GOVT Secondary School Chheena

GOVT Secondary School Chheena

Share

GHS Cheena Bhakkar

22/08/2026

4-بھکر کے ممتاز اساتذہ کرام ۔۔۔۔صوفی عبدالحمید چھینہ مرحوم 💞🤲

دنیا سے رخصت ہونے والے کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی حسین یادیں وقت گزرنے کے ساتھ ماند نہیں پڑتیں، بلکہ زندگی کا قیمتی سرمایہ بن جاتی ہیں۔ ان کے کردار کی خوشبو دل و دماغ میں اس طرح رچ بس جاتی ہے کہ انسان چاہے بھی تو انھیں فراموش نہیں کر سکتا۔نامور ماہرِتعلیم صوفی عبدالحمید مرحوم بھی ایسی ہی باکمال، مثالی اور درویش صفت شخصیت تھے، جنھوں نے اپنی پوری زندگی علم، تربیت اور کردار سازی کے لیے وقف کیئےرکھی۔ آج وہ ہم میں موجود نہیں، مگر ان کے شاگردوں کے دلوں میں ان کا نام ایک روشن چراغ کی مانند زندہ ہے۔

ان کے سادہ، درویشانہ مزاج اور بے تکلف طرزِ زندگی کی وجہ سے لوگ محبت سے انھیں صوفی عبدالحمید کہا کرتے تھے۔ وہ بلاشبہ محکمہ تعلیم کے ماتھے کا جھومر اور ایک ایسے مثالی استاد تھے جن کی شخصیت میں ایک معلم کی تقریباً تمام خوبیاں جمع تھیں۔ تقریباً 35 برس تک شعبۂ تدریس سے وابستہ رہے اور اپنے علم، خلوص اور کردار سے ہزاروں ذہنوں کو روشنی عطا کی۔

ان کی تدریسی زندگی کا ایک بڑا حصہ گورنمنٹ ہائی سکول چھینہ میں بطور سینئر ہیڈ ماسٹر گزرا۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت اور مدبر منتظم تھے بلکہ ریاضی کے مضمون پر بھی غیر معمولی دسترس رکھتے تھے۔ مشکل سے مشکل سوال ان کے سامنے آتا تو گویا ریاضی کی گتھی خود بخود سلجھنے لگتی۔ ہیڈ ماسٹر کی بھاری ذمہ داریوں کے باوجود وہ نہم و دہم کی جماعتوں کو ریاضی خود پڑھاتے اور ان کے شاگرد اکثر اس مضمون میں غیر معمولی، حتیٰ کہ سو فیصد نمبر حاصل کرتے۔ ان کے لیئے تدریس محض ملازمت نہیں، ایک مقدس فریضہ اور جنون کی حد تک محبوب مشغلہ تھی۔

ان کی شخصیت میں درویشی بھی تھی اور دبدبہ بھی؛ قدآور شخصیت، سادہ لباس، نرم دل، عاجز مزاج اور بے مثال خودداری۔ اخلاص ان کی دولت تھا اور تدریس ان کا عشق۔ وہ صحیح معنوں میں اقبال کے مردِ مومن کی عملی تصویر دکھائی دیتے تھے۔

ان کے اپنے علاقے کے آج جتنے افراد اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں یا زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں، ان میں سے بیشتر کسی نہ کسی صورت میں ان کے علمی فیض سے مستفید ہو چکے ہیں۔ یہ ان کے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں کہ ان کے شاگرد آج بھی ان کی تربیت اور تعلیم کو اپنی کامیابیوں کی بنیاد سمجھتے ہیں۔

گورنمنٹ ہائی سکول جھوک سامٹیہ بھی اس عظیم استاد کی علمی برکت سے محروم نہ رہا۔ اگرچہ وہ وہاں صرف ڈیڑھ سال کے مختصر عرصے کے لیئے تشریف لائے، مگر مختصر مدت ہی میں اپنی تدریسی صلاحیتوں کے ایسے نقوش چھوڑ گئے جو مدتوں باقی رہے۔ حسبِ روایت نہم و دہم کی ریاضی خود پڑھائی ۔سکول نے بھی مختصر عرصے میں ترقی کی نئی منزلیں طے کرنا شروع کر دیں۔ نتیجتاً سابقہ سکول کے اساتذہ اور اہلِ علاقہ نے سر توڑ کوشش کرکے ان کا تبادلہ دوبارہ اپنے سکول میں کروا لیا۔

صوفی عبدالحمید کے لیے چھٹی شاید لغت کا کوئی غیر ضروری لفظ تھا۔ ان کی پابندیٔ وقت اور فرض شناسی کا عالم یہ تھا کہ اپنی شادی کے روز بھی سکول کے پیریڈز پڑھانے تشریف لائے اور پھر بارات کا حصہ بنے۔ طلبہ کو بھی چھٹی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہوئے ان کا شگفتہ جملہ آج بھی یاد کیا جاتا ہے:

"بیٹا! آپ کو چھٹی یا تو اپنی شادی پر مل سکتی ہے یا آپ کے والد صاحب کی شادی پر۔"

ایک مرتبہ ایک افسر صاحب پہلے پیریڈ میں سکول پہنچے اور اساتذہ کی حاضری کی تصدیق کے لیئے انھیں دفتر بلانے کا کہا۔ صوفی عبدالحمید نے نہایت احترام سے عرض کیا کہ اس طرح بچوں کا تعلیمی نقصان ہوگا؛ بہتر ہے یا تو پیریڈ ختم ہونے کا انتظار فرما لیا جائے یا پھر خود کلاس رومز میں تشریف لے جاکر حاضری کی تصدیق کر لی جائے۔ ان کے نزدیک بچوں کا وقت کسی بھی انتظامی کارروائی سے زیادہ قیمتی تھا۔

ان کی زندگی ایسے ہی دلچسپ اور سبق آموز واقعات سے بھری ہوئی تھی۔ طلبہ کی اخلاقی تربیت پر وہ خصوصی توجہ دیتے تھے۔ لمبے بال انہیں سخت ناپسند تھے اور جیسے جیسے بال بڑھتے جاتے، ان کی ڈانٹ میں بھی اضافہ ہوتا جاتا۔ ان کے لیے اصلاح کا مقصد محض ڈانٹ ڈپٹ نہیں، بلکہ محبت، تربیت اور شخصیت سازی تھا۔

پھر وہ وقت بھی آیا جب اس عظیم استاد، مثالی منتظم اور مخلص و مشفق انسان کو بیماریوں نے گھیر لیا۔ علالت نے جسم کو کمزور اور لاغر کر دیا، مگر فرض شناسی کا چراغ پھر بھی روشن رہا۔ بیماری کے باوجود وہ سکول آتے اور اپنے شاگردوں کو پڑھاتے رہے۔ آخرکار نومبر 2006ء میں علم و کردار کی یہ روشن شمع داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئی۔

ایسی شخصیات اپنے شاگردوں کی کامیابیوں میں زندہ رہتے ہیں، ان کی گفتگو میں جھلکتے ہیں، ان کے کردار میں سانس لیتے ہیں اور ان کی یادوں میں ہمیشہ روشن رہتے ہیں۔ صوفی عبدالحمید مرحوم کی نیکی، تقویٰ، خلوص، طلبہ سے شفقت، اپنے پیشے سے بے مثال وابستگی اور صوفیانہ طرزِ حیات کی خوبصورت یادیں آج بھی ان کے شاگردوں کے دلوں میں چراغ کی طرح روشن ہیں۔

اللہ تعالیٰ اس عظیم معلم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے منور فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

✍️ عبدالعزیز انجم ،بھکر

21/08/2026
Want your school to be the top-listed School/college in Bhakkar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Address


Bhakkar