08/06/2025
جب مرد ختم ہو جائیں گے اور عورتیں صرف پناہ مانگیں گی! - بلال شوکت آزاد
دنیا کی تاریخ ہزاروں سال پر پھیلی ہوئی ایک کہانی ہے, ایک ایسی کہانی جس میں سلطنتیں بنتی اور اجڑتی رہیں، مذاہب ابھرتے اور غروب ہوتے رہے، اور انسان کبھی مٹی میں جھکتا، کبھی آسمان سے باتیں کرتا رہا۔ مگر ان سب داستانوں میں ایک کردار ہمیشہ مرکزی رہا,
"مرد"
مرد صرف ایک جنس نہیں، وہ تمدن کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ اگر عورت زندگی کو جنم دیتی ہے، تو مرد اس زندگی کو تحفظ دیتا ہے، سمت دیتا ہے، راستہ دیتا ہے۔ اگر عورت محبت کا دریا ہے، تو مرد اس دریا کے کنارے بناتا ہے تاکہ محبت برباد نہ ہو جائے۔ اگر عورت دعا ہے، تو مرد وہ سجدہ ہے جس پر دعا قبول ہوتی ہے۔
لیکن آج؟
مرد ختم ہو رہے ہیں۔
نہیں، ان کے جسم موجود ہیں, gym میں، پارلیمان میں، فلموں میں، حتیٰ کہ مسجد کی صف میں بھی۔
مگر روح؟
کردار؟
شعور؟
غیرت؟
قربانی؟
قیادت؟
یہ سب اجنبی ہو چکے ہیں۔
یہ تحریر ایک پیش گوئی کا نوحہ ہے, ایک ایسی پیش گوئی جو نبی آخر الزمان ﷺ نے فرمائی، جب آپ نے فرمایا کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ ایک مرد کے پیچھے چالیس عورتیں پناہ مانگیں گی، کیونکہ مرد کم ہوں گے، اور عورتیں کثرت سے۔
یہ تحریر محض حدیث کی تشریح نہیں، یہ ہمارے گرد گونجتے اس سناٹے کی بازگشت ہے جو ہم سننا نہیں چاہتے۔ یہ سچ کا آئینہ ہے, ایک تلخ مگر ناقابل تردید سچ، جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہم کہاں سے گرے، کیوں گرے، اور اگر اب بھی نہ سنبھلے تو انسانی تمدن کہاں دفن ہو جائے گا۔
یہ ایک روحانی مقدمہ ہے, صرف مردوں کے خلاف نہیں، بلکہ ان مردوں کے خلاف جو مرد ہونا بھول چکے۔
یہ عورتوں کی پکار ہے, فقط کسی مرد کے بازو کی نہیں، بلکہ کسی مرد کے کردار کی تلاش۔
یہ سونے کے اس بوجھ کا مرثیہ ہے جو آخری زمانے میں بے قیمت ہو جائے گا، کیونکہ جسے ملنا تھا، وہ مرد ہی نہ رہا۔
آئیے، داخل ہوں اُس جہان میں جو حدیث نے بیان کیا, مگر داخل ہونے سے پہلے، اپنی روح کو پکارتے ہیں:
"کیا میں وہ مرد ہوں… یا فقط ایک کروموسوم کا زندہ لاشہ؟"
خیر, یہ ایک سرد رات کی بات ہے۔
کمرے میں خاموشی تھی۔ سکرین پر ایک مختصر سا جملہ چمک رہا تھا، جیسے کسی آنے والے طوفان کا مقدمہ:
"A time will come to people when a man will go around with gold to give in charity, but he will find no one to accept it, and a single man will be seen followed by forty women seeking refuge with him..."
میں ٹھٹک گیا۔
دل میں جیسے کچھ ہلا۔
یہ الفاظ کسی فلسفی، کسی دانشور، یا کسی شاعر کے نہیں تھے۔ یہ محمدؐ عربی کے الفاظ تھے، جو نہ شاعر تھے، نہ فلسفی, وہ سچائی کے نباض تھے۔ جن کی زبان سے جو لفظ نکلتا، وقت اسے مہر بنا دیتا۔ میں نے پوری حدیث کو پھر سے پڑھا:
> "عن أَبي موسى، قال: قال رسولُ الله ﷺ: "يَأتي علَى النَّاسِ زَمَانٌ يَطُوفُ الرَّجُلُ فِيهِ بصَدَقَةٍ مِنَ الذَّهَبِ، لا يَجِدُ أَحَدًا يَأْخُذُهَا مِنْهُ، ويُرَى الرَّجُلُ الوَاحِدُ يَتْبَعُهُ أَرْبَعُونَ امْرَأَةً، يَلْذَقْنَ بهِ، مِنْ قِلَّةِ الرِّجَالِ، وكَثْرَةِ النِّسَاءِ."
یہ وہی حدیث ہے جو صحیح بخاری 1414 اور صحیح مسلم 1012 میں آئی ہے۔ یہ محض ایک پیش گوئی نہیں۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو ہمارے وقت میں سانس لے رہی ہے، چیخ رہی ہے، اور ہم، پوری دنیا کے مرد، اسے سننے سے انکاری ہیں۔
میں نے وہ حدیث بند کی, پھر ایک اور اسکرین کھولی, وہاں ایک رپورٹ تھی:
"Y chromosome is shrinking. It has already lost over 90% of its genes. Scientists estimate it may disappear in a few million years..."
(Source: Nature Reviews Genetics, Cell Press, University of New South Wales)
میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
کیا ایک نبی کی حدیث اور جدید ترین جینیاتی سائنس ایک ہی بات کہہ رہے ہیں؟
کیا وہ دن, جب ایک مرد، ایک قوم کی آخری امید ہو گا, محض کسی اخلاقی زوال کا تصور ہے، یا اس کے پیچھے جینیاتی تدریج بھی ہے؟
کیا یہ فقط "قیادت" کا بحران ہے، یا "وجود" کا بحران؟
اسی لمحے میں نے قلم اٹھایا, اور اس سفر کی ابتدا ہوئی, جو اس تحریر کی صورت اب آپ کے سامنے ہے۔
میں تحریر کو مختلف ابواب میں لکھ رہا ہوں تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی رہے۔
پہلا باب: حدیث کا منظرنامہ, جب عورتیں مردوں کی پناہ مانگیں گی!
چالیس عورتیں، ایک مرد۔۔۔
ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی فلمی منظر ہے, کوئی فرضی، خیالی دنیا, مگر یہ سچ ہے۔ اور یہ سچ کسی عام انسان نے نہیں کہا، بلکہ اُس نے کہا جو ما ینطق عن الہویٰ نہیں کہتا۔
اس حدیث میں چار شدید اور سنجیدہ مفہوم پوشیدہ ہیں:
1. مردوں کی قلت: یہاں بات صرف جنگ یا بیماری سے اموات کی نہیں، بلکہ مرد کی اصل "معنوی" گمشدگی کی ہے۔
2. عورتوں کی کثرت: جس کا مطلب محض اعدادی برتری نہیں، بلکہ رشتوں میں توازن کا بگڑ جانا ہے۔
3. پناہ کی تلاش: عورت کی فطری جبلت قیادت کے پیچھے چلنے کی متلاشی ہے۔ مگر جب قیادت ناپید ہو جائے، تو وہ فطرت اضطراب بن جاتی ہے۔
4. سماجی انحطاط: جب خیر کے لیے سونا بھی کوئی نہ لے، تو مطلب ہے کہ انسانیت اجتماعی بے نیازی، بےحسی، اور روحانی قحط کا شکار ہو چکی ہے۔
یہ حدیث نہ صرف مردوں کی قلت پر روشنی ڈالتی ہے بلکہ اس نظامِ فطرت کے ٹوٹنے کی طرف اشارہ کرتی ہے جو رب نے آدم اور حوا کی تخلیق کے وقت قائم کیا تھا۔
اب سوال ہے: وہ مرد کہاں جائیں گے؟ اور کیوں جائیں گے؟
دوسرا باب: Y کروموسوم, مردانگی کی خاموش قبر!
انسانی وجود کی جینیاتی بنیاد کروموسومز پر ہے۔ ہر انسان کے جسم میں 23 جوڑے ہوتے ہیں۔ ان میں سے ایک جوڑا جنسی پہچان کا تعین کرتا ہے:
عورت: XX
مرد: XY
مگر یہاں ایک خوفناک فرق ہے۔
ایکس X کروموسوم بڑا ہے، مضبوط ہے، اور اپنے جیسا جوڑا رکھتا ہے۔
وائے Y کروموسوم چھوٹا ہے، کمزور ہے، اور اکیلا ہے۔ اس کے پاس مرمت کا کوئی اندرونی نظام نہیں۔ اگر اس میں خرابی آجائے، تو اسے کوئی اور کروموسوم ٹھیک نہیں کر سکتا۔
ایک سائنسی رپورٹ میں پڑھا:
"In the last 200 million years, Y chromosome has lost over 90% of its genes. It once had about 1400 functional genes. Now only 55–78 remain."
یہ رپورٹیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ Y کروموسوم زوال پذیر ہے۔ مگر ہم نہیں سنتے۔ کیونکہ ہمیں یہ بات صرف حیاتیات کی نہیں لگتی, یہ بات ہماری "مردانگی کی شکست" لگتی ہے، اور ہم شکست کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
پروفیسر جینیفر گریوز Professor Jennifer Graves نے کہا:
"If the current rate of Y chromosome gene loss continues, the chromosome will disappear in 4.6 million years."
تو کیا مرد ختم ہو جائیں گے؟
سوال بہت سادہ ہے۔ مگر اس کا جواب صرف سادہ نہیں، مہلک بھی ہے۔
تیسرا باب: تمدن میں مرد کا زوال, قیادت کی لاش پر عورت کا اضطراب!
جب کسی قوم کا مرد صرف "وجود" کی سطح پر باقی رہ جائے، "وجہ" کی سطح پر نہیں. تو تمدن کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹتی ہے۔
ہم نے اپنی تاریخ میں مردوں کی کمی کبھی نہیں دیکھی تھی، صرف اصل مرد کی کمی دیکھی۔ وہ مرد جو کسی عورت کے لیے سائے دار پیڑ بن سکے، جو بچے کے لیے گھنے بازو، اور قوم کے لیے ستون ہو۔
آج کی عورت کو عددی قلت کی فکر نہیں، معنوی یتیمی کی فکر ہے۔
آپ لاہور کی کسی خاتون سے پوچھیں، اسلام آباد کی کسی خودمختار خاتونِ خانہ سے بات کریں، یا کراچی کی کسی خاندانی بیوہ کو سنیں, سب کی پکار ایک ہی ہے:
"مرد کہاں ہیں؟"
حالانکہ آبادی میں مرد لاکھوں ہیں۔
یہ سوال جسمانی موجودگی کا نہیں، روحانی کمی کا ہے۔
آج عورت کے اردگرد بہت سے مرد موجود ہیں مگر وہ سارے:
یا تو بزدل ہیں,
یا خودغرض,
یا اخلاقی طور پر بانجھ,
یا جذباتی طور پر معذور,
مرد جو بیوی کو تحفظ دینے کی بجائے اس سے تحفظ مانگتا ہے، مرد جو رشتے کو معاہدہ سمجھتا ہے، مرد جو اپنی بیوی کو فالوور مانتا ہے مگر خود لیڈر نہیں بن پاتا, وہ مرد نہیں، صرف Y کروموسوم کا مظلوم بوجھ ہے۔
چوتھا باب: Y کروموسوم کا اخلاقی زوال, جب سائنس روح کو سمجھنے لگی!
جینیات نے یہ تو بتا دیا کہ Y کروموسوم مٹ رہا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیوں؟
یہ حیاتیاتی ارتقاء کا سادہ سا قانون ہے:
"جو عضو بیکار ہو جائے، فطرت اسے ختم کر دیتی ہے۔"
تو کیا Y کروموسوم بیکار ہو چکا ہے؟
یا ہم نے اپنی مردانگی کو بےکار بنا دیا ہے؟
جیسے جیسے ہم "modern masculinity" کی چمکدار جیلوں میں داخل ہوتے گئے، ہم نے اپنی اصل مردانگی کو قید کر دیا۔
ہم نے غیرت کو "toxicity" کہا,
قیادت کو "patriarchy" سمجھا,
قربانی کو "simping" سمجھا,
محافظ بننے کی خواہش کو "possessiveness" کا نام دیا,
اور یوں ہم نے فطرت سے بغاوت کی, اور فطرت نے ہمیں سزا دینا شروع کی۔
جینیاتی طور پر مرد کا زوال فطرت کا احتجاج ہے۔
جس مرد نے عورت کو تحفظ دینا چھوڑا، فطرت نے اس سے طاقت چھین لی۔ جس مرد نے خاندان کی قیادت سے فرار اختیار کیا، اس کے جسم سے قیادت کی زبان, Y کروموسوم, مٹنے لگی۔
پانچواں باب: عورت کیوں چالیس ہو گئی, توازن کیوں بگڑا؟
حدیث میں چالیس عورتیں ایک مرد کے پیچھے کیوں ہوں گی؟
کیونکہ عورت کی فطرت قیادت کی متلاشی ہے۔ اگر ایک مرد چالیس عورتوں جتنی قیادت، محبت، تحفظ اور یقین دینے کے قابل ہو, تو وہ سب اس کی طرف کھینچیں گی۔
یہ کوئی جنسی منظر نہیں، جیسا کہ کم عقل ملحد سمجھتے ہیں۔ یہ قیادت کی معاشرتی انتہاپسندی ہے۔
آج کی عورت کی سب سے بڑی محرومی مرد نہیں, مرد کا غیرموجود ہونا ہے۔
جو شوہر ہے مگر شوہر جیسا نہیں,
جو باپ ہے مگر باپ جیسا نہیں,
جو بھائی ہے مگر بھائی جیسا نہیں,
جو بیٹا ہے مگر بیٹے جیسا نہیں,
عورت کے گرد مرد تو ہیں, مگر ان میں مردانگی نہیں۔
ایسی صورت میں، اگر کوئی مرد اصل مرد ہو, تو چالیس عورتیں اس کی طرف لپکیں گی، اس سے نکاح کے لیے نہیں، پناہ کے لیے۔
چھٹا باب: روحانی مرد, جو وقت کے خلاف کھڑا ہوتا ہے!
اب سوال یہ ہے: کیا ہم کچھ کر سکتے ہیں؟
کیا ہم Y کروموسوم کو بچا سکتے ہیں؟
کیا ہم اس حدیث کے منظرنامے کو بدل سکتے ہیں؟
کیا ہم قیامت سے پہلے مردانگی کی قیامت کو روک سکتے ہیں؟
جی ہاں. ایک مرد روک سکتا ہے۔
جس نے:
خود کو جینیاتی غلامی سے آزاد کیا ہو,
اپنی بیوی کے لیے صرف محرم نہیں، ولی بھی ہو,
اپنی بیٹی کے لیے صرف کفیل نہیں، محافظ بھی ہو,
اپنی ماں کے لیے صرف بیٹا نہیں، سجدہ گزار بھی ہو,
اپنی قوم کے لیے صرف شہری نہیں، سپاہی بھی ہو,
ایسا مرد وقت کے دھارے کو موڑ سکتا ہے۔ کیونکہ وہ Y کروموسوم کا علمبردار ہے۔ اور وہ اللہ کے رسولؐ کی اس حدیث کو جھٹلانے نہیں، سمجھنے آیا ہے۔
(تسلسل — حصہ سوم)
جب مرد ناپید ہو جائیں گے: ایک حدیث، ایک کروموسوم، اور انسانیت کی روحانی قبر
تحریر: بلال شوکت آزاد
ساتواں باب: جب سونا بیکار ہو جائے گا, اخلاقی افلاس کا آخری منظر!
سونے کی قیمت ختم ہو جائے؟
یہ بات کیسی لگتی ہے؟
عجیب، ناقابل یقین، بلکہ پاگل پن سی۔
مگر حدیث نے یہی کہا:
"ایک وقت ایسا آئے گا کہ ایک شخص ہاتھ میں سونا لے کر زکوٰۃ دینے نکلے گا مگر کوئی لینے والا نہ ہوگا۔"
یعنی سونا. جو آج بھی دنیا کی معیشت کا ستون ہے، جس پر جنگیں لڑی گئیں، سلطنتیں بنی اور اجڑی, ایک دن بیکار ہو جائے گا۔
لیکن کیوں؟
کیونکہ جس معاشرے میں مرد نہ ہوں، وہاں سونا کام نہیں آتا۔
سونا اگر کسی باعزت مرد کے ہاتھ میں ہو تو وہ:
زکوٰۃ دے گا,
صدقہ کرے گا,
حلال روزی کمائے گا,
خاندان بنائے گا,
نسل سنوارے گا,
قوم اٹھائے گا,
مگر اگر مرد نہ ہو, یا مرد ہو مگر کردار نہ ہو, تو وہ سونا:
یا بینک میں پڑا سڑتا ہے,
یا جوا خانے میں برباد ہوتا ہے,
یا حرام میں بہتا ہے,
یا معاشرے میں فساد پیدا کرتا ہے,
یہی حدیث کا نکتہ ہے۔ کہ جب اصل مردانگی ختم ہو جائے گی، تو معاشی نظام کا توازن بھی بگڑ جائے گا۔ لوگ ہوں گے مگر سونا قبول کرنے والے نہیں ہوں گے، کیونکہ اخلاقی نظام دم توڑ چکا ہوگا۔
آٹھواں باب: جنس کا غلبہ اور روح کا زوال!
جدید معاشرے نے مرد کو صرف "male" بنا کر چھوڑ دیا ہے، "man" نہیں۔
میل "Male" وہ ہے جو حیاتیاتی طور پر مرد ہو, مگرمین "Man" وہ ہے جو:
شعور رکھتا ہو,
قیادت کا جذبہ رکھتا ہو,
قربانی کی فطرت رکھتا ہو,
دین کے اصولوں پر کھڑا ہو,
عورت کے لیے راحت ہو، خوف نہ ہو,
بچوں کے لیے سایہ ہو، بوجھ نہ ہو,
سماج کے لیے انصاف ہو، فساد نہ ہو,
جب مرد "male" بن جائے اور "man" نہ رہے, تو معاشرہ صرف "sexual species" بن جاتا ہے، spiritual species نہیں رہتا۔
عورتوں کو مرد چاہیے، صرف مرد کا جسم نہیں۔
قوموں کو رہنما چاہیے، صرف شہری نہیں۔
نظام کو محافظ چاہیے، صرف تنخواہ دار نہیں۔
اور یہی وہ خلا ہے جس میں عورتیں ایک مرد کے گرد جمع ہوں گی، کیونکہ وہ واحد ہوگا جو "man" ہوگا۔
نواں باب: حدیث کا المیہ, جنسی نہیں، تمدنی ہے!
بعض کم فہم لوگ اس حدیث کو جنسی استعارہ سمجھتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ حدیث:
کسی جنسی فتنہ کی خبر نہیں دے رہی,
یہ معاشرتی و تمدنی بربادی کی خبر دے رہی ہے,
یہ اس لمحے کی تصویر کھینچ رہی ہے جب عورت کو پناہ نہیں ملے گی,
اور مرد صرف گنتی کے چند بچیں گے,
یہ حدیث یوں سمجھیں جیسے:
"ایک شخص پانی لے کر صحراء میں کھڑا ہے اور لوگ مر رہے ہیں مگر پانی پینے والا کوئی نہیں, کیونکہ سب مر چکے ہیں۔"
اسی طرح جب مرد کا کردار، شعور، روحانیت اور مردانگی ختم ہو جائے, تب عورت کو مرد نہیں ملے گا، بلکہ صرف جسموں کا ہجوم ہوگا۔
دسواں باب: سائنسی تمدن اور روحانی قبرستان!
سائنس Y کروموسوم کے زوال کو "genetic inevitability" مانتی ہے۔
اسلام اسے روحانی بغاوت کا نتیجہ مانتا ہے۔
آج جو مرد خود کو مرد سمجھتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ اپنے DNA سے پہلے اپنے دل کا جائزہ لے:
کیا وہ اپنی ماں کے لیے قربانی کا جذبہ رکھتا ہے؟
کیا وہ بیوی کے لیے روٹی سے پہلے تحفظ فراہم کرتا ہے؟
کیا وہ بیٹی کے لیے تربیت کا ہنر جانتا ہے؟
کیا وہ دوستوں کے لیے غیرت مند دیوار ہے؟
کیا وہ اللہ کے آگے جھکتا ہے؟ یا صرف دنیا کے آگے؟
اگر ان سب کا جواب "ہاں" ہے, تو وہ مرد ہے۔
اگر ان میں سے کچھ کا بھی جواب "نہیں" ہے, تو وہ فقط ایک جینیاتی مظلوم ہے جو Y کروموسوم کے خاتمے میں شریک جرم ہے۔
گیارھواں باب: عورت کا اضطراب, قیادت کی خلاء!
عورت کا اضطراب جنسی نہیں, تمدنی ہے۔
اسے بچے پیدا کرنے سے نہیں ڈر لگتا, بغیر باپ کے بچے پیدا کرنے سے ڈر لگتا ہے۔
اسے شادی سے نہیں ڈر, بےوفا شوہر سے ڈر ہے
اسے مرد سے نفرت نہیں, مرد کے غیر موجود ہونے سے نفرت ہے
اسے تنہائی سے خوف نہیں, بغیر محافظ کے تنہائی سے خوف ہے
عورت جانتی ہے کہ جب مرد فقط مردانگی کے ہارمونز پر جینے لگے، اور روحانی و اخلاقی صفات سے خالی ہو جائے, تب زنا عام ہو گا، طلاقیں بڑھیں گی، بچے نفسیاتی مریض ہوں گے، اور عورت کی پکار سننے والا کوئی نہ ہوگا۔
تب ایک عورت نہیں, چالیس عورتیں ایک مرد کے گرد ہوں گی، کہ
"ہمیں سنبھال لو!"
بارھواں باب: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ اور کہاں گر رہے ہیں؟
آج کی نسل کا مرد:
اپنا جسم gym میں بناتا ہے مگر کردار گھر میں گراتا ہے,
عورت سے حقوق مانگتا ہے مگر ذمہ داریاں بھول جاتا ہے,
ماں کو چھوڑ کر محبوبہ کے پاؤں دھوتا ہے,
باپ سے شرماتا ہے اور TikTok پر ننگا ہوتا ہے,
قرآن کو طاق پر رکھ کر Netflix کو قرآن مانتا ہے,
اور وہ سمجھتا ہے کہ وہ مرد ہے؟
نہیں۔ وہ تو صرف Y کروموسوم کا مسافر ہے, جو آخری منزل پر جا کر فنا ہو جائے گا۔
تیرھواں باب: ایک مرد، ایک امت!
اگر ایک مرد اپنی مردانگی کو قرآن و سنت کی روشنی میں سنوار لے، تو وہ:
چالیس عورتوں کا محافظ نہیں, چالیس نسلوں کا معمار بن سکتا ہے,
سونے کا محتاج نہیں, اخلاقی قیادت کا خزانہ ہے,
جنسی شہوت کا شکار نہیں, روحانی قیادت کا علمبردار بن سکتا ہے,
اللہ نے مرد کو "قوّام" بنایا ہے, صرف تنخواہ دینے والا نہیں، تحفظ دینے والا۔
اگر تم آج سچے مرد بن جاؤ، تو کل حدیث کا وہ خوفناک منظر مٹ سکتا ہے۔
اگر تم نے اپنے DNA سے پہلے اپنے دل کو پاک کیا, تو تم فطرت کی طرف لوٹ سکتے ہو۔
چودھواں باب: حتمی سوال, ہم کیا بچا سکتے ہیں؟
ہم Y کروموسوم کو بچا سکتے ہیں؟
شاید نہیں۔
مگر ہم مردانگی کو بچا سکتے ہیں, اور یہی اصل نجات ہے۔
اگر ہم نے اپنی نسل کو صرف حیاتیاتی بقاء نہیں، اخلاقی شعور دیا,
اگر ہم نے بیٹیوں کے لیے بیٹے سنوارے,
اگر ہم نے بیوی کے لیے شوہر پیدا کیے,
اگر ہم نے قوم کے لیے سپاہی اور ولی پیدا کیے,
تو پھر حدیث کی پیش گوئی تقدیر ضرور ہو گی, مگر ہم اس تقدیر کا حصہ نہیں ہوں گے, ہم اس کے خلاف گواہ ہوں گے۔
آخری باب: پکار, اے مردو، لوٹ آؤ!
قرآن کی طرف لوٹو۔
سنت کی طرف لوٹو۔
غیرت کی طرف لوٹو،
محبت کی طرف لوٹو،
قیادت کی طرف لوٹو،
قربانی کی طرف لوٹو،
دیانت کی طرف لوٹو,
مردانگی کی طرف لوٹو۔
کیونکہ اگر تم نہ لوٹے, تو پھر تم بھی ان مردوں میں سے ایک ہو جو عورتوں کی چیخوں کے دوران کہیں فنا ہو چکے ہوں گے۔
اور تب وہ ایک مرد, جو چالیس عورتوں کے درمیان ہوگا, شاید تم نہ ہو۔
خیر, ہم نے وہ وقت بھی لکھ دیا جب سونا مٹی ہو جائے گا، جب پناہ عورت کی فطرت بن جائے گی، اور قیادت کسی ایک مرد میں بھی باقی نہ رہے گی۔
ہم نے حدیث کی اس پیش گوئی کو سائنسی تحقیق، معاشرتی تنزل، روحانی زوال، اور مردانہ کردار کی نابودی کے آئینے میں پرکھا ہے۔
ہم نے یہ بھی جان لیا کہ یہ وقت آنے والا نہیں, بلکہ آ چکا ہے۔
مگر اب سوال یہ ہے:
کیا ہم ابھی بھی بےحس رہیں گے؟
کیا ہم صرف خبروں، سرویز، اور سماجی میڈیا کی پوسٹوں تک محدود رہیں گے؟
کیا ہم صرف عورتوں کی بڑھتی تعداد، وائے کروموسومز کی کمی، اور مردوں کی اخلاقی موت کو دیکھ کر افسوس کریں گے؟
یا پھر… کیا ہم ان معدودے چند مردوں میں شامل ہونے کی جرات کریں گے جنہیں آنے والی چالیس عورتیں پناہ کے لیے تلاش کریں گی؟
یہ عورتیں صرف جسمانی تحفظ نہیں مانگ رہیں۔
یہ عورتیں کسی جنگل سے بھاگتی خواتین نہیں۔
یہ ماں بھی ہیں، بہن بھی، بیٹی بھی، بیوی بھی۔
اور سب سے بڑھ کر انسانی تمدن کی بقا کی واحد امید بھی۔
وہ مرد جس کی تلاش ان چالیس عورتوں کو ہے, وہ کوئی عام مرد نہیں۔
وہ "کثرت" کا بندہ نہیں، وہ "کمی" کی معراج ہے۔
وہ بھیڑ میں نہیں ملتا، وہ اکیلا کھڑا ہوتا ہے،
اپنے رب کی بندگی میں، اپنی عورت کی ذمہ داری میں، اپنے بچوں کے لیے قربانی میں،
اور اپنے زمانے کے خلاف ایک خاموش بغاوت میں۔
آخری سوال پھر یہی ہے:
کیا تم وہ مرد ہو؟
یا
تم بھی اس سونے جیسے ہو, جو بظاہر چمکتا ہے، مگر کوئی لینے کو تیار نہیں؟
اگر تم آج بھی خود کو صرف "مرد" سمجھتے ہو، تو یاد رکھو:
کل تمہارے ارد گرد چالیس عورتیں ہوں گی…
اور تمہاری جھولی میں سونا…
مگر کوئی بھی تمہیں مرد ماننے کو تیار نہ ہو گی۔
اگر تم چاہو تو آج سے، اسی لمحے سے خود کو بدل لو۔
اپنے اندر وہ روحانی قیادت، اخلاقی قربانی، فکری بلوغت، اور جذباتی تحفظ پیدا کرو, جس کے بغیر کوئی مرد… مرد نہیں، اور جس کے بغیر کوئی عورت… عورت نہیں رہتی۔
اب فیصلہ تم پر ہے۔
زمانہ آگے بڑھ رہا ہے، حدیث سچ ہو رہی ہے،
اور وقت...
ختم ہو رہا ہے۔
copy