03/06/2023
The Educators Mulhal Mughlan Campus
A place of excellent education with up to date curriculum and religious education.
03/06/2023
بچوں کو نصیحت کب کریں؟
نصیحت کرنے کے 4 وقت جان لیجیے ۔۔۔
بچوں کو نصیحت اس وقت کریں جب بچے receptive mood (قبول کرنے کے موڈ) میں ہوں۔
چار اوقات ایسے ہیں جب بچہ receptive mode (قبول کرنے کے موڈ) میں ہوتا ہے، اس وقت آپ بچے کو جو بھی نصیحت کریں گے وہ بچے کے دل میں اتر جائے گی گی۔
(1) جب بچہ رات کو سونے لگے اس وقت بچہ learning mood (سیکھنے کی موڈ) میں ہوتا ہے اس لیے اس وقت بچے کہتے ہیں ہمیں کوئی کہانی سنائیں مائیں بچوں کو بلی چوہوں کی کہانیاں سنا دیتی ہیں پھر بچوں میں بلی چوہوں والی حرکتیں آتی ہیں۔ اس وقت بچے کو نبیوں اور اور نیک لوگوں کے واقعات سنانے چاہیئیں جس میں اچھی نصیحتیں ہوں تاکہ آپ کا بچہ بھی نیک بنے۔
(2) جب بچہ آپ کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا ہو۔ اس وقت بھی بچہ learning mode میں ہوتا ہے اس لیے اس وقت بچہ پوچھ رہا ہوتا ہے ابو یہ کیا ہے وہ کیسے؟ اس وقت ہم ڈانٹ ڈپٹ کر کے بچے کو چپ کروا دیتے ہیں وہ بہت قیمتی وقت ہوتا ہے۔ اس وقت بچے سے اچھی باتیں کریں اور اچھی نصیحتیں کریں وہ آپ کی باتوں پر توجہ دے گا اور آپ کی باتوں پر عمل کرے گا۔
(3) جب بچہ کھانے کے لیے بیٹھے اس وقت بھی بچہ learning mode ہوتا ہے اس وقت بھی آپ نصیحت کر سکتے ہیں۔
(4) جب بچہ بیمار ہو اس وقت بھی بچہ learning mod میں ہوتا ہے اس وقت آپ جو بھی نصیحت کریں گے وہ بچے کے دل میں نقش ہو جائے گی۔
آپ نے بچوں کو جو بھی نصیحتیں کرنی ہوں ان اوقات میں کریں بچے ضرور آپ کی نصیحتوں پر عمل کریں گے۔ ہر وقت بچے کو کبھی نصیحت نہ کریں کیونکہ بچے کبھی کھیلنے یا کسی اور موڈ میں ہوتے ہیں ہم بچوں کو نصیحتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں اس سے بچہ چڑنا شروع ہو جاتا ہے اور آپ کی باتوں کو اہمیت نہیں دیتا اسی وجہ سے بچہ نافرمانی کرتا ہے ہم پھر اس کو مار پیٹ کر تے ہیں اور زیادہ اپنا باغی بنا دیتے ہیں پھر لوگ کہتے مولانا دعا کریں ہمارے بچے فرمانبردار ہو جائیں۔
~ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ~
01/06/2023
is the ability to listen to almost anything without losing your or your -confidence.
Robert Frost
*'*
مشہور ہے کہ خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں کسی نے کرتب دکھانے کی اجازت مانگی۔ اجازت دے دی گئی۔ اس نے دربار کے بیچوں بیچ ایک سوئی گاڑ دی اور دس قدم پیچھے چلا گیا۔ ہاتھ میں کچھ سوئیاں تھیں جنھیں وہ نشانہ لگاکر پھینکنے لگا۔ دیکھنے والے مبہوت رہ گئے کہ اس کی پھینکی ہر سوئی دور گڑی سوئی کے ناکے میں داخل ہوکر پار جاتی تھی۔ ہارون نے یہ کمال دیکھا تو حکم دیا کہ اسے دس دینار دو اور دس کوڑے مارو۔ وجہ پوچھی گئی تو کہا: "انعام اس کے نشانے کی سچائی پر اور سزا اس لیے کہ اس نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ ایسے کام میں مہارت کے لیے ضائع کیا جس کا دین و دنیا میں کوئی فائدہ نہیں۔"
آج جب نوجوانوں کو دیکھتا ہوں کہ انوکھی سیلفی بنانے کے لیے کوئی پانی کی ٹنکی پر چڑھا ہے، کوئی اونچی بلڈنگ سے لٹک رہا ہے، کوئی عجیب و غریب کپڑے یا ہیئر اسٹائل بنا رہا ہے، کوئی پب جی اور دوسرے موبائل گیمز میں جیت کر یا اعلیٰ اسکور بناکر مگن ہے اور اسے اپنا کارنامہ بتا رہا ہے۔ نا چاہتے ہوئے بھی دل میں خیال آتا ہے کہ اگر آج ہارون رشید ہوتا تو وہ ہمارے نوجوانوں کو کیا کیا انعام دیتا؟
آج سماج میں زندگی تباہ کرنے کے ہزار جال بچھے ہوئے ہیں۔ ویڈیو گیم، ٹی وی، سنیما، موبائل انٹرنیٹ اور اس میں فحش مناظر۔ نئی نسل کے حسین اور کارآمد اوقات مہمل ضائع ہو رہے ہیں۔ تعلیم کا زمانہ حقیقت میں بننے یا بگڑنے کا زمانہ ہے۔ پڑھنے والے نوجوان قوم کا مستقبل اور ملت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر ان کے اوقات کا ایک بڑا حصہ چائے خانوں میں، ہوٹلوں میں، فضول مجلسوں میں، گھنٹوں گپ بازی میں گزرے تو بھلا وہ ملت کیسے سر اٹھا کر جی سکتی ہے۔ کسی ملت کا مستقبل کیا ہوگا اس کا اندازہ کرنا ہو تو اس ملت کی نوجوان نسل دیکھ لو، آپ آسانی سے جان جاؤ گے کہ اس کے ساتھ آگے کیا ہونے والا ہے۔ کیا ہمیں احساس بھی ہے کہ ہم کن خطرات سے دوچار ہیں؟
مصیبت سامنے ہو تو دو طرح کا ردعمل بالعموم ظاہر ہوتا ہے۔ یا تو بہادری سے مقابلہ کیا جائے، یا شترمرغ کی مانند سر چھپا لیا جائے۔ شاید آج ہمارے شترموغوں نے اسی لیے موبائلوں، فلموں، گانوں اور معاشقوں میں سر گھسا رکھا ہے۔ دیکھنے کی بات ہے کہ یہ نشہ کب اترتا ہے۔ حالات کی مار سے یا اللہ کی پکار سے۔
*کبھی اے نوجواں مسلم تدبر بھی کیا تو نے*
*وہ کیا گردوں تھا کہ جس کا ہے تو ٹوٹا ہوا تارا*
*تجھے آباء سے اپنے کوئی نسبت ہو نہیں سکتی*
*کہ تو گفتار، وہ کردار، تو ثابت، وہ سیارہ*
16/04/2022
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Telephone
Website
Address
Sohawa-Chawal Road
Chakwal
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 14:00 |
| Tuesday | 09:00 - 14:00 |
| Wednesday | 09:00 - 14:00 |
| Thursday | 09:00 - 14:00 |
| Friday | 09:00 - 23:00 |
| Saturday | 09:00 - 14:00 |