13/05/2026
گزشتہ کئی روز سے اسکول کی کلاس میں ایک طالب علم غیر حاضِر تھا۔ طالب علم کے والدین سے رابطے کے لیے متعدد بار ان کے دیے گئے نمبروں پر کال کی گئی، مگر مسلسل فون بند ہونے کی وجہ سے رابطہ قائم نہ ہو سکا۔ تشویش بڑھنے پر بالآخر اپنے ہی ایک طالب علم کو ہمراہ لے کر ان کے گھر جانے کا فیصلہ کیا۔
گھر پہنچ کر نہایت شائستہ اور تحمل سے گزارش کی:
"آپ کا بچہ کافی عرصے سے اسکول نہیں آ رہا تھا، لہٰذا خیریت دریافت کرنا مناسب سمجھا۔ آپ کے فون بھی رابطے کے قابل نہ تھے، جس کی وجہ سے خاصی تشویش لاحق تھی۔"
والدین نے قدرے تلخی کے ساتھ جواب دیا:
"ہم نے اپنے بچے کو کسی دوسرے اسکول میں داخل کروا دیا ہے۔"
یہ سن کر حیرت ہوئی، از روئے ادب دریافت کیا:
"یہ فیصلہ اچانک اور بغیر کسی اطلاع کے کس وجہ سے کیا گیا؟"
والدین نے جواب دیا:
"اب ہمارا بچہ اٹھنا بیٹھنا سیکھ چکا ہے، کافی سمجھدار ہو گیا ہے، اور دوسرے اسکول کے داخلہ امتحان میں کامیابی حاصل کر چکا ہے۔ اس لیے اسے وہاں منتقل کر دیا گیا۔"
اس پر میں نے تسلی اور وقار کے ساتھ کہا:
"بغیر کسی پیشگی اطلاع اور اجازت کے بچے کو اسکول سے نکالنا کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ ایک معاشرتی ذمہ داری سے گریز ہے اور تعلیمی نظام میں تسلسل و خوش حالی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔"
یہ سن کر والدین قدرے حیرت زدہ ہوئے۔ میں نے مزید وضاحت پیش کی:
"میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کی دی گئی تعلیمی فیس صرف آپ کے اپنے بچے پر خرچ نہیں ہوتی۔ اس فیس سے کئی غریب اور یتیم بچے بھی معیاری تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ کے تعاون سے متعدد گھرانوں کے بچوں کی تعلیم ممکن ہوتی ہے اور کئی خاندان خوش حال ہوتے ہیں۔ لہٰذا آپ مطمئن رہیں کہ آپ کی طرف سے ادا کردہ رقم نہ صرف آپ کے بچے کا حق پوری کرتی ہے، بلکہ بہت سے دوسرے مستحق بچوں کی زندگیاں بھی سنوارتی ہے۔"
والدین کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی۔ میں نے نرمی مگر مؤثر انداز میں مزید کہا:
"یہ ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ اس نظام کو برقرار رکھیں۔ جب بھی کسی تعلیمی ادارے سے علیحدگی اختیار کی جائے، تو باوقار طریقے سے، احترام کے ساتھ اور پیشگی اطلاع دے کر رخصت ہونا ایک اعلیٰ معاشرتی روّیہ ہے۔ آپ کو چاہیے تھا کہ پہلے آگاہ کرتے، شکریہ ادا کرتے، پھر منتقلی کا فیصلہ کرتے۔"
اس پر والدین نے نظر جھکا لی۔ میں نے گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر کیا:
"آیندہ ہم سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کو احسن طریقے سے نبھائیں گے، تاکہ کوئی بچہ تعلیم سے محروم نہ رہے اور نہ ہی کسی استاد کے جذبات کو ٹھیس پہنچے۔"
یہ کہہ کر میں وہاں سے روانہ ہو گیا۔ واپسی پر یہ اطمینان ضرور تھا کہ شاید انہوں نے بات کو سمجھنے کی کوشش کی ہو۔
10/05/2026
24/03/2026
24/03/2026