Jammat Islah-ul-Muslimin Chakwal
This Page contains the content according to Jammat Islah Ul Muslimeen Pakistan
مرکز عشق و محبت ❣️
وادی اللہ آباد
ایسا لگتا ہے کہ واقعے ہی اس کو اللہ نے کسی خاص مشن کے لیے آباد کیا ہے۔۔
وہ دربار جس کی بنیاد ہی محبت پہ رکھی گئی بلکہ یوں کہوں تو غلط نہ ہو گا کہ یہ درگاہ نفرت کے نام سے واقف ہی نہیں اور یہ ہی حال یہاں بسنے والوں کا ہے
یہ دربار بزرگان نقشبد کی اس سنت کو تازہ کیے ہوے ہے کہ کوئی آے تو اس سے اس کا مسلک حتاکہ اس کا مذہب بھی نہ پوچھو بلکہ اس سے پوچھو کہ آپ نے کھانا کھایا نہیں تو اس کا کھانا بیش کریں۔
یہ وہ دربار ہے کہ جہاں عشق رسول پیالوں سے نہیں بلکہ سمندر دکھا دیا جاتا ہے اور کہا جاتا آو جتنا دل ہے سیراب ہو لو۔۔
یہ وہ دربار ہے جہاں ابو بکر صدیق جیسی محبت سکھائی جاتی ہے
جہاں عمر جیسی جرات سکھائی جاتی ہے
جہاں عثمان غنی کی حیا ہر طرف نظر آتی ہے
کہ جہاں علی کا علم تقسیم کیا جاتا ہے ۔۔۔
تو آو ان اللہ والوں کے در پہ جنہوں نے توڑنا سیکھا ہی نہیں بس جوڑتے چلے جاتے ہیں جوڑتے چلے جاتے ہیں ان کا تو جولاہوں والا ہے۔
خضری عمر لگ جائے میرے پیر کو
یار کا آستانہ سلامت رہے
آمین
سگ در اللہ آباد
23/03/2026
سلسلہ نقشبندیہ
اہل السنۃ والجماعۃ کے تمام مسالک برحق ہیں۔ قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور دوسرے طریقے، انکے مشائخ قابل قدر و قابل تعظیم ہیں۔ لیکن صوفیائے کرام کے دوسرے سلاسلِ طریقت سے طریقہ عالیہ نقشبندیہ کو کئی وجوہ سے فضیلت حاصل ہے۔
اول: اس سلسلہ کے سالارحضرت ابوبکرؒ صدیق رضی اللہ تعالی اوراسکی ابتدا میں ذکر قلبی ہے، جس میں جذب ربانی ہے۔ جبکہ ذکر زبانی میں سلوک ہے۔ جذب اور سلوک دو علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں۔ سلوک میں بندہ ذکر اذکار اور ریاضت و مجاہدہ کے ذریعے خدا تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ جذب میں جو کہ ذکر قلبی کے ذریعے پیدا ہوتا ہے، خدا خود بندہ کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔
مولانا عبدالرحمٰن جامی نقشبندی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
نقشبندیہ عجب قافلہ سالار انند
کہ برند از رہِ پنہاں بحرم قافلہ را
از دلِ سالک رہِ جاذبۂ صحبتِشاں
می برد وسوسۂ خلوت و فکر چلہ را
(حضرات نقشبند عجب قافلہ کے سالار ہیں کہ اپنے متعلقین کو پوشیدہ طریقہ سے بارگاہ الٰہی تک لیجاتے ہیں۔ انکی صحبت کی کشش سالک کے دل سے خلوت کے خیال اور چلہ کشی کے فکر کو ختم کردیتی ہے۔)
دوم: سلسلہ نقشبندیہ کی فضلیت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سلسلہ میں اتباع رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ کی ترقی و کمال کا تمام تر انحصار اتباعِ سنت پر ہے اور قرآن پاک کے ارشاد کے مطابق محبوبیت الٰہی کے مقام پر فائز ہونے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہ اے محبوب صلّی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو بتائیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری تابعداری کرو اللہ تمہیں اپنا دوست بنائے گا۔
سوم: سلسلہ نقشبندیہ کے اقرب طرق یعنی خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا سب سے نزدیکی راستہ ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے کا وسیلہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ہیں جو کہ انبیاء علیہم السلام کے بعد تمام مخلوقات میں سب سے افضل ہیں۔ ظاہر ہے وسیلہ جس قدر قوی ہوگا راستہ اتنی ہی جلدی اور آسانی سے طے ہوگا۔
چہارم: جہاں پر دوسرے طریقوں کی انتہا ہوتی ہے وہاں سے اس طریقہ کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس طرح یہ طریقہ وصول الیٰ اللہ کا قریب ترین راستہ ہے۔ حضرت امام ربانی مجدد منور الف ثانی نور اللہ مرقدہ فرماتے ہیں: ”مشائخ طریقہ نقشبندیہ قدس اللہ تعالیٰ اسرار ہم ابتدائے سیر از عالم امر اختیار کردہ اند۔۔۔ تا۔۔ مندرج گشت“۔
ترجمہ: سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے مشائخ نے سیر باطنی کی ابتدا عالم امر سے اختیار کی ہے، عالم خلق کو اسی کے ضمن میں طے کرلیتے ہیں۔ برخلاف دوسرے طریقوں کے مشائخ کے کہ وہ سیرکی ابتدا عالم خلق سے کرتے ہیں اور وہ عالم خلق طے کرلینے کے بعد ہی عالم امر میں قدم رکھتے اور مقام جذبہ میں پہنچتے ہیں۔ یہی و جہ ہے کہ طریقہ نقشبندیہ تمام طریقوں سے اقرب ہے اور یقینی طور پر دوسروں کی انتہا اسکی ابتدا میں ہے۔
اسی موضوع پر حضرت خواجہ احمد سعید فاروقی قدس سرہٗ لکھتے ہیں ”اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ سے لو لگانے کی کمی ہوگئی ہے، اس لیے صوفیائے نقشبند ایسے طالب کو پہلے ذکر قلبی کا طریقہ سکھاتے ہیں اور بجائے ریاضات و مجاہدات شاقہ کے عبادات کا حکم فرماتے ہیں اور تمام حالات میں اعتدال قائم رکھتے ہیں اور ان نقشبندی صوفیائے کرام کی توجہات دوسروں کی کئی چلہ کش توجہات سے بہتر اور اعلیٰ ہوتی ہیں اور طالبوں کو سنت رسول صلّی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور بدعۃ سے اجتناب کا حکم فرماتے ہیں اور جہاں تک ممکن ہوتا ہے ان کے حق میں رخصت پر عمل تجویز نہیں فرماتے۔ اسی لیے ان بزرگوں نے ذکر خفی کو اپنا طریقہ اختیار فرمایا۔
طریقہ کی خصو صیات
ذکرِ خفی:
سلسلہ عالیہ نقشبندیہ بنیادی خصوصیت وہ ذکرِلطائف ہے جو طالببینِ حق کو اپنے شیخ کامل سے ملتا ہے۔ انسان کے وجود میں موجود سات مقامات ہیں کہ جن کو عالم امر سے روحانی نسبت ہے۔ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں بیعت ہونے والے طالبین کا قلب اپنے شیخ کامل کی توجہ سے ذاکر ہوجاتا ہے۔ اسم ذات کا یہ ذکر ہی طالبین میں محبت شیخ اور سنت ِ رسول ﷺ پر دوام بخشتا ہے۔ یہ وہی طریقہ ہے کہ جو صحابہ کرام ؓ اور نبی کریم ﷺ کی صحبت مبارکہ کا طریقہ تھا۔
محبت شیخ
∗ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی امتیازی خصوصیات میں پہلا زینہ متابعت رسول ؐ اور دوسرازینہ محبت شیخ ہے ۔ محبت شیخ کے بغیر کچھ حاصل نہیں ہوتا ۔ طریقہ نقشبندیہ کا دارومدار دو اصولوں پر ہے ۔ پہلا سنت رسول ؐ پر اس حد تک استقامت کر نا کہ اُ سکے چھوٹےاور معمولی آداب بھی ترک نہ ہونے پائیں ۔ اور دوسرا شیخ طریقت کی محبت اور خلوص میں اس قدر راسخ اور ثابت قدم ہو کہ اُ س پر کسی قسم کے اعتراض اورانگشت نمائی کا خیال بھی دل میں نہ لا سکے بلکہ اُ س کی تمام حرکات و سکنات مرید کی نظر میں محبوب دکھائی دیں ۔ اس لئے اگر اللہ تعالیٰ کی مہر بانی اور فضل و کرم سے یہ دو اصول درست ہو گئے تو دنیا وآخر ت میں سعادت اُس کا مقدر ہے۔
صحبت شیخ
صحبت شیخ بھی محبت شیخ کے ضمن میں آتی ہے۔ جس قدر صحبت شیخ زیادہ ہو گی اسی قدر محبت شیخ میں اضافہ ہو گا ۔اسی لئے مشائخ نقشبندیہ نے صحبت شیخ زیادہ سے زیادہ اختیا ر کر نے کی تا کید فرما ئی ہے۔تاکہ طالب شیخ کی مجلس میں رہ کر فیض و برکت حاصل کر ے ۔ حضر ت امام ربانی محبو ب سبحانی مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس طریقہ یعنی سلسلہ نقشبندیہ میں افادہ و استفادہ کا دارومدار صحبت شیخ پر ہے۔ خواجہ نقشبندقد س سرہ‘ نے فرما یا ہےکہ ہمارا طریقہ شیخ طریقت کی محبت پر ہے ۔ اور صحبت کی بہت ہی فضیلت ہے ۔ ہر کہ خوا ہدہم نشینی با خدا او نشیند در حضور اولیاء اصحاب کرام رضوان اللہ اجمعین خیر البشر ؐ کی صحبت کی وجہ سے ہی اولیا ء امت سے افضل ہیں بڑے سے بڑا ولی اللہ بھی صحابی کے درجے سے کم تر ہے ۔ کوئی ولی اﷲ صحابی کےدرجہ کو ہر گز نہیں پہنچ سکتا خوا ہ وہ اویسِ قرنی رحمۃ اللہ علیہ ہی کیوں نہ ہوں۔
رابطہ شیخ
∗ہروقت ہر جگہ قلب میں تصور شیخ کے ذریعے شیخ طریقت سے اپنا رابطہ قائم رکھے ۔کیونکہ بعض اوقات بدنی صحبت میسرنہیں ہو تی تو تصور شیخ سے بھی رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔رابطہ شیخ وہ کیمیاء اثر نسخہ ہے کہ جس کے ذریعے فنا فی الشیخ اور فنا فی الرسولؐ کے بعد فنا فی اﷲ جیسے اعلیٰ مقامات تک رسائی ہو سکتی ہے ۔اور اس سے قربِ الی اﷲ کی منا زل جلد اور سہل طریقے سے طے ہو جا تی ہیں ۔ مر شد کو وسیلہ ٔہدایت جانے اور اُ س کی خیالی صورت بطریق محبت و تعظیم سامنے رکھے ۔جو لوگ شیخ کے ساتھ دل نہیں لگاتے ۔ وہ فیض اور ترقی سے محروم رہتے ہیں ۔ مختلف صوفیائے کرام کے مختلف نظریات ہیں لیکن اکثر صو فیا ئےعظام اس بات پر مشترک و متفق ہیں کہ وحی اور الہام ہی علم کا ماخذ و منبع ہے ۔ صوفیائے کرام تزکیۂ نفس پر زور دیتے ہیں۔ جو عبادات ، مراقبہ، مجاہدہ، عشق اور ترک ِماسوا کے واسطے سے ممکن ہے ۔ کیو نکہ عبادت ریاضت اور مجاہدے سے انسان کی طبیعت ضبطِ نفس کو پالیتی ہے ۔اور جب سالک اس قوت پر حاوی ہو جائے تو دیگر مخالف قوتیں مسخر ہو جا تی ہیں۔ جس کی وجہ سے خواہشاتِ نفسانی قا بو میں رہتی ہیں ۔ حضرت بہاؤالدین نقشبند ؒ فرماتے ہیں۔ ’’جس قدر نفوس ہیں ۔اسی قدر خدا سے ملنے کی راہیں ہیں ۔ ہر نفس اپنی حقیقت سے ملنے کا راستہ رکھتا ہے۔ لیکن دینِ کبریٰ نے بالاتفاق تین راہوں کو اخذ کیا ہے۔ یہ تین راستے سب راستوں سے افضل ہیں ۔ اور انہی راستوں پر چلنے سے لاکھوں ولی اللہ بن گئے۔اور ان کی تصدیق تواتر سے حق الیقین تک پہنچتی ہے یہ راستے بیشک سب راستوں سے افضل ہیں وہ یہ ہیں ۔ (۱)۔ ذکر (۲)۔ فکر (۳)۔ رابطہ شیخ خواجہ معصوم ؒ کا فرمان ہے ’’ذکر رابطہ کے بغیر خدا تک نہیں پہنچاتاالبتہ رابطہ بغیر ذکر کے خدا تک پہنچا دیتا ہے‘‘۔ پس رابطہ شیخ انتہائی عمدہ اور مفید چیز ہے جس کی بنا پر طالب بوجہ اتصالِ روحانی و پرتو ِ کمال باطنی اپنے شیخ سے ایسا کمال حاصل کر لیتا ہے۔ کہ جیسے مہر کی نقل کاغذ پر جلوہ گر ہوتی ہے۔
اصول نقشبندیہ
حضرات نقشبندیہ رحمھم اللہ علیہم نے اپنے طریقہ کی بنیاد گیارہ اصولوں پر پر رکھی ھیں ۔
آٹھ کلمات خواجہ خواجگان حضرت عبدالخالق غجد وانی رحمۃ اللہ علیہ سے
۔۱ ۔ ہو ش در دم ۔ ۲۔ نظر بر قدم ۔ ۳۔ سفر در وطن ۔ ۴۔ خلوت درا نجمن ۔ ۵۔ یاد کر د ۔ ۶۔ باز گشت ۔ ۷۔ نگہداشت ۔۸۔ یاداشت
تین کلمات بانئ سلسلہ نقشبندیہ حضرت خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی بخاری رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہیں
۔۱ ۔ وقوف زمانی ۲۔ وقوف قلبی۳۔ وقوف عددی
ہو ش در دم
∗یہ اصل میں پا س انفاس ہی ہے ۔ یہ کہ سالک کا ہر سانس حضورو آگاہی یعنی ہر دم ہو ش میں ہو ۔ تاکہ کوئی سانس غفلت و معصیت میں نہ گزرے ۔ اور ہر وقت سانس کی حفاظت کر ے تاکہ رابطہ ٹو ٹنے نہ پائے اور وابستگی قائم رہے ۔ حدیث شریف میں ہے ۔کہ ہو شیار وہ شخص ہے کہ جس نے اپنے نفس کو ڈرایا۔ حضرت خواجہ نقشبند بخاری رحمتہ اللہ علیہ نے فرما یا ہے کہ کسی سانس کو ضائع نہ ہو نے دیں ۔ یعنی سانس کے دخول و خروج اور خروج و دخول کے درمیان محا فظت درکار ہے ۔ کہ کوئی غفلت میں نہ گزرے ۔ اگر غفلت محسوس کرے تو استغفارکرے ۔ اورآئندہ غفلت ترک کر نے کا ارادہ کر ے ۔ کیونکہ اسی غفلت کے سبب انسان معا صی کا مرتکب ہو تا ہے ۔ ہو ش دردم تفرقہ اندرونی کیلئے ہے ۔
نظربر قدم
∗یعنی اپنی نگاہ اپنے پاؤں کی طرف رکھنا۔ کیونکہ نیچی نظر رکھنا سنت رسول ؐ ہے ۔ تاکہ نظر کی محافظت ہو سکے ۔ اور کوئی بصری آلائش یا نقش و نگار پردہ و درحسن و جما ل خوبرویاں دل کو پرا گندہ نہ کر سکیں ۔ اس لئے سالک کو راہ چلتے ادھر اُدھر نہ دیکھنا چاہئے ۔ کیو نکہ نظر کی آلو دگی ایک ایسا زہر آلودہ تیر ہے ۔جس سے شکار اور شکاری دونوں ہلاک ہو جا تے ہیں ۔ اور یہ ہلاکت نقص ایمان ہے ۔ رسوائی و تباہی دارین ہے ۔ رنگ برنگ اشیاء دیکھنے سے خیالا ت صالحہ منتشر ہو جا تے ہیں ۔ اور سالک کا مطلو ب سے بر گشتہ ہو کر اپنی منزل سے بھٹک جانے کا اندیشہ ہے ۔ دیگر اس سے مرا دیہ ہے ۔ کہ سالک کا قدم باطن اس کی نظر باطن سے پیچھے نہ رہے۔ سالک اپنی برائی اور نیکی کے قدم کودیکھے اگر برا ئی میں قدم دیکھے تو پیچھے ہٹائے اور نیکی کے قدم کو مزیدآگے بڑھائے۔ وقت رفتن برقدم با ید نظر ہست سنت حضرت خیر ا لبشر اندریں حکمت بس است و بے شمار دیدہ خواہد طالب حق آشکار حضر ت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ فرما تے ہیں ۔ کہ نظر کو نیچے رکھنا یہ مبتدی کے لئے ہے ۔ منتہی پر تو واجب ہے ۔ کہ اپنے حال میں تامل کرے ۔ کہ و ہ کس نبی کے قدم پر ہے ۔ کہ بعض اولیاء سید المر سلین خاتم النبین ؐکے قدم پرہوتے ہیں۔ اور اُن کوپوری جا معیت ِکمالات حاصل ہو تی ہے ۔ اور بعض حضرت مو سیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہو تے ہیں ۔ جب منتہی اپنے پیشوا کو پہچان لے تو چاہئے ۔ کہ اُس کے اپنے حالات اور واقعات اپنے پیشوا کے ساتھ مناسبت رکھتے ہوں ۔ دیگر حضور ؐکے قدم یعنی اسوہ و سنت پر ہر دم نگاہ رکھے کہ میری زندگی حضور ؐ کے قدم یا اسوہ سے ہٹ تو نہیں رہی ۔
سفر در وطن
∗سفر در وطن کے معنی ہیں ۔ اپنے باطن میں سفر کر نا ۔اس سے مراد یہ ہے ۔ کہ انسان کی اصل تخلیق ملکی ہے ۔ جو اس جسد بشری سے پہلے واقع ہو ئی تھی ۔ جب روحی وملکی تخلیق کے بعد ما دی و بشری تخلیق میں روح نے نزول کیا تو وہ روح بھی صفا ت ذمیمہ کا شکار ہو گئی۔ اب اصل وطن کی طرف رجو ع کر نے سے مراد یہ ہے۔ کہ اپنے اند ران صفات حسنہ کو تلا ش کر ے جن کی استعداد اس کے اندر رکھ دی گئی ہے ۔ اور جو اس کی روح کی پہلی کا ئنا ت ہے ۔لہٰذا آدمی صفا ت بشریہ کو چھوڑ کر صفا ت ملکیہ حاصل کرے یعنی طلب جاہ ،بغض، حسد، کینہ کو دل سے نکال با ہر پھینکے اور اپنے دل کو اُن سے بالکل پاک کر دے دوسرے لفظوں میں صفات ذمیمہ سے صفات حمیدہ کی طرف انتقال کرنا ہے ۔کیونکہ جب تک رذائل دل میں بھر ے ہو نگے ۔ تو خدا کا دل میں دخول کیونکر ممکن ہو گا۔ اگر حُبِ خلق کا غلبہ محسوس کرے ۔ تو لاالہ سے نفی ٔمحبت خلق اور الا اللہ سے اللہ کی محبت اس کی جگہ ثبت کرے ۔ چنانچہ اول المؤ منین حضر ت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘فرماتے ہیں ۔جس نے اللہ سے محبت کا مزا چکھا تو اُ س نے اس کو طلب دنیا سے باز رکھا۔ خواجگان نقشبندرحم اللہ اجمعین سفر ظاہری اتنا ہی کر تے ہیں کہ پیر کامل تک پہنچ سکیں ۔ دوسری حرکت جا ئز نہیں رکھتے ۔ اور شیخ سے دوری ہر گز نہیں چاہتے بلکہ آگاہی کے حصول کیلئے نہایت کو شاں رہتے ہیں۔ یہ سیر آفاقی کوسیرانفسی سے طے کر تے ہیں ۔ با قی سلاسل میں سلو ک سیر آفاقی سے شروع ہو تا ہے ۔ سیرانفسی سےابتداء کرنا سلسلہ نقشبندیہ کاخاصہ ہے ۔ اندراج نہایت درہد ایت کے یہی معنی ہیں۔
خلوت در انجمن
∗خلو ت در انجمن کا مطلب یہ ہے ۔ کہ دل سے خدا کے ساتھ مشغول رہے ۔ اور اپنے تمام مشاغل روز مرہ از قسم طعام و قیام اکل و شرب ۔ نشست و بر خا ست ، معاملات فہم وادراک و غیرہ پر اللہ جل شانہ‘ کے ساتھ تعلق کو قائم رکھے ۔ اس کے لئے طہار ت کوئی شر ط نہیں ہے بلکہ رو ز مرہ زندگی میں اللہ تعالیٰ سے اس قدر قربت عین اسلام ہے ۔ اور یہ طلب دنیا کے ضمن میں بھی نہیں ہے۔ تمدنی و معا شرتی زندگی میں جہاں قدم قدم پر معصیت و گمراہی منہ کھولے خلق خدا کو ہڑپ کر رہی ہے۔ فقط اسی طریقہ سے اپنے آپ کو بچایا جا سکتا ہے ۔ چونکہ اسلام ایک دین ہے ۔ ایک نظام زندگی ہے ۔ اس لئے اس میں زندگی کے ہر پہلو سے متعلق ضابطے مو جو د ہیں خلوت درانجمن ہمارے لئے سلسلہ نقشبندیہ نے وہ اصول وضع کر کے دیا ہے ۔ جس پر عمل کر کے ہم تہذیب و تمدن معاشرت ، ثقافت ،اقتصادےات معا شیا ت ، معا ملات غر ضیکہ زندگی کےہمہ گو شوں کو اسلام کے عین مطابق قائم کر کے صحیح اسلامی معا شرت قائم کر سکتے ہیں ۔ ع: دل بہ یار دست بکار خلوت در انجمن سے مرا د یہ بھی ہے کہ پوری کا ئنا ت تو مو جو د ہے ۔ لیکن دل میں ما سوائے اللہ کسی کا خیال تک نہ ہو ۔ ؎ بندگاں باید کہ در وقت سخن قلب با حق قالبے در انجمن ایک بزرگ فرماتے ہیں کہ میں نہ تو عالموں والا لباس پہنتا ہوں۔ اور نہ درویشوں والا تاکہ لو گ مجھے در ویش اورعالم نہ سمجھیں ۔ بلکہ عام لو گوں کا لبا س پہنتا ہوں ۔ تاکہ پہچانا نہ جائوں ۔ صحابہ کبار کا بھی یہی طریقہ کار تھا ۔ کہ عام لو گوں کی طرح رہتے تھے ۔ اور اپنی کوئی خصو صی حیثیت اور شان خود ظاہر نہ فر ما تے تھے ۔ یہی طریقہ خو اجگان نقشبندکا بھی ہے ۔ حضرت خو اجہ احرا ر رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے۔ کہ ذکر میں جہد و اہتما م بلیغ کے ساتھ مشغول ہو نے سے سالک کو پا نچ روز میں یہ دولت اور سعادت نصیب ہو سکتی ہے ۔ خو اجہ خوا جگان حضرت شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خلوت در انجمن ظاہر میں خلق کےساتھ اوربا طن میں حق کے ساتھ ہو نا ہے ۔
یاد کر د
∗یاد کردذکر اورگیان کے ہم معنی ہے۔ مرادیہ ہے کہ اپنے شیخ سے سیکھے ہوئے ذکر بر وقت ادا کرنا ہے ذکر اس کثر ت سے کر ے کہ اللہ جل شانہ‘ کی حضوری حاصل ہو جائے ۔ امام طریقت حضرت شاہ نقشبند رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ذکر سے مقصود یہ ہے ۔ کہ ہمیشہ حضرت حق کے ساتھ حاضر رہے ۔ ذکر غفلت سے باز رکھتا ہے ۔ اسی لئے ابتدائی طور پر ذکر اثبات و نفی یا مجرد ذکر کی تلقین کی جا تی ہے ۔نیز ذکر سے مراد کتاب اللہ و سنت رسول اللہ کی تعلیمات کے علاوہ صفات الٰہیہ کو اپنے معا نی کے ساتھذہن نشین کر نا ہے ۔
باز گشت
∗یعنی رجو ع کر نایا پھر نا اس سے مرا د یہ ہے ۔ کہ تھوڑے تھوڑے ذکر کے بعد تین بار یا پانچ بار مناجات کی طرف رجو ع کر ے حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ ‘کی یہ دعا تھی ۔ الٰہی مقصود من توئی و رضائے تو محبت مغفرت خود بدہ ” اے اللہ میرا مقصو د تو ہی ہے ۔ اوراپنی خو شنودی اپنی محبت اور مغفرت عطا کر۔ حق یہ ہے کہ ذکر اور فکر کے درمیان اگر کچھ غیب سے نظر آئے ۔ تو اُ س پر سالک کو مغرور نہ ہو نا چاہئے ۔ اور اُسے مطلو ب ہی نہ سمجھ لے ۔ کیو نکہ ذات الٰہی تو کجا صفات الٰہی میں سے ایک صفت میں اگر سالک لاکھوں سال گزار دے تو سیر ختم نہ ہو ۔ حضرت شاہ نقشبند قدس سرہ‘ فرماتے ہیں کہ ہر چہ دیدہ شد و دانستہ شد ۔ آں ہمہ غیر است بحقیقت کلمہ لا نفی آں باید کرد ۔ یعنی جو کچھ دیکھا سنا جائے اور جانا جائے وہ سب غیر خدا ہے کلمہ طیبہ کی لا سے سب کی نفی کرنی چاہئے ۔
نگہداشت
∗اس سے یہ مطلب ہے کہ ذاکر اپنے قلب کے خطرات اور احادیث نفس نگا ہ میں رکھے ۔ اور کمال ہو شمندی سے رہے۔اور جو وساوس و خیالات غیر خدا دل میں آئیں ۔ اُن کا ابتد ا ہی سے تدارک کر ے ۔ اور ظہور طبیعت کااس طرف مائل ہو نے کا خطرہ ہے ۔ پھر نجات بھی مشکل ہے حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خطرہ کو ایک ساعت بھی دل میں نہ رکھنا چاہئے ۔بزرگوں کے نزدیک یہ بہت اہم ہے ۔ اولیاء کاملین کو یہ د ولت طویل عرصہ تک حاصل رہتی ہے ۔
یاداشت
∗یاداشت فکر اور دھیان کے ہم معنی ہے ۔ اور اس سے مراد دوام آگاہی بحق سبحانہ‘وتعالیٰ ہے۔ دل میںیہ سوال پیدا ہو سکتا ہے ۔ کہ یاد کرو نگہداشت اور یاداشت میں کیا فرق ہے ۔ نگہداشت میں طالب اپنی کو شش سے اللہ تعالیٰ کی طرف مشغول رہتا ہے ۔ لیکن یا داشت میں بلا کو شش اور خود بخود اللہ تعالیٰ کی طر ف مشغول ومخاطب ہو تا ہے ۔ اوریہ مقام منتہی ان ولایت کو حاصل ہو تا ہے ۔یاداشت حاصل شود بعد از فنا بلکہ حاصل می شود بعد از بقا بعد ازیں غافل نہ باشد یک زباں خواہ باشد فرح و غم سود وزیاں در جماعت اولیاء داخل شودجملہ طُرق اُ و واصل شود اس کے بعد اب تین اصطلاحات جو امام طریقت حضرت شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی طرف سے ہیں اُن کا بیان کیاجا تا ہے ۔
وقوف زمانی
∗وقوف زمانی اور ہو ش دردم تقریباً ہم معنی ہیں ۔ فرق صرف اتنا ہے۔ کہ ہو ش دردم مبتدی کے واسطے ہے ۔ ہر لحظہ اور ہر لمحہ احتیاط ہے ۔اور وقوف زمانی متو سط کیلئے مناسب ہے ۔ کہ کچھ کچھ دیر بعد تامل کرے اور وقوف زمانی سے محاسبہ بھی کیا جا تا ہے۔ کہ نفس کس سمت کو جا رہا ہے ۔
وقوف عددی
∗ وقوف عددی سے مراد سالک کا اثنائے ذکر سے واقف رہنا ہے ۔ اور جب ذکر حق کرے تو طاق عدد پر کرے ۔ نہ کہ جفت عد د پر۔ کیونکہﷲ وترویحب الوتر۔ لیکن ذکر عدد ی کے ساتھ ذکر قلبی بھی ضروری ہے ۔
وقوف قلبی
∗وقوف قلبی سے مرادیہ ہے کہ سالک ہر وقت ہر لحظہ اپنے قلب کی طرف متو جہ رہے ۔ اور قلب خدا کی طر ف متوجہ رہے ۔ تاکہ سب طرف سے تو جہ ٹو ٹ کر معبو د حقیقی کی طر ف ہو جائے ۔ اور وساوس و خطرات دل میں داخل ہی نہ ہونے پائیں ۔ خصو صاًجلسہ ذکر کے دوران اُس کا پورا خیال رکھے ۔ یہاں زندگی کو پیش آنے والے مختلف مراحل میں خدا کے پسندیدہ و نا پسندیدہ کام کا سوال بھی سامنے آتا ہے ۔ گو یا ہر پیش آنے والے امر پر یہ فیصلہ کرے کہ یہ کام خدا کو نا پسند ہے۔ اس لئے مجھے اس کا ترک کر نا ضروری ہے ۔ اور اس میں خدا کی پسندید ہ صور ت یہ ہے جس پر کار بند ہونا میر ے لئے لازمی ہے بس اسی کانام وقوف قلبی ہے ۔ وقوف قلبی شاہ نقشبند بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بہت ضروری ہے اور یہ رکن عظیم ہے ۔ طریقہ سلسلہ نقشبند یہ کا دارومدار اسی پر ہے۔
اسباق نقشبندیہ
شیخ المشائخ حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ اربع انہار میں قیوم ربانی حضرت مجدد الف ثانی نوّر اللہ مرقدہ کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں۔
لطائف عشرہ
انسان دس لطائف سے مرکب ہے جن میں سے پانچ کا تعلق عالم امر سے ہے اور پانچ کا تعلق عالمِ خلق سے ہے۔
لطائف عالم امر یہ ہیں۔ ۱۔ قلب۲۔ روح ۳۔ سر ۴۔ خفی ۵۔ اخفیٰ
لطائف عالمِ خلق یہ ہیں ۱۔ لطیفۂ نفس اور لطائف عناصر اربعہ یعنی ۲۔ آگ ۳۔ پانی ۴۔ مٹی ۵۔ ہوا۔
لطائف عالم امر کے اصول (مرکز) عرش عظیم پر ہیں اور لامکانیت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ان جواہر مجردہ کو انسانی جسم کی چند جگہوں پر امانت رکھا ہے۔
دنیوی تعلقات اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے یہ لطائف اپنے اصول کو بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ شیخ کامل و مکمل کی توجہ سے یہ اپنے اصول سے آگاہ و خبردار ہوجاتے ہیں اور انکی طرف میلان کرتے ہیں۔ اس وقت کشش الٰہی اور قرب ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اصل کی اصل تک، یہاں تک کہ اس خالص ذات یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں جو صفات و حالات سے پاک و مبرّا ہے۔ اس وقت ان سالکین کو کامل فنائیت اور اکمل بقا حاصل ہوجاتی ہے۔
اصلاح لطائف
مشائخ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ قدس اللہ اسرارہم کے یہاں باطن کی صفائی کے لئے سب سے پہلے لطائف عالمِ امر کی اصلاح کا معمول ہے اور اس کے لئے ان حضرات نے تین طریقے مقرر فرمائے ہیں:
طریق اول: ذکر
طریقِ دوم: مراقبہ
طریقِ سوم: رابطہ شیخ
سالکِ طریقت جس قدر ان امور کا زیادہ اہتمام کریگا اسی قدر سلوکِ طریقت میں اسے ترقی حاصل ہوگی اور جس قدر ان امور میں کوتاہی کریگا اسی قدر باطنی راستہ طے کرنے میں اسے تاخیر ہوگی۔
طریق اول: ذکر
ذکر کے دو قسم ہیں۔ اول ذکر اسم ذات۔ دوم ذکر نفی و اثبات۔ ذکر اسم ذات کے اسباق یہ ہیں:
سبق اول: ذکر لطیفۂ قلب
وضاحت: دل انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے، (اس لئے ہمارے مشائخ تلقین ذکر کے وقت اس مقام پر انگشت شہادت رکھ کر تین مرتبہ اسم ذات اللہ، اللہ، اللہ، کہتے ہوئے سالک کے دل پر خصوصی توجہ فرماتے ہیں) ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک اپنے دل کو دنیوی خیالات و فکرات سے خالی کرکے ہر وقت یہ خیال کرے کہ دل اسم مبارک اللہ، اللہ کہہ رہا ہے۔ زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ زبان تالو سے چسپاں رہے اور سانس حسب معمول آتا جاتا رہے، بس اس طرح اپنے خالق و مالک کی طرف دل کا توجہ ہونا چاہئے، جس طرح ایک پیاسا آدمی زبان سے تو پانی پانی نہیں کہتا لیکن اسکا دل پانی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔
فائدہ: لطیفۂ قلب جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ سالک کا دل نفسانی خواہشات کی بجائے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوجائے، غفلت دور ہو اور شریعت مطہرہ کے مطابق عمل کرنیکا شوق پیدا ہو۔ ذکر جاری ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اسکا دل حرکت کرنے لگے یا اسے کشف ہونے لگے، بلکہ ان چیزوں کے درپے ہونا سالک کے لئے مفید نہیں۔ سالک کا اول و آخر مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہئے نہ کہ کشف و کیفیات کا حصول۔
جب سالک کا لطیفہ قلب جاری ہوجاتا ہے تو پیرومرشد مذکورہ طریقہ پر لطیفۂ روح کی تلقین فرماتے ہیں۔
سبق دوم: ذکر لطیفۂ روح
لطیفۂ روح کا مقام داہنے پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے۔ سالک کو چاہئے کہ اس مقام پر بھی اسمِ ذات اللہ، اللہ کا توجہ و خیال کرے۔ لطیفۂ روح جاری ہونے سے باطن کی مزید صفائی ہوتی ہے۔
فائدہ: لطیفہ روح جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ طبیعت میں صبر کی وصف پیدا ہوتی ہے اور غصہ پر قابو کرنا آسان ہوجاتا ہے۔
سبق سوم: ذکر لطیفۂ سرّ
لطیفۂ سر کی جگہ بائیں پستان کے برابر دو انگشت سینہ کی جانب مائل ہے۔ اس لطیفہ میں بھی اسم ذات اللہ کا خیال رکھنے سے ذکر جاری ہوجاتا ہے اور مزید باطنی ترقی حاصل ہوتی ہے۔
فائدہ: لطیفہ سر جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ ذکر کے وقت عجیب و غریب کیفیات کا ظہور ہوتا ہے، حرص و ہوس میں کمی اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
سبق چہارم: ذکر لطیفۂ خفی
لطیفۂ خفی کا مقام داہنے پستان کے برابر دو انگشت وسط سینہ کی جانب ہے۔ اس لطیفہ کے ذکر کے وقت ”یا لَطِیْفُ اَدْرِکْنِیْ بِلُطْفِکَ الْخَفِیِّ“ پڑھنا مفید ہے۔
فائدہ: اس لطیفہ کے جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ صفات رذیلہ حسد و بخل سے بیزاری حاصل ہوجاتی ہے۔
سبق پنجم: ذکر لطیفہ اخفی
اس لطیفہ کا مقام وسط سینہ ہے۔ سابقہ لطائف کی طرح اس لطیفہ میں بھی ذکر کا تصور و خیال کرنا چاہئے۔
20/03/2026
خضری لگ جائے عمری میرے پیر کو 🤍
یار کا آستانہ سلامت رہے🤍
21st March Yaom e Wiladat Huzoor Qibla Alam Mehboob Sajan Sain MZA ❤️ 💫
18/03/2026
انشاء اللّہ کریم
تمام دوستوں کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے
17/03/2026
الحمدللہ روحانی طلبہ جماعت چکوال کی جانب سے حضور قبلہ عالم محبوب سجن سائیں کی یوم ولادت کے حوالے سے جامعہ مسجد الطاہر چکوال میں تقریبا 20 پودے لگا کر حضور کو ایک تحفہ پیش کیا گیا۔ عید کے بعد تقریبا 50 مزید پودے لگائے جائیں گے جس کے بعد کل تعداد 70 ہو جائے گی۔ یہ شجر کاری مہم سجن سائیں کی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے شجرکاری کے حکم کی تعمیل کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ دعا ہے اللہ پاک ہمیں ان پودوں کی حفاظت کرنے کی توفیق دے۔ آ مین۔
23/02/2026
ہم جماعت اصلاح المسلمین اور روحانی طلبہ جماعت چکوال کی جانب سے چکوال کے محترم خلیفہ حافظ عبدالقدیر طاہری صاحب کو صوبہ پنجاب کا بہترین جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے اللہ ہمیں بھی ان کے ساتھ مل کر مرشد کا کام کرنے کی توفیق دے آمین-
22/02/2026
قیامت میں تیرا داغ محبت کے کر اٹھوں گا
تیری تصویر اس وقت بھی کلیجے سے لگی ہو گی❤️
17/02/2026
ہم دل کی گہرائیوں سے محترم خلیفہ حافظ عبد القدیر طاہری صاحب کو صوبہ پنجاب کے بہترین جنرل سیکرٹری منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں
سجیا نقشبندی دربار واہ واہ دمھاں پیاں نے
سج کے بیٹھے نے سرکار واہ واہ دمھاں پیاں نے
14/02/2026
بِسمِ اللہِ الرَّحمٰنِ الرَّحِیم
*بفیضان نظر کرم:* پیر طریقت رہبر شریعت سالار نقشبند سیدی و مرشدی حضور قبلہ عالم محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی
بروز 8 فروری 2026 روحانی طلبہ جماعت چکوال کے دوستوں کی ایک آن لائن میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں مرکزی باڈی کے دوستوں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ روحانی طلبہ جماعت پاکستان کی صوبائی باڈی کے جنرل سیکرٹری جناب محمد فرہاد طاہری نے بھی خصوصی طور پر میٹنگ میں شرکت کی۔
میٹنگ کا باقاعدہ آغاز نعتِ رسول ﷺ اور منقبت سے کیا گیا۔ بعد ازاں مختلف تنظیمی و انتظامی امور پر تفصیلی گفتگو کی گئی اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
میٹنگ میں زیرِ بحث اور طے پانے والے اہم نکات درج ذیل ہیں:
1. عید ملن پارٹی کے انعقاد کے حوالے سے مشاورت
2. شجرکاری مہم کے آغاز اور اس کی منصوبہ بندی
3. روحانی طلبہ جماعت چکوال کا ماہانہ کم سے کم فنڈ طے کیا گیا۔
4. آ ئندہ میٹنگز کے شیڈول کی ترتیب اور اتفاقِ رائے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Website
Address
Chakwal
48800