18/05/2026
در کو دیوار کر لیا میں نے
خود سے انکار کر لیا میں نے
جرم سرزد نہیں ہوا کوئی
پھر بھی اقرار کر لیا میں نے
دل محبت میں مبتلا کر کے
غم سے دو چار کر لیا میں نے
دو قدم پر تھیں منزلیں اور پھر
رستہ دشوار کر لیا میں نے
جی میں آیا تو موند لی آنکھیں
تیرا دیدار کر لیا میں نے
دوستو آپ کی نوازش سے
خود کو فنکار کر لیا میں نے
ایک دن خامشی کو ہی امجد
اپنا ہتھیار کر لیا میں نے
امجد خان تجوانہ
(منسلک)
18/05/2026
18/04/2026
18/04/2026
31/03/2026
28/02/2026