ وہ یہ سیکھتے ہیں کہ کسی مشکل صورتحال میں صحیح راستہ کیا ہونا چاہیے۔
نمبر 5:- زبان اور تخیل کی ترقی
اخلاقی کہانیاں نہ صرف اخلاقیات سکھاتی ہیں بلکہ زبان دانی، تخیل اور تخلیقی سوچ کو بھی جِلا بخشتی ہیں۔ جب کہانی دلچسپ انداز میں سنائی جاتی ہے تو بچہ اس میں کھو جاتا ہے اور اپنی سوچ کو پروان چڑھاتا ہے۔
نمبر 6:-اسلامی اور معاشرتی اقدار کی آبیاری
اخلاقی کہانیوں کے ذریعے بچوں کو اسلامی تعلیمات جیسے امانت، دیانت، والدین کا ادب، نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے مفہوم کو آسان انداز میں سمجھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی روایات و آداب بھی ان کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔
نمبر 7:-منفی رویوں سے بچاؤ
بچوں کو لالچ، جھوٹ، چوری، حسد اور ظلم جیسے منفی رویوں کے نقصانات کہانیوں کے ذریعے سمجھانا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ وہ ان رویوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں ان کا انجام معلوم ہوتا ہے۔
نمبر 8:-خاندانی اور سماجی رشتوں کی پہچان
کہانیاں بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ ماں باپ، بہن بھائی، دوست اور بزرگوں کا کیا مقام ہے اور ان سے کیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔۔۔

یقین، محنت، اور خود اعتمادی یہ وہ تین ستون ہیں جن پر عظمت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ دنیا میں ہر کامیاب انسان کی زندگی کی اب...
31/05/2025

یقین، محنت، اور خود اعتمادی
یہ وہ تین ستون ہیں جن پر عظمت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔ دنیا میں ہر کامیاب انسان کی زندگی کی ابتدا شک، تنقید، اور تنہائی سے ہوئی ہوتی ہے۔ وہ لمحے جب دوسروں کی باتیں آپ کے حوصلے کو چیرتی ہیں، جب سب ایک جیسا سوچ رہے ہوتے ہیں اور آپ کچھ الگ سوچنے کی جُرأت کرتے ہیں۔یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب فیصلہ ہوتا ہے کہ آپ عام رہیں گے یا عظیم بنیں گے۔

بہت سے لوگ سچائی سے نہیں ڈرتے، وہ تنہائی سے ڈرتے ہیں۔ وہ بھیڑ کا سہارا چاہتے ہیں کیونکہ بھیڑ میں چھپ جانا آسان ہوتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھیڑ کبھی تاریخ نہیں بناتی، تاریخ وہ لوگ بناتے ہیں جو اپنی آواز پر، اپنے وژن پر، اور اپنے ضمیر پر یقین رکھتے ہیں۔

زندگی میں وہ مقام جہاں سب رک جاتے ہیں، وہی جگہ ہے جہاں ایک “عقاب” اُڑان بھرتا ہے۔ لوگ ہنستے ہیں، مذاق اُڑاتے ہیں، اور شک کرتے ہیں لیکن وہ نہیں جانتے کہ غیر معمولی لوگ ہمیشہ تنقید کے درمیان پروان چڑھتے ہیں۔ یہ تنقید ہی انہیں وہ قوت دیتی ہے جو انہیں سب سے الگ اور نمایاں بناتی ہے۔

اکثر لوگ چاہتے ہیں کہ وہ مختلف ہوں، لیکن وہ بھی مختلف ہونے کے نتائج سے گھبراتے ہیں۔ اگر آپ واقعی کچھ ایسا کرنا چاہتے ہیں جو دنیا کو بدل دے، تو آپ کو اپنے راستے پر اکیلے چلنے کا حوصلہ پیدا کرنا ہوگا۔

کیونکہ…
کبوتر ہمیشہ غول میں اُڑتے ہیں، لیکن عقاب اکیلا اُڑتا ہے۔

اس بات کے آسرے میں نہ بیٹھیںں کہ اساتذہ آپ کے بچوں کو سدھاریں گے۔۔استاد اسکول میں بچے کی پرورش کرنے کے لیے نہیں ہیں ۔۔ خ...
30/05/2025

اس بات کے آسرے میں نہ بیٹھیںں کہ اساتذہ آپ کے بچوں کو سدھاریں گے۔۔

استاد اسکول میں بچے کی پرورش کرنے کے لیے نہیں ہیں ۔۔ خاص طور پر وہ بچے جنہیں آپ نے گھر میں کوئی نظم و ضبط نہ سکھایا ہو

اساتذہ پڑھانے کے لیے ہیں ، آپ کے گھریلو مسائل حل کرنے کے لیے نہیں ۔

اساتذہ بچوں کی تربیت میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں، لیکن یہ ہم اکیلے نہیں کرسکتے، اس میں آپ کا تعاون بھی بہت اہم ہے، کئی والدین بچوں کو اسکول بھیج کر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری پوری ہوگئی۔۔ جبکہ والدین کی ذمہ داری بچوں کی عمر کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے

لہذا اگر آپ کا بچہ گھر سےسمجھنے اور سیکھنے کے لیے بلکل بھی تیار ہو کر نہیں آرہا ، اسکول کو مورد الزام نہ ٹھہرائیں ۔ ۔

کیونکہ بچوں کی دیکھ بھال ایک کل وقتی کام ہے ۔
اور وہ آپ کی ذمہ داری، اسکول میں اساتذہ ایک گھنٹی بجنے سے دوسری گھنٹی بجنے تک ایک کلاس میں جاتے ہیں۔۔ اس میں وہ کوئی نہ کوئی اچھی بات ضرور سکھا سکتے ہیں لیکن صرف ان بچوں کو جن پر ان کے ماں باپ نے بھی گھر میں کوئی محنت کی ہو

اپنے بچوں کے ماں باپ بننے کی ذمہ داری اٹھائیں

ہم استاد ہیں ، جادوگر نہیں ۔

29/05/2025

جہاں تعلیم کا بجٹ 35 ارب اور امداد کا 450 ارب ہو،
وہاں سائنس دان نہیں، بھکاری ہی پیدا ہوتے ہیں 🙄

29/05/2025

سوچ گفتگو کا عکس ہوتی ہے

‏ایک بادشاہ کے سامنے چار آدمی بیٹھے تھے

1 : اندھا
2 : فقیر
3 : عاشق
4 : عالم

بادشاہ نے ایک مصرعہ کہہ دیا:

"اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"

اور سب کو حکم دیا کہ اس سے پہلے مصرعہ لگا کر شعر پورا کرو۔

1 : اندھے نے کہا:

"اس میں گویائی نہیں اور مجھ میں بینائی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"

2 : فقیر نے کہا:

"مانگتے تھے زر مصور جیب میں پائی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"

3 : عاشق نے تو چھوٹتے ہی کہا:

"ایک سے جب دو ہوئے پھر لطف یکتائی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"

4 : عالم دین نے تو کمال ہی کردیا:

"بت پرستی دین احمد ﷺ میں کبھی آئی نہیں،
اس لیے تصویر جاناں ہم نے بنوائی نہیں"

سوچ کا زاویہ ہر ایک کا جدا ہوتا ہے، ہر کسی کا فکری انداز اسکے مطالعے، مجالست اور تربیت کی مناسبت سے ہوتا ہے. غالبا" یہی جداگانہ انداز فکر قدرت کی نعمت ہے۔

اس لئے جب ہم یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ شخص غلط نہیں بس اس کا انداز فکر اور زاویہ نظر ہم سے جدا ہے تو بہت سے گلے شکوے اپنے آپ دم توڑ دیتے ہیں.

Copied

This is a library of a GEOLOGIST 😂😂
28/05/2025

This is a library of a GEOLOGIST 😂😂

ایک طالب علم جو روس میں زیرِ تعلیم ہے، بیان کرتا ہے:روس میں اکثر امتحانات کے لیے بلند ترین درجہ بندی "5" ہے۔ اگر کوئی طا...
28/05/2025

ایک طالب علم جو روس میں زیرِ تعلیم ہے، بیان کرتا ہے:

روس میں اکثر امتحانات کے لیے بلند ترین درجہ بندی "5" ہے۔ اگر کوئی طالب علم کسی سوال کا جواب نہ دے اور اپنا پرچہ بالکل خالی لوٹا دے، تو بھی اسے پانچ میں سے "2" نمبر دیے جاتے ہیں۔

جب میں نے ماسکو یونیورسٹی میں اپنی تعلیم کا آغاز کیا، تو اس نظام سے ناواقف تھا۔ مجھے سخت حیرت ہوئی، اور میں نے ڈاکٹر تئودور مدراف سے پوچھا:
"کیا یہ انصاف ہے کہ کوئی طالب علم جو ایک بھی سوال کا جواب نہ دے، اسے آپ ۲ نمبر دیتے ہیں؟ آپ اسے صفر کیوں نہیں دیتے؟ کیا یہ درست طریقہ ہے؟"

انہوں نے جواب دیا:
"ہم کسی انسان کو صفر کیسے دے سکتے ہیں؟
ہم کیسے اس طالب علم کو صفر دے سکتے ہیں جس نے صبح سات بجے بیدار ہو کر تمام لیکچرز میں شرکت کی؟
ہم کیسے اس کو صفر دیں، جب کہ وہ سخت سردی میں، عوامی ٹرانسپورٹ استعمال کر کے وقت پر امتحان گاہ پہنچا اور کوشش کی کہ سوالات حل کرے؟
ہم اس کی ان راتوں کو کیسے نظرانداز کر سکتے ہیں جو اس نے تعلیم کی نذر کیں، اپنی آمدنی سے کاپی قلم خریدے، مطالعہ کے لیے کمپیوٹر لیا؟
ہم اس کو صفر کیسے دیں، جب کہ اس نے زندگی کی دیگر آسائشیں چھوڑ کر طالب علمی کی راہ اپنائی تاکہ وہ اپنے علم کو آگے بڑھا سکے؟

بیٹا! ہم صرف اس وجہ سے کہ اس نے جوابات نہیں دیے، اسے صفر نہیں دیتے۔
ہم کم از کم اس حقیقت کا احترام کرتے ہیں کہ وہ ایک انسان ہے۔ اس کے پاس عقل، شعور اور سوچنے کی صلاحیت ہے۔ اس نے کوشش کی، سعی کی۔ ہمارا یہ نمبر صرف سوالات کے جواب کا عکاس نہیں بلکہ اس انسان کی سعی کی قدردانی کا اظہار ہے۔
یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ انسان، انسان ہے، اور وہ کسی نہ کسی درجہ میں مقام اور نمرے کا مستحق ہے۔

میں یہ سن کر بے اختیار رو پڑا، اور میرے پاس جواب دینے کو کوئی لفظ نہ رہا۔
اسی لمحے میں نے پہلی بار *اپنی انسانی قدر* کو محسوس کیا۔

واقعہ یہ ہے کہ "صفر" کا عدد طالب علم کے حوصلے پست کر دیتا ہے۔ وہ فوراً شکست خوردگی کا شکار ہو سکتا ہے اور علم سے مکمل کنارہ کشی کر سکتا ہے۔
جب کسی کی کارکردگی پر "صفر" کا داغ لگ جائے، تو اس کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔ وہ خود کو ناکارہ سمجھنے لگتا ہے اور یہ خیال اسے جکڑ لیتا ہے کہ وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں۔

یہ پیغام ہر معلم، ہر استاد اور ہر وہ فرد جو تعلیم و تربیت میں کوئی کردار ادا کرتا ہے، تک ضرور پہنچنا چاہیے:
آیئے! ہم دوبارہ غور کریں کہ ہم اپنے طالب علموں کو کس پیمانے سے پرکھتے ہیں۔۔۔

ہر انسان، خواہ وہ کسی بھی شعبے میں ہو، اپنی زندگی کے مقصد کے لیے مشقت کرتا ہے:

مثلاً ایک خاتون خانہ کھانے پکانے کے لیے کوشش کرتی ہے،

ایک باپ گھر کا خرچ چلانے کے لیے،

مزدور اور ملازم اپنی ڈیوٹی انجام دینے کے لیے،

سب اپنی بساط بھر محنت کرتے ہیں۔

اگر ان کی کوششیں مطلوبہ معیار پر پوری نہ بھی اتریں تو یہ بے انصافی ہوگی کہ ہم ان کی محنت کو بالکل نظرانداز کر دیں۔
منقول

28/01/2025

‏ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح

ور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ کی تواضع کی۔

کچھ دیر میں دو قبائلی فریق مدعی اور مدعا الیہ کی حیثیت سے اندر داخل ہوئے۔ سردار کی یہ جھونپڑی عدالت کا کام بھی دیتی تھی۔
‏مدعی نے کہا۔
”میں نے اس شخص سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا تھا۔ ہل چلانے کے دوران اس میں سے خزانہ برآمد ہوا میں نے یہ خزانہ اس شخص کو دینا چاہا لیکن یہ نہیں لیتا۔ میں یہ کہتا ہوں کہ یہ خزانہ میرا نہیں ہے کیوں کہ میں نے اس سے صرف زمین خریدی تھی۔ اور اسے صرف زمین کی قیمت ادا کی تھی، خزانے کی نہیں“

مدعا الیہ نے جواب میں کہا۔
”میرا ضمیر ابھی زندہ ہے۔ میں یہ خزانہ اس سے کس طرح لے سکتا ہوں‘ میں نے تو اس کے ہاتھ زمین فروخت کردی تھی۔ اب اس میں سے جو کچھ بھی برآمد ہو یہ اس کی قسمت ہے اور یہی اس کا مالک ہے ، میرا اب اس زمین اور اس میں موجود اشیاء سے کوئی تعلق نہیں ہے “
‏سردار نے غور کرنے کے بعد مدعی سے دریافت کیا۔
”تمہارا کوئی لڑکا ہے؟“

”ہاں ہے!“

پھر مدعا الیہ سے پوچھا۔
”اور تمہاری کوئی لڑکی بھی ہے؟“

”جی ہاں....“ مدعا الیہ نے بھی اثبات میں گردن ہلا دی۔

”تو تم ان دونوں کی شادی کرکے یہ خزانہ ان کے حوالے کردو۔“

اس فیصلے نے شہنشاہ کو حیران کردیا ۔ وہ فکر مند ہوکر کچھ سوچنے لگا۔
‏سردار نے متردد شہنشاہ سے دریافت کیا۔ ”کیوں کیا میرے فیصلے سے آپ مطمئن نہیں ہیں؟“

”نہیں ایسی بات نہیں ہے۔“ شہنشاہ نے جواب دیا۔ ”لیکن تمہارا فیصلہ ہمارے نزدیک حیران کن ضرور ہے۔“

سردار نے سوال کیا۔ ”اگر یہ مقدمہ آپ کے رو برو پیش ہوتا تو آپ کیا فیصلہ سناتے؟“

شہنشاہ نے کہا کہ ۔ ” پہلی تو بات یہ ہے کہ اگر یہ مقدمہ ہمارے ملک میں ہوتا تو زمین خریدنے والے اور بیچنے والے کے درمیان کچھ اس طرح کا جھگڑا ہوتا کہ بیچنے والا کہتا کہ : میں نے اسے زمین بیچی ہے اور اس سے زمین کی قیمت وصول کی ہے ، اب جبکہ خزانہ نکل آیا ہے تو اس کی قیمت تو میں نے وصول ہی نہیں کی ، اس لیے یہ میرا ہے ۔
جبکہ خریدنے والا کہتا کہ:
میں نے اس سے زمین خریدلی ہے ، تو اب اس میں جو کچھ ہے وہ میری ملکیت ہے اور میری قسمت ہے ۔
‏سردار نے شہنشاہ سے پوچھا کہ ، پھر تم کیا فیصلہ سناتے؟

شہنشاہ نے اس کے ذہن میں موجود سوچ کے مطابق فورا جواب دیا کہ:
ہم فریقین کو حراست میں لے لیتے اور خزانہ حکومت کی ملکیت قرار دے کر شاہی خزانے میں داخل کردیا جاتا۔“

”بادشاہ کی ملکیت!“ سردار نے حیرت سے پوچھا۔ ”کیا آپ کے ملک میں سورج دکھائی دیتا ہے؟“

”جی ہاں کیوں نہیں؟“

”وہاں بارش بھی ہوتی ہے....“

”بالکل!“
‏”بہت خوب!“ سردار حیران تھا۔ ”لیکن ایک بات اور بتائیں کیا آپ کے ہاں جانور بھی پائے جاتے ہیں جو گھاس اور چارہ کھاتے ہیں؟“

”ہاں ایسے بے شمار جانور ہمارے ہاں پائے جاتے ہیں۔“

”اوہ خوب‘ میں اب سمجھا۔“ سردار نے یوں گردن ہلائی جیسے کوئی مشکل ترین بات اس کی سمجھ میں آگئی ہو۔ ”تو اس ناانصافی کی سرزمین میں شاید ان ہی جانوروں کے طفیل سورج روشنی دے رہا ہے اور بارش کھیتوں کو سیراب کررہی ہے۔

Address

Chaman
86000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Educational Updates Chaman posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category