درخواست برائے اساتذہ کی فوری فراہمی
ہمارے اسکول GPS چڑھ میں حال ہی میں تین معزز اساتذہ کرام کو ترقی دے دی گئی ہے جبکہ ایک استاد کا تبادلہ ہو چکا ہے۔ اس صورتِ حال کے بعد اس وقت ہمارے اسکول میں صرف تین اساتذہ باقی رہ گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ہمارے اسکول میں طلبہ کی مجموعی تعداد تقریباً 400 ہے، جنہیں صرف تین اساتذہ کے ذریعے معیاری تعلیم فراہم کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔ اس کمی کے باعث نہ صرف تدریسی عمل متاثر ہو رہا ہے بلکہ طلبہ کی تعلیمی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
لہٰذا ہم اپنے گاؤں کے معزز عمائدین اور متعلقہ حکومتی حکام سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ ہمارے اسکول میں اساتذہ کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تاکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل محفوظ ہو سکے اور اسکول کا نظام بہتر انداز میں چلتا رہے۔
GPS Char
It's about School Activities That We Can Share with You For Your Best Opinion And Suggestion.
03/01/2026
ہم آپنے سٹاف کے اساتذہ محمد یونس اور اکرام اللہ کو سی ٹی اور ڈی ایم میں پروموٹ ہونے پر مبارکباد دیتے ہے اور دعا کرتے ہے کہ وہ مستقبل میں مزید کامیابیاں سمیٹیں— اللہ خافظ❤️
Gps char 🌟
16/12/2025
سوال:
میں ریاضی کا استاد ہوں۔ بچے کلاس میں سمجھ بھی لیتے ہیں، سوال حل بھی کر لیتے ہیں، مگر جب ٹیسٹ لیا جاتا ہے تو اکثر صفر آتا ہے یا بچہ بالکل جواب نہیں دیتا۔ ایسا کیوں ہوتا ہے اور ریاضی بہتر کرنے کے لیے کیا کیا جائے؟
جواب:
یہ مسئلہ بہت عام ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے ریاضی نہیں سمجھتے۔ اکثر بچے کلاس میں استاد کی رہنمائی، بورڈ، یا دوستوں کی مدد سے سوال حل کر لیتے ہیں، مگر ٹیسٹ میں اکیلے ہو کر گھبرا جاتے ہیں۔ اسے ریاضی کا خوف یا امتحانی دباؤ کہا جا سکتا ہے۔ دماغ کو لگتا ہے کہ غلطی ہو گئی تو سزا یا شرمندگی ہوگی، اس لیے بچہ سوال شروع ہی نہیں کرتا۔
ایک بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ بچے طریقہ تو یاد کر لیتے ہیں مگر تصور (Concept) مضبوط نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر جمع یا ضرب کا فارمولا یاد ہے، مگر یہ کیوں اور کیسے ہو رہا ہے، یہ واضح نہیں ہوتا۔ جب سوال ذرا سا بدلا جاتا ہے تو بچہ کنفیوز ہو جاتا ہے اور خاموش ہو جاتا ہے۔
اس کا ایک حل یہ ہے کہ کلاس میں حل کروانے کے بعد بچوں سے زبانی طور پر پوچھا جائے کہ انہوں نے یہ قدم کیوں اٹھایا۔ یعنی “یہاں جمع کیوں کی؟” یا “یہ عدد یہاں کیوں آیا؟” اس سے بچے کا تصور مضبوط ہوتا ہے۔ جو بچہ بول کر سمجھا دے، وہ ٹیسٹ میں بھی بہتر لکھ پاتا ہے۔
دوسرا عملی حل یہ ہے کہ ٹیسٹ سے پہلے “چھوٹے چھوٹے غیر رسمی ٹیسٹ” لیے جائیں، جیسے پانچ منٹ کا کام، بغیر نمبر کے۔ بچوں کو بتایا جائے کہ اس پر سزا یا مارکس نہیں ہوں گے۔ اس سے امتحان کا خوف کم ہوتا ہے اور بچہ لکھنے کی عادت ڈالتا ہے۔
تیسرا اہم قدم یہ ہے کہ صفر پر ڈانٹنے کے بجائے بچے سے بات کی جائے۔ اگر بچہ خالی کاپی دیتا ہے تو اس سے کہا جائے کہ چاہے غلط ہو، کچھ نہ کچھ ضرور لکھو۔ آدھا درست حل بھی کامیابی ہے۔ یہ پیغام بچے کے ذہن میں بٹھانا ضروری ہے کہ ریاضی میں کوشش قیمتی ہوتی ہے، صرف درست جواب نہیں۔
چوتھی بات، ریاضی کو روزمرہ زندگی سے جوڑا جائے۔ مثالیں بازار، کھیل، وقت، پیسے اور چیزوں کی گنتی سے دی جائیں۔ جب بچہ دیکھتا ہے کہ ریاضی اس کی زندگی کا حصہ ہے تو وہ اسے اجنبی مضمون نہیں سمجھتا اور اعتماد کے ساتھ سوال حل کرتا ہے۔
آخر میں، والدین کو بھی شامل کریں۔ انہیں سمجھائیں کہ بچے کو گھر میں ڈرایا نہ جائے بلکہ حوصلہ دیا جائے۔ اگر بچہ غلطی کرے تو کہا جائے کہ “کوئی بات نہیں، دوبارہ کوشش کرو۔” استاد اور والدین کا مشترکہ مثبت رویہ آہستہ آہستہ بچے کے اندر اعتماد پیدا کرتا ہے، اور یہی اعتماد ٹیسٹ میں صفر کو نمبر میں بدل دیتا ہے۔
ریاضی کا مسئلہ اکثر دماغ کا نہیں، دل کا ہوتا ہے۔ جب خوف کم ہو جاتا ہے تو جواب خود بخود آنا شروع ہو جاتے ہیں۔
15/12/2025
Today was class 4th Last paper 🥰
15/12/2025
Final semester come to an end🥰
15/12/2025
سوال:
بچوں کی اردو بہتر کرنے کے لیے ایسا کون سا کام کروایا جائے جو آسان بھی ہو، بچوں پر بوجھ نہ بنے، اور ساتھ ہی سلیبس کی تکمیل بھی متاثر نہ ہو؟
جواب:
بچوں کی اردو بہتر کرنے کے لیے سب سے مؤثر اور قابلِ عمل طریقہ یہ ہے کہ اردو کو الگ مضمون سمجھ کر اضافی بوجھ بنانے کے بجائے، سلیبس کے اندر ہی زبان کی مشق شامل کر دی جائے۔ یعنی جو سبق پڑھایا جا رہا ہے، اسی سے اردو کی مہارتیں نکلوائی جائیں۔ مثال کے طور پر جب کوئی سبق پڑھایا جائے تو اس میں سے روزانہ صرف پانچ سے سات الفاظ منتخب کیے جائیں، ان کے معنی زبانی پوچھے جائیں، جملے بنوائے جائیں اور اگلے دن انہی الفاظ سے مختصر ڈکٹیشن لے لی جائے۔ اس طرح نہ سلیبس سے ہٹنا پڑتا ہے اور نہ ہی بچوں کو الگ سے کچھ یاد کروانا پڑتا ہے۔
اردو بہتر کرنے کا دوسرا آسان طریقہ یہ ہے کہ ریڈنگ کو روزانہ کی عادت بنایا جائے، مگر بہت کم وقت کے لیے۔ روزانہ صرف پانچ منٹ ایک بچے سے اونچی آواز میں سبق یا کہانی پڑھوائیں، باقی بچے سنیں۔ غلطی پر فوراً ٹوکنے کے بجائے جملہ مکمل کروائیں، پھر درست تلفظ خود دہرائیں۔ یہ طریقہ بچوں کی جھجک بھی ختم کرتا ہے اور روانی بھی آہستہ آہستہ بہتر ہو جاتی ہے، جبکہ سلیبس کی تدریس بھی جاری رہتی ہے۔
لکھائی اور املا بہتر کرنے کے لیے لمبی ڈکٹیشن کے بجائے چھوٹی مگر مسلسل مشق زیادہ فائدہ دیتی ہے۔ روزانہ صرف دو جملے بورڈ پر لکھیں، بچوں سے دیکھ کر لکھوائیں، پھر خود ہی ان سے غلطیاں نکلوا کر درست کروائیں۔ اس عمل میں استاد کم بولے اور بچہ زیادہ سوچے۔ یہ طریقہ بچوں کو خود اصلاح (Self-correction) سکھاتا ہے اور اضافی وقت بھی نہیں لیتا۔
گرائمر سکھانے کے لیے کتابی تعریفیں رٹوانے کے بجائے سبق سے مثالیں نکالیں۔ مثلاً اسم، فعل یا صفت پڑھانی ہو تو سبق کے جملوں سے پوچھیں کہ کون سا لفظ کام بتا رہا ہے یا کس لفظ سے چیز کا نام پتا چلتا ہے۔ اس طرح بچوں کو لگتا ہے کہ وہ نیا مضمون نہیں بلکہ وہی سبق سمجھ رہے ہیں، اور سلیبس کی تکمیل بھی ساتھ ساتھ ہوتی رہتی ہے۔
آخر میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اردو کو صرف امتحانی مضمون نہ بنایا جائے بلکہ بول چال اور اظہار کا ذریعہ بنایا جائے۔ کلاس میں چھوٹے چھوٹے سوال اردو میں کروائیں، بچوں کو ایک دو جملوں میں جواب دینے کی عادت ڈالیں، اور غلط اردو پر طنز کے بجائے حوصلہ افزائی کریں۔ جب بچہ بولنے، پڑھنے اور لکھنے سے خوف ختم کر لیتا ہے تو اردو خود بخود بہتر ہونے لگتی ہے، اور سلیبس بھی بغیر دباؤ کے مکمل ہو جاتا ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم
14/12/2025
سوال:
میرا بیٹا دس سال کا ہے۔ پہلے پڑھائی میں اچھا تھا مگر اب اس کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا، اسکول نہیں جاتا۔ مار پیٹ اور ہر طرح سے وجہ جاننے کی کوشش کی مگر وہ صرف یہی کہتا ہے کہ اسکول میں مزہ نہیں آتا۔ کیا کروں؟
جواب:
ایک بچے کا اسکول سے اچانک دل اُٹھ جانا ہمیشہ کسی نہ کسی اندرونی وجہ کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ بچے اکثر وہ باتیں واضح الفاظ میں نہیں بتا پاتے جو انہیں ذہنی دباؤ، خوف یا بوریت کی صورت میں محسوس ہوتی ہیں۔ آپ کا بیٹا ذہین بھی ہے اور پہلے اچھی کارکردگی بھی دکھاتا تھا، اس کا مطلب ہے کہ مسئلہ اس کی صلاحیت میں نہیں بلکہ اس کے احساس میں ہے۔
سب سے پہلا قدم یہ ہے کہ اس کا اعتماد دوبارہ بحال کیا جائے۔ مار پیٹ یا سختی اس کیفیت میں اکثر الٹا اثر کرتی ہے، کیونکہ بچہ خود کو سمجھا نہ جانے والا محسوس کرتا ہے۔ ایک دن پرسکون وقت میں، بغیر کسی الزام یا سوال جواب کے، صرف اس طرح بات کریں کہ آپ اس کی بات سننا چاہتی ہیں۔ اسے یقین دلائیں کہ وہ جو بھی کہے گا اس پر نہ ڈانٹ ہوگی نہ ناراضی۔ جب بچہ محفوظ محسوس کرتا ہے تو چھوٹی چھوٹی باتیں بھی بتا دیتا ہے۔
دوسرا مرحلہ یہ دیکھنا ہے کہ اسکول میں واقعی کیا رکاوٹ ہو سکتی ہے۔ کبھی کبھی بچے کلاس کے شور، ٹیچر کے انداز، دوستوں کے رویے، بوجھل ہوم ورک یا کسی مذاق کا شکار ہونے کی وجہ سے بھی اسکول ناپسند کرنے لگتے ہیں۔ آپ اس سے ایسے سوال نہ کریں کہ “کیا ہوا؟” بلکہ ہلکے انداز میں پوچھیں کہ “کون سی چیز اسکول میں اچھی نہیں لگتی؟ کون سی چیز سب سے مشکل لگتی ہے؟” اس طرح بچے کے ذہن سے بات خود ہی باہر آ جاتی ہے۔
تیسرا قدم یہ ہے کہ گھر میں پڑھائی کو دباؤ نہ بنائیں۔ دس سال کا بچہ کھیل، محبت، اور ہلکی سرگرمیوں سے سیکھتا ہے۔ اگر پڑھائی صرف زبردستی یا نتیجے کے خوف سے ہو تو دماغ تھک جاتا ہے اور بچہ پڑھائی سے بھاگنے لگتا ہے۔ اسے دلچسپ طریقوں سے دوبارہ پڑھائی کی طرف لائیں۔ کہانیوں، رنگوں، چھوٹی سرگرمیوں، پزلز اور مختصر مشقوں سے وہ دوبارہ سیکھنے میں مزہ محسوس کرے گا۔
چوتھا مرحلہ اسکول کے ساتھ رابطہ کرنا ہے۔ ٹیچر سے حال احوال پوچھیں کہ کلاس میں اس کا رویہ کیسا ہے، کس حصے میں مسئلہ ہے، کون سا پیریڈ اس کو زیادہ مشکل لگتا ہے۔ اکثر استاد بھی چھوٹی چھوٹی باتیں بتا دیتے ہیں جس سے والدین سمت طے کر لیتے ہیں۔
پانچواں حصہ یہ ہے کہ روز تھوڑا سا ٹائم اس بچے کے ساتھ صرف تعلق بنانے کے لیے رکھیں۔ کچھ بچے جب جذباتی طور پر تھکے ہوتے ہیں تو پڑھائی بھاری ہو جاتی ہے۔ اگر وہ محسوس کرے کہ والدین اس کے ساتھ ہیں، اس کی بات سنتے ہیں اور اسے سمجھتے ہیں تو اس کی اندرونی بے چینی کم ہو جاتی ہے۔
ساری بات کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کا بیٹا مسئلہ میں نہیں، کیفیت میں ہے۔ اس کا دل دوبارہ پڑھائی اور اسکول کی طرف تب ہی لگے گا جب وہ خود کو محفوظ، سمجھا ہوا اور محبت سے جڑا ہوا محسوس کرے گا۔ یہ تبدیلی آہستہ آہستہ آتی ہے، مگر ایک بار آ جائے تو بچے کی رفتار پھر وہی پرانی ہو جاتی ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم
14/12/2025
مار نہیں پیار ♥️
14/12/2025
سوال:
میں ایک ٹیچر ہوں۔ طبیعت سے بہت نرم مزاج ہوں لیکن آج کل بچوں پر جلد غصہ آ جاتا ہے۔ ہر بات پر ڈانٹ دیتی ہوں، پھر خود ہی پریشان ہو جاتی ہوں کہ بچے غصے سے نہیں بلکہ محبت سے سیکھتے ہیں۔ میں خود پر قابو نہیں پا رہی۔ بچوں کو پیار سے کیسے ڈیل کروں؟
جواب:
غصہ آنا کوئی غیر معمولی بات نہیں، خاص طور پر اساتذہ کے لیے جنہیں روز درجنوں بچوں کے مختلف رویّوں اور کلاس کی ذمہ داریوں کا سامنا کرنا ہوتا ہے۔ اصل مسئلہ غصے کا آنا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہم غصے کے لمحے کو کیسے سنبھالتے ہیں۔ آپ میں یہ شعور موجود ہے کہ بچے محبت سے زیادہ سیکھتے ہیں، یہی شعور بہت بڑی طاقت ہے۔ اسی بنیاد پر تبدیلی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔
سب سے پہلا قدم اپنے ذہن کا بوجھ ہلکا کرنا ہے۔ اکثر استاد جسمانی یا ذہنی تھکاوٹ، مسلسل پریشر یا ادارے کی توقعات کی وجہ سے بھی چڑچڑے ہو جاتے ہیں۔ آپ اپنے دن کا ایک مختصر جائزہ لیں کہ کس وقت غصہ بڑھتا ہے اور کیوں۔ اسے سمجھنے کے بعد حل آسان ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر شور زیادہ ہو تو کلاس کے آغاز میں روٹین بنا دیں کہ دو منٹ سب بچے خاموش بیٹھیں، جس چیز کو نظم کہا جاتا ہے وہ ماحول کو پرسکون بناتی ہے۔
دوسرا مرحلہ اپنے ردعمل کو چند سیکنڈ کے لیے روکنا ہے۔ جب غصہ آئے، دل میں یہ چھوٹا سا وقفہ ڈالیں۔ پانچ سیکنڈ کی خاموشی یا دو مرتبہ گہری سانسیں بڑی تبدیلی لاتی ہیں۔ اس وقفے میں آپ کے الفاظ بدل جاتے ہیں۔ جہاں پہلے جملہ بنتا تھا “تم لوگ کبھی نہیں سدھرتے”، وہ تبدیل ہو کر “ہم اس کام کو اچھے طریقے سے دوبارہ کریں گے” بن سکتا ہے۔
تیسرا قدم بچوں کے ساتھ واضح اصول طے کرنا ہے۔ بچے جب جانتے ہیں کہ استاد کن باتوں پر سخت اور کن باتوں پر نرم ہے، تو ماحول بہتر ہوتا ہے۔ ایک دو اصول بہت سادگی سے بنائیں، مثلاً جب ٹیچر بات کرے تو سب رک جائیں، یا ہر کام کے بعد پانچ منٹ خاموشی۔ اصول کم ہوں مگر روزانہ یکساں رہیں۔
چوتھا مرحلہ یہ ہے کہ اپنی تعریف اور محبت کو بڑھا دیں۔ جو بچہ اچھا کام کرے، اسے فوری چھوٹا سا لفظ یا مسکراہٹ سے سراہ دیں۔ دماغ محبت بھرے ماحول میں سکون پاتا ہے، اور یہی سکون استاد کو بھی پرسکون رکھتا ہے۔ بچے جیسے ہی محسوس کرتے ہیں کہ استاد شاباش دیتا ہے، وہ خود ہی نظم کی طرف آتے ہیں اور استاد کو کم غصہ آتا ہے۔
پانچواں اور سب سے اہم قدم یہ ہے کہ خود کو انسان سمجھیں، روبوٹ نہیں۔ کبھی کبھی استاد خود سے بہت زیادہ توقع رکھ لیتا ہے۔ اگر ایک دن سختی ہو جائے تو خود کو معاف کریں، اگلے دن نئے سرے سے بہتر کوشش کریں۔ مسلسل کوشش استاد کو دھیرے دھیرے نرم، مضبوط اور متوازن بنا دیتی ہے۔
یہ چند چھوٹے قدم آپ کو دوبارہ وہی پر سکون استاد بنا سکتے ہیں جو بچوں کو محبت سے سکھانا چاہتا ہے۔ بچوں کی تربیت ہمیشہ سفر کی طرح ہوتی ہے، اور آپ اس سفر کو محبت کے ساتھ چلانا چاہتی ہیں۔ یہی اصل کامیابی ہے۔
(منصور اختر غوری)
#منصوراخترغوری #تعلیم
13/12/2025
Today’s paper photographs 🥰❤️
12/12/2025
2nd last paper 📝
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Website
Address
Village Char
Bunerwal
19260