17/12/2025
ہمارے دل کے مکاں میں سدا مکیں رہیں گے
خسارے ضد پہ اڑے ہیں کہ اب یہیں رہیں گے
ہم اپنا زاویہ ہرگز بدلنے والے نہیں
جو دلنشیں ہیں ہمیشہ ہی دلنشیں رہیں گے
ہزار وقت کا مرہم لگائیں گھاؤ پر
یہ داغِ ہجر یقیناً کہیں کہیں ، رہیں گے
ذرا شکستہ سہی ، اک نشان کی صورت
جہاں سے ہم کو ہٹایا ہے ہم وہیں رہیں گے
گلا ہی چھیل لیا ہے وضاحتیں دے کر
ہمیں گماں بھی نہ تھا آپ بے یقیں رہیں گے
پِیا ہوا ہے یہاں کب کسی نے آبِ حیات
یہ ظلم کرتے ہوئے لوگ بھی نہیں رہیں گے