جامعہ مسجد رحمۃ للعالمین چک نمبر 155 شمالی

جامعہ مسجد رحمۃ للعالمین چک نمبر 155 شمالی

Share

علم زندگی اور جہالت موت ہے

03/07/2025

سائنس اور مولوی!

ہم مولوی تو ممبر و محراب سے صرف نیک بننے کا کہتے ہیں،
ظاہر ہے نیک بنیں گے تو آگے سارے کام نیک نیتی سے کریں گے، کفار صرف اپنی قوم سے وفاداری کرتے کرتے ترقی کر گئے لیکن ہمارے سائنس پڑھنے والے مسلمان نے بجائے سائنس میں محنت کرنے کے توپوں کا رخ مولوی کی طرف پھیر دیا،
کیا کفار کو یہ طیارے ان کے مذہبی رہنماؤں نے بنا کے دیئے ہیں؟
جب انہوں نے خود بنائے تو تم بھی خود بناؤ،
حرام خور محنت خود نہیں کرتے اور روتے منبر و محراب کو ہیں،
مولویوں نے کیا تمہیں باندھ رکھا ہے؟
یا تمہارے سائنسی اداروں کے چیئرمین مولوی ہیں؟
جب کوئی لینا دینا ہی نہیں تو کوستے کس بات کو ہیں؟
کیا ہم نماز روزے حسن اخلاق قوم سے وفاداری کی تلقین بھی نہ کریں؟
ہمارا کام ہمیں کرنے دو اپنا کام خود کرو،
تمہیں مولوی حافظ قاری چاہییں تو ہم سے بات کریں،
کسی چیز میں دینی رہنمائی چاہیے مولوی سے ملیں ورنہ اپنی دنیا کے امور میں خود مہارت پیدا کریں،
اپنی نالائقی مولوی کے سر مت تھوپیں،
کوئی ایک سائنس کا طالب علم ہی ایسا دکھا دیں جسے مولوی نے سائنس پڑھنے سے کبھی روکا ہو ,!

28/06/2025

گل عہدے دی نئی ، گل عزت تے وقار دی اے

حضرت مولانا قاری فلک شیر صاحب۔

آج ایک شفیق، علمی، باوقار اور فکری استاد حضرت مولانا قاری فلک شیر صاحب جامعہ سے مستعفی ہو کر چلے گئے۔ آپ کا تعلق ضلع سرگودھا کی تحصیل سلانوالی کے ایک گاؤں سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اپنے ہی علاقے میں حاصل کی، اور علومِ عقلیہ و نقلیہ میں مہارت کے لیے ملک کے مختلف جامعات (جامعہ حنفیہ، جامعہ حقانیہ،دارلعلوم الاسلامیہ لاہور) وغیرہ کا سفر اختیار کیا اور کسب فیض فرمایا۔

2014ء میں آپ نے جامعہ دارالعلوم الاسلامیہ، سے حدیث کی تکمیل کی اور سندِ فراغت حاصل کی۔ اس کے بعد کچھ عرصہ آپ لاہور کے ایک جامعہ میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے، بعد ازاں 16اگست2016 کو آپ ہمارے گاؤں 21ج ب رینیکے کی جامع مسجد عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، میں تشریف لائے اور تدریسی سفر کا آغاز فرمایا، ماشاءاللہ حضرت استاد جی کی آمد سے ہمارے گاؤں میں جیسے دین پڑھنے پڑھانے کا اک ولولہ اللہ تعالی کی مہربانی سے پیدا ہوا اور چھوٹا بڑا بڑھ چڑھ کر دین کی تعلیم کے حصول کے لیے کوشاں نظر آیا،
تین بچوں سے شروع ہونے والی کلاس ماشااللہ ترقی کرتے ہوئے ایک سال میں تقریبا 70بچوں پر مشتمل بڑی کلاس بن گئ۔
2017سے ہمارے گاؤں میں مدرسہ جامعہ عمر فاروق جو کہ اس سے پہلے صرف ذہنوں میں تھا اسکا باقاعدہ افتتاح کیا گیا
اورحفظ کی کلاس کا باقاعدہ اجراء ہوا
2025تک ماشااللہ 20طلبا حافظ قرآن ہوے، 48کے قریب طلباء و طالبات نے ناظرہ قرآن کریم مکمل فرمایا۔
اور سب سےخوبصورت بات یہ کے حضرت استاد جی کے پاس تمام مکاتب فکرسےتعلق رکھنے والے احباب تعلیم و مشورہ کے لیے تشریف لاتے اور حضرت قاری صاحب کی اخلاق و شفقت بھری گفتگو سے مستفید ہوتے

تاہم آپ کا زیادہ وقت بچوں کی تعلیم و تربیت میں گزرا۔ یہیں آپ نے نسلِ نو کو علومِ شریعت سے آراستہ کیا۔تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کا اہتمام رکھتے ہر بچے کو نماز،کلمے، پاکی ناپاکی کے مسائل بتانا اور انفرادی توجہ دینا، یہ اللہ تعالی کی طرف سے آپکو ودیعت کردہ خصوصی صفات ہیں،بندہ کو جب بھی آپ کی ملاقات کا موقع ملا، ہمیشہ شفقت و محبت سے نوازا، اور قیمتی نصیحتیں کیں۔ علمی گفتگو میں بے تکلفی، وسعتِ نظر اور حق پسندی آپ کی پہچان تھی۔

کچھ عرصہ قبل بندہ کو اپنے استادِ محترم سے ملاقات کا موقع ملا دورانِ بات چیت فرمایا کہ"تم فیس بک پر بھی میری نظر میں ہو۔
ہمارے جامعہ کی یہ بہاریں 20مئ2025 تک رہیں، اس دن حضرت قاری صاحب ہماری ہی ناقدری کی بنا پر جامعہ کی تمام مصروفیات سے مستعفی ہو کر اپنے آبائ گاؤں واپس چلے گئے ہیں،
الحمدللہ باعزت آۓ اور باوقار گیۓ، اللہ تعالی حضرت استاد جی کو جزاے خیر عطا فرمائے آمین

آج وہ شفیق، درد مند اور عالمِ باعمل ہمارے گاؤں اور جامعہ کو الوداع کہہ چکے ہیں۔
اللہ تعالی آپکی تمام مساعی جمیلہ کو اپنی بارگاہِ عالیہ میں قبول فرمائیں،

29/05/2025

ایک انسان، جسے دنیا ضرار بن ازور کے نام سے جانتی تھی۔
یہ ایک ایسے انسان تھے کہ اس دور میں دشمن ان کے نام
سے کانپ اٹھتے تھے اور انکی راہ میں آنے سے کتراتے تھے۔
جنگ ہوتی تھی تو سارے دشمن اور فوجیں زرہ اور جنگی
لباس پہن کر جنگ لڑتے تھے۔ لیکن آفرین حضرت ضرار ؓ پر
کہ جو زرہ تو درکنار اپنا کرتا بھی اتار دیتے تھے۔۔۔
لمبے بال لہراتے چمکتے بدن کے ساتھ جب میدان میں اترتے
تھے تو انکے پیچھے دھول نظر آتی تھی اور انکے آگے لاشیں۔
اتنی پھرتی، تیزی اور بہادری سے لڑتے تھے کہ دشمن کی
صفیں چیر کر نکل جاتے تھے۔ ان کی بہادری نے بے شمار
مرتبہ سپہ سالار حضرت خالد بن ولید ؓ کو ان کی تعریف
کرنے اور انہیں انعام و کرام دینے پر مجبور کیا۔۔۔
دشمنوں میں وہ ننگے بدن والا کے نام سے مشہور تھے۔
رومیوں کے لاکھوں کی تعداد پر مشتمل لشکر سے جنگِ
اجنادین جاری تھی۔ حضرت ضرارؓ حسب معمول میدان
میں اترے اور صف آراء دشمن فوج پر طوفان کی طرح
ٹوٹ پڑے۔ اتنی تیزی اور بہادری سے لڑے کہ لڑتے لڑتے
دشمن فوج کی صفیں چیرتے ہوئے مسلمانوں کے لشکر
سے بچھڑ کر دشمن فوج کے درمیان تک پہنچ گئے۔۔۔
دشمن نے انہیں اپنے درمیاں دیکھا تو ان کو نرغے میں
لے کر بڑی مشکل سے قید کر لیا۔ مسلمانوں تک بھی خبر
پہنچ گئی کہ حضرت ضرار ؓ کو قید کر لیا گیا ہے۔ حضرت
خالد بن ولید ؓ نے اپنی فوج کے بہادر نوجوانوں کا دستہ
تیار کیا اور حضرت ضرارؓ کو آزاد کروانے کے لیے ہدایات
وغیرہ دینے لگے۔۔۔
اتنے میں انہوں نے ایک نقاب پوش سوار کو دیکھا جو گرد
اڑاتا دشمن کی فوج پر حملہ آور ہونے جا رہا ہے۔ اس سوار
نے اتنی تند خوئی اور غضب ناکی سے حملہ کیا کہ اس کے سامنے سے دشمن پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گیا۔ حضرت
خالد بن ولید ؓ اسکے وار دیکھ کر اور شجاعت دیکھ کر
عش عش کر اٹھے اور ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ سوار
کون ہے؟ لیکن سب نے لاعلمی ظاہر کی کہ وہ نہیں جانتے۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے جوانوں کو اس سوار کی مدد
کرنے کو کہا اور خود بھی مدد کرنے اس سوار کی جانب
لپکے۔ گھمسان کی جنگ جاری تھی کبھی حضرت خالد
بن ولید ؓ اس سوار کو نرغے سے نکلنے میں مدد کرتے
اور کبھی وہ سوار حضرت خالد ؓ کی مدد کرتا۔۔۔
حضرت خالد ؓ اس سوار کی بہادری سے متاثر ہو کر اس کے
پاس گئے اور پوچھا کون ہو تم؟ اس سوار نے بجائے جواب
دینے کے اپنا رخ موڑا اور دشمنوں پر جارحانہ حملے اور وار
کرنے لگا۔ موقع ملنے پر دوسری بار پھر حضرت خالد بن ولیدؓ
نے پوچھا کہ اے سوار تو کون ہے؟ اس سوار نے پھر جواب
دینے کی بجائے رخ بدل کر د ش من پر حملہ آور ہوا تیسری
بار حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس سوار سے اللہ کا واسطہ
دے کر پوچھا کہ اے بہادر تو کون ہے۔۔۔؟
تب نقاب کے پیچھے سے نسوانی آواز آئی کہ میں ضرار ؓ
کی بہن خولہ بنت ازور ؓ ہوں اور اس وقت تک چین سے
نہیں بیٹھوں گی جب تک اپنے بھائی کو آزاد نہیں کروا
لیتی۔ حضرت خالد ؓ نے کہا کہ پہلے کیوں نہیں بتایا تو
کہنے لگی آپ نے منع کر دینا تھا۔ حضرت خالد بن ولیدؓ
نے کہا آپ کو آنے کی کیا ضرورت تھی ہم جو تھے آزاد
کروانے کے لیے تو حضرت خولہ ؓ نے جواب دیا کہ جب
بھائیوں پر مصیبت آتی ہے تو پھر بہنیں ہی آگے آیا کرتی
ہیں۔ پھر مسلمانوں اور حضرت خولہ ؓ نے مل کر حضرت
ضرار ؓ کو آزاد کروا کر دم لیا۔۔۔
گذارش ہے کہ اسلام خون اور قربانیوں کے دریا میں
تیر کر ھم تک پہنچا ہے اس کی قدر کریں جذبہ جہاد
کو زندہ رکھیں کہ جب تک جہاد تھا مسلمان ہمیشہ
غالب رہے جب جہاد چھوٹا تو مسلمانوں پر زوال آیا۔
کم از کم اپنے بچوں کے نام ان اسلام کے ہیروز کے نام
پر رکھیں تاکہ انہیں پتہ چلے کہ ان کا نام کس کے نام
پر ہے اور نام کا اثر شخصیت پر بھی پڑتا ہے۔اور انکی
تربیت ایسے کریں کہ اسلام کا مستقبل روشن کرنے
میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔۔۔
اس بہادر صحابی رضی اللہ عنہ کے نام سے پاکستان
کا مین بیٹل ٹینک الضرّار اور ایس ایس جی میں ایک
گوریلا کمانڈوز کی کمپنی کا نام بھی ضرّار رکھا گیا ہے۔۔۔
تاریخ سے اقتباس

28/05/2025

جہاز اڑان بھرگیا !

اس شخص کے چہرے پر خوشی کی چمک دیکھیے ، کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تقدیر خود انسان کی راہ میں چراغ جلانے لگتی ہے۔ لیبیا کے ایک نوجوان، عامر المہدی کی حج سے جڑی کہانی ! جس نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ نیت اگر خالص ہو، تو کچھ بھی ناممکن نہیں ۔
اس واقعے کو کل ہی الجزیرہ کے پروگرام ,, شبکات ،، میں زیر بحث لایا گیا تو یہ شخص پوری دنیا میں اپنی پہچان بنا گیا ۔
یہ واقعہ 25 مئی کو لیبیا کے شہر سبہا کے ایئرپورٹ پر پیش آیا، جب عامر المہدی کو حج پر جانے والی پرواز میں سوار ہونے سے روک دیا گیا۔ مسئلہ معمولی سا تھا ، عامر مہدی کے پاسپورٹ کی دستاویزات میں ایک معمولی تکنیکی خامی۔۔۔۔ مگر اس خامی نے ایک غیرمعمولی داستان کو جنم دیا۔ جانچ پڑتال کے دوران تاخیر ہوگئی ، اعر اسے روک لیا گیا ، جہاز اس کو لیے بغیر پرواز بھرنے کو تھا ، وہ سامان گود میں رکھے لاؤنج میں ، بار بار دہراتا رہا۔۔۔۔ "میں حج پر جاؤں گا، اللہ مجھے ضرور بلائے گا۔"

جہاز اڑان بھرگیا ، لیکن عامر نے ہمت نہیں ہاری۔ وہ ایئرپورٹ پر ہی بیٹھا رہا، جہاز فنی خرابی کے باعث واپس ایئرپورٹ آ گیا۔ مگر ستم یہ کہ عامر کو پھر بھی سوار نہ ہونے دیا گیا، پائلٹ نے کہا دروازہ نہیں کھول سکتے ۔ اور پرواز دوبارہ روانہ ہو گئی۔
کسی اور کا ایمان شاید یہاں لرز جاتا، مگر عامر نے پھر کہا "یہ جہاز میرے بغیر نہیں جائے گا۔ "
اور ایسا ہی ہوا ۔۔۔ کچھ دیر بعد وہی طیارہ ایک اور خرابی کی وجہ سے واپس لوٹا۔ اس بار پائلٹ نے اعلان کیا کہ جب تک عامر سوار نہیں ہوگا، جہاز پرواز نہیں کرے گا۔ عامر المہدی آخرکار سوار ہو گیا۔ جب وہ لبیک اللہم لبیک کی صدائیں بلند کرتا بیت اللہ پہنچا، تو دیکھنے والوں کی بھی آنکھیں چھلک پڑیں ۔
دعا جو نکلی تھی دل سے آخر ، پلٹ کے مقبول ہو کے آئی
وہ جذبہ جس میں تڑپ تھی سچی،وہ جذبہ آخر کو کام آیا

یہ صرف حج کا سفر نہ تھا، یہ رب کی طرف سے ایک بلاوا تھا، جو آسمانوں نے سنا، زمین نے مانا اور فضاؤں نے راستہ چھوڑ دیا۔ بات خلوص کی ہے ، نیت صدا بن جائے، تو عرش سے بلاوا آتا ہے، اور پھر پرندے نہیں، جہاز بھی پلٹ آتے ہیں…!
عامر المہدی کی داستان صرف ایک فرد کا سفر نہیں، بلکہ رب پر کامل یقین اور سچی نیت کی زندہ مثال ہے۔ دعا کیجے ایک ایسا بلاوہ ہم سب کے لیے بھی آئے کہ راستے اور اسباب کھلتے چلے جائیں ۔ آمین

20/04/2025

سبزی تولتے وقت اگر مکھی کانٹے پر بیٹھ جائے تو کچھ فرق نہیں پڑے گا۔
لیکن یہی مکھی اگر سونا تولتے وقت کانٹے پر بیٹھ جائے تو اس کی قیمت 10، 20 ہزار کی ہو جائے گی۔
یہاں وزن معنی نہیں رکھتا، آپ کس جگہ بیٹھے ہیں وہ اہمیت رکھتی ہے۔
اس لیے کوشش کریں کہ اچھی محفلوں میں بیٹھا جائے اور اپنا وقار بحال رکھا جائے۔۔

13/04/2025

*غزہ، اعلان جہاد، منفی تبصرے اور ہمارا کردار*

✍️ مفتی عبد الصمد ساجد زِید رُشدہ

علمائے اسلام کی طرف سے جہاد سے متعلق متفقہ فتویٰ آنے پر بعض صحافی یا آزاد خیال لوگ تلملا رہے ہیں۔
ان کی جھنجھلاہٹ بنتی ہے کیونکہ ان لوگوں نے ہمیشہ مغرب کا تھوکا چاٹا ہے اور دین و علم والوں کی مخالفت کی ہے
جب تک فتویٰ نہیں آیا تھا یہ راگ الاپ رہے تھے کہ علماء بکے ہوئے ہیں فتویٰ نہیں دیتے ، جب فتویٰ دیا تو اب کیڑے نکال رہے ہیں کہ اچانک یہ فتویٰ کیسے؟ حالانکہ جہاد دینِ اسلام کا ابدی حکم ہے جس کے بارے میں حدیث میں ہے کہ جہاد قیامت تک جاری رہے گا

*نیز جہاد کا یہ مسئلہ نہایت صاف اور سادہ ہے جو فقہ کی تمام کتب میں درج ہے*

جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک جماعت کا مصروفِ جہاد رہنا ضروری اور فرض ہے جو تحفظِ اسلام و مسلمین کے لیے کافی ہو۔اگر اتنی جماعت مصروفِ جہاد و قتال نہ ہو تو سب گنہگار ہوں گے۔
اور اگر دنیا میں کسی مسلمانوں پر کافر حملہ آور ہوں تو وہاں کے لوگوں پر جہاد فرض عین ہوتا ہے اگر وہ ناکافی یا قتال نہ کریں تو ساتھ والوں پر فرض عین ہے۔
اگر وہ بھی ناکافی ہوں یا سستی کریں تو ساتھ والوں پر یوں ہوسکتا ہے کہ پوری دنیا کے مسلمانوں پر جہاد فرض عین ہو۔

*غزہ کی موجودہ صورت حال یہی ہے کہ غزہ کے لوگ نہتے اور مقابلے کے لیے ناکافی ہیں اور باقی سب غفلت کی چادر تان کر سوئے ہوئے ہیں*

اس لیے دنیا بھر کے مسلمانوں پر بقدرِ استطاعت جہاد میں حصہ لینا فرض عین ہے اس کی جو صورت ممکن ہو اختیار کرنا چاہیے۔
علمائے اسلام نے شریعت اسلامیہ کے اسی حکم کو موقع بہ موقع بتایا ہے کوئی نئی بات نہیں کی
2001 ء میں جب امریکا نے افغانستان پر حملہ کیا تھا مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے تب بھی زبانی یہ فتویٰ دیا تھا جو اصلاحی خطبات میں موجود ہے
تقریباً ڈیڑھ سال قبل جب اسرائیل نے وحشت و درندگی کی نئی تاریخ رقم کی ، تبھی حضرت نے شریعت کا حکم سنا دیا تھا جو ماہنامہ البلاغ کراچی میں چھپ چکا ہے۔
علمائے اسلام نے ہمیشہ اپنا کام کیا ہے اور حق گو علماء حق بیان کرتے رہے ہیں نیز عمل کرنے والے عمل کر گزرے، باتیں کرنے والے صرف باتیں کرتے رہے۔

اب صورتحال فتویٰ اور بیانات و تقریر سے آگے گزر چکی ہے یہ باتوں کا وقت نہیں ہے عمل اور بیدار ہونے کا وقت ہے
مثبت کام میں لگے رہیں ، اپنے حصے کا چراغ جلاتے رہیں ورنہ کام تو اللہ تعالیٰ ابابیلوں اور مچھر سے بھی لے لیتا ہے۔
مبادا یہ ظلم و ستم ظہورِ امام مہدی کا پیش خیمہ ہو کیونکہ جب امام مہدی تشریف لائیں گے تو زمین ظلم سے بھر چکی ہوگی۔
اس صورت حال میں وہی لوگ لشکرِ حضرت مہدی کا حصہ ہوں گے جو مظلوموں کا ساتھ دینے والے ہوں گے۔
بے حسی کی دیواریں گرا دیجیے، غفلت و کاہلی کی چادر اتار دیجیے، اپنے ضمیر کو آواز دیجیے اپنے حصے کا کام کیجیے، نیک امیدیں رکھیے بالآخر فتح اسلام اور مسلمانوں کی ہوگی ، کفر ہارے گا اور اسلام جیتے گا ۔ کہ یہی عادتُ اللہ ہے۔
یہ مت سوچیں کہ ہمارے معمولی عمل ، یا بائیکاٹ یا امداد سے کیا ہوگا ہمیں خریدارانِ یوسف میں نام لکھوانا ہے اور آگ بجھانے والے ابابیل بننا ہے

*ألا إن نصر الله قريب*
منقول۔۔

Want your school to be the top-listed School/college in Chak Jhumra?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Telephone

Website

Address


Chak Jhumra