25/10/2025
موت العالِم موت العالَم ۔۔۔
استاذ الاساتذہ جناب ڈاکٹر خالد محمود انجم اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔۔۔
استاد گرامی! نہایت اخلاص،بلند ہمتی اور سادگی کی ایک اعلیٰ مثال تھے۔ساری عمر تعلیم اور تدریس میں بسر کی۔ایسی تدریس خاص کر بنیادی سائنس اور ریاضی جس سے بڑے بڑے جغادریوں کے پسینے چھوٹ جاتے تھے،ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔پوری ایک نسل کی آبیاری ان کے ہاتھوں ہوئی جو آج مسند عزت وروزگار پہ براجمان ہیں۔جب کبھی اپنے کسی شاگرد کو اعلیٰ عہدے پہ دیکھتے تو لا محالہ پکار اٹھتے کہ اللہ کریم اسے ستاروں پہ کمند ڈالنے کی توفیق دے۔
بنیادی فزکس،بنیادی کیمسٹری،بنیادی بائیولوجی اور میتھمیٹکس میں ید طولٰی رکھتے تھے۔اور پھر اپنے طلبا کو عملی سائنسی تجربات کے ذریعے سائنسی علوم سے روشناس کراتے۔ساری عمر اپنے طلبا کے لئے پریکٹیکلز کی سفارش نہیں کی۔جب کبھی اس غلط العام پریکٹس کی طرف توجہ دلائی جاتی کہتے میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے یہ نہیں کر سکتا۔ ان کے طلبا کی کثیر تعداد ڈاکٹرز،انجنئیرز اور آفیسرز کی ہے۔ پی ایچ ڈی بھی میتھمیٹکس جیسے خشک مضمون میں کر رکھی تھی جہاں ان کا تھیسس سیٹ ٹپولوجی سے متعلق تھا اور سلام سکول آف میتھمیٹکس گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں ان کے تھیسس کو سراہا گیا۔
ساری عمر اکیڈمی اور ٹیوشن کے نام سے چڑتے تھے حالانکہ وہ چاہتے تو اکیڈمی کے نام پہ ماہانہ لاکھوں کما سکتے تھے کیونکہ ہمارے پنجاب کے اس سب سے بڑے قصبے میں تدریس کے لئے ان کا نام ہی کافی تھا۔
استاذ مکرم کا دنیا سے رہ و رسم بالکل برائے نام تھا۔جب کبھی کسی حوالے سے بھی دنیا کا تذکرہ ہوتا تو ہمیشہ کہتے کہ پیغمبرِ اسلام کی زندگی کا مطالعہ کیا کرو۔ان کی ذاتی ملکیت میں شاید دو جوڑے ہوں۔اپنی تنخواہ کا بیشتر حصہ نہایت رازداری سے اپنے قصبے کی بیواؤں اور یتیموں کے حوالے کرتے اور یہ کام فقط ہمارے دو عزیز شاگردوں کے ذریعے سر انجام دیتے ساتھ تاکید فرماتے کہ میری زندگی میں کبھی اس کا ذکر نہ کرنا۔اور ان کے آخری سانس تک ہم نے یہ عہد نبھایا۔
گھر کی ضروریات پوری کرنے کے بعد جو پیسے بچتے اس سے ہر ماہ اسلامی کتب خریدتے۔ان کے پاس قرآن مجید کے اردو زبان کے تمام تراجم و تفاسیر موجود تھے۔سیرت نبوی کی بھی کتب کثیرہ ان کے زیر ملکیت تھیں۔کہا کرتے کتاب کا حق یہ ہے کہ اسے خرید کر پڑھا جائے۔
بعد ازاں انھیں چار سرکاری تعلیمی اداروں کی زمہ داری بطور پرنسپل ملی جسے انھوں نے یوں سر انجام دیا کہ اس کی مثال ملنا شاید محال ہو۔سیاسی مداخلت،بد عنوانی اور بد نظمی کی ہمیشہ مخالفت ڈٹ کی اور کلمہ حق بلند رکھا گویا۔۔۔
اپنے بھی ہیں مجھ سے خفا بیگانے بھی نا خوش
میں زیر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند
جس کی انھیں قیمت تبادلوں اور ایک ٹانگ سے محرومی کی صورت میں ادا کرنا پڑی۔اس پہ مستزاد یہ کہ ریٹائرمنٹ جون 2024 میں ہوئی اور تادم وفات محکمہ تعلیم پنجاب نے ان کی پنشن روک رکھی ہے جس کا حساب لینے کے لئے وہ اب اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے ہیں۔
اللہ کریم ان کی بے بہا مغفرت فرمائے اور جنت کے اعلٰی ترین مقامات سے نوازے ۔۔۔آمین