17/08/2026
پاکستان میں بی پی ایس 17 کی سرکاری نوکری حاصل کرنے کا آسان ترین طریقہ :
اسلام علیکم سر ، امید ہے اپ خیریت سے ہونگے اپ سے میرا سوال یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت سترہ سکیل کی سرکاری نوکریوں میں سے ایسی کونسی نوکری ہے جس کے حصول میں نسبتاً وقت ، محنت اور وسائل کا خرچہ کم سے کم ہوتا ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ یہ سب وسائل سرف کر کے کچھ سالوں میں نوجوان واقعی نوکری کے حصول میں کامیاب ہو جائیں گے . براہ کرم راہنمائی فرما دیں .
شکریہ
جواب : وعلیکم سلام ، ویسے تو بہت سے مختلف عناصر ہیں جن کو مد نظر رکھا جائے تو کسی بھی شخص کے لئے کوئی ایک نوکری ان نکات پر بہتر ہو جاتی ہے جو اپ نے بتائے اور کسی دوسرے شخص کے لئے اسی نوکری کا حصول مشکل ہو جائے گا. جیسے اگر جلدی پیروں پر کھڑا ہونا مقصود ہو گا تو ایف اے ایف ایس سی کے بعد سب سے بہتر آپشن فوج کی تینوں سروسزمیں چلے جانا ہے لیکن ہر شخص فوج کے لئے نہیں بنا ہوتا تو یہ آپشن ان جوانوں کے لئے بلکل بھی مناسب نہیں ہے جو فوج میں کسی بھی وجہ سے نہیں جانا چاہتے .
ایف اے ایف ایس سی کے بعد اگر گریجویٹ لیول پر آیا جائے تو میرے ذاتی مشاہدے اور تجربے میں صوبائی حکومتوں کے ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ یعنی کالج لیکچرر کی جاب میں یہ سب خوبیاں ہیں جو اپ نے اپنے سوال میں پوچھی ہیں :
١. ڈگری کے حساب سے اس میں آپکی سولہ سالہ ڈگری کافی ہو جائے گی بمقابل یونیورسٹی کے لیکچرر کی جاب کے جس کے لئے بہرحال آپکو ١٨ سالہ ڈگری کی ضرورت ہوتی ہے اور اسکول ٹیچر کے جس کے لئے بی ایڈ کی ڈگری لازمی ہے . کالج لیکچرر کے لئے آپکو کوئی اضافی ڈگری نہیں چاہئے یہ اپکا پیسا ، محنت اور وقت تینوں بچا لیتی ہے .
٢. دوسرا فائدہ جو اس جاب کا ہے وہ یہ کہ اس کے لئے آپکو اپنے ہی سبجیکٹ کو دوبارہ سے اسٹڈی کرنا ہے کسی نئے سبجیکٹ کی تیاری کی ضرورت نہیں ہے . یہ فیکٹر آپکو سی ایس ایس ، پی ایم ایس ، پی سی ایس اور دیگر اسی طرح کے نوکریوں کے امتحان پر سبقت دیتا ہے جہاں آپکو ١٢ ، ١٢ پیپر دینے پڑتے ہیں جن میں کوئی ایک دو ہی آپکے اپنے سبجیکٹ کے ہوتے باقی سب کے لئے آپکو پھر سے زیروسے شروع کرنا پڑتا ہے .
٣. تیسرا فائدہ یہ ہے کہ آپکے اور 17 سکیل کی اچھی سرکاری نوکری کے درمیان صرف ایک ١٠٠ نمبرز کا ایم سی کیو ٹیسٹ کھڑا ہے جس میں سے ٨٠ فی صد سے زیادہ مواد آپکے اپنے سبجیکٹ سے ہی آنا ہے . باقی ون پیپر ایم سی کیو ٹیسٹس سے بھی اس میں آپکی کامیابی کے امکانات یوں بڑھ جائیں گے کہ باقی امتحانوں میں ١٠٠ ایم سی کیو بہت سے سجیکٹس میں سے اتے ہیں جب کہ یہاں ٨٠ سے ٨٥ فی صد ایم سی کیو آپکے اپنے سبجیکٹ سے ہیں .
٤. ایک اور فائدہ یہ بھی ہے کہ سی ایس ایس اور پی ایم ایس جہاں اپ ایک دفعہ پیپر دے دیں تو کامیاب نہ ہونے کی صورت میں ٣ چانس میں سے ایک کاؤنٹ ہو جاتا ہے . جب کہ یہاں پر اپ اگر ٹیسٹ میں ٤٠ نمبر لے لیں تو اپکا ٹیسٹ پاس ہو جاتا ہے بیشک انٹرویو کی کال نہ ائے اپکا چانس محفوظ رہتا ہے .
٥. پھر اس ٹیسٹ کی حد بھی ٣٣ سال تک ہے جو کہ باقی سرکاری نوکریوں کی حد ٣٠ سال سے زیادہ ہے تو الله کا نام لیں اور ہر باری ہی ٹیسٹ میں بیٹھ جائیں اگر اپ مستقل مزاجی سے مسلسل تیاری کرتے رہیں تو پہلی نہیں تو دوسری ، دوسری نہیں تو تیسری ،تیسری نہیں تو اگلی باری میں یہ سیٹ آپکے ہاتھ آ جانا طے ہے .
٦. سی ایس ایس پی ایم ایس کی طرح یہ نوکریاں بھی سال سے دو سال کے سائیکل میں لازمی آتی ہیں اور سیٹس بھی اچھی خاصی ڈبل ڈجٹ میں ہوتی ہیں تو اپ اگر گریجویشن ٢٣ سے ٢٤ سال کی عمر میں بھی کر لیتے ہیں تو آپکو اس امتحان میں کوئی ٤ سے ٦ دفعہ تک بیٹھنے کا موقع بڑے آرام سے مل سکتا ہے اور اگر اپ مستقل مزاجی سے اس امتحان کی تیاری میں لگے ہوئے ہیں تو یہ بہت بڑا موقع ہے .
٧. پھر یہ کہ کیوں کہ یہ آپکے اپنے سبجیکٹس میں سے ایک ایم سی کیوپر مبنی ٹیسٹ ہے تو اسکی تیاری میں آپکو عام طور پر کوئی اکیڈمی وغیرہ بھی جوائن کرنے کی ضرورت نہیں پیش اتی ہے جس سے اپکا بہت سا پیسا ، وقت ، اور محنت کی بچت ہو سکتی ہے .
لہٰذا ان سب عوامل کی بابت میرے نزدیک یہی سب سے بہتر اور مؤثر سترہ سکیل کی سرکاری نوکری ہے جس کو اپ بہت کم وقت ، محنت اور خرچے میں با آسانی حاصل کر سکتے ہیں اگر اپ مستقل مزاجی سے چلتے ہیں .
نوٹ: کیونکہ یہ ٹیسٹ صوبائی حکومتوں کے پبلک سروس کمیشن لیتے ہیں تو تفصیلات اور قوائد و ضوابط میں کچھ فرق ہو سکتا ہے .
سرکاری نوکریوں کے امتحان کی تیاری اور اس حوالے سے راہ نمائی کے لئے اپ مجھ سے مندرجہ ذیل وٹس ایپ نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں :
03030695040