02/06/2025
”بچوں کو اخلاقی کہانیاں کیوں سنانی چاہییں؟“
بشکریہ
ذیشان افضل
آج ٹیچرز کی ورکشاپ میں جب بات بچوں کی تربیت پر آئی تو میں نے ایک سادہ مگر دل سے نکلی بات کی۔
"ہمیں بچوں کو اخلاقی کہانیاں ضرور سنانی چاہییں۔"یہ جملہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ ایک سوچ، ایک فلسفہ اور ایک تربیتی اصول تھا۔
”سر!بچوں کو اخلاقی کہانیاں کیوں سنانی چاہییں؟“ایک ٹیچر نے پوچھا:-
میں نے وضاحت کی کہ بچے خالی کینوس کی مانند ہوتے ہیں۔ جو رنگ ہم ان پر چڑھاتے ہیں وہی ان کی شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ کہانیاں ان رنگوں میں سب سے نرم، سب سے خوبصورت اور سب سے پائیدار رنگ ہوتی ہیں۔ایک اچھی کہانی صرف تفریح نہیں دیتی بلکہ وہ بچے کے دل میں کسی نیکی کا بیج بو دیتی ہے۔
جب ہم حضرت عمرؓ کا عدل۔ حضرت حسنؓ و حسینؓ کی بہادری یا کسی سچے بچے کی سچائی پر مبنی کہانیاں سناتے ہیں تو دراصل ہم اس کے شعور کی مٹی کو نرم کر رہے ہوتے ہیں تاکہ جب وقت آئے تو وہ سچ بولے، عدل کرے اور بہادری سے حق کا ساتھ دے۔میں نے یہ بھی عرض کیا کہ جب ہم بچوں کو کہانیوں کے ذریعے سبق دیتے ہیں تو وہ نصیحت کی صورت میں نہیں بلکہ محبت کی صورت میں دل میں اترتی ہیں۔کہانی کے کردار ان کے جذبات، ان کی غلطیاں اور اصلاحات سب بچے کے دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑتے ہیں۔ہمیں بچوں کو "نصیحت" نہیں، "مثال" دینی ہے۔ اور بہترین مثال کہانی کے ذریعے دی جاتی ہے۔
"اخلاقی کہانیاں سنانا محض تفریح نہیں یہ نسل سازی ہے۔ یہ وہ چراغ ہیں جو ہم ہاتھوں میں لے کر اگلی نسل کے اندھیروں کو روشن کرتے ہیں۔" میں نے مزید کہا.
بچوں کی زندگی میں اخلاقی کہانیوں کا کردار نہایت اہم، مؤثر اور دیرپا ہوتا ہے۔ یہ کہانیاں بچوں کی شخصیت سازی، سوچ کی تشکیل اور کردار کی تعمیر میں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔پھر ایک سوال پوچھا گیا۔۔
"سر!اخلاقی کہانیوں سے بچوں کی زندگیوں پر کیا کیااثر پڑتا ہے؟"
(الفاظ تھوڑے بہت آگے پیچھے ہو سکتے ہیں۔۔۔۔لیکن کہا اسی انداز میں تھا)
نمبر1:-اخلاقی اقدار کی تعلیم
اخلاقی کہانیاں بچوں کو سچ بولنے، ایمانداری، ہمدردی، صبر، شکر، قربانی، عدل، احسان اور دیگر اعلیٰ اخلاقی اقدار سے روشناس کراتی ہیں۔ جب بچے یہ اقدار کسی دلچسپ کہانی کے کرداروں میں دیکھتے ہیں تو ان کی تاثیر کہیں زیادہ گہری ہوتی ہے۔
نمبر2:-مثبت کرداروں سے متاثر ہونا
کہانیوں میں موجود نیک اور بہادر کردار، جیسے سچ بولنے والے، کمزوروں کا ساتھ دینے والے یا قربانی دینے والے، بچوں کے لیے رول ماڈل بنتے ہیں۔ وہ ان کرداروں کی پیروی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
نمبر 3:-نیکی اور بدی میں فرق
اخلاقی کہانیاں نیکی اور بدی کے درمیان واضح فرق قائم کرتی ہیں۔ بچوں کو یہ سمجھ آتا ہے کہ نیکی کا انجام اچھا اور بدی کا انجام برا ہوتا ہے.جو ان کے ذہن میں زندگی بھر نقش ہو جاتا ہے۔
نمبر 4:-فیصلہ سازی کی تربیت
جب بچے کہانی کے کسی موڑ پر یہ سوچتے ہیں کہ
"اگر میں ہوتا تو کیا کرتا؟"
تو وہ لاشعوری طور پر اپنی فیصلہ سازی کی صلاحیت کو بہتر بنا رہے ہوتے ہیں۔ وہ یہ سیکھتے ہیں کہ کسی مشکل صورتحال میں صحیح راستہ کیا ہونا چاہیے۔
نمبر 5:- زبان اور تخیل کی ترقی
اخلاقی کہانیاں نہ صرف اخلاقیات سکھاتی ہیں بلکہ زبان دانی، تخیل اور تخلیقی سوچ کو بھی جِلا بخشتی ہیں۔ جب کہانی دلچسپ انداز میں سنائی جاتی ہے تو بچہ اس میں کھو جاتا ہے اور اپنی سوچ کو پروان چڑھاتا ہے۔
نمبر 6:-اسلامی اور معاشرتی اقدار کی آبیاری
اخلاقی کہانیوں کے ذریعے بچوں کو اسلامی تعلیمات جیسے امانت، دیانت، والدین کا ادب، نماز، روزہ اور دیگر عبادات کے مفہوم کو آسان انداز میں سمجھایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح معاشرتی روایات و آداب بھی ان کے دل میں گھر کر لیتے ہیں۔
نمبر 7:-منفی رویوں سے بچاؤ
بچوں کو لالچ، جھوٹ، چوری، حسد اور ظلم جیسے منفی رویوں کے نقصانات کہانیوں کے ذریعے سمجھانا زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ وہ ان رویوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ انہیں ان کا انجام معلوم ہوتا ہے۔
نمبر 8:-خاندانی اور سماجی رشتوں کی پہچان
کہانیاں بچوں کو یہ سکھاتی ہیں کہ ماں باپ، بہن بھائی، دوست اور بزرگوں کا کیا مقام ہے اور ان سے کیسا برتاؤ کرنا چاہیے۔۔۔