GHS Mohra kore chasham

GHS Mohra kore chasham Shaping bright minds with strong value in value in the heart of GHS Mohra Kore Chasham.

21/08/2026
21/08/2026

Yeh Hal hai road ka jowb do koi hai ?

**موبائل پر غیبت: زبان سے نکلے الفاظ، زندگی میں اترنے والے زخم* آج کے دور میں موبائل فون نے فاصلے ضرور کم کر دیے ہیں، مگ...
19/08/2026

**موبائل پر غیبت: زبان سے نکلے الفاظ، زندگی میں اترنے والے زخم*

آج کے دور میں موبائل فون نے فاصلے ضرور کم کر دیے ہیں، مگر افسوس کہ بعض اوقات یہی موبائل دلوں کے فاصلے بڑھانے، رشتوں میں دراڑیں ڈالنے اور عزتوں کو مجروح کرنے کا ذریعہ بھی بن جاتا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی باہمی گفتگو میں اگر کسی غیر موجود مرد/ عورت کے بارے میں ایسی باتیں کی جائیں جو اسے معلوم ہوں تو اسے ناگوار گزریں، تو یہ غیبت کے زمرے میں آ سکتی ہیں۔ مسئلہ صرف آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرنے کا نہیں؛ فون کال، وائس میسج، ویڈیو کال، چیٹ اور واٹس ایپ گروپ میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں غیبت کی نہایت سخت انداز میں مذمت فرمائی اور اسے اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے سے تشبیہ دی۔ اس تشبیہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیبت محض ایک معمولی گفتگو یا تفریح نہیں بلکہ اخلاقی اور روحانی اعتبار سے انتہائی سنگین گناہ ہے۔

رسولِ اکرم ﷺ نے بھی غیبت کی تعریف واضح فرمائی کہ تم اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرو جو اسے ناپسند ہو۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ اگر وہ بات اس میں واقعی موجود ہو؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر وہ بات اس میں موجود ہے تو تم نے غیبت کی، اور اگر موجود نہیں تو تم نے بہتان باندھا۔

موبائل پر ہونے والی غیبت کی چند شکلیں*

کسی مرد/عورت کے لباس، شکل و صورت، گھریلو معاملات، شوہر، بچوں، سسرال، مالی حالات، عادات یا کردار کے بارے میں اس کی غیر موجودگی میں گفتگو کرنا، اس کے راز دوسروں کو بتانا، اس کی نقل اتارنا، اس کی کمزوریوں پر ہنسنا یا اس کے بارے میں طنزیہ تبصرے کرنا غیبت کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

بسا اوقات جملہ شروع ہوتا ہے: "میں کسی کو نہیں بتاؤں گی، بس تمہیں بتا رہی ہوں۔" پھر یہی راز چند لمحوں میں ایک سے دوسرے موبائل اور ایک سے دوسرے گروپ تک پہنچ جاتا ہے۔ یوں ایک شخص کی عزت کئی لوگوں کی گفتگو کا موضوع بن جاتی ہے۔

*غیبت کے دنیاوی نقصانات*

غیبت کا سب سے بڑا دنیاوی نقصان اعتماد کا خاتمہ ہے۔ جس شخص کو معلوم ہو جائے کہ اس کی غیر موجودگی میں اس کے متعلق باتیں کی جاتی ہیں، اس کے دل میں بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ خاندانوں میں اختلافات بڑھتے ہیں، سہیلیوں کی دوستی ختم ہوتی ہے اور میاں بیوی کے تعلقات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

موبائل کی غیبت کا ایک خطرناک پہلو یہ ہے کہ الفاظ محفوظ بھی ہو سکتے ہیں۔ وائس میسج، اسکرین شاٹ یا چیٹ آگے بھیجی جا سکتی ہے۔ ایک لمحے کی غیر ذمہ دارانہ گفتگو کسی خاندان کی عزت اور برسوں کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

غیبت سے دلوں میں بدگمانیاں پیدا ہوتی ہیں، حسد کو تقویت ملتی ہے، رشتے کمزور ہوتے ہیں اور معاشرے میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے۔ سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ اکثر لوگ اسے "بس باتیں ہی تو کر رہی تھیں" کہہ کر معمولی سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ معمولی سمجھی جانے والی یہی باتیں بڑے فتنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

اخروی نقصان اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے

اسلام میں انسان کی عزت و آبرو کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ غیبت کرنے والا صرف چند الفاظ ادا نہیں کرتا بلکہ دوسرے انسان کی عزت کو مجروح کرتا ہے۔ اس لیے توبہ کے ساتھ اپنے عمل پر ندامت اور جس شخص کی حق تلفی ہوئی ہے اس معاملے کی اصلاح بھی ضروری ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن ہمارے پاس صرف نماز، روزہ اور دیگر عبادات ہی نہیں بلکہ حقوق العباد کا معاملہ بھی ہوگا۔ کسی کی عزت کو نقصان پہنچانا، اس کے بارے میں ناپسندیدہ بات پھیلانا یا اس کے دل کو دکھانا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے مفلس شخص کے بارے میں ایسی تعلیم دی کہ قیامت میں کوئی شخص نماز، روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا، مگر اس نے لوگوں کو گالیاں دی ہوں گی، ان پر الزام لگایا ہوگا، ان کے حقوق پامال کیے ہوں گے؛ چنانچہ اس کی نیکیاں ان لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کے حقوق اس نے ضائع کیے۔ یہ حدیث ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے کہ کہیں ہماری زبان اور موبائل ہماری نیکیوں کو دوسروں کے کھاتے میں منتقل کرنے کا ذریعہ تو نہیں بن رہے؟

*ہر بات غیبت نہیں*

یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی شخص کے بارے میں ہر گفتگو غیبت نہیں ہوتی۔ اگر کسی حقیقی ضرورت کے تحت کسی سے مشورہ لینا ہو، کسی ظلم کی شکایت کرنی ہو، کسی نقصان سے بچانے کے لیے ضروری تنبیہ کرنی ہو یا کسی شرعی و قانونی معاملے میں حقیقت بیان کرنا ضروری ہو تو اس کی اپنی شرائط اور حدود ہیں۔ لیکن دل لگی، حسد، مذاق، تنقید برائے تنقید اور محض وقت گزاری کے لیے کسی کی برائیاں بیان کرنا غیبت کی طرف لے جا سکتا ہے۔

*موبائل کو غیبت کا نہیں، خیر کا ذریعہ بنائیں*

موبائل اللہ کی نعمت ہے۔ اسی فون سے قرآنِ کریم پڑھا جا سکتا ہے، کسی ضرورت مند کی مدد کی جا سکتی ہے، علم پھیلایا جا سکتا ہے، رشتہ داروں سے خیرسگالی کی جا سکتی ہے اور کسی پریشان حال انسان کو حوصلہ دیا جا سکتا ہے۔

ضرورت صرف اتنی ہے کہ پیغام بھیجنے یا کال پر بات کرنے سے پہلے چند لمحے سوچ لیا جائے:

کیا میں یہ بات اس شخص کے سامنے بھی کہہ سکتی ہوں؟
کیا یہ بات سچی ہونے کے باوجود اس کی عزت کو مجروح تو نہیں کرے گی؟
اگر میری اپنی یہی بات دوسروں کے موبائل میں گردش کرنے لگے تو مجھے کیسا محسوس ہوگا؟
اور اگر یہ گفتگو قیامت کے دن میرے سامنے پیش کر دی جائے تو کیا میں اس کا جواب دے سکوں گی؟

اگر ہر انسان صرف یہ چار سوال اپنے آپ سے پوچھ لے تو بہت سی زبانیں خاموش اور بہت سے موبائل محفوظ ہو سکتے ہیں۔

*اختتامیہ*

ہمیں دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہیے۔ کسی عورت کے بارے میں دوسری عورت سے، کسی مرد کے بارے میں دوسرے مرد سے یا کسی بھی غیر موجود شخص کے بارے میں ایسی گفتگو جس سے اس کی عزت مجروح ہو، ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا، مگر موبائل سے نکلا ہوا لفظ تو ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے۔ اس لیے بولنے سے پہلے سوچیں، بھیجنے سے پہلے رکیں اور آگے فارورڈ کرنے سے پہلے اپنے ضمیر سے سوال کریں۔

آئیے عہد کریں کہ ہمارے موبائل غیبت، چغلی اور کردار کشی کے اڈے نہیں بلکہ خیر، محبت، اصلاح اور بھلائی کے وسیلے ہوں گے۔ کیونکہ چند لمحوں کی گفتگو کے بدلے دنیا کا سکون، رشتوں کا اعتماد اور آخرت کی نیکیاں کھو دینا کسی صورت دانش مندی نہیں۔

Address

Village And Post Office Mohra Kore Chasham
Chakwal
48800

Opening Hours

Monday 08:30 - 15:00
Tuesday 08:30 - 15:00
Wednesday 08:30 - 15:00
Thursday 08:30 - 15:00
Friday 08:30 - 15:00
Saturday 08:30 - 15:00

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when GHS Mohra kore chasham posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category