Online Quran Pak Tutor

Online Quran Pak Tutor

Share

I am Naveera Khalid, completed my Hifaz with Qirrat in 2004 and got certificate from Wiffaq-ul-Madda

29/10/2025

✩̣̣̣̣̣ͯ┈─┅═••࿇﷽࿇••═┅─┄✩̣̣̣̣̣ͯ*
*حفظ کی چھپی ہوئی حکمت:*

`جیسے استاد نے (خضرعلیہ السلام)نے موسیٰ (علیہ السلام) کو سنوارا، ویسے ہی قرآن آپ کو سنوارتا ہے`
قرآن سیکھنا ایک ربانی سفر ہے، جس میں ظاہری محنت ایک باطنی تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔

جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے خضر (علیہ السلام) کے ساتھ سفر کیا، اور ایسے واقعات کا سامنا کیا جو
° ان کی سمجھ سے باہر تھے، اسی طرح قرآن کا طالب علم بھی حفظ کے سفر میں بعض اوقات ایسے لمحات سے گزرتا ہے جو الجھن یا مایوسی پیدا کرتے ہیں۔
•آخر کیوں بعض آیات بار بار دہرانے کے باوجود یاد نہیں ہوتیں؟
•کیوں کچھ سورتیں آسان لگتی ہیں اور کچھ رکاوٹ بن جاتی ہیں؟

*یہ سب حفظ کے عمل میں خامیاں نہیں، بلکہ یہی اصل عمل ہے۔ جیسے کشتی کا ڈوبنا یا دیوار کی مرمت—ہر سختی کے پیچھے اللہ کی کوئی چھپی ہوئی رحمت ہوتی ہے۔*

✓°کبھی اللہ آپ کی یادداشت میں "وقفے" اس لیے ڈالتا ہے تاکہ آپ زیادہ کثرت سے دعا کریں۔

✓°کبھی وہ آسانی اس لیے روکتا ہے تاکہ آپ کی نیت خالص ہو جائے—تاکہ آپ دوسروں کی تعریف نہیں بلکہ صرف اللہ کی رضا کے طلبگار بنیں۔

*🪄سچا حفظ صرف الفاظ کو ذہن نشین کرنا نہیں، بلکہ دل میں عاجزی پیدا کرنا ہے۔*

جس طرح خضر (علیہ السلام) کی حکمت اختتام تک چھپی رہی، ویسے ہی آپ کی محنت کے ثمرات فوراً ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ وہ آپ کے کردار کی مضبوطی، عبادت کی گہرائی، اور قرآن سے تعلق کی پاکیزگی میں ظاہر ہوتے ہیں۔

> درحقیقت، آپ قرآن کو حفظ نہیں کر رہے—قرآن آپ کو یاد کر رہا ہے، آپ کو ڈھال رہا ہے، اور آپ کو اپنے لوگوں میں شامل کرنے کے لیے چن رہا ہے۔اور جنہیں قرآن چنتا ہے، انہیں آسانی سے نہیں بلکہ اللہ کی حکمت سے سنوارتا ہے—جیسے موسیٰ (علیہ السلام) خضر (علیہ السلام) کی صحبت میں سنورے تھے۔

❍┈─┅═••࿇✠࿇••═┅─┄❍

29/10/2025

*صالحات.......!*
کیا آپ نے آج اپنے والدین کے لئے دعا کی...........؟
والدین حیات ہوں یا وفات پا گئے ہوں...
انکے لئے ہمیشـــہ دعا کیجئے کہ انکا ہم پر حق ہے..!

*"رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا*
﴿٢٤﴾(سورة الإسراء)

*ﺭَﺑَّﻨَﺎﺍﻏْﻔِﺮْﻟِﯽْ ﻭَﻟِﻮَﺍﻟِﺪَﯼَّ ﻭَﻟِﻠْﻤُﺆﻣِﻨِﯿْﻦَ ﯾَﻮْﻡَ ﯾَﻘُﻮﻡُ ﺍﻟْﺤِﺴَﺎﺏُ.*
{ ٤١}. (سورۃ ابراہیم)

03/03/2025

رمضان کثرت سے ان دعاؤں کو پڑھتے رہیے جو بھی خواہشیں حاجتیں مشکلیں ہیں ان کو ذہن میں رکھیے اور ان کو پڑھتے رہیے ان شاءاللہ میرا اللہ آپ کو ہر الجھن،غم فکر، بے چینی کو سکون میں بدل دے گا ہر تنگی کو آسانی میں بدل دے گا اپکی دنیاو آخرت کی تمام دعائیں قبول ہوں گی بس ان اذکار سے تعلق بنالیں اور اس تعلق کو ٹوٹنے نہ دیں*
🌹🌹🌹💓💓💓
*سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ*
’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت۔‘‘

*سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَبِحَمْدِہٖ*
’’پاک ہے اللہ عظمتوں والا اپنی تعریفوں کے ساتھ۔‘‘

*سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْمِ*
’’پاک ہے اللہ اپنی خوبیوں سمیت، پاک ہے اللہ بہت عظمت والا۔‘‘

*سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ*

’’اللہ پاک ہے اور سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘

*سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ*

’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اللہ سب سے بڑا ہے اور برائی سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘

*سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَالْحَمْدُلِلّٰہِ، وَلَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ، وَاللّٰہُ اَکْبَرُ*

’’اللہ پاک ہے، سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔‘‘

*لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ*

’’اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور اسی کے لیے سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔‘‘

*لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ*

’’گناہ سے بچنے کی ہمت ہے نہ نیکی کرنے کی طاقت مگر اللہ ہی کی توفیق سے۔‘‘

*اَلْحَمْدُلِلّٰہِ*
’’سب تعریف اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘

*لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ*
’’اللہ کے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں۔‘‘

*َاللّٰہُ اَکْبَر*
اللہ سب سے بڑا ہے
*سُبْحَانَ اللّٰہِ*
’’اللہ پاک ہے۔‘‘

*اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ*

’’میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں، وہ (اللہ) جس کے سوا کوئی معبود نہیں، زندہ ہے، کائنات کا نگران ہے اور میں اسی کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘

*بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ﴿﴾ قُلۡ ہُوَ اللّٰہُ اَحَدٌ ۚ﴿۱﴾ اَللّٰہُ الصَّمَدُ ۚ﴿۲﴾ لَمۡ یَلِدۡ ۬ وَ لَمۡ یُوۡلَدۡ ۙ﴿۳﴾ وَ لَمۡ یَکُنۡ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ ﴿۴﴾*

’’اللہ تعالیٰ کے نام سے (شروع) جو نہایت مہربان، بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘’’(آپ) کہہ دیجیے: وہ اللہ ایک ہے، اللہ بے نیاز ہے، اس کی کوئی اولاد نہیں اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور نہ اس کا کوئی ہم پلہ ہے۔‘‘

*اَللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدْ، اَللّٰہُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاہِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاہِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدُ*

’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جیسے تونے رحمت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقیناً تو قابل تعریف، بڑی شان والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آلِ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جیسے تونے برکت نازل فرمائی ابراہیم پر اور آلِ ابراہیم پر، یقیناً تو قابلِ تعریف، بڑی شان والا ہے۔‘‘

*حَسْبِیَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ*

’’مجھے اللہ ہی کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ عرشِ عظیم کا رب ہے۔‘‘

*یَا حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ*

’’اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! میں تیری ہی رحمت کے ذریعے سے مدد طلب کرتا ہوں

*سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ عَدَدَ خَلْقِہٖ وَرِضَا نَفْسِہٖ، وَزِنَۃَ عَرْشِہٖ وَمِدَادَ کَلِمَاتِہٖ*

’’میں اللہ کی پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس کی تعریفوں کے ساتھ، اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر، اس کی ذات کی رضا کے برابر، اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی روشنائی کے برابر۔‘‘

*اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ*

’’میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں۔‘‘

*اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ*

’’اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اور آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر۔‘‘

*لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّاۤ اَنۡتَ سُبۡحٰنَکَ اِنِّیۡ کُنۡتُ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ*

’’تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو پاک ہے یقیناً میں ظالموں میں سے ہوں۔‘‘

*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنَّ لَکَ الْحَمْدَ لَآ اِلٰہَ اِلَّآ اَنْتَ وَحْدَکَ لَا شَرِیْکَ لَکَ، اَلْمَنَّانُ، یَا بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ (اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ الْجَنَّۃَ وَاَعُوْذُبِکَ مِنَ النَّارِ)*

’’اے اللہ! یقیناً میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے۔ تجھ اکیلے کے سوا کوئی معبود نہیں، تیرا کوئی حصے دار نہیں، (تو) بے حد احسان کرنے والا ہے۔ اے آسمانوں اور زمین کو بے مثل پیدا کرنے والے، اے صاحبِ جلال اور عزت والے! اے زندۂ جاوید! اے قائم و دائم! بے شک میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا ہوں اور آگ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔‘‘

*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَسْئَلُکَ بِاَنِّیْٓ اَشْھَدُ اَنَّکَ اَنْتَ اللّٰہُ لَآ اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْاَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِیْ لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ وَلَمْ یَکُنْ لَّہٗ کُفُوًا اَحَدٌ*

’’اے اللہ! بلاشبہ میں تجھ سے اس لیے سوال کررہا ہوں کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو یکتا ہے، ایسا بے نیاز ہے جس کی کوئی اولاد نہیں ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور کوئی بھی اس کا ہم پلہ نہیں۔‘‘

*اَللّٰھُمَّ اِنِّیْٓ اَعُوْذُبِکَ مِنَ الْھَمِّ وَالْحُزْنِ وَالْعَجْزِ وَالْکَسَلِ وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَضَلَعِ الدَّیْنِ وَغَلَبَۃِ الرِّجَالِ*

’’اے اللہ! میں پناہ چاہتا ہوں تیرے ذریعے سے پریشانی اور غم سے، عاجز ہوجانے اور کاہلی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے تسلط سے۔‘‘

*اَللّٰھُمَّ لَا سَھْلَ اِلَّا مَا جَعَلْتَہٗ سَھْلًا وَّاَنْتَ تَجْعَلُ الْحَزَنَ اِذَا شِئْتَ سَھْلًا*

’’اے اللہ! کوئی کام آسان نہیں ہے مگر وہی جسے تو آسان کردے اور تو مشکل کام جب چاہے، آسان کردیتا ہے۔‘‘

*اَللّٰہُ اَللّٰہُ رَبِّیْ لَآ اُشْرِکُ بِہٖ شَیْئًا*

’’اللہ، اللہ میرا رب ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔‘‘

*حَسْبُنَا اللّٰہُ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ*

’’ہمیں اللہ ہی کافی ہے اور (وہ) بہترین کارساز ہے۔‘‘*

16/01/2025

*نبوی اخلاق: حقدار کو اس کا حق دینا*

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور سخت لہجے میں اپنا حق طلب کیا۔ صحابہ کرامؓ اس پر ناراض ہوئے، لیکن نبی ﷺ نے فرمایا: *"اسے چھوڑ دو، کیونکہ حق دار کو اپنی بات کہنے کا حق ہے۔"* پھر آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا حق ادا کیا جائے اور مزید فرمایا: *"تم میں سب سے بہترین وہ ہے جو حق ادا کرنے میں بہترین ہو۔"* (متفق علیہ)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ کسی حقدار کے رویے کی سختی کے باوجود اس کا حق ادا کرنا ضروری ہے، اور اس موقع پر نرمی اور احسان کا مظاہرہ کرنا نبوی اخلاق کا اہم پہلو ہے۔

*روزمرہ کی مثالیں*
ہماری زندگی میں بھی کئی مواقع ایسے آتے ہیں جب ہمیں کسی کا حق ادا کرنا ہوتا ہے، لیکن سخت رویے یا بدتمیزی کے باعث ہمارا دل بدل جاتا ہے:
- *ٹیکسی ڈرائیور* نے اچھی ڈرائیونگ نہیں کی، لیکن اس کا کرایہ دینا ضروری ہے۔
- *ریسٹورانٹ کا ویٹر* سروس اچھی نہ دے، پھر بھی اس کی محنت کا حق بنتا ہے۔
- *بل جمع کروانے والے کاؤنٹر پر* بدتمیزی کا سامنا ہو، مگر کام میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔
- *پلمبر یا الیکٹریشن* کا کام ناقص ہو، پھر بھی اس کا معاوضہ دینا چاہیے۔
- *راستے میں گاڑی کی ٹکر* ہو اور دوسرا شخص بدتمیزی کرے، تو معاملہ صبر اور نرمی سے حل کریں۔

اکثر اوقات ہم کہتے ہیں: *"اب یہ حق نہیں دوں گی، جو کرنا ہے کرلو!"* یہ رویہ نبوی اخلاق کے خلاف ہے۔

*نبوی اخلاق سے سبق*
رسول اللہ ﷺ کا طرزِ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ سختی یا بدتمیزی کے جواب میں بھی احسان کے ساتھ حق ادا کیا جائے اور نرمی سے معاملہ کیا جائے۔ اگر سختی کے جواب میں سختی کریں گے تو جھگڑا بڑھے گا، لیکن نرمی سے دل جیتے جا سکتے ہیں۔

*ردعمل کے اصول*
- اگر کوئی سخت لہجے میں بات کرے، تو تحمل اور نرمی سے جواب دیں۔
- اگر کوئی برا رویہ اختیار کرے، تو اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں۔
- اگر کوئی حسد کرے، تو احسان اور محبت سے دل جیتیں۔
- ⁠جہاں کوئی بات بنتی نظر نہ آئے تو خاموشی اختیار کریں

*نرمی اور احسان کی اہمیت*
نبی ﷺ نے فرمایا: *"جس کو نرمی عطا کی گئی، اسے بھلائی عطا کی گئی۔"*
نرمی ایک ایسا ہتھیار ہے جو جھگڑوں کو ختم اور دلوں کو فتح کرتا ہے۔ جب ہم حقداروں کو ان کا حق احسان کے ساتھ دیتے ہیں، تو یہ ہمارے اخلاق کی بلندی کا ثبوت ہوتا ہے۔

*نتیجہ*
نبوی اخلاق کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کے سخت رویے یا بدتمیزی کے باوجود احسان کے ساتھ حق ادا کریں اور نرمی کا مظاہرہ کریں۔ یہ رویہ نہ صرف دین کی تبلیغ میں مددگار ہے بلکہ دلوں کو جوڑنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ہمیں ہر موقع پر نبی ﷺ کے اخلاق کی پیروی کرتے ہوئے نرمی اور احسان کو اپنانا چاہیے، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اللہ سبحانہ و تعالی ہمیں نبوی اخلاق اپنانے والا بنائیں۔ آمین

(ماخوذ ریاض الصالحین سبق )

27/07/2024

ماشاء اللہ ۔۔۔

زبان نہیں ہے تو کیا ہوا ۔۔۔ قرآن تو پڑھ سکتے ہیں ماشاء اللہ ۔۔۔ نہ صرف یہ کہ پڑھ رہے ہیں بلکہ غور کیجئے حفظ کر رہے ہیں سبحان اللہ ♥️

افسوس تو ان پر ہو جن کے پاس زبان تو ہے مگر زبان پر قرآن نہیں ہے۔۔

21/07/2024

*✍🏻جب انسان میں عاجزی پیدا ہوتی ہے تو وہ ایک چیونٹی کو بھی نقصان پہنچانے سے ڈرتا ہے انسان تو بہت دور کی بات ہے اسکو بھلائی کرنے کی اتنی عادت ہو جاتی ہے کہ اپنے ساتھ بُرا کرنے والوں کے لیۓ بھی ہدایت کی دعا مانگتا ہے پھر ایسے انسان کا اللّٰہ کبھی بُرا ہونے نہیں دیتا۔*

27/04/2024

*مومن طعنہ دینے سے گریز کرتا ہے۔۔۔!*🖤

ہم اپنے اندر جھانکیں تو نوے فیصد ہم میں سے ایسے ہیں جو پلٹ کر جواب ضرور دیتے ہیں۔۔۔اگر کسی نے ہمیں کچھ کہہ دیا ہے تو اس سے بھی زیادہ تلخ ہو جاتے ہیں۔۔۔اور یہ حقیقت ہے، ہم خاموش نہیں رہتے۔۔

*اگر ہمیں معلوم ہو جا‎ۓ کہ ہمارے خاموش رہنے میں کتنی بھلا‎ئی ہے*

تو ہم کبھی کسی کو طعنہ نا دیں نا ہی کسی کو برا بھلا کہیں۔۔۔!
*کیونکہ جب ہمیں کوئی طعنہ دیتا ہے یا ہم پر طنز کرتا ہے یا پھر ہم سے جھگڑتا ہے تو اسکا جواب فرشتے دے رہے ہوتے ہیں۔۔۔!*


اور کیا ہی اچھا جواب ہوگا،
اس میں بھی تھوڑا صبر درکار ہے۔۔۔!❣

17/03/2024

*40 طرح کا صدقہ*

ایک دفعہ ضرور پڑھ لیں.
ان شاءاللہ بہت فائدہ ہوگا.

1. دوسرے کو نقصان پہنچانے سے بچنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

2. اندھے کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

3. بہرے سے تیز آواز میں بات کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

4. گونگے کو اس طرح بتانا کہ وہ سمجھ سکے صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

5. کمزور آدمی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

6. راستے سے پتھر,کانٹا اور ہڈی ہٹانا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

7. مدد کے لئے پکارنے والے کی دوڑ کر مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3377]

8. اپنے ڈول سے کسی بھائی کو پانی دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

9. بھٹکے ہوئے شخص کو راستہ بتانا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1956]

10. لا الہ الا الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

11. سبحان الله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

12. الحمدلله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

13. الله اکبر کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

14. استغفرالله کہنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

15. نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

16. برائی سے روکنا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1007]

17. ثواب کی نیت سے اپنے گھر والوں پر خرچ کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 55]

18. دو لوگوں کے بیچ انصاف کرنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

19. کسی آدمی کو سواری پر بیٹھانا یا اس کا سامان اٹھا کر سواری پر رکھوانا صدقہ ہے ۔ [بخاری: 2518]

20. اچھی بات کہنا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2589]

21. نماز کے لئے چل کر جانے والا ہر قدم صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

22. راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے۔ [بخاری: 2518]

23. خود کھانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

24. اپنے بیٹے کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

25. اپنی بیوی کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

26. اپنے خادم کو کھلانا صدقہ ہے۔ [نسائی - کبری: 9185]

27. کسی مصیبت زدہ حاجت مند کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [نسائی: 253]

28. اپنے بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

29. پانی کا ایک گھونٹ پلانا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

30. اپنے بھائی کی مدد کرنا صدقہ ہے۔ [ابو یعلی: 2434]

31. ملنے والے کو سلام کرنا صدقہ ہے۔ [ابو داﺅد: 5243]

32. آپس میں صلح کروانا صدقہ ہے۔ [بخاری - تاریخ: 259/3]

33. تمہارے درخت یا فصل سے جو کچھ کھائے وہ تمہارے لئے صدقہ ہے۔ [مسلم: 1553]

34. بھوکے کو کھانا کھلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3367]

35. پانی پلانا صدقہ ہے۔ [بیہقی - شعب: 3368]

36. دو مرتبہ قرض دینا ایک مرتبہ صدقہ دینے کے برابر ہے۔ [ابن ماجہ: 3430]

37. کسی آدمی کو اپنی سواری پر بٹھا لینا صدقہ ہے۔ [مسلم: 1009]

38. گمراہی کی سر زمین پر کسی کو ہدایت دینا صدقہ ہے۔ [ترمذی: 1963]

39. ضرورت مند کے کام آنا صدقہ ہے۔ [ابن حبان: 3368]

40. علم سیکھ کر مسلمان بھائی کو سکھانا صدقہ ہے۔ [ابن ماجہ: 243]
*جزاک اللہ خیرا کثیرا🤲...*
(ظہور احمد خان کی وال سے)

31/12/2022

🥀🍃💕🤍💕🌿✨️








Want your school to be the top-listed School/college in Chakwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chakwal