26/08/2025
میرے ایک عزیز نے ریٹاٸرمنٹ کے بعد نیا گھر بنایا۔ میں انکو مبارکباد دینے گیا۔
جب میں وہاں پہنچا تو دیکھا انکے گھر کے باغیچہ میں ایک ساٸبان لگا ہوا ہے۔ جس کے نیچے کرسیاں اور ٹیبل لگے ہوۓ ہیں۔ جس پر تقریباً پچیس افراد بیٹھے ہوۓ ہیں۔ جب کہ ایک طرف چھوٹے بڑے بچوں کے تین ٹیل لگے ہوۓ تھے۔
میں عزیز سے ملا۔ سلام و دعا کے بعد انہوں نے مجھے بھی اپنے ٹیبل کی ایک کرسی پر بٹھایا۔
پھر انہوں نے کھڑے ہوکر ایک مختصر سا خطاب کیا۔
جس میں انہوں نے کہا ” میں اپنے تمام محلے داروں کو اپنے گھر میں خوش آمدید کہتاہوں۔ آپ کو شاید یہ جان کر خوشی ہو یا عجب لگے کہ گھر بننے کے بعد سب سے پہلے میں نے آپکو اپنے گھر مدعو کیا ہے۔
ابھی رشتہ داروں کو اطلاع نہیں دی انہیں مدعو نہیں کیا، دراصل میں سمجھتا ہوں میری اس خوشی میں سب سے پہلے حصہ دار آپ ہیں۔ آپ سے مجھے یہ خوشی بانٹی چاہیے کیونکہ آپ لوگ ہی ہیں جنہوں نے غاٸبانہ تعاون سے میں یہ تعمیر مکمل کر پایا ہوں۔ اور پھر ساری زندگی تو میں نے آپ کیساتھ گزارنی ہے۔ جبکہ رشتہ دار تو گھڑی دو گھڑی کیلیے ٹھہرتے ہیں۔
اس تعمیر کے دوران آپ کا ہی احسان ہے کہ آپ نے تکلیف برداشت کی۔ آپ نے مجھے اپنے گھر کے سامنے اینٹ روڑا پتھر، ریت بجری پھینکنے دی۔
آپ نے مجھے گلی بند ہونے پر برا بھلا نہیں کہا۔ بلکہ آپ تکلیف برداشت کرتے رہے متبادل راستہ اختیار کرتے رہے۔
چھت ڈالنے والے دنوں میں چودھری صاحب اور خان صاحب کو گاڑی گلی سے باہر کھڑی کرنی پڑی، میں ہر دوست محلے دار بھاٸی کا شکریہ ادا کرتاہوں۔
میں تمام اپنے محلے کے بچوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ریت بجری وغیرہ ضاٸع نہیں کی۔ کسی چیز کو توڑا نہیں ہے۔ پانی کا پاٸپ ٹوٹنے سے آپکے گراٶنڈ پانی جمع ہوگیا تھا آپکا ٹورنمنٹ خراب ہوگیا۔ لیکن آپ نے ہمیں کچھ نہیں کہا۔
اس طرح انہوں نے فرداً فرداً تمام احباب کا شکریہ ادا کیا۔ یہ منظر دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا۔ اسی دوران چکن قورمہ، نان، بیف پلاٶ اور کھیر میزوں پر لگادی گٸی۔
تمام محلے دار بہت خوش ہوۓ۔ ڈھیر دعاٸیں دیتے ہوۓ رخصت ہوۓ۔ ہر گھر انکے لیے اپنی حیثیت مطابق تحفہ بھی لے کر آیا تھا۔
محلے میں جہاں ایک طرف لاکھوں پتی لوگ رہتے تھے وہیں دیہاڑی دار اور خوانچہ فروش بھی رہتے تھے۔ میرے عزیز نے سب کو برابر عزت و تکریم دی تھی۔
میری حیرانگی میں اضافہ یہ جان کر ہوا کہ میرے عزیز نے مکان شروع کرنے سے پہلے بھی تمام محلے داروں کو چاۓ پر اکٹھا کیا تھا۔
انہیں مکان کی تعمیر متعلق بتایا تھا۔ باقاعدہ ان سے اجازت مانگی تھی۔ ان سے شادی وغیرہ کے بارے پوچھا تاکہ محلے میں بارات وغیرہ کے آنے جانے میں رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
اسی طرح ممکنہ تعمیر کے دوران ہونے والی تکلیف بارے پیشگی معزرت کی تھی۔
میں یہ سب جان کر ایک عجیب سی کیفیت میں مبتلا ہوگیا۔ آج کے اس مارا ماری اور نفسانفسی کے دور میں، جہاں خود پسندی اور خود غرضی عام ہے، وہاں ایسے اچھے انسانوں کو دیکھ کر دل کو سکون ملا جو دوسروں، خصوصاً اپنے محلے داروں کا اتنا زیادہ خیال رکھتے ہیں۔
یہی وہ اعلیٰ صفات ہیں جو عین آقاکریم ﷺ کی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ وہی ارفع اخلاقیات ہیں جنہیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنی عملی زندگی میں اپنایا اور جن کا ذکر ہمیں حیات الصحابہ اور دیگر کتب میں ملتا ہے۔ سبحان اللہ!
ایسا روح پرور منظر دیکھ کر میرا ایمان تازہ ہوگیا۔ میری زندگی کا وہ دن ہمیشہ یادگار رہے گا۔ اس عمل سے مجھے گہری نصیحت ملی اور میں نے پختہ ارادہ کیا ہے کہ ان شاء اللہ اپنی زندگی میں بھی ایسی صفات جس میں رواداری، حسن سلوک، احترام، بردباری، ایثار، عفو و درگزر اور خدمت گزاری جیسے اوصاف شامل ہیں،
اختیار کرنے کی بھرپور کوشش کروں گا۔ بالخصوص محلے داروں کیساتھ ہرممکن اچھا سلوک برتنے کی کوشش کرونگا
26/08/2025
نیل آرمسٹرانگ کا انتقال 25 اگست 2012 کو سنسناٹی میں ہوا۔ اس وقت ان کی عمر 82 برس تھی۔ نیل آرمسٹرانگ لکھتے ہیں کہ جب ہم خلائی جہاز پر سوار ہونے کے لئے نکلے تھے تو میں نے سب کو دیکھ کر اعتماد سے انگوٹھا دکھایا۔ ہم خود اتنے پراعتماد نہیں تھے۔ تھوڑا نروس اور تھوڑا جوش، یہ ملی جلی سی کیفیت تھی۔ راکٹ میں بلند ہوتے وقت بہت شور ہوتا ہے اور اس قدر جھٹکے جیسے کسی ٹرین میں بیٹھے ہوں جو خراب ٹریک پر چل رہی ہے۔ اس مشن کے ساتھ بہت امیدیں وابستہ تھیں اور بہت سے لوگوں کی بڑی محنت لگی تھی۔ آپ کو یہ سب چھوڑ کر صرف ایک چیز پر فوکس کرنا ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ کاک پٹ میں آپ خود کوئی غلطی نہ کریں۔ آپ کے ہاتھ میں بس یہی کچھ ہے۔ میری اپنی زندگی نے اور شوق نے مجھے اس مشن کے لئے تیار کیا تھا۔ بچپن سے ہی اڑنے کا اور جہازوں کا شوق رہا تھا۔ مجھے پائلٹ کا لائسنس سولہ سال کی عمر میں مل گیا تھا۔ اس وقت مجھے گاڑی ڈرائیو کرنا نہیں آتی تھی۔ اکیس سال کی عمر میں میں کوریا کی جنگ میں لڑاکا طیارے اڑا کر مشن پر جایا کرتا تھا۔ جنگ کے بعد ٹیسٹ پائلٹ بن گیا جس کو نئی ٹیکنالوجی کے ساتھ تجربے کرنے کے لئے دئے جاتے تھے۔ ایکس 15 جہاز کو چار ہزار میل فی گھٹنہ کی رفتار سے انتہائی بلندی پر چلانے کا ریکارڈ قائم کیا۔ یہ وہ وقت تھا جب 1962 میں مجھے اپنی تین سالہ بیٹی کی موت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ اس کی موت دماغ کے کینسر سے ہوئی تھی۔ آپ بچے کی موت کو نہیں بھلا سکتے۔ اس کا نشان آپ پر زندگی بھر کے لئے رہ جاتا ہے لیکن اس کا مقابلہ کرنے کا طریقہ زندگی کو مصروف طریقے سے گزارنا ہے۔ یہی وہ سال تھا جب مجھے خلابازی کے لئے چُن لیا گیا۔
خلابازی کی تربیت کے دوران ایک حادثہ 1966 میں ہوا جب ہمارا کیپسول کچھ دیر کے لئے بے قابو ہو کر گھومنا شروع ہو گیا۔ پھر 1968 میں لینڈنگ کی ڈیوائس کے تجربے میں یہ ایک خرابی سے کریش ہو گئی۔ اس سے جب میں نے ایجیکٹ کیا تو یہ زمین سے صرف سو فٹ دور تھی۔ میں بمشکل اس کی آگ کی لیپٹ میں آنے سے بچا۔ باہر نکل کر میں آفس میں جا کر کام کرنے لگا۔ جب کسی نے کہا کہ "تم مرتے مرتے بچے ہو اور واپس کام کرنا شروع ہو گئے ہو؟" تو میرا جواب تھا کہ "مرا تو نہیں، زندگی چلتی رہتی ہے۔ بہت کام کرنے کو پڑا ہے”۔
پہلے مشن کے کمانڈر کے طور پر میرا انتخاب ہو گیا۔ چار روز تک سفر کر کے ہم چاند تک جا پہنچے۔ مائیکل کولنز کمانڈ ماڈیول میں رہے۔ بز آلڈرن اور میں لونر ماڈیول میں سوار ہو گئے۔ لینڈنگ کے دوران کچھ غیرمتوقع ہو گیا تھا۔ گائیڈنگ سسٹم ہمیں ایک گڑھے کی طرف لے کر جا رہا تھا جہاں بڑے پتھر تھے۔ میرے خیال میں یہ اترنے کی مناسب جگہ نہیں تھی۔ میں نے خود کنٹرول سنبھال لیا کہ بہتر جگہ پر اتر سکیں۔ اس سے اضافی ایندھن استعمال ہونے لگا۔ ایک ارب لوگ یہ سب دیکھ رہے تھے۔ زمینی عملے کو لینڈنگ کے فلائٹ پلان کا علم تھا اور یہ لینڈر اس کو فالو نہیں کر رہا تھا۔ اس کو دیکھ کر لوگ کچھ لوگ اب سانس روک کر دیکھ رہے تھے کہ کیا ہو رہا ہے۔ پھر ہم نے اس کو چاند پر اتار لیا اور یہ الفاظ "عقاب اتر چکا ہے" سن کر بہت سے لوگ جن کے پسینے چھوٹ رہے تھے، ان کی جان میں جان آئی۔ پھر میں نے سیڑھی سے اترنا شروع کیا۔ یہ قدم رکھتے ہوئے میرے ذہن میں وہ چار لاکھ افراد تھے جنہوں نے اس مشن کے لئے کام کیا تھا اور بہت سے دوسرے بھی، جن کا حصہ بالواسطہ تھا۔ میرے الفاظ "یہ انسانیت کے لئے بڑا قدم ہے"، ان سب کے لئے تھے کیونکہ یہ قدم مجھ اکیلے کا نہیں تھا۔
چاند ایک بڑا دلچسپ احساس ہے۔ افق بہت پاس لگتا ہے۔ دھوپ اور مٹی مختلف ہیں۔ ہمیں کرنے کے لئے کئی تجربات دئے گئے تھے۔ ہم نے وہ سب کئے۔ بہت زیادہ وقت نہیں گزارا۔ پھر واپسی ہوئی۔ واپس زمین پر انٹری اس سفر کا سب سے مشکل حصہ تھا۔ جب زمین پر پہنچے تو ہم سپرسٹار بن چکے تھے۔ نیویارک میں چالیس لاکھ لوگوں نے ہمارا استقبال کیا۔ پھر ہم دنیا کے ٹور پر نکلے۔ چاند پر پہنچ جانے کی کامیابی ہم خلابازوں کی نہیں، انسانوں کی کامیابی تھی۔ ہم اس میں دنیا بھر کے انسانوں کے نمائندہ تھے۔ کانگو میں لوگوں کے ہجوم سے لے برطانیہ کی ملکہ تک سب ہم کو دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ میں اس سب کے لئے تیار نہیں تھا۔ یہ اچھا تو لگتا تھا لیکن میرے لئے ایک بوجھ تھا۔ مجھے یہ سب پسند نہیں تھا۔
میں اپنی شہرت صرف کسی ایک واقعے کی وجہ سے نہیں چاہتا تھا بلکہ اپنے روز کے کام کی وجہ سے۔ اور اس شہرت کا میں مستحق نہیں تھا۔ اگر میں پہلا شخص تھا جس نے چاند پر قدم رکھا تو اس میں میرا کمال نہیں تھا، حالات کا تھا۔ یہ میرا اکیلے کا کارنامہ تو کبھی نہیں رہا تھا۔ بس شہرت مجھے مل گئی۔ اس کے بعد میں نے اپنا خلابازی کا کیرئیر ختم کر دیا اور سنسناٹی میں یونیورسٹی میں انجینرنگ میں پڑھانا شروع کر دیا۔ مجھے ایک چیز کا افسوس رہا تھا۔ اپنے کیرئیر کی وجہ سے اپنی فیملی کو وقت نہیں دے سکا تھا۔ اپنے بڑھتے بیٹوں کے ساتھ کم وقت گزار سکا۔ مجھے علم تھا کہ اپالو پروگرام کی اپنی زندگی زیادہ لمبی نہیں اور اس کو چند سال کے بعد چھوڑ دینے کا ہی پلان تھا، لیکن خلائی پروگرام سے میری توقعات زیادہ تھیں۔ میرا خیال تھا کہ ہم اس سے کہیں زیادہ کر پائیں گے جتنا ہم نے کیا۔ میری رائے یہ ہے کہ جب آپ کا مقابلہ ختم ہو جائے تو پھر آپ زیادہ نہیں کر پاتے۔ وہ جذبہ اور حوصلہ ماند پڑ جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!
First Man: The Life of Neil A. Armstrong by James R. Hansen
وہارا امبکر
07/08/2025
"مجھے آٹھ بار امریکی ویزا دینے سے انکار کیا گیا… اور آخرکار میں نے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپس میں سے ایک بنائی۔" 🌍💻
میرا نام ایرک یوان ہے۔ میں چین کے ایک چھوٹے سے کان کنوں کے شہر میں پیدا ہوا اور وہیں پلا بڑھا۔ بچپن سے ہی میری یہ خواہش تھی کہ ایسی ٹیکنالوجی بناؤں جو صرف جدت نہ لائے، بلکہ لوگوں کو قریب کرے۔
میری لمبی دوری والی محبت نے میرے وژن کو شکل دی۔ میں اپنی گرل فرینڈ (جو اب میری بیوی ہے) سے سال میں صرف دو بار مل پاتا تھا۔ یہ دوری کا درد میرے دل میں ایک بیج بو گیا:
"ایک دن میں کچھ ایسا بناؤں گا جو فاصلے کے باوجود لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب محسوس کروائے۔" 💔🌐
میں نے سلیکان ویلی کا خواب دیکھا — مگر امریکا نے میرے ویزا کی درخواست کو آٹھ بار مسترد کر دیا۔ بہت سے لوگ ہار مان لیتے۔ میں نے نہیں مانی۔ میں نے انگریزی سیکھنا جاری رکھا، کوڈنگ سیکھی، اور آگے بڑھتا رہا۔ نویں بار میری ویزا درخواست منظور ہو گئی۔
میں نے WebEx میں بطور انجینئر کام شروع کیا، پھر Cisco میں۔ لیکن اس وقت کے ورچوئل میٹنگ پلیٹ فارم سست اور غیر مؤثر تھے۔ میں نے بہتری کے آئیڈیاز دیے — مگر کسی نے توجہ نہیں دی۔ چنانچہ میں نے نوکری چھوڑ دی۔
میں نے صفر سے آغاز کیا، 40 انجینئرز کے ساتھ جنہوں نے میرے "پاگل پن" بھرے خواب پر یقین کیا۔ 💡🔥
اور یوں Zoom پیدا ہوا۔
سرمایہ کاروں نے کہا کہ مارکیٹ پہلے ہی بھری ہوئی ہے، کسی کو دلچسپی نہیں۔ لیکن ہم رکے نہیں — ہم نے مسلسل آزمائش کی، غلطیاں درست کیں، صارفین کی سنی اور بہتری لاتے رہے۔
پھر 2020 آ گیا۔ دنیا بند ہو گئی… اور اچانک Zoom اسکولوں، خاندانوں، دوستوں اور کمپنیوں کے درمیان پُل بن گیا۔
ہر "Join Meeting" بٹن کے پیچھے دس سالوں کے بند دروازے، سخت محنت، اور نہ ہار ماننے والا یقین تھا۔ 🚪⏳
سبق؟
"نہیں" کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اچھے نہیں۔
کبھی کبھار خواب اور عالمی کامیابی کے درمیان فرق صرف اتنا ہوتا ہے:
وہ شخص جو ہار ماننے سے انکار کرتا ہے۔ 💬🏆
ایرک یوان
12/06/2025
مسز بھاٹیا اچاریہ ممبئی میں سرجن تھیں‘ وہ ایک بار ٹرین کے ذریعے بنگلور سے ممبئی جا رہی تھیں‘ انھوں نے راستے میں دیکھا ٹرین کے ٹی ٹی نے تیرہ چودہ سال کی ایک لڑکی کو بازو سے پکڑ رکھا ہے۔ وہ اسے پولیس کے حوالے کرنا چاہتا ہے اور لڑکی رو رہی ہے‘ مسز اچاریہ نے ٹی ٹی کو روک کر ماجرہ پوچھا‘ ٹی ٹی نے بتایا یہ لڑکی ٹکٹ کے بغیر سیٹ کے نیچے چھپ کر سفر کر رہی تھی اور میں نے اسے پکڑ لیا‘ مسز بھاٹیا نے لڑکی کی طرف دیکھا‘ وہ شکل سے معصوم دکھائی دے رہی تھی۔
مسز بھاٹیا نے پرس کھولا‘ رقم نکالی‘ ٹی ٹی سے ٹکٹ کی قیمت اور جرمانہ پوچھا‘ رقم ادا کی‘ لڑکی کو ٹکٹ خرید کر دیا اور اپنے ساتھ سیٹ پر بٹھا لیا‘ لڑکی کا نام سودھا تھا‘ وہ بہت اچھی فیملی سے تعلق رکھتی تھی ‘ گھر والوں سے ناراض ہوئی اور ممبئی کی ٹرین پر چڑھ گئی ‘راستے میں ٹی ٹی کے قابو میں آگئی۔
ممبئی میں اس کا کوئی جاننے والا نہیں تھا‘ مسز بھاٹیا نے لڑکی کو ساتھ لیا‘ راستے سے کھانا کھلایا‘ ممبئی پہنچ کر اسے جوتے اور کپڑے خرید کر دیے‘ اپنے گھر میں رکھا اور پھراس کا خاندان تلاش کر کے اسے فیملی کے حوالے کر دیا۔
یہ ایک چھوٹی سی نیکی تھی‘ مسز بھاٹیا یہ نیکی بھول گئی‘ بیس سال گزر گئے‘ مسز بھاٹیا زندگی میں ترقی کرتے کرتے انٹرنیشنل سرجن بن گئی‘ وہ دنیا بھر میں لیکچر دینے لگی‘ وہ لیکچر کے سلسلے میں سان فرانسسکو امریکا گئی‘ رات کے وقت ڈنر کے لیے کسی ریستوران میں گئی۔
کھانے کے بعد بل مانگا تو ویٹر نے بتایا ’’آپ کا بل ادا ہو چکا ہے‘‘ مسز اچاریہ نے بل ادا کرنے والے کے بارے میں پوچھا ‘ ویٹر نے بتایا‘ آپ کا بل سائیڈ ٹیبل پر بیٹھی خاتون نے ادا کیا ہے‘ مسز اچاریہ مڑیں تو سامنے درمیانی عمر کا ایک جوڑا بیٹھا تھا‘ خاتون اٹھ کر مسز اچاریہ کے پاس آئی‘ جھک کر اس کے پاؤں چھوئے اور بتایا ’’میں سودھا ہوں‘ آپ نے 20 سال پہلے میرا ٹرین کا ٹکٹ ادا کیا تھا‘ آپ اگر اس دن نہ ہوتیں تو میں آج پتا نہیں کہاں ہوتی؟‘‘دونوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئیں اور دیر تک روتی رہیں۔
سودھا کی کہانی نے ٹرین کے سفر کے بعد ایک خوب صورت ٹرن لے لیا تھا‘ اس نے تعلیم حاصل کی‘ انجینئرنگ یونیورسٹی پہنچی‘ بعد میں یونیورسٹی فیلو نارائن سے شادی کی‘ دونوں نے بعدازاں ایک سافٹ ویئر کمپنی بنائی‘ کمپنی کام یاب ہو گئی‘وہ انڈیا کی سب سے بڑی سافٹ ویئرکمپنی بن گئی اور یہ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے ارب پتی ہو گئے۔
اس سودھا کا پورا نام سودھا مورتی اور خاوند نارائن کا پورا نام نارائن مورتی ہے اور ان کی کمپنی کا نام انفوسس لمیٹڈ ہے اور ان دونوں کی بیٹی اکشتا مورتی اس وقت برطانیہ کے پہلے براؤن وزیراعظم رشی سوناک کی بیوی اور انگلینڈ کی فرسٹ لیڈی ہے اوراس اکشتا کا سفر کہاں سے شروع ہوا تھا؟
ریل کے 13 روپے کے ایک معمولی سے ٹکٹ اور مسز اچاریہ کی ایک چھوٹی سی مہربانی سے‘ مسزاچاریہ اگر اس دن اس لڑکی کا ٹکٹ نہ دیتی‘ یہ اسے اس کے والدین تک واپس نہ لاتی تو شاید دنیا میں انفوسس لمیٹڈ بھی نہ ہوتی اور شاید اکشتا بھی اس وقت فرسٹ لیڈی نہ ہوتی۔
یہ کہانی اس حقیقت کی زبردست مثال ہے کہ ٹیلنٹ کا صحیح استعمال زندگی بدل سکتا ہے—مگر پہلا قدم ٹیلنٹ کی شناخت ہے!
🔹 اگر سودھا صرف ایک مشکل کا شکار لڑکی رہتی، تو شاید اس کا سفر کہیں اور رک جاتا۔
🔹 لیکن اس نے اپنی صلاحیت کو پہچانا، سیکھنے کا شوق پیدا کیا، اور درست راستے پر محنت کی۔
🔹 نتیجہ؟ انفوسس جیسی کمپنی بنی، جو لاکھوں لوگوں کو روزگار دے رہی ہے، اور اس کی بیٹی آج عالمی قیادت میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
یہی وہ پیغام ہے جو ہر نوجوان کو سمجھنا چاہیے: آپ کے اندر چھپی صلاحیتیں آپ کو کہاں لے جا سکتی ہیں؟
اگر سودھا نے اپنی قابلیت کو پہچان کر اس پر کام نہ کیا ہوتا، تو وہ شاید آج ارب پتی نہ ہوتی!
02/05/2025
امریکی اداکار "کلنٹ ایسٹ وُڈ" جن کی عمر 95 سال ہے، نے حال ہی میں ایک نہایت اثر انگیز بات کہی:
بڑھاپا واقعی خوفناک ہوتا ہے، ہے نا؟ تم سب اپنی آنکھوں سے یہ سب دیکھ رہے ہو۔ ہڈیاں اب نرمی سے حرکت نہیں کرتیں، آنکھوں کی بینائی روشنی سے تھک جاتی ہے، اور پھیپھڑے جیسے سانس لینے کی مشقت سے فرصت کا موقع ڈھونڈتے ہیں،
لیکن سب سے زیادہ خوفناک اور تھکا دینے والی بات یہ ہے کہ جب تم نوے سال کے ہو جاؤ اور تمہارے پیاروں میں سے کوئی تمہارے پاس نہ ہو، جو بیزاری سے تمہاری فرضی بہادری کی کہانیاں سنے، تم جانتے ہو کہ وہ دلچسپی نہیں لے رہا، لیکن پھر بھی، ایک دادا کے طور پر تم اُن باتوں کو سُنانا چاہتے ہو جو تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے پوتے پوتیوں کے لیے ضروری ہیں۔
خوفناک ہے وہ تنہائی، جب ایک وقت تھا کہ سب تمہیں تلاش کرتے تھے، اور آخرکار، زندگی بھر روشنی کی تلاش کے بعد، نہ تمہیں ایک خاندان ملا، نہ وہ ہاتھ جو بڑھاپے کے اندھیرے میں تمہیں روشنی تک لے جاتا۔
خاندان بناؤ، اس کی فکر کرو۔
شہرت کے پیچھے دوڑنا ایسے ہے جیسے راکھ کو ہوا میں اُڑا دیا جائے،
نہ وہ آگ بنی، نہ وہ اپنی جگہ قائم رہی۔
10/04/2025
انڈونیشیا مسلم آبادی کا ایک بہت بڑا ملک ہے لیکن اُس کے بازار چینی نسل کے ان آباد گاروں کے کنٹرول میں ہیں جو دو صدی پیچھے ہی یہاں آباد ہوئے تھے. ایسا کیوں ہے.؟ میں نے ایک انڈونیشی مسلمان تاجر سے پوچھا تھا.؟
اس نے بتایا وجہ رویہ ہے. مثلاً آپ ایک مسلمان انڈونیشی کے سٹور میں جائیں اور کوئی ایسی چیز ڈیمانڈ کریں جو ان کے پاس دستیاب نہ ہو تو وہ بتائے گا یہ چیز ان کے پاس نہیں. آپ روزانہ جائیں اپنی ڈیمانڈ بتائیں وہ روزانہ انکار کرے گا. لیکن چینی نسل ایسی نہیں ہے. اول تو ان کا رویہ ایسا ہے جیسے آپ ان کی دکان پر گئے تو وہ ایسے بچھ جائیں گے جیسے آپ نے ان پر احسان کر دیا ہو.
ان کے پاس چیز نہیں ہوگی تو یہ کبھی نہیں بولتے کہ یہ آیٹم ان کے پاس نہیں بلکہ کہتے ہیں یہ آوٹ آف سٹاک ہے. پھر آپ کو مختلف متبادل ایسے دکھائیں گے جو آپ کو احساس دے گا کہ یہ بندہ میرا مسئلہ حل کرنے بازار میں بیٹھا ہے. اگلے دن وہ آئٹم بھی اس کے سٹور میں آجائے گا.
نشہ کی لت کے شکار ایک شخص نے کیا ہی خوبصورت بات کی تھی.
بھائی میں نشہ اپنی کمائی سے کرتا ہوں. اپنی صحت اپنی ہی زندگی برباد کرتا ہوں لیکن لوگ مجھے برا کہتے ہیں برا سمجھتے ہیں.
ایسے ہی جو شخص اچھے کام کرتا ہے وہ بھی اپنی ہی ذات کیلئے یہ کرتا ہے. لیکن لوگ اسے اچھا کہتے ہیں اچھا سمجھتے ہیں.
دُنیا کے بازار اور میدان ہمارے شناختی کارڈ نہیں دیکھتے بلکہ ہمارا رویہ چیک کرتے ہیں. ہم میں صلاحیت ہو ہم اچھے ہوں تو دنیا ہمیں اچھا کہتی اور سمجھتی ہے. ہم برے ہوں تو دنیا ہمیں برا کہتی اور سمجھتی ہے. انڈونیشیا کی مارکیٹ پر چینی نسل نے قبضہ نہیں کیا بلکہ گاہک کے اطمینان نے ان کو سربلند کیا ہے. چینی نسل انڈونیشی تاجر کی ناکامی کی ذمہ دار نہیں بلکہ انکا رویہ کامیاب نہیں.
ریاض علی خٹک
07/02/2025
استنبول ترکی میں لیور پول اور اے سی میلان کا فٹ بال میچ ہو رہا تھا. لیور پول ہاف ٹائم تک تین صفر سے ہار رہی تھی. ہاف ٹائم میں لیور پول کا کوچ کھلاڑیوں کے پاس آیا اور کہا.
"اگر تم ہار مان چکے ہو تو باہر نکل جاؤ! لیکن اگر تم واقعی لیورپول کے کھلاڑی ہو، تو جیتنے کے لیے مرو!"لیور پول نے اگلے چھ منٹ میں تین گول کردئے. کیونکہ وہ اب لڑنے کیلئے نکلے تھے.
ارجنٹائن کا مشہور کوچ بیلارڈو جب سیولا کا کوچ تھا تب ان پر میچ کے ابتدائی منٹ میں ہی دو گول ہوگئے. بیلارڈو شدید غصے میں تھا. میچ کے اگلے دن اس نے بچوں کی ایک ٹیم بلائی اور اپنے کلب ٹیم سے کہا تم نے مکمل سنجیدگی سے ان سے میچ کھیلنا ہے. میچ شروع ہوا اور چند منٹ بعد ہی سینئر ٹیم نے بچوں پر ایک گول داغ دیا.
بیلارڈو نے سیٹی بجائی میچ روک دیا. بچوں کو عزت سے رخصت کیا اور پھر اپنی ٹیم سے کہا کم بختو ان بچوں پر بھی ابتدائی منٹ میں دو گول نہیں ہوئے اور تم نے کھا لئے. بیلارڈو جیسے کوچ انتہائی مہنگے ہوتے ہیں. چھوٹے کلب اور چھوٹے ممالک بھی ان کو افورڈ نہیں کر سکتے. اس لئے زندگی پھر عام انسان کی کوچنگ پھر خود کرتی ہے. ان کو وقتاً فوقتاً جھنجھوڑ کر کرتی ہے.
کسی قریبی عزیز کی موت جھنجھوڑ کر بتاتی ہے تمہارے پاس بھی جینے کا وقت کم ہے. ناکامیاں خوابوں کا ٹوٹ جانا تعلقات ختم ہونا رشتوں کا بکھر جانا یہ سب وقت کی کوچنگ ہے. زندگی زندہ لوگوں کی جانج پڑتال کرتی ہے. کون ہار مان کر پیچھے ہٹ گیا اور کون جینے کیلئے اب بھی لڑ رہا ہے. زندگی ان لڑنے والے فاتحین کی قدردان ہے. تاریخ ان کو پھر یاد رکھتی ہے.
ریاض علی خٹک
15/10/2024
افریقہ کے گھاس کے میدانوں میں شیر کے بچے جب کھیل رہے ہوتے ہیں تو بچہ شیر کھیلتے کھیلتے بڑے شیر کے جسم پر اپنے دانت گھاڑ دیتا ہے. تب آپ بڑے شیر کا مشاہدہ کریں تو وہ تکلیف میں ایک دہاڑ مارتا ہے. بچہ شیر خوش ہو جاتا ہے. آپ کا کیا خیال ہے اس بچے کے چھوٹے چھوٹے دانت اس بڑے شیر کی مضبوط کھال کو اتنی تکلیف پہنچا سکتے ہیں.؟
اسکا جواب ہے بلکل نہیں. پھر شیر اتنی تکلیف میں دھاڑ کیوں مارتا ہے.؟ اسکا جواب ہے اس چھوٹے شیر کو یہ یقین دلانے کیلئے کہ اس کے پنجوں اور جبڑوں میں اتنی طاقت ہے جو ایک ایسے شیر کی بھی چیخیں نکال سکتا ہے سارا جنگل جس کی دہشت سے ڈرتا ہے. یہی اعتماد لے کر کل جب یہ بچہ شیر بڑا ہوتا ہے تو بڑے بڑے ریوڑ اس کی ہیبت سے بھاگ رہے ہوتے ہیں.
ہم پرورش کرتے اپنے بچوں کو بڑا تو کر دیتے ہیں لیکن اکثر ان سے اعتماد چھین لیتے ہیں. ہمارا تعلیمی نظام بھی بچوں کا اعتماد کمزور کرتا ہے. مثلاً ہمارے سکول میں ایک استاد شاگردوں کو کوئی مضمون لکھنے کا کہتا ہے تو وہ مضمون چیک کرتے یہ دیکھتا ہے کس طالب علم نے وہ لکھا جو استاد کی طلب کے مطابق ہے. اسے اچھے نمبر دے دیتا ہے اور جس نے استاد کی طلب پوری نہ کی اسے کم نمبر دے دیتا ہے.
فن لینڈ کا استاد جبکہ مضمون میں صرف یہ چیک کرتا ہے میرے طالب علم کی سوچ کہاں ہے. وہ اپنے طالب علم کی سوچ کی کمی بیشی نوٹ کرتا ہے لیکن کسی طالب علم کو نمبر نہیں دیتا. وہاں کا استاد طالب علم کو بنا رہا ہوتا ہے ہمارا استاد اسے اپنی سوچ پر تول رہا ہوتا ہے. جو اس ترازو پر پورا نہ اترے وہ فیل کر دیا جاتا ہے اور اسکا اعتماد کچل دیا جاتا ہے.
یہی کام والدین بھی کرتے ہیں. یہی کام خاندان بھی کرتا ہے. بچے زندگی بھر دوسروں کے معیار پر پورا اترنے کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں. وہ دوڑ جس میں یہ اپنے آپ کو کھو دیتے ہیں. یہ دوڑ جیت جانے والا بھی خوش نہیں اور ہار جانے والے کو ہم لوگ خوش ہونے کا حق ہی نہیں دیتے. کبھی کبھی لگتا ہے ہم سے اچھی تربیت اور پرورش تو افریقہ کے گھاس کے میدانوں کے شیر اپنے بچوں کی کرتے ہیں. بھلے وہ جانور ہی ہیں لیکن ان میں اعتماد تو ہوتا ہے.
اج کل کی ڈائری
سے اقتباس ۔۔۔۔۔۔ کاشف رضا
11/10/2024
مشہورِ زمانہ قوالی (تم اک گورکھ دھندہ ہو) جس کو استاد نصرت فتح علی خان کی آواز نے امر کر دیا لیکن اس کے شاعر کو بہت کم لوگ جانتے ہوں گے ۔آیئے ان کے بارے میں جانتے ہیں ۔
پیدائش :
ان کا اصل نام محمد صدیق اور تخلص ناز تھا۔ ناز خیالوی"جھوک خیالی" نامی ایک گاؤں394 گ ب میں 1947ء میں پیدا ہوئے اور اسی نسبت سے انھیں خیالوی کہا جاتا ہے۔
جھوک خیالی گاؤں ضلع فیصل آباد، صوبہ پنجاب، پاکستان میں تاندلیانوالہ کے نزدیک اور لاہور سے 174 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے
شاگردی :
وہ ایک ممتاز اردو شاعر احسان دانش کے ایک شاگرد تھے۔
نت نئے نقش بناتے ہو ، مٹا دیتے ہو
جانے کس جرم تمنا کی سزا دیتے ہو
کبھی کنکر کو بنا دیتے ہو ہیرے کی کنی
کبھی ہیروں کو بھی مٹی میں ملا دیتے ہو
زندگی کتنے ہی مردوں کو عطا کی جس نے
وہ مسیحا بھی صلیبوں پہ سجا دیتے ہو
خواہش دید جو کر بیٹھے سر طور کوئی
طور ہی ، بن کے تجلی سے جلا دیتے ہو
نار نمرود میں ڈلواتے ہو خود اپنا خلیل
خود ہی پھر نار کو گلزار بنا دیتے ہو
چاہ کنعان میں پھینکو کبھی ماہ کنعاں
نور یعقوب کی آنکھوں کا بجھا دیتے ہو
بیچو یوسف کو کبھی مصر کے بازاروں میں
آخر کار شہ مصر بنا دیتے ہو
جذب و مستی کی جو منزل پہ پہنچتا ہے کوئی
بیٹھ کر دل میں انا الحق کی صدا دیتے ہو
خود ہی لگواتے ہو پھر کفر کے فتوے اس پر
خود ہی منصور کو سولی پہ چڑھا دیتے ہو
اپنی ہستی بھی وہ اک روز گنوا بیٹھتا ہے
اپنے درشن کی لگن جس کو لگا دیتے ہو
کوئی رانجھا جو کبھی کھوج میں نکلے تیری
تم اسے جھنگ کے بیلے میں اڑا دیتے ہو
جستجو لے کے تمہاری جو چلے قیس کوئی
اس کو مجنوں کسی لیلیٰ کا بنا دیتے ہو
جوت سسی کے اگر من میں تمہاری جاگے
تم اسے تپتے ہوئے تھر میں جلا دیتے ہو
سوہنی گر تم کو “مہینوال” تصور کر لے
اس کو بپھری ہوئی لہروں میں بہا دیتے ہو
خود جو چاہو تو سر عرش بلا کر محبوب
ایک ہی رات میں معراج کرا دیتے ہو
ناز خیالوی