Urdu Nama Forums

Urdu Nama Forums

Share

https://urdunama.org/forum :: Urdu Nama Forum:: Free PDF Books Download, Best Urdu Poetry, Novel, Af

اردونامہ, قرآن و حدیث, اردو, شاعری, ناول, افسانے, کمپیوٹر ٹپس, دسترخوان, آپکی شاعری, آپکی تحریریں, تازہ ترین, خبریں, پاکستان پاک وطن, اردو اخبار, اردوکالم, مشاعرہ, بیت بازی, تجزیہ نگاری, اردو ویب سائیٹس, تصاویر, لطائف, روزمرہ سائنس, ٹیکنالوجی نیوز, کمپیوٹر کے مسائل اور انکے حل, ڈاونلوڈز, ویڈیوز, انس...

18/05/2026

در کو دیوار کر لیا میں نے
خود سے انکار کر لیا میں نے

جرم سرزد نہیں ہوا کوئی
پھر بھی اقرار کر لیا میں نے

دل محبت میں مبتلا کر کے
غم سے دو چار کر لیا میں نے

دو قدم پر تھیں منزلیں اور پھر
رستہ دشوار کر لیا میں نے

جی میں آیا تو موند لی آنکھیں
تیرا دیدار کر لیا میں نے

دوستو آپ کی نوازش سے
خود کو فنکار کر لیا میں نے

ایک دن خامشی کو ہی امجد
اپنا ہتھیار کر لیا میں نے

امجد خان تجوانہ
(منسلک)

18/05/2026

معرکہ یہ بھی سر نہ ہو پایا
ترے دل میں ہی گھر نہ ہو پایا

ہم کہ اک عمر ساتھ چلتے رہے
پر مکمل سفر نہ ہو پایا

امجد خان تجوانہ

18/05/2026

ٹوٹے دل کا جہاں نہیں ہوتا
عشق جائے اماں نہیں ہوتا

چوٹ دل پر وہیں سے لگتی ہے
جس طرف سے گماں نہیں ہوتا

امجد خان تجوانہ

18/05/2026

پیار کی بات بھی نہیں کرتے
غم کی خیرات بھی نہیں کرتے

ہم تو کوفی مزاج لوگوں کے
شہر میں رات بھی نہیں کرتے

امجد خان تجوانہ

18/04/2026
Photos from Voice Of Tajwana's post 18/04/2026
18/04/2026

کیسی تڑپیں لگی ہوئی ہیں یار
تجھ پہ آنکھیں لگی ہوئی ہیں یار

گرچے دل بھی ہے دسترس میں مری
پھر بھی سوچیں لگی ہوئی ہیں یار

کیسے ظاہر میں کرتا اپنے گھاو
چپ کی نوکیں لگی ہوئی ہیں یار

آئنہ میں نے آج پھر دیکھا
خود کی کھوجیں لگی ہوئی ہیں یار

آسرا صرف اب خدا کا ہے
پیچھے فوجیں لگی ہوئی ہیں یار

امجد خان تجوانہ

02/04/2026

ٹوٹے دل کا جہاں نہیں ہوتا
عشق جائے اماں نہیں ہوتا

چوٹ دل پر وہیں سے لگتی ہے
جس طرف سے گماں نہیں ہوتا

امجد خان تجوانہ

31/03/2026

زندگی کم ہو یا زیادہ ہو
درد سے کچھ نہ کچھ افادہ ہو

ناچتا ہو جو سب کی انگلی پر
اتنا بھی آدمی نہ سادہ ہو

یہ عبادت سے کم نہیں ہوتا
پیار وہ ہے جو بے ارادہ ہو

دوست کے روپ میں منافق ہے
جس نے اوڑھا ہوا لبادہ ہو

چین سے پھر نہیں وہ سو پایا
عشق جس آدمی کا وعدہ ہو

اس لیے میں درود پڑھتا ہوں
تا کہ میرا بھی دل کشادہ ہو

امجد خان تجوانہ
(منسلک)

Photos from Urdu Nama Forums's post 28/02/2026

"منسلک کا شاعر"

امجد خان تجوانہ عصرِ حاضر کے اُن شعرا میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے کم عرصے میں اپنی فکری پختگی، فنی مہارت اور اسلوبیاتی انفرادیت کے باعث نمایاں مقام حاصل کیا۔ اُن کے تین شعری مجموعے منظرِ عام پر آ چکے ہیں، اور حال ہی میں ان کا تیسرا مجموعہ "منسلک" شائع ہوا ہے، جس نے ادبی حلقوں میں خصوصی توجہ حاصل کی۔ وہ جدید عہد کے اُن نمائندہ شعرا میں سے ہیں جو روایت سے رشتہ جوڑتے ہوئے بھی نئے حسّاس اور فکری زاویے تلاش کرتے ہیں۔
امجد خان تجوانہ کا تعلق اس نسل سے ہے جو تیز رفتار سماجی و تہذیبی تبدیلیوں کے عہد میں پروان چڑھی۔ اسی لیے ان کی شاعری میں عہدِ حاضر کی بے چینی شناخت کا مسئلہ، سماجی ناہمواری، داخلی کرب اور انسانی رشتوں کی پیچیدگی نمایاں نظر آتی ہے۔ وہ محض جذباتی اظہار تک محدود نہیں رہتے بلکہ شعور اور آگہی کے ساتھ اپنے عہد کی تفہیم بھی پیش کرتے ہیں۔
ان کی شاعری میں علامت اور استعارہ نہایت سلیقے سے برتا گیا ہے۔ وہ براہِ راست نعرہ بازی یا خطیبانہ انداز اختیار نہیں کرتے بلکہ تہہ دار اسلوب میں بات کہتے ہیں۔ یہی خوبی ان کے کلام کو دیرپا تاثیر عطا کرتی ہے۔
امجد خان تجوانہ کلاسیکی شعری روایت سے آگاہ ہیں۔ ان کے ہاں غزل کی لطافت بھی ہے اور نظم کی فکری وسعت بھی۔ وہ میراث سے انحراف نہیں کرتے بلکہ اسے عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔
ان کے اشعار میں ایک داخلی اضطراب اور وجودی سوالات کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ انسان، وقت اور تنہائی ان کے اہم موضوعات ہیں۔ وہ فرد کی داخلی ٹوٹ پھوٹ کو سماجی تناظر میں دیکھتے ہیں۔
ان کی زبان سادہ مگر بامعنی ہے۔ مشکل پسندی یا ثقیل الفاظ کے استعمال سے گریز کرتے ہیں۔ عام فہم لفظیات میں گہری معنویت پیدا کرنا ان کا امتیاز ہے۔
مجموعۂ کلام "منسلک" کی اہمیت
ان کا تازہ مجموعہ "منسلک" فکری پختگی کا آئینہ دار ہے۔ اس میں شاعر کی داخلی و خارجی وابستگیوں کا بیان ملتا ہےانسان کا انسان سے، ماضی کا حال سے، اور ذات کا کائنات سے تعلق۔ اس مجموعے میں موضوعاتی تنوع کے ساتھ فنی اعتماد بھی نمایاں ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ شاعر تخلیقی ارتقا کے سفر پر گامزن ہے۔
شخصیت اور ادبی مقام
امجد خان تجوانہ نہ صرف ایک حساس شاعر ہیں بلکہ ایک سنجیدہ فکری شخصیت بھی ہیں۔ ان کی گفتگو اور تحریر میں شائستگی، انکسار اور مطالعے کی گہرائی جھلکتی ہے۔ وہ ادب کو محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ اصلاحِ معاشرہ اور فکری بیداری کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔
مختصراً امجد خان تجوانہ عہدِ حاضر کے اُن شعرا میں شامل ہیں جو جدید اردو شاعری کو نئی جہت دے رہے ہیں۔ ان کے تینوں شعری مجموعے خصوصاً "منسلک" اس بات کا ثبوت ہیں کہ وہ فکری اور فنی اعتبار سے ایک مستحکم اور باوقار مقام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اگر یہی تخلیقی تسلسل برقرار رہا تو وہ مستقبل میں اردو ادب کے نمایاں اور مؤثر آوازوں میں شمار کیے جائیں گے۔کی کتاب منسلک سے کچھ اشعار دیکھیے
تو مجھے چاک پر ہی گھماتا رہے
میں رہوں گا ترے ہاتھ سے منسلک

اسے دل کا پڑھنا کہاں ا سکے گا
جو چہرہ مرا بے نشان دیکھتا ہے

راہ میں کب کہیں پہ مارے گئے
ہم جہاں تھے وہیں پہ مارے گئے
تم خیانت بھی کر کے زندہ ہو
ہم امیں تھے یقین پہ مارے گئے

خزاں کی بانجھ گھڑی میں اداس رستے ہیں
تقاضا وقت کا چاہے جو ہو ڈروں گا نہیں

ابھی دریافت کرنا ہے سمندر میں جزیرے کو
ندی چشموں کے نالوں تک نہیں رہنا اسے کہنا

پاس رکھا ہمیشہ رشتوں کا
وہم کی باقیات ہوتے ہوئے

مسکراہٹ بناوٹی سی ہے
اب دلوں میں عجب کدورت ہے
تیرا رونا ہے موت کے جیسا
تیرا ہنسنا بھی اک قیامت ہے

میں تناور سا شجر ہوں خوش ہوں
کچھ پرندوں کا میں گھر ہوں خوش ہوں
کیا ضرورت ہے مجھے دنیا کی
میں ترے دل میں اگر ہوں خوش ہوں

عشق کی میں نے تجویز پر رکھ دیا
خواب انکھوں کی دہلیز پر رکھ دیا
معجزہ ہے تیرا عشق میرے لیے
دل اسی ایک ہی چیز پر رکھ دیا

کسی بے کسی کے اثر میں ہوں امجد
نہ جانے میں کیسے سفر میں ہوں امجد
جو مانگے بنا ہی عطا کر رہا ہے
اسی ایک خدا کی نظر میں ہوں امجد

تبصرہ۔۔رخسانہ سحر اسلام آباد

Want your school to be the top-listed School/college in Burewala?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Address


Burewala
61010