خاموش حرام
وہ ایک استاد تھا۔
لوگ اسے “سر” کہتے تھے،
بچے احترام میں کھڑے ہو جاتے تھے،
اور سرکاری کاغذوں میں وہ “معلمِ قوم” لکھا جاتا تھا۔
مگر حقیقت یہ تھی کہ
وہ علم نہیں بانٹتا تھا،
صرف مہینے کے آخر میں تنخواہ وصول کرتا تھا۔
وہ ہر صبح دیر سے آتا۔
جب اسمبلی ختم ہو چکی ہوتی،
دعائیں ہو چکی ہوتیں،
اور بچے اپنی کتابوں میں جھک چکے ہوتے۔
مگر اس کے چہرے پر کبھی شرمندگی نہیں آتی تھی۔
وہ بڑے سکون سے گیٹ سے اندر داخل ہوتا،
جیسے اسکول اس کی ذمہ داری نہیں،
ذاتی جاگیر ہو۔
اس کے ہاتھ میں موبائل ہوتا،
لبوں پر دنیا بھر کی شکایتیں،
اور دل میں عجیب سا اطمینان۔
وہ اکثر کہتا:
“سرکاری نوکری ہے، اتنا تو چلتا ہے…”
پھر اسٹاف روم میں چائے کا دور چلتا۔
ملکی سیاست پر تبصرے ہوتے۔
افسروں کو کوسا جاتا۔
سسٹم کو برا کہا جاتا۔
اور اسی دوران
کلاس روموں میں بچوں کا وقت مر رہا ہوتا۔
جب وہ کلاس میں داخل ہوتا
تو علم اس کے لہجے سے نہیں ٹپکتا تھا،
بیزاری ٹپکتی تھی۔
“کتاب کھولو…”
“خاموش بیٹھو…”
“یہ خود پڑھ لو…”
بس یہی اس کی تدریس تھی۔
کبھی کسی بچے کی آنکھ میں چھپا سوال نہ پڑھ سکا۔
کبھی کسی کمزور طالب علم کا خوف نہ سمجھ سکا۔
کبھی کسی ذہین بچے کی اڑان کو راستہ نہ دے سکا۔
کیونکہ وہ پڑھانے نہیں،
وقت گزارنے آتا تھا۔
بلاجواز چھٹیاں اس کی عادت تھیں۔
کبھی طبیعت،
کبھی مہمان،
کبھی تھکن،
اور کبھی صرف دل نہ کرنے کا بہانہ۔
اور جب اسکول میں موجود بھی ہوتا
تو آخری گھنٹی سے پہلے ہی غائب ہو جاتا۔
بچے ابھی سبق دہرا رہے ہوتے
اور وہ پارکنگ میں موٹر سائیکل گرم کر رہا ہوتا۔
عجیب بات یہ تھی کہ
وہ خود کو غلط بھی نہیں سمجھتا تھا۔
وہ نماز بھی پڑھتا تھا،
جمعہ بھی نہیں چھوڑتا تھا،
حرام کھانے پر لمبی تقریریں بھی کرتا تھا۔
مگر اسے کبھی یہ احساس نہ ہوا
کہ حرام صرف رشوت کا نام نہیں۔
کسی غریب بچے کا وقت ضائع کرنا بھی حرام ہے۔
قوم کے مستقبل سے بے وفائی بھی حرام ہے۔
ڈیوٹی کے اوقات چرا لینا بھی حرام ہے۔
بغیر حق ادا کیے تنخواہ لینا بھی حرام ہے۔
مگر کچھ حرام ایسے ہوتے ہیں
جو پلیٹ میں نہیں،
ضمیر میں اترتے ہیں۔
وہ اکثر ایماندار اساتذہ کا مذاق اڑاتا۔
کہتا:
“اتنی جان کیوں مارتے ہو؟
سرکار نے کون سا تمہیں تمغہ دینا ہے!”
حالانکہ اصل مسئلہ یہ تھا
کہ وہ اپنے ضمیر کی عدالت سے بھاگ رہا تھا۔
پھر وقت نے خاموشی سے ایک دن اس کا ہاتھ پکڑا۔
اس کا اپنا بیٹا
ایک دن اسکول سے واپس آیا۔
خاموش۔
بجھا ہوا۔
اس نے پوچھا:
“کیا ہوا؟”
بیٹے نے آہستہ سے کہا:
“سر کہتے ہیں مجھ سے کچھ نہیں ہوگا…”
یہ سنتے ہی
جیسے کسی نے اس کے اندر برسوں سے بند ایک دروازہ توڑ دیا۔
اسے اچانک یاد آیا
وہ بھی تو یہی کہتا تھا۔
کتنے بچوں سے۔
کتنی بار۔
اس رات پہلی بار
اسے اپنی تنخواہ کے نوٹ
رزق نہیں،
سوال لگے۔
اسے محسوس ہوا
کہ ایک نکمّا استاد صرف پڑھانا نہیں چھوڑتا،
وہ آہستہ آہستہ بچوں کے خواب مارنا شروع کر دیتا ہے۔
اور خوابوں کا قتل
شاید دنیا کا سب سے خاموش جرم ہے۔
Garzinda Mama School of Learning
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Garzinda Mama School of Learning, Sawari Bazar, Bunerwal.
Want your school to be the top-listed School/college in Bunerwal?
Click here to claim your Sponsored Listing.
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Telephone
Website
Address
Sawari Bazar
Bunerwal
25000
Opening Hours
| Monday | 09:00 - 21:00 |
| Tuesday | 09:00 - 21:00 |
| Wednesday | 09:00 - 21:00 |
| Thursday | 09:00 - 21:00 |
| Saturday | 09:00 - 21:00 |
| Sunday | 09:00 - 21:00 |