Sahi Bukhari Sharif

Sahi Bukhari Sharif

Share

اپنی اور باقی سب کی تعلیم کے لئے

01/06/2020

نمبر 1325
جس نے جنازہ میں #شرکت کی پھر نماز #جنازہ پڑھی تو اسے ایک #قیراط کا #ثواب ملتا ہے اور جو #دفن تک ساتھ رہا تو اسے $دو قیراط کا ثواب ملتا ہے۔ پوچھا گیا کہ دو قیراط کتنے ہوں گے؟ فرمایا کہ دو #عظیم #پہاڑوں کے برابر۔
مَنْ شَهِدَ الْجَنَازَةَ حَتَّى يُصَلِّيَ فَلَهُ قِيرَاطٌ، ‏‏‏‏‏‏وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ،‏‏‏‏ قِيلَ:‏‏‏‏ وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ.

01/06/2020

حدیث نمبر 1323
جو دفن تک جنازہ کے ساتھ رہے اسے ایک قیراط کا ثواب ملے گا۔
مَنْ تَبِعَ جَنَازَةً فَلَهُ قِيرَاطٌ

01/06/2020

حدیث نمبر 1315
جنازہ لے کر #جلد چلا کرو کیونکہ اگر وہ #نیک ہے تو تم اس کو #بھلائی کی طرف نزدیک کر رہے ہو اور اگر اس کے سوا ہے تو ایک #شر ہے جسے تم اپنی #گردنوں سے اتارتے ہو۔
أَسْرِعُوا بِالْجِنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

01/06/2020

ےدیث نمبر 1311
ہمارے سامنے سے ایک #جنازہ گزرا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم #کھڑے ہو گئے اور ہم بھی کھڑے ہو گئے۔ پھر ہم نے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ تو #یہودی کا جنازہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم لوگ جنازہ #دیکھو تو کھڑے ہو جایا کرو۔
مَرَّ بِنَا جَنَازَةٌ، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا بِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقُلْنَا:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ إِذَا رَأَيْتُمُ الْجِنَازَةَ فَقُومُوا

01/06/2020

حدیث نمبر 1307
جب تم #جنازہ دیکھو تو #کھڑے ہو جاؤ اور کھڑے رہو یہاں تک کہ جنازہ تم سے #آگے نکل جائے یا #رکھ دیا جائے۔
إِذَا رَأَيْتُمُ الْجَنَازَةَ فَقُومُوا حَتَّى تُخَلِّفَكُمْ أَوْ تُوضَعَ.

01/06/2020

حدیث نمبر 1304

سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کسی مرض میں مبتلا ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لیے عبدالرحمٰن بن عوف ‘ سعد بن ابی وقاص اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم کے ساتھ ان کے یہاں تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر گئے تو تیمار داروں کے ہجوم میں انہیں پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا #وفات ہو گئی؟ لوگوں نے کہا نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( ان کے مرض کی شدت کو دیکھ کر ) #رو پڑے۔ لوگوں نے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو روتے ہوئے دیکھا تو وہ سب بھی رونے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سنو! اللہ تعالیٰ آنکھوں سے #آنسو نکلنے پر بھی #عذاب نہیں کرے گا اور نہ دل کے #غم پر۔ ہاں اس کا عذاب اس کی وجہ سے ہوتا ہے ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے #زبان کی طرف اشارہ کیا ( اور اگر اس زبان سے اچھی بات نکلے تو ) یہ اس کی رحمت کا بھی باعث بنتی ہے اور میت کو اس کے گھر والوں کے #نوحہ و #ماتم کی وجہ سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ میت پر ماتم کرنے پر #ڈنڈے سے مارتے ‘ #پتھر پھینکتے اور رونے والوں کے منہ میں مٹی جھونک دیتے۔

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ ابْنِ وَهْبٍ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، ‏‏‏‏‏‏عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَنْصَارِيِّ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ ""اشْتَكَى سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ شَكْوَى لَهُ فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، ‏‏‏‏‏‏وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ فَوَجَدَهُ فِي غَاشِيَةِ أَهْلِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قَدْ قَضَى؟،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَبَكَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَلَمَّا رَأَى الْقَوْمُ بُكَاءَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَكَوْا،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ أَلَا تَسْمَعُونَ إِنَّ اللَّهَ لَا يُعَذِّبُ بِدَمْعِ الْعَيْنِ وَلَا بِحُزْنِ الْقَلْبِ وَلَكِنْ يُعَذِّبُ بِهَذَا وَأَشَارَ إِلَى لِسَانِهِ أَوْ يَرْحَمُ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَضْرِبُ فِيهِ بِالْعَصَا وَيَرْمِي بِالْحِجَارَةِ وَيَحْثِي بِالتُّرَابِ"".

28/05/2020

حدیث 1298
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو ( کسی کی #موت پر ) اپنے #رخسار پیٹے ‘ #گریبان چاک کرے اور #جاہلیت کی باتیں کرے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
لَيْسَ مِنَّا مَنْ:‏‏‏‏ ضَرَبَ الْخُدُودَ،‏‏‏‏ وَشَقَّ الْجُيُوبَ،‏‏‏‏ وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ

28/05/2020

حدیث نمبر 1303
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ابوسیف لوہار کے یہاں گئے۔ یہ ابراہیم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے رضی اللہ عنہ ) کو دودھ پلانے والی انا کے خاوند تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابراہیم رضی اللہ عنہ کو گود میں لیا اور پیار کیا اور سونگھا۔ پھر اس کے بعد ہم ان کے یہاں پھر گئے۔ دیکھا کہ اس وقت ابراہیم رضی اللہ عنہ دم توڑ رہے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر آئیں۔ تو عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ بول پڑے کہ یا رسول اللہ! اور آپ بھی لوگوں کی طرح بے صبری کرنے لگے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ابن عوف! یہ بے صبری نہیں یہ تو رحمت ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ روئے اور فرمایا۔ آنکھوں سے آنسو جاری ہیں اور دل غم سے نڈھال ہے پر زبان سے ہم کہیں گے وہی جو ہمارے پروردگار کو پسند ہے اور اے ابراہیم! ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔
دَخَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبِي سَيْفٍ الْقَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ ظِئْرًا لِإِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِبْرَاهِيمَ فَقَبَّلَهُ وَشَمَّهُ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَيْهِ بَعْدَ ذَلِكَ وَإِبْرَاهِيمُ يَجُودُ بِنَفْسِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَجَعَلَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَذْرِفَانِ،‏‏‏‏ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:‏‏‏‏ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا ابْنَ عَوْفٍ إِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ أَتْبَعَهَا بِأُخْرَى، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ وَلَا نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمُ لَمَحْزُونُونَ

28/05/2020

حدیث نمبر 1302
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبر تو وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں کیا جائے۔
الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى

28/05/2020

حدیث نمبر 1284
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک #صاحبزادی ( زینب رضی اللہ عنہا ) نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع کرائی کہ میرا ایک #لڑکا مرنے کے قریب ہے ‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سلام کہلوایا اور کہلوایا کہ اللہ تعالیٰ ہی کا سارا مال ہے ‘ جو لے لیا وہ اسی کا تھا اور جو اس نے دیا وہ بھی اسی کا تھا اور ہر چیز اس کی بارگاہ سے #وقت مقررہ پر ہی واقع ہوتی ہے۔ اس لیے #صبر کرو اور اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھو۔ پھر زینب رضی اللہ عنہا نے #قسم دے کر اپنے یہاں بلوا بھیجا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جانے کے لیے اٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سعد بن عبادہ ‘ معاذ بن جبل ‘ ابی بن کعب ‘ زید بن ثابت اور بہت سے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ بچے کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا گیا۔ جس کی جانکنی کا عالم تھا۔ ابوعثمان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ اسامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ جیسے پرانا مشکیزہ ہوتا ہے ( اور پانی کے ٹکرانے کی اندر سے آواز ہوتی ہے۔ اسی طرح جانکنی کے وقت بچہ کے حلق سے آواز آ رہی تھی ) یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی #آنکھوں سے #آنسو بہ نکلے۔ سعد رضی اللہ عنہ بول اٹھے کہ یا رسول اللہ! یہ رونا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو اللہ کی #رحمت ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے ( نیک ) بندوں کے #دلوں میں رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اپنے ان رحم دل بندوں پر رحم فرماتا ہے جو دوسروں پر رحم کرتے ہیں۔

إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلَهُ مَا أَعْطَى وَكُلٌّ عِنْدَهُ بِأَجَلٍ مُسَمًّى، ‏‏‏‏‏‏فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ، ‏‏‏‏‏‏فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ تُقْسِمُ عَلَيْهِ لَيَأْتِيَنَّهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَامَ وَمَعَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، ‏‏‏‏‏‏وَمَعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، ‏‏‏‏‏‏وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَرِجَالٌ، ‏‏‏‏‏‏فَرُفِعَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّبِيُّ وَنَفْسُهُ تَتَقَعْقَعُ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ حَسِبْتُهُ أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ كَأَنَّهَا شَنٌّ، ‏‏‏‏‏‏فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ،‏‏‏‏ فَقَالَ سَعْدٌ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا؟،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ هَذِهِ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ

28/05/2020

حدیث نمبر 1280
#ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی #وفات کی خبر جب شام سے آئی تو رضی اللہ عنہا ( ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی #صاحبزادی اور ) نے #تیسرے دن ”صفرہ“ ( خوشبو ) منگوا کر اپنے دونوں رخساروں اور بازوؤں پر ملا اور فرمایا کہ اگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ کوئی بھی عورت جو اللہ اور #آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو اس کے لیے #جائز نہیں ہے کہ وہ #شوہر کے #سوا کسی کا #سوگ تین دن سے زیادہ منائے اور #شوہر کا سوگ #چار #مہینے #دس دن کرے۔ تو مجھے اس وقت اس خوشبو کے استعمال کی ضرورت نہیں تھی۔

لَمَّا جَاءَ نَعْيُأَبِي سُفْيَانَ مِنْ الشَّأْمِ دَعَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِصُفْرَةٍ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ، ‏‏‏‏‏‏فَمَسَحَتْ عَارِضَيْهَا وَذِرَاعَيْهَا،‏‏‏‏ وَقَالَتْ:‏‏‏‏ إِنِّي كُنْتُ عَنْ هَذَا لَغَنِيَّةً لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:‏‏‏‏ لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ، ‏‏‏‏‏‏إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا

28/05/2020

حدیث نمبر 1274
عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کے سامنے ایک دن #کھانا رکھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ #مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ( غزوہ احد میں ) #شہید ہوئے ‘ وہ مجھ سے #افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے ایک #چادر کے سوا اور کوئی چیز مہیا نہ ہو سکی۔ اسی طرح جب #حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے یا کسی دوسرے صحابی کا نام لیا ‘ وہ بھی مجھ سے افضل تھے۔ لیکن ان کے کفن کے لیے بھی صرف ایک ہی چادر مل سکی۔ مجھے تو #ڈر لگتا ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمارے #چین اور آرام کے سامان ہم کو جلدی سے #دنیا ہی میں دے دئیے گئے ہوں پھر وہ #رونے لگے۔
أُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَوْمًا بِطَعَامِهِ،‏‏‏‏ فَقَالَ:‏‏‏‏ قُتِلَ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَكَانَ خَيْرًا مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏وَقُتِلَ حَمْزَةُ أَوْ رَجُلٌ آخَرُ خَيْرٌ مِنِّي فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا بُرْدَةٌ، ‏‏‏‏‏‏لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ قَدْ عُجِّلَتْ لَنَا طَيِّبَاتُنَا فِي حَيَاتِنَا الدُّنْيَا، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ جَعَلَ يَبْكِي.

Want your school to be the top-listed School/college in Chakwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Website

Address


Chakwal