Jica Model School Agarai Buner

Jica Model School Agarai Buner

Share

Parent Teacher Council ( PTC ) Jica Model School Agarai Uc Kawga Tehsil Mandar Chamla District Buner KPK . PTC Struggling for quality education.

03/03/2023

"ٹیچر" نے ایک دن مجھے بہت مارا ۔۔۔
میں نے دل میں انہیں جتنی "گالیاں" دے سکتا تھا
دیں.....
سوچا....
جب بھی زرا بڑا ہوا تو انہیں قتل کر دوں گا۔۔۔۔۔۔لازمی کرنا ۔۔۔۔۔۔دل نے کہا

لیکن وہ مجھے مار مار کر "سکھا" گئے....

ایک دن ملے "سائیکل" پر تھے ، کافی بزرگ ہو چکے تھے ۔۔۔
ان کے پاؤں شوگر کی وجہ سے سوجے رہتے
(کبھی کبھی بنا جوتوں کے سائیکل چلاتے ۔۔۔۔۔)

مجھے دیکھتے ہی بولے "رضوان"۔۔۔
میں "گاڑی" سے بھاگ کر اترا......

بڑے خوش ہوے
مجھے دیکھ کر ۔۔۔
ایک دم ہاتھ جوڑ کر بولے
(کمزور آواز میں)
یار......
مجھے "معاف" کر دینا.....
تجھے بہت "مارتا تھا"۔

پر اس لیے مارتا تھا کہ تم "کچھ بن" جاؤ اور آج تمہیں کسی "مقام" پر دیکھ کر رو پڑا ہوں کہ میرا شاگرد آج "بڑی گاڑی" میں بیٹھا ہے ۔۔کامیاب ہو گیا ہے

🥲بیٹا تم میری خوشی کا اندازہ نہیں کر سکتے ۔

اور رو پڑے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میرے سینے پر "گھونسہ" لگا ۔۔۔

"تڑپ" کر انہیں "سینے" سے لگا لیا ۔۔۔

سارا روڈ یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
پھر ان کے پاؤں چومے ۔۔

ہم--دونوں استاد---شاگرد

🫂گلے لگ کر روتے رہے

عجب سی "مہک" تھی ان کے "سینے" سے آتی ،

مجھے ان کی "چھاتی میں سکون" محسوس ہو رہا تھا ۔۔
ابدی سکون ۔۔۔

جس جس راہ چلتے بندے کو پتہ چلا...
وہ بھی رو پڑا
استاد شاگرد کا پیار دیکھ کر

بات یہ ہے کہ آپ "اچھے نمبرز" نہ بھی لیں ۔۔
اچھے "گریڈز" نہ بھی لیں ۔۔۔
♂️صرف اپنے "ٹیچر" کا "ادب" کریں....
تو 'اجر" ٹیچر نہیں "خدا" دیتا ہے ۔۔۔

مجھے یہ "ملاقات" کبھی نہیں بھول سکتی ۔۔۔
مجھے "تراشنے" والے وہی تو تھے ۔۔۔
میں اک "گمنام", "بے شکل" *پتھر* تھا......

اس لیئے جتنا ہو سکے صرف *"استاد کے احترام"* کو ترجیح دیں اور یہی فقط "کامیابی" کی "سیڑھی" ہیں۔۔۔۔
🥀ابن آدم مسٹر کابلی 🥀

06/09/2022

👈 *وقتا فوقتاً اپنے بچوں کے سکول بیگز چیک کرتے رہا کریں* 👉

وقتا فوقتاً اپنے بچوں کے سکول بیگز چیک کرتے رہا کریں، بچوں کی سٹیشنری چیک کریں اگر کوئی چیز ایکسٹرا نظر آئے تو بچے سے پوچھیں کہ بیٹا یہ آپ نے کہاں سے لی ہم نے تو نہیں لے کر دی؟ بچے کو آئندہ کے لیے سختی سے منع کریں کہ آپ نے کسی سے کوئی بھی چیز نہیں لینی نہ گارڈ انکل سے نہ آیا آنٹی سے، نہ کسی بچے سے، نہ کسی ٹیچر سے اور نہ ہی سکول کی کوئی چیز گھر لے کر آنی ہے۔

بچے کو پیار سے سمجھائیں کہ آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو آپ ہمیں بتاؤ اور بچوں کی ڈائری روزانہ چیک کریں، بکس چیک کریں، کاپیاں چیک کریں، سارا کام ٹیوٹر اور ٹیچرز پہ ہی نہ چھوڑیں، ٹیچرز اور ٹیوٹر تو صرف اچھا پڑھا کر ہمارے بچوں کو کلاس میں پوزیشن ہولڈرز بنانے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں جبکہ ہمیں ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی تربیت بھی کرنی ہے اور اس معاشرے میں اپنے بچے کو پوزیشن ہولڈر بنانا ہے اور بچوں کو دفاع کرنا سکھائیں، مقابلہ کرنا سکھائیں، اس بات کا یہ مطلب بالکل نہیں ہے کہ آپ اپنے بچے کو بدتمیزی سکھائیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب کوئی بچہ آپ کے بچے سے لڑائی جھگڑا کرے تو آپ کے بچے کو جوابا کاروائی کرنی آتی ہو۔

بچے کو یہ بات اچھی طرح سمجھائیں کہ سکول میں کہیں بھی کسی کے ساتھ تنہائی میں نہیں بیٹھنا خواہ کوئی بھی ہو، جہاں سب بیٹھے ہوں وہیں بیٹھو، بچوں کی تنہائی شیطانی افعال کو جنم دیتی ہے اور بچوں کو "گڈ ٹچ اور بیڈ ٹچ" کے بارے میں بھی بتائیں، ہر وقت بچوں کو نصیحتیں کرنا بھی غلط بات ہے، بچے نصیحتوں سے تنگ آجاتے ہیں، کبھی کبھار بچوں کو انٹرٹین کرنے کے لیے اپنے موبائل پہ اپنی نگرانی میں اچھی ویڈیوز، اچھے کارٹون، اسلامی باتیں اور آرٹ اینڈ کرافٹ وغیرہ دکھائیں، موبائل کا اس لیے کہا کیونکہ انٹرنیٹ کا دور ہے تو بچے موبائل میں زیادہ دلچسپی لیتے ہیں یا گوگل فیملی ایپ سے بھی بچے کے موبائل پہ نظر رکھ سکتے ہیں۔

ویسے ہم والدین کو چاہیے کہ ہمیشہ اپنے موبائل میں اچھی چیزیں ہی سرچ کریں، غلط چیزوں اور فحش ویڈیوز سے اپنے موبائل کو پاک رکھیں تاکہ کبھی آپ کا موبائل بچے کے ہاتھ لگ بھی جائے تو آپ کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ ہو، ایک بہت اہم بات بچے کا لنچ کبھی بھی بعد میں مت بھجوائیں، بچے کو اس چیز کی عادت ہی مت ڈالیں، جو بھی دینا ہو بچے کو صبح سکول جاتے وقت ساتھ ہی دیں، ہم مائیں بچوں کے جانے کے بعد پیچھے سے لنچ بھیج رہی ہوتی ہیں، بچے کو کیا معلوم کون کیا دے کر چلا جائے، بچوں کے لنچ باکس میں ہمیشہ کھانے کی چیزیں تھوڑی زیادہ ڈالیں اور بچے کو بتائیں کہ یہ لنچ آدھا آپ کا آدھا آپ کے فرینڈز کا فرینڈز کے ساتھ لنچ شئر کرنا سکھائیں۔

بہت ضروری بات کہ بچوں کو سمجھائیں کہ دوستی ہمیشہ اچھے اور صاف ستھرے بچوں سے کریں، آپس میں اچھی باتیں کریں کیونکہ گندی باتیں کرنے والے شیطان کے دوست ہوتے ہیں اور ہمیشہ خود بھی بچوں کے دوست بن کر رہیں، ہر بات بچوں سے پوچھیں، بچے کو اعتماد میں لیں تاکہ وہ ہر بات آپ سے دوستانہ انداز میں کرے، ہر وقت رعب جھاڑنا بھی غلط بات ہے، اور بچوں کو بتائیں کہ لڑکیاں صرف اچھی لڑکیوں سے اور لڑکے صرف اچھے لڑکوں سے ہی دوستی کرتے ہیں، لڑکی اور لڑکا فرینڈز نہیں ہو سکتے، اللّہ پاک ناراض ہوتے ہیں۔

ویسے تو ہر سکول میں ہی یہ طریقہ ہونا چاہیے کہ کم از کم اول یا دوئم کلاس سے ہی بچیوں اور بچوں کی کلاسز علیحدہ کردینی چاہیں، کچھ لوگ کہتے ہیں بچے ہیں پھر کیا ہوا، بچے ہیں اسی لیے تو زیادہ احتیاط کرنی چاہیے، بچے معصوم ہوتے ہیں غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کر سکتے، صبح سکول جاتے ہوئے بچوں پر تین بار آیت الکرسی پڑھ کر پھونک دیں اور بچوں کو بھی پڑھنے کی ترغیب دیں اور بچوں کو اللّہ کی امان میں دے دیں، انشاءاللہ بچے باحفاظت رہیں گے اور شیطان کے شر سے بھی محفوظ رہیں گے، اللّہ پاک ہمارے بچوں کو ہمیشہ اپنی حفظ و امان میں رکھے، آمین.....

نوٹ:
اس تحریر کو پڑھنے کے بعد دوستوں کے ساتھ شئیر ضرور کریں ۔
Copied
ا ح ک ا م

01/09/2022

Year 1994 : The President of India, Shri Shankar Dayal Sharma visited Muscat on an official trip.

When the Air India flight landed at Muscat, 3 rather unusual incidents took place:

1. The Sultan of Oman never goes to the airport to receive dignitaries of any country - Never. But he made an exception this time and went to the airport to receive the President of India !

2. When the flight landed, the Sultan of Oman climbed up the air stairs and received the President from his seat inside the aircraft !

3 . After alighting the flight there was a car with the chauffeur standing. But the Sultan signalled the driver to move and he himself drove the car with President !

Later when the reporters questioned the Sultan why he broke so many protocols, the Sultan replied, “I did not go to the airport to receive Mr. Sharma because he was India’s President. I studied in India and learnt so many things, when I was studying in Pune, Mr. Sharma was my Professor - that is why I did this!”

That is the power of being a teacher.

Copied

22/08/2022

زندگی کا سب سے پیارا دن

آج صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا صفائ مُہم چلایا گیا جو چونتیس ہزار ( 34000 ) سے زیادہ سکولوں میں آج صبح چھ بجے سے شام سات بجے تک جاری رہا۰ اور اس میں ایک لاکھ دس ہزار سے زیادہ افراد نے شرکت کی۰ سکولوں سے کئ ہزار ٹن کچرا نکالا گیا۰ کلاس رومز ، فرنیچر ، لیباٹریز ، چمن ، پھنکے ، واش رومز ، نکاسی آب کے نالے ، کمپیوٹر لیب اور لائبریریاں صاف کی گئیں ۰ کروڑوں لوگ اُس سے متحرک ہوئے جو اپنے گھروں ، محلوں ، راستوں اور کاروباری جگہوں کو صاف کرنے کی طرف راغب ہُوئے۰ لاکھوں طلبا اپنے آساتذہ کی تقلید کر کے اپنے گھروں کو بھی صاف رکھیں گے۰ قومی املاک کی تحفظ اور اہمیت کا احساس زندہ ہُوا۰ سارا credit معزز آساتذہ کرام اور سکولوں کے تمام عملے کو جاتا ہے جنھوں نے قومی اور سماجی شعور بیدار کرنے کی ایک بے مثال روایت قائم کی۰ چند ہی معلم دوستوں نے اس سارے کار خیر کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کچھ نازیبا کلمات بھی استعمال کئے مگر اُن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر سے بھی کم تھی ۰ متحرک معاشرے کبھی جمود کا شکار نہیں ہوتے اور نشونما پاتے ہیں ۰ کل بچے چمکتے دمکتے سکولوں میں آکر سرور اور اطمینان محسوس کریں گے۰ اب ساری توجہ معیاری تعلیمی سرگرمیوں پر مرکوز ہو گی۰ تمام دوستوں کا بہت شکریہ جو اتوار کے دن اس قومی مہمُ میں شریک ہوئے۰ میڈیا کے تمام فورمز اور دوستوں کا بھی شُکریہ جو صوبے کے ہر سکول اور ہر گاوں میں اس مہم کی بھرپور کوریج کرتے رہے۰ ویسے آج بھی آٹھ ہزار نئے بچے سکولوں میں داخل ہوئے۰
سیکرٹری تعلیم معتصم باللہ شاہ

Photos from Jica Model School Agarai Buner's post 19/08/2022

Class 5th (Science) group assignment: Difference between Monocot and Dicot

Want your school to be the top-listed School/college in Bunerwal?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Jica Model School Agarai UC Kawga Tehsil Mandanr District Buner KPK
Bunerwal