ہمارے دل کے مکاں میں سدا مکیں رہیں گے
خسارے ضد پہ اڑے ہیں کہ اب یہیں رہیں گے
ہم اپنا زاویہ ہرگز بدلنے والے نہیں
جو دلنشیں ہیں ہمیشہ ہی دلنشیں رہیں گے
ہزار وقت کا مرہم لگائیں گھاؤ پر
یہ داغِ ہجر یقیناً کہیں کہیں ، رہیں گے
ذرا شکستہ سہی ، اک نشان کی صورت
جہاں سے ہم کو ہٹایا ہے ہم وہیں رہیں گے
گلا ہی چھیل لیا ہے وضاحتیں دے کر
ہمیں گماں بھی نہ تھا آپ بے یقیں رہیں گے
پِیا ہوا ہے یہاں کب کسی نے آبِ حیات
یہ ظلم کرتے ہوئے لوگ بھی نہیں رہیں گے
یہ آرزو تھی فقط تیری آرزو کرتے
Producer & Reporter at Rose F.M 90
Teacher At Jabbi National Foundation College
Poetry Lover
سجدوں کے عوض فردوس ملے یہ بات مجھے منظور نہیں۔۔۔
بےلوث عبادت کرتا ہوں بندہ ہو ں تیرا مزدور نہیں۔۔
کتنے ہیں لوگ خود کو جو کھو کر اداس ہیں
اور کتنے اپنے آپ کو پا کر بھی خوش نہیں
مجھ سے حالات کے تلوے نہیں چاٹے جاتے
زندگی دست و گریباں نہ ہوا کر مجھ سے
حـــــواس اُڑے ہـــــوئے لیـــــکن لـــــحاظ حُـــــسن ادب
یـــــہ دیکھـــی ہــــے تیـــرے آئنــــہ دار کـــــی حـــــالت
ادائـــے نــاز پـــہ مـــر کــے نـــہ جـــائیں کیـــــا گـــــذری
حضـــور دیــکھ تـــو لیــں جـــاں نثـــار کـــــی حـــــالت
مجھے مہنگے مہنگے تحفے بہت پسند ہیں
جیسے کہ ,وقت , عزت , مخلصی , اعتبار , ایمانداری
سب کچھ بھی نہیں ملتا اس زندگی میں
کچھ چیزیں مُسکرا کر چھوڑ دینی چاہئیے
اے مُحبت کی طرف کِھینچتے پیارے لوگو
ہم نے چھوڑی ہے یہ پوشاک پُرانی کر کے..
21/01/2025
مجھے نہیں معلوم وطن کس نے بیچا، لیکن میں نے دیکھا کہ قیمت کس نے ادا کی۔ 💔
"دیر سے آنے والی چیزوں کا کوئی فائدہ نہیں جیسے کسی مردہ ماتھے پر معافی کا بوسہ."
راہِ نفرت میں بھٹکتی ہوئی وحشی دُنیا
تُجھ کو اِک راز بتاؤں کسی اُجرت کے بغیر_
کمسنی ہو ، جوانی ہو ، یا کہ ہو بڑھاپا
آدمی جی ہی نہیں سکتا محبت کے بغیر_
کہانی کچھ نہیں لفظوں کی بس مالا پروتے ہیں
چمک اٹھتے ہیں کنکر بھی جب اشکوں میں بھگوتے ہیں
..
جنہیں محسوس کر کے روح کو تسکین ملتی ھے
الگ دنیا کے دردوں سے کچھ ایسے درد ہوتے ہیں
..
ہوائیں دستکیں دیتی ہوئی سنسان گلیوں میں
خموشی جاگتی ھے شہر گہری نیند سوتے ہیں
..
سحر تک سینکڑوں جگنو گزر جاتے ہیں خوابوں سے
نجانے کتنے منظر رات کی آنکھوں میں روتے ہیں
..
کبھی ڈھلتے ہیں ایسے رتجگے آنکھو ں کی سرخی میں
نئی تحریر ہوتی ہے نئے مضمون ہوتے ہیں
..
قلم جب بھی اٹھاؤں میں ورق پر نام لکھنے کو
کئی الفاظ مرتے ہیں کئی پلکیں بھگوتے ہیں
..
مکانوں میں کہیں جب بھی اداسی چیخ اٹھتی ہے
تو پہروں تک گلے لگ کر درو دیوار روتے ہیں
..
ٹپکتی ھے مری آنکھوں سے شبنم سی مرے دل تک
کچھ ایسے خواب ہیں شام و سحر ہی غم بلوتے ہیں
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Bhimber A. J. K
Bhimber
50100