09/01/2026
*بالِ جبریل*
اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز ميں کوتاہی
تشریح:
طائر لاہوتی سے مسلمان مراد ہے۔ لاہوت تصوف کی اصطلاح ہے اور اس کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً
(۱) سالک کی آخری منزل جس میں اُسے فنا فی اللہ کا مرتبہ حاصل ہو جاتا ہے۔
(۲) ذاتِ الہٰی۔
(۳) حیاتِ کلی جو کائنات کی ہر شے میں جاری و ساری ہے۔
(۴) وہ عالمِ ناسوت کی ضد ہے یعنی جہاں نہ زماں ہے نہ مکاں۔
اقبال نے مسلمان کو طائر اس لیے کہا کہ مسلمان بھی اپنی حقیقت کے اعتبار سے طائر کی طرح
(۱) جذب خاک سے آزاد ہوتا ہے
(۲) بلند پرواز ہوتا ہے
(۳) ساری دنیا کو وطن سمجھتا ہے اور
(۴) وسیع النظر ہوتا ہے۔
طائر لاہوتی سے مراد یہ ہے کہ مسلمان کا مقصدِ حیات اُس بلند روحانی مقام کا حصول ہے جہاں پہنچ کر اُس کے اندر اللہ کی صفات کا پرتو نظر آنے لگے جسے تصوف کی اصطلاح میں "فنا فی اللہ" کا مرتبہ کہتے ہیں۔ اقبال چونکہ صوفیانہ مزاج رکھتے ہیں اس لیے انہوں نے اس حقیقت کو ہر کتاب میں واضح کیا ہے۔ مثلاً
سمجھتا ہے تو راز ہے زندگی
فقط ذوق پرواز ہے زندگی
ہر ایک مقام سے آگے مقام ہے تیرا
حیات ذوقِ سفر کے سوا کچھ اور نہیں
زندگی جُز لذتِ پرواز نیست
آشیاں بافطرت او ساز نیست
اب اس شعر کا مطلب بالکل واضح ہو گیا کہ اے مسلمان! تیرا مقصدِ حیات پرواز ہے یعنی تجھے اس عالمِ مادی سے طائر کی طرح اُڑ کر عالمِ لاہوت تک پہنچنا ہے، لہذا جس رزق سے تیری پرواز میں کوتاہی یا ضعف پیدا ہو جائے اُس سے موت اچھی ہے۔