24/08/2026
ورچول یونیورسٹی کے ہوم پیسٹ طالب علم اور کیمپس بیسڈ طالب علم ہونے میں فرق اور فائدہ کیا ہے
ڈیئر طلبہ ورچول یونیورسٹی میں دو طرح کے طالب علم ہوتے ہیں ایک ورچول کیمپس بیسڈ اور ایک ہوم پیسڈ
1 ۔دونوں صورتوں میں یونیورسٹی ایک جیسی فیس طالب علموں سے چارج کرتی ہے یعنی کہ ورچول کیمپس بیسڈ اور ہوم بیس طلبہ کی فیس برابر ہوتی ہے ۔
2 اگر بچہ ہوم بیسڈ ہے تو اپ کے شہر کا ورچول کیمپس بیسڈ اپ کی کسی بھی صورت میں مدد نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے پاس اپ کا ریکارڈ نہیں ہوتا۔
3 ورچول کیمپس بیسڈ سٹوڈنٹ ہونے میں کیمپس کے پاس اپ کا تمام ریکارڈ ہوتا ہے اور اپ کے تمام مسائل کا حل کیمپس انتظامیہ فل فور کر دیتی ہے۔
4 اگر طالب علم ہوم بیسڈ ہے تو طالب علم کو اپنی تمام معاملات میں ہیلپ کے لیے یونیورسٹی کے اسلام اباد کیمپس یا لاہور کیمپس پر بازریعہ ای میل یا بذریعہ ٹیلی فون رابطہ کرنا پڑتا ہے ۔جو کہ رابطہ بہت مشکل اور طویل ہوتا ہے اور بعض اوقات کئی کئی ہفتوں تک بچوں کا رابطہ نہیں ہو پاتا اور ان کے تعلیمی معاملات بگاڑ کا باعث بن جاتے ہیں کیونکہ اگر ان کا اکاؤنٹ بند ہے یا کوئی اور معاملہ ہے تو ان کی تعلیمی سرگرمی رک جاتی ہے جبکہ کیمپس بیسٹ ہونے کی صورت میں کیمپس فل فور ان کے مسائل کو حل کرتا ہے ۔
5 یونیورسٹی کے اوقات کار صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک ہوتے ہیں اور سوموار سے جمعہ تک۔جبکہ اپ کے شہر کا کیمپس ہم وقت اپ کے لیے دستیاب ہوتا ہے
6 جبکہ اپ کا لوکل کیمپس کے اوقات کار صبح اٹھ بجے سے شام اٹھ بجے تک ہوتے ہیں اور کیمپس منیجرز اور ہیلپنگ سٹاف کے ساتھ اپ کا واٹس ایپ اور فون پر 24 گھنٹے میں کسی بھی وقت رابطہ ہو سکتا ہے اور یہ ہفتے کے ساتوں دن اپ کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔اس لیے ہوم پیسٹ کی بجائے کیمپس بیسڈ سٹوڈنٹ ہونے میں طالب علم کا فائدہ ہے۔
7 ورچول کیمپس کا سٹوڈنٹ ہونے کی صورت میں متعلقہ کیمپس اپ کو اپنے واٹس ایپ سٹڈی گروپس کے اندر ایڈ کرتا ہے جہاں پر طالب علم اپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں رہتے ہیں
8 ورچول کیمپس کا سٹوڈنٹ ہونے کی صورت میں طالب علم کے پاس بروقت معلومات اور نوٹیفکیشنز پہنچ جاتے ہیں جو کہ ہوم بیسڈ سٹوڈنٹ ہونے کی صورت میں طالب علم ان سے محروم رہتے ہیں ۔
ڈیئر طلبہ جب بھی اپ داخلہ فارم فل کریں تو سٹیٹس میں ہمیشہ ورچول کیمپس کو سلیکٹ کریں تاکہ اپ کا متعلقہ ورچول کیمپس اپ کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے اور اپ کا بھی کیمپس کے ساتھ ایک رابطہ رہے جو کہ اپ کے تعلیمی معاملات اور مسائل کو حل کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے
اور اگر اپ نے ہوم بیسڈ طالب علم کے طور پر داخلہ لے لیا ہے تو اپ اپنے قریبی ورچول کیمپس سے رابطہ کریں اور اپنے سٹیٹس کو کیمپس پر منتقل کریں اور مسائل سے بچیں۔
طالب علم کو امتحانات کی اچھی تیاری کرنے کے لیے بھی ورچول کیمپس کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ ورچول کیمپس طالب علموں کو امتحان میں کامیاب ہونے کے لیے بھرپور انداز میں اسٹڈی مٹیریل اور تعلیمی طلبہ کا ایکٹ کرتا ہے۔
ایک بات یاد رہے کہ ورچول کیمپس کا طالب علم ہونا اس بات کا غمازی نہیں کہ اپ کو کیمپس میں ریگولر انا پڑے گا اپ جس طریقے سے ہوم بیسڈ ہو کر اپنی تعلیمی سرگرمی جاری رکھ سکتے ہیں اسی طریقے سے اپ ورچول کیمپس کے ساتھ بھی اپنا تعلق قائم کر سکتے ہیں۔یعنی کہ ورچول کیمپس کا طالب علم ہونے کے باوجود اپ کا کیمپس میں انا ضروری نہیں لیکن مشکل میں کیمپس اپ کی مدد صرف اسی صورت میں کر سکتا ہے جب اپ اس ورچول کیمپس کے طالب علم ہیں۔
ہوم بیس طلبہ میں ڈراپ اؤٹ ہونے کی پرسنٹیج 70 فیصد سے زائد ہے یعنی کہ جو بچے ہوم بیسٹ ہوتے ہیں سو میں سے 70 بچے سسٹم کو نہ سمجھ پانے کی بنا پر تعلیم چھوڑ جاتے ہیں جبکہ کیمپس بیسڈ طالب علم ہونے کی صورت میں بچوں کے ڈراپ اؤٹ کی ریشو 10 فیصد سے بھی کم ہے۔
ایگزامینیشن کے لیے بھی ورچول کیمپس بیسڈ طالب علم سب سے پہلے اپنے شہر کے کیمپس میں ڈیٹ شیٹ بنا سکتے ہیں کیونکہ کیمپس بروقت ان کو ڈیٹ شیٹ بنانے سے متعلق اگاہی دیتا ہے جبکہ ہوم پیج طالب علم اگاہی نہ ہونے کی بنا پر دور کے شہروں میں امتحان دینے پر مجبور ہوتے ہیں