18/12/2025
*"ریئس الخرار چوہدری غلام عباس "*
تعارف (Introduction)
تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ عظیم رہنماؤں اور قربانیوں سے بھری پڑی ہے، لیکن چوہدری غلام عباس کا نام اس فہرست میں ایک روشن ستارے کی مانند ہے۔ آپ کو آپ کی بے لوث قیادت اور بہادری کی وجہ سے "رئیس الاحرار" (آزاد لوگوں کے سردار) کا لقب دیا گیا۔ آپ کشمیریوں کے محبوب لیڈر اور نظریہ پاکستان کے سچے سپاہی تھے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم (Early Life and Education)
چوہدری غلام عباس 4 فروری 1904ء کو جموں کے ایک متوسط طبقے کے خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام چوہدری نواب خان تھا۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم جموں سے ہی حاصل کی۔ میٹرک کے بعد آپ نے "پرنس آف ویلز کالج" جموں سے گریجویشن کیا اور بعد ازاں لاہور سے قانون (Law) کی ڈگری حاصل کی۔
سیاسی جدوجہد کا آغاز (Beginning of Political Struggle)
اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد چوہدری غلام عباس نے وکالت شروع کی، لیکن کشمیری مسلمانوں کی حالت زار دیکھ کر وہ خاموش نہ رہ سکے۔
ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن: 1924ء میں آپ نے نوجوانوں کی تنظیم "ینگ مینز مسلم ایسوسی ایشن" کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلمانوں میں بیداری پیدا کرنا تھا۔
خطبہ کا واقعہ: 1930ء میں جب ڈوگرہ راج نے خطبہ جمعہ پر پابندی لگانے کی کوشش کی تو چوہدری غلام عباس نے زبردست احتجاج کیا اور خود اذان دے کر خطبہ پڑھا، جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ یہیں سے آپ کی باقاعدہ سیاسی زندگی کا عروج شروع ہوا۔
مسلم کانفرنس اور نظریہ پاکستان (Muslim Conference and Ideology of Pakistan)
چوہدری غلام عباس کا سب سے بڑا کارنامہ "آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس" کی تنظیم نو اور قیادت تھا۔
آپ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے بہت قریب تھے اور دو قومی نظریے پر یقین رکھتے تھے۔
آپ کا نعرہ تھا کہ "کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے" اور کشمیر کا مستقبل صرف پاکستان کے ساتھ وابستہ ہے۔
جب شیخ عبداللہ نے کانگریس کا ساتھ دیا تو چوہدری غلام عباس نے ڈٹ کر ان کا مقابلہ کیا اور کشمیری مسلمانوں کو مسلم لیگ اور پاکستان کے جھنڈے تلے جمع کیا۔
قید و بند اور ہجرت (Imprisonment and Migration)
تحریک پاکستان اور تحریک آزادی کشمیر کے دوران آپ کو کئی بار قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد آپ کو بھارتی فوج اور ڈوگرہ راج نے قید کر لیا تھا۔ بعد میں قیدیوں کے تبادلے کے تحت آپ پاکستان تشریف لائے اور آزاد کشمیر حکومت کے سپریم ہیڈ کے طور پر خدمات انجام دیں۔
وفات اور خراج تحسین (Death and Legacy)
کشمیر کا یہ عظیم بیٹا اور پاکستان کا سچا عاشق 18 دسمبر 1967ء کو راولپنڈی میں انتقال کر گیا۔
آپ کی وصیت کے مطابق آپ کو فیض آباد (راولپنڈی/اسلام آباد) کے مقام پر دفن کیا گیا تاکہ آپ کا رخ مقبوضہ کشمیر کی طرف رہے۔ آج بھی آپ کا مزار پاکستان اور کشمیر کے اٹوٹ رشتے کی گواہی دیتا ہے۔
خلاصہ (Conclusion)
چوہدری غلام عباس کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ آزادی کی جدوجہد کے لیے استقامت اور دیانتداری ضروری ہے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی کشمیری مسلمانوں کے حقوق اور پاکستان کی محبت میں گزار دی، یہی وجہ ہے کہ تاریخ انہیں ہمیشہ "رئیس الاحرار" کے نام سے یاد رکھے گی۔