15/12/2025
تم زمینوں سے رابطہ رکھنا
اپنے پُرکھوں سے رابطہ رکھنا
باپ کے بعد اِلتجا ہے میری
اپنی بہنوں سے رابطہ رکھنا
گِر بھی جاۓ جو خاندانی شجر
پھر بھی شاخوں سے رابطہ رکھنا
دور رہنا ہمیشہ بستی سے
پر پرندوں سے رابطہ رکھنا
التجا بھی جو کر نہیں پائیں
ایسی نظروں سے رابطہ رکھنا
چھوڑ دینا بھلے زمانے کو
اپنی ماؤں سے رابطہ رکھنا
25/11/2025
چارپائی کیساتھ بندھی جھلونگی یا موت کا جھولا
تحریر: نرجس کاظمی
جھلونگی جہاں ہماری ثقافتی نشانی ہے، وہیں ماں کے لئے آسانی بھی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن شاید ہم نہیں جانتے کہ یہ کتنی خطرناک ہو سکتی ہے۔ میں ایک آنکھوں دیکھا واقعہ شیئر کر رہی ہوں۔
اس دن میں اپنے گھر کے باغیچے میں کام میں مصروف تھی کہ اچانک کسی خاتون کے دردناک چیخنے چلانے کی آواز آئی۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا ہوا ہے۔ میں نے گیٹ کھولا اور آواز کی سمت بڑھنا شروع کیا۔ وہ آواز مویشیوں کے اس ڈیرے سے آ رہی تھی جہاں میرے رشتہ دار بھی رہتے تھے۔ یہ میری پھپھو کی بیٹی کا ڈیرہ تھا۔
گیٹ کھلا تھا۔ میں اندر گئی تو دیکھا کہ میری پھپھو زاد بہن چارپائی پر پڑے ایک بچے کو دیکھ رہی تھیں اور ساتھ ہی ڈیرے پر کام کرنے والی خاتون بین کر رہی تھی۔ میں نے گھبرا کر پوچھا "آپا کیا ہوا ہے؟" آپا نے دہشت زدہ چہرے کے ساتھ مجھے بلایا۔ میں بھاگ کر پہنچی تو دیکھا کہ چار ساڑھے چار سالہ بچہ بے جان چارپائی پر پڑا ہے دیکھنے سے ہی پتہ چل رہا تھا کہ بچہ فوت ہو چکا ہے۔ جسم پر نہ سانپ کے کاٹنے کا کوئی نشان تھا، نہ کوئی زخم، مگر بچے کی رنگت پیلی تھی، اور ہونٹوں پر پانی اور پھٹے دودھ کے ذرات چپکے ہوئے تھے۔
میں نے روتی ماں سے پوچھا کہ کیا بچے نے الٹی کی تھی؟ وہ بولی بچہ کافی دیر سے سو رہا تھا، میں کاموں میں مصروف تھی۔ جب نظر پڑی تو لگا کہ بچے کی رنگت بدل گئی ہے اور وہ حرکت نہیں کر رہا۔ میں نے اٹھایا تو منہ سے تھوڑی الٹی نکلی۔ وہی پانی اور پھٹے دودھ جیسے ذرات فرش پر پڑے نظر آ رہے تھے۔ میں سمجھ گئی کہ بچے نے نیند میں الٹی کی ہے۔ لیکن چونکہ وہ گہری نیند میں تھا، گردن اٹھ نہ سکی۔ جھکی ہوئی گردن کی پوزیشن میں زور سے آنے والی الٹی سیدھی سانس کی نالی میں گئی اور پھیپھڑوں میں بھر گئی۔ اسے aspiration کہتے ہیں، اور یہ چند لمحوں میں موت کا سبب بن سکتا ہے۔ افسوس کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ واقعہ انتہائی دردناک تھا مگر میرے لئے اچھنبے کی بات تھی کہ کیا معمولی سی مگر بہت فائدہ مند جھلونگی ایسے بچے کی جان بھی لے سکتی ہے ۔
نیچے اس موضوع سے متعلق اہم طبی معلومات بھی شامل ہیں۔
چارپائی کے ساتھ بندھی بچوں کی جھلونگی دیکھنے میں تو آسان اور آرام دہ لگتی ہے لیکن حقیقت میں یہ نوزائیدہ بچوں کے لیے جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ میں نے خود جھلونگی میں ایک بچے کی موت ہوتے دیکھی ہے اور اس کے بعد کبھی کسی کو یہ جھولا استعمال کرنے کا مشورہ نہیں دیا۔ جھلونگی میں بچے کو رکھا جاتا ہے تو اکثر اس کی ٹھوڑی نیچے جھک کر سینے سے لگ جاتی ہے۔ اس پوزیشن میں بچہ آہستہ آہستہ سانس نہیں لے پاتا اور بغیر کسی آواز کے اس کا سانس بند ہو سکتا ہے۔ یہ ایک خاموش موت ہے جسے دیکھنے والا سمجھتا رہتا ہے کہ شاید بچہ سو رہا ہے۔
ایک اور خطرہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بچہ گہری نیند میں الٹی کر دے۔ چونکہ جھلونگی میں بچے کا سر ایک طرف جھک جاتا ہے اور کپڑا اردگرد ہوتا ہے، اس لیے الٹی سیدھی پھیپھڑوں میں چلی جاتی ہے جسے اسپائریشن کہا جاتا ہے۔ یہ چند لمحوں میں بچے کی جان لے سکتا ہے۔ دنیا بھر میں نرم، لٹکے ہوئے جھولوں کو نوزائیدہ بچوں کی نیند کے لیے غیر محفوظ قرار دیا جاتا ہے۔
WHO، UNICEF اور عالمی پیڈیاٹرک گائیڈ لائنز کے مطابق soft hammocks، کپڑے کے جھولے، hanging cradles بچوں کے لیے خطرناک ہیں۔ آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کینیڈا، امریکا اور یورپ کے کئی ممالک میں یہ جھولے یا تو بین ہیں یا سخت وارننگ کے ساتھ فروخت ہوتے ہیں۔
اسی لیے بہتر یہ ہے کہ بچے کو ہمیشہ سیدھی، سخت سطح پر، پیٹھ کے بل، چہرہ کھلا رکھ کر سلایا جائے اور اس کے آس پاس کوئی ایسا کپڑا نہ ہو جو سانس کی راہ میں رکاوٹ بنے۔
جھلونگی آرام دہ ضرور لگتی ہے مگر ایک لمحے کی غفلت جان لے سکتی ہے۔ محفوظ طریقہ ہمیشہ وہی ہے جو دنیا بھر کے ماہرین تسلیم کرتے ہیں۔
Narjis Kazmi
18/11/2025
..انتہائی دکھ بھری خبر
پرنسپل گورنمنٹ کالج قائد آباد،خوشاب جو نفسیات کے استاد ،
ایک انتہائی باکمال انسان ، ہنس مکھ شخصیت پروفیسر محمد سلیم وفات پا گئے ہیں ۔انا للہ وانا الیہ راجعون ۔
اللہ تعالیٰ ان کی انگلی منزلیں آسان فرمائے اور تمام لواحقین کو یہ دکھ سہنے کہ ہمت دے۔آمین
28/10/2025
مستحق طلباء کی مدد کے اس کار خیر میں پروفیسر ڈاکٹر کفایت اللہ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔۔
اللہ تعالی ان کی اور ان کے تمام رفقائے کار کی اس حوالے سے خدمات کو قبول فرمائے۔۔
اس کار خیر میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے اپ بھی اس نمبر پر رابطہ کر سکتے ہیں
0333 8906945۰ پروفیسر ڈاکٹر ملک کفایت اللہ
19/10/2025
...دائم آباد رہے گی دنیا
ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہو گا
ناصر کاظمی
🖤🍂
17/10/2025
🥇 ✨❤️گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کی سرگودھا بورڈ میں پہلی پوزیشن🥇✨❤️
سرگودھا بورڈ کے سال 2025 کے امتحانات میں گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر کے باصلاحیت طالب علم محمد ساجد نے 532 نمبرز کے ساتھ پری میڈیکل گروپ،فرسٹ ایئر میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔👏
یاد رہے کہ محمد ساجد نے میٹرک امتحان 2024 میں 1185 نمبرز کے ساتھ سرگودھا بورڈ میں مجموعی طور پر دوسری پوزیشن حاصل کی تھی۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ان کے بڑے بھائی ڈاکٹر عبدالباسط نے بھی گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر سے ایف ایس سی (2019) میں 1052 نمبرز کے ساتھ سرگودھا بورڈ میں دوسری پوزیشن حاصل کی تھی، اور اس سے قبل میٹرک میں بھی وہ دوسری پوزیشن لے چکے ہیں۔
اب وہ کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی لاہور سے ایم بی بی ایس مکمل کر کے انسانیت کی خدمت میں مصروفِ عمل ہیں۔ 🩺✨
سلام اور خراجِ تحسین ہے ان کے والدِ محترم اللہ بخش صاحب کی بصیرت، محنت اور عظمت کو، جنھوں نے خاموشی، صبر اور حوصلے سے اپنے بیٹوں کو کامیابیوں کے روشن سفر پر گامزن کیا۔ 🌹💞✨🥇❤️