Danish Kadah

Danish Kadah Education breeds confidence. Confidence breeds hope. Hope breeds peace.

پطرس بخاری کی کھلکھلاتی تحریریں اور مضامین              سید احمد شاہ بخاری المعروف پطرس بخاری مزاح کے علمبردار قلمکار ہی...
13/09/2026

پطرس بخاری کی کھلکھلاتی تحریریں اور مضامین

سید احمد شاہ بخاری المعروف پطرس بخاری مزاح کے علمبردار قلمکار ہیں۔ان کی تحریروں میں مزاح برسرِعام دیکھنے کو ملتاہے۔وہ اس قدر خوبی سے مزاح کی چاشنی اپنی تحریروں میں گھولتے ہیں کہ قاری کی طبیعت پر گراں بھی نہیں گزرتا۔ان کی تحریروں میں ایک سبق پنہاں ہوتا ہے۔پطرس کے زودِقلم کا کل اثاثہ ان کی کتاب ہے جس میں شامل مضامین نے اُردو ادب کی صنفِ مزاح میں ایک انقلاب برپا کیا ہے۔ان کی تحریروں کے سبب ہی انھوں نے اپنے ہم عصر مزاح نگاروں کے درمیان ایک ممتاز مقام حاصل کیا۔
پطرس زبان کی سادگی سے کام لیتے ہوئے الفاظوں کے ساتھ اس طرح کھیلتے ہیں کہ قاری داد دینے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ان کی تحریروں میں محاورات کا برجستہ استعمال دیکھنے کو ملتا ہے۔وہ اپنی کتاب کے دیباچہ میں لکھتے ہیں:

اگر یہ کتاب آپ کو کسی نے مفت بھیجی ہے تو مجھ پر احسان کیا ہے۔ اگر آپ نے کہیں سے چرائی ہے تو میں آپ کے ذوق کی داد دیتا ہوں۔ اپنے پیسوں سے خریدی ہے تو مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ اب بہتر یہی ہے کہ آپ اس کتاب کو اچھا سمجھ کر اپنی حماقت کو حق بجانب ثابت کریں۔

گویا ایک اچھی کتاب کا پتا اس کے دیباچہ سے ہی معلوم ہوجاتا ہے- اس کتاب میں پطرس زندگی میں پیش آنے والے واقعات کو ظرافت کی چادر میں لپیٹ کر پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ان کے مضامین میں مزاح جابجادیکھنے کو ملتا ہے۔مثال کے طور پر وہ ہاسٹل میں پڑھنامیں لکھتے ہیں:

تھرڈ ڈویژن میں پاس ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی نے ہم کو وظیفہ دینا مناسب نہ سمجھا۔ چونکہ ہمارے خاندان نے خدا کے فضل سے آج تک کبھی کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ اس ليے وظیفے کا نہ ملنا خصوصاً ان رشتہ داروں کے ليے جو رشتے کے لحاظ سے خاندان کے مضافات میں بستے تھے، فخرومباہات کا باعث بن گیا۔
مصنف نے معاشرے اور روزمرہ زندگی کا بھرپور تجزیہ کیا ہےاور اس پراپنا قلم اُٹھایا ہےلیکن انھوں نے اسے روایتی انداز میں لکھنے کی بجائے مزاح کی صورت میں لکھا ہے۔ان کی تحریروں میں پائے جانے والے کردارقاری کو برسوں یاد رہتے ہیں۔اس کتاب میں کرداروں کے ذریعے ایک لطف اندوز ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔مثال کے طور پر کتے میں کتوں کا کردار قاری کو بےاختیار مسکرانے پر مجبور کردیتا ہے۔

چونکہ ہم طبعاً ذرا محتاط ہیں۔ اس ليے آج تک کتے کے کاٹنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا۔ یعنی کسی کتے نے آج تک ہم کو کبھی نہیں کاٹا اگر ایسا سانحہ کبھی پیش آیا ہوتا تو اس سرگزشت کی بجائے آج ہمارا مرثیہ چھپ رہا ہوتا۔
مزید ایسے ایسے ادبی کالم پڑھنے کیلئے ضرور فالو کریں۔
#علم #ادب #تاریخ

13/09/2026
"ابو! آپ نے قرآن پر جھوٹی قسم کیوں کھائی تھی؟"بوڑھے احمد بشیر ورک شاید اس سوال کا جواب اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنے ...
13/09/2026

"ابو! آپ نے قرآن پر جھوٹی قسم کیوں کھائی تھی؟"

بوڑھے احمد بشیر ورک شاید اس سوال کا جواب اپنی زندگی کے آخری لمحوں تک اپنے سینے میں لیے پھرتے رہے۔
وہ جانتے تھے کہ قرآن پر جھوٹی قسم معمولی بات نہیں…
لیکن وہ یہ بھی جانتے تھے کہ 1947 کے اُس دن اگر وہ سچ بول دیتے تو شاید دو انسان زندہ نہ بچتے
اور پھر ایک دن… اسی فیصلے کی گواہی دینے کے لیے، کئی دہائیاں بعد ایک شخص ہزاروں میل دور سے لاہور پہنچا۔
وہ پھول لے کر آیا تھا۔
مگر پھول کسی زندہ انسان کے لیے نہیں… بلکہ ایک ایسی قبر کے لیے تھے جس میں دفن شخص نے اس کے خاندان کا مستقبل بچایا تھا۔
اگست 1947…
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان صرف سرحد نہیں بن رہی تھی…
لوگوں کے درمیان نفرت کی ایسی دیوار کھڑی ہو رہی تھی جس کے سائے میں ہزاروں خاندان اپنے گھر، اپنی زمینیں اور اپنے پیارے چھوڑنے پر مجبور تھے۔
پنجاب جل رہا تھا۔
گوجرانوالہ سے لاہور تک خوف کا راج تھا۔
لوگ قافلوں کی صورت میں بھاگ رہے تھے۔
کسی کو معلوم نہیں تھا کہ اگلی دستک خوشخبری لائے گی یا موت۔
اسی ہنگامے میں گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والا ایک سکھ خاندان لاہور پہنچا۔
وہ تھکے ہوئے تھے۔
خوفزدہ تھے۔
اور اپنے پیچھے اپنا سب کچھ چھوڑ آئے تھے۔
انہیں صرف ایک ایسے دروازے کی تلاش تھی…
جو ان کے لیے بند نہ ہو۔
وہ دروازہ احمد بشیر ورک کے گھر کا تھا۔
احمد بشیر نے انہیں اندر آنے دیا۔
دروازہ بند کیا۔
اور یوں اپنے گھر کے اندر صرف چند مہمان نہیں…
چند زندگیاں چھپا لیں۔
مگر انہیں معلوم تھا کہ اگر راز کھل گیا تو مصیبت صرف ان مہمانوں پر نہیں آئے گی۔
ان کا اپنا گھر بھی محفوظ نہیں رہے گا۔
پھر ایک دن گزرا…
پھر دوسرا…
پھر ہفتے گزر گئے۔
وہ خاندان تقریباً دو ماہ تک اسی گھر میں چھپا رہا۔
لیکن پھر وہ دن آیا جس نے احمد بشیر کو زندگی کا شاید سب سے مشکل فیصلہ کرنے پر مجبور کردیا۔
انہیں مسجد بلایا گیا۔
وہاں سوال ہوا:
"تمہارے گھر میں کون لوگ رہ رہے ہیں؟"
احمد بشیر خاموش ہوگئے۔
شاید چند لمحوں میں ان کے سامنے ان بے بس لوگوں کے چہرے آگئے ہوں گے۔
پھر انہوں نے کہا:
"میرے بھائی ہیں… ان کی بیوی اور بچے۔"
مگر سوال کرنے والے مطمئن نہ ہوئے۔
کہا گیا:
"اگر یہ بات سچ ہے تو قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھاؤ۔"
اب فیصلہ صرف ایک جملے کا نہیں تھا۔
ایک طرف قرآن تھا۔
دوسری طرف ان لوگوں کی زندگیاں تھیں جنہوں نے ان کے گھر کو آخری پناہ سمجھا تھا۔
احمد بشیر نے قرآن پر ہاتھ رکھا۔
اور قسم کھا لی۔
مگر قسم میں حقیقت نہیں تھی۔
وہ جانتے تھے کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
مگر شاید اس وقت ان کے سامنے ایک اور حقیقت بھی تھی:
اگر وہ سچ بولتے تو شاید دو بے گناہ انسانوں کی زندگی ختم ہوجاتی۔
انہوں نے خطرہ مول لیا۔
اور وہ خاندان بچ گیا۔
پھر وقت نے سب کچھ بدل دیا۔
فسادات ختم ہوئے۔
قافلے اپنی اپنی سمت روانہ ہوئے۔
وہ خاندان بھارت چلا گیا۔
سرحد کے اُس پار زندگی شروع ہوگئی۔
اور اِس طرف احمد بشیر اپنی زندگی میں واپس لوٹ آئے۔
مگر ایک راز ان کے ساتھ رہا۔
قرآن پر اٹھائی گئی وہ قسم۔
سال گزرتے گئے۔
دہائیوں کا سفر طے ہوگیا۔
بچے بڑے ہوگئے۔
پھر ان کے بچے جوان ہوگئے۔
مگر اُس خاندان کے بزرگ اپنی اولاد کو ہمیشہ ایک مسلمان شخص کی کہانی سناتے رہے…
"1947 میں ایک مسلمان نے ہماری جان بچائی تھی۔"
اسی خاندان کی اگلی نسل میں ایک بچہ بڑا ہوا۔
نام تھا ڈاکٹر ترونجیت سنگھ۔
دادی نے انہیں یہ قصہ سنایا۔
وہ مسلمان شخص…
وہ گھر…
وہ خوف…
اور وہ قسم۔
ڈاکٹر ترونجیت زندگی میں آگے بڑھ گئے۔
امریکہ پہنچے۔
تعلیم حاصل کی۔
ڈاکٹر بنے۔
مگر دادی کی وہ کہانی ان کے دل میں کہیں محفوظ رہی۔
پھر کئی دہائیوں بعد ایک ایسا موقع آیا کہ ان کا رابطہ گورنمنٹ کالج لاہور کے پروفیسر کلیان سنگھ سے ہوا، جو تقسیمِ ہند کے واقعات پر تحقیق کر رہے تھے۔
بات نکلی تو پرانی داستان دوبارہ زندہ ہوگئی۔
پروفیسر نے کہا:
"کبھی لاہور آئیں… میں آپ کو اس خاندان تک لے چلوں گا۔"
اور پھر…
وہ دن بھی آگیا۔
ڈاکٹر ترونجیت پاکستان پہنچے۔
لاہور سے گوجرانوالہ گئے۔
اور وہاں پہنچ کر اس خاندان کو تلاش کیا جس کے بزرگ نے کبھی ان کے بزرگوں کو پناہ دی تھی۔
ملاقات ہوئی احمد بشیر ورک کے بیٹے محمود بشیر ورک سے۔
ڈاکٹر ترونجیت نے پوری کہانی سنائی۔
پھر پوچھا:
"کیا آپ کے والد نے کبھی اس واقعے کا ذکر کیا تھا؟"
محمود بشیر نے کہا:
"ہاں…"
اور پھر وہ راز سامنے آیا جو برسوں سے ایک نسل کے سینے میں تھا۔
احمد بشیر نے اپنی زندگی کے آخری حصے میں اپنے بیٹے کو بتایا تھا کہ انہوں نے کس طرح قرآن پر قسم کھا کر ان لوگوں کی حفاظت کی تھی۔
انہیں اس قسم کا احساس تھا۔
انہیں معلوم تھا کہ یہ معمولی معاملہ نہیں۔
مگر ان کے دل میں یہ امید بھی تھی کہ اللہ ان کے مقصد اور مجبوری کو جانتا ہے اور انہیں معاف فرما دے گا۔
اور پھر وہ لمحہ آیا جس کے بارے میں شاید کسی نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔
ڈاکٹر ترونجیت سنگھ کو احمد بشیر ورک کی قبر پر لے جایا گیا۔
وہ قبر کے سامنے کھڑے ہوگئے۔
کئی دہائیوں کا فاصلہ…
دو ملکوں کا فاصلہ…
دو نسلوں کا فاصلہ…
مگر ایک احسان نے سب فاصلے مٹا دیے تھے۔
انہوں نے قبر پر پھول رکھے۔
کچھ دیر خاموش کھڑے رہے۔
پھر جذبات پر قابو نہ رکھ سکے۔
اور قبر کو چوما۔
ذرا تصور کریں…
جس شخص نے ان کے دادا دادی کو بچایا تھا، وہ اس دنیا میں موجود نہیں تھا۔
مگر اس کا احسان ابھی زندہ تھا۔
اس قبر کے سامنے کھڑا شخص… اسی احسان کی زندہ گواہی تھا۔
شاید ڈاکٹر ترونجیت کے دل میں اس لمحے ایک سوال آیا ہو:
"اگر احمد بشیر اُس دن ڈر جاتے تو؟"
اگر وہ سچ بول دیتے؟
اگر وہ قرآن پر ہاتھ رکھنے سے انکار کردیتے؟
اگر وہ دروازہ کھول دیتے؟
اگر وہ کہتے:
"یہ میرے بھائی نہیں… سکھ ہیں۔"
تو شاید ایک خاندان کی کہانی وہیں ختم ہوجاتی۔
مگر انہوں نے خطرہ مول لیا۔
اور ایک خاندان آگے بڑھ گیا۔
بچے پیدا ہوئے۔
پھر ان کے بچے پیدا ہوئے۔
اور کئی دہائیوں بعد…
اسی نسل کا ایک شخص اس قبر کے سامنے کھڑا تھا۔
یہاں آکر 1947 کی یہ داستان ہمیں ایک بہت مشکل سوال کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔
ہم احمد بشیر کی قسم کو شرعی طور پر درست قرار نہیں دے سکتے۔
جھوٹی قسم اپنی جگہ غلط ہے۔
لیکن اُس خوفناک وقت میں ایک انسان نے اپنی جان اور اپنے خاندان کا خطرہ مول لے کر چند بے بس انسانوں کو پناہ دی۔
اور شاید یہی اس داستان کا سب سے بڑا سبق ہے:
فساد انسانوں کو مذہب، ذات اور قوم کے نام پر تقسیم کرسکتا ہے…
مگر انسانیت کبھی سرحد کی محتاج نہیں ہوتی۔
احمد بشیر کی قبر پر شاید کوئی تختی یہ نہیں بتاتی کہ انہوں نے کتنی بڑی قربانی دی۔
مگر ایک پوری نسل ان کی خاموش قربانی کی گواہی دیتی ہے۔
اور آج سوال ہمارے سامنے ہے:
اگر آپ احمد بشیر کی جگہ ہوتے، ایک طرف قرآن پر جھوٹی قسم اور دوسری طرف دو بے گناہ انسانوں کی جان… تو آپ کیا کرتے؟
سچ بولتے؟
یا انسانوں کی جان بچانے کے لیے وہی فیصلہ کرتے جو احمد بشیر نے کیا؟

#تاریخ

13/09/2026

صبح کا آغاز خوبصورت تلاوت کلام پاک سے

05/09/2026

Follow me and increase my weekly challenge plz

Follow Me
05/09/2026

Follow Me

Follow
05/09/2026

Follow

Follow me
05/09/2026

Follow me

Back To Back Follow
04/09/2026

Back To Back Follow

Address

Bunerwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Danish Kadah posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share