06/04/2015
آرمی اور مجاہدین کے لیے ایک نظم
لہو کے چھینٹے ہر جانب بکھر رہے ہیں
لہو کے دریا چڑھے ہوئے ہیں
لہو جو مٹی کا رزق بن کر
عظیم جذبے جگا رہا ہے
عظیم جذبے__!
کہ جن میں عزم جہاد بھی ہے
اور کفر سے اک عناد بھی ہے
یہی ہے بس وقت کا تقاضا
اسی سے خوش ہے تمہارا خالق!
اسی میں فوز عباد بھی ہے
یقین کی تنویر کا نشان بھی ہے
جہاد کشمیر ضوفشاں ہے
کہ اس سے چہرے دمک رہے ہیں
شہید بھی کامراں ہیں اپنے
تمام غازی بھی سر خرو ہیں
وہ قوم جس میں بہت دنوں سے
جہاد کا جذبہ سوچکا تھا
وہ جاگ اٹھی ہے
یقیں و ایمان کا پھریرا
اڑانے والے
نثار کرتے ہیں جان و دل کو
بس اب قدم چوم لے گی منزل
حسین منزل
مجاہدان رہ وفا تم
عظیم ہو
بس عظیم رہنا
ہلاکت پر غنیم رہنا
تمہاری صف کو عطا کرے رب
وہ استقامت
کہ جس کے آگے
عدو کا اسلحہ نہ ٹھہر سکے
تمہارے جذبوں پر کوئی ظالم
لگا سکے نہ عمر بھر پہرے
تمہاری یلغار
نصرتوں کا پیام ہوگی
شگست تم پر حرام ہوگی
فتح
تمہارے ہی نام ہوگی__!