10/05/2020
اگر حکومت نے مدد نہ کی تو کرونا کا یہ اژدھا ہزاروں نجی اسکولوں کو نگل جائے گا۔
وزیر اعظم عمران خان صاحب سے درخواست ہے کہ وہ ملک بھر میں قائم 173,110 نجی اسکولزجن میں تقریبا ً 20 لاکھ سےزائد اساتذہ بر سر روزگار ہیں، اِن میں سے نصف سے زائد اسکولز کرائے کی عمارتوں میں ہیں جن کی ماہانہ فیس 300 سے لیکر 3000 کے درمیان ہے، اور آپ کے اقتصادی پیکچ میں ان تمام اسکولوں کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
ہم وزیر اعظم سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ کوئی امداد نہ دیں، صرف اتنا کر دیں کہ آسان شرائظ پر اُن تمام اسکولز کو کم از کم3 ماہ کی ٹوٹل فیس کلیکشن کے برابر قومی بینکوں سے آسان شرائط پر ،بلا سود 24 ماہ کے لئے قرضہ دلوادیں۔ جیسا کہ آپ کے علم میں ہے کہ تعلیمی اداروں پر اس وقت تالا لگا ہوا ہے، والدین سے آفس کھول کر فیس بھی وصول نہیں کی جاسکتی اور جون میں اسکولز کُھلنے کے بعد بھی والدین کی معاشی پوزیشن ایسی نہیں ہوگی کے وہ 4 ماہ کی فیس ایک ساتھ ادا کرسکیں اور نئی کلاسز کے لئے کورس بھی خرید سکیں، نہ ہی اسکولز اساتذہ کو ایک ساتھ تنخواہیں دینے کی پوزیشن میں ہو نگے۔ جس وقت بھی قوم کو ضرورت پڑی نجی تعلیمی اداروں کے طالبعلم، اساتذہ اور مالکان نے دل کھول کر اْن کی مدد کی ہے چاہے وہ 2005 کا زلزلہ ہو یا 2010 کا سیلاب، آج یہ نجی اسکولز اپنے وزیر اعظم کی طرف اس وقت ایک اُمید سے دیکھ رہے ہیں کہ مشکل کی اس گھڑی میں اُن کو فراموش نہ کیا جائے۔
آپ کے اس اقدام سے ہزاروں اسکولز بند ہونے سے اور لاکھوں اساتذہ بیروزگار ہونے سے بچ جائیں گے۔