16/11/2023
*سلسلہ نصیحت و اصلاح*
🌹سورہ لقمان آیت نمبر 6۔
*آپکی رُوح ، رحمانی رُوح ہے یا شیطانی رُوح ؟؟ فیصلہ آپ خود کیجئیے۔*
اسلام میں گانا song، میوزک music سننا اور موسیقی کے آلات musical instruments استعمال کرنا ناجائز اور حرام ہے اور یہ بات *قرآن و حدیث* کے نصوص قطعیہ اور حضرات آئمہ کرام رحمھم اللہ کے اجماع کی روشنی میں بالکل واضح ہے جن سے اس کی حرمت اور ممانعت میں کوئی شبہ باقی نہیں رہتا۔
*میوزیک اور گانے Songs سننا شیطانی روح کی غذا ہو سکتی ہے رحمانی روح یعنی اللہ کی رضا چاہنے والوں کی رُوح کی غذا ہرگز ہرگز نہیں ہو سکتی* بلکہ اللہ تعالی کے محبوب بندے اور بندیوں کی رُوح کی غذا صرف اور صرف اللہ کی رضا والے اعمال ہیں۔
آئیے اس پوسٹ میں آپکو میوزیک اور گانے Songs سننے کے نقصانات بتا دیتے ہیں تاکہ ہر سنجیدہ مسلمان اس گناہ کبیرہ سے بچنے کی کوشش کرے۔
🌹قران کریم سورہ لقمان آیت نمبر 6 میں اللہ تعالی کا اِرشاد ہے۔
*وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْتَرِیْ لَهْوَ الْحَدِیْثِ لِیُضِلَّ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ یَتَّخِذَهَا هُزُوًاؕ. اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ*۔
✍️ ترجمہ:-
اور کچھ لوگ وہ ہیں جو اللہ سے غافل کرنے والی باتوں کے خریدار بنتے ہیں۔تاکہ ان کے ذریعے لوگوں کو بے سمجھے بوجھے اللہ کے راستے سے بھٹکائیں اور اس کا مزاق اُڑائیں۔ *ان لوگوں کو وہ عذاب ہو گا جو ذلیل کر کے رکھ دے گا۔*
🌹حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے تین بار قسم اٹھا کر فرمایا کہ اس آیت میں *لھو الحدیث*
سے مراد گانا بجانا ہے اسی طرح حضرت ابن عباس، حضرت جابر رضی اللہ عنھم، حضرت عکرمہ ، سعید بن جبیر، امام مجاہد رحمھم اللہ تعالیٰ سے بھی اس آیت کی یہی تفسیر منقول ہے۔
(📚 تفصیل کیلئے تفسیر ابن کثیر تفسیر قرطبی تفسیر مظہری ملاحظہ کیجئے)
🌹بخاری شریف کی روایت ہے
لَيَكونَنَّ مِن أُمَّتي أقْوامٌ، يَسْتَحِلُّونَ الْحَرّ والحَرِيرَ، والخَمْرَ والمَعازِفَ۰
میری امت میں کچھ لوگ پیدا ہوں گے جو زنا ، ریشم، شراب اور راگ باجوں کو حلال قرار دیں گے۔
(یعنی بالکل جائز سمجھیں گے)
*میوزیک اور گانے سننے کے نقصانات*۔👇
1)گانا Songs اور میوزیک سننے کے آلات پر رقم خرچ ہوتی ہے جو کہ اسراف ہے اور اسراف گناہ کبیرہ ھے۰
2)جسمانی صحّت داؤ پر لگ جاتی ہے میوزیک مسلسل سننے کی بِنا پر کانوں کو نقصان پہنچتا ہے، رہی سہی کسر ہینڈ فری یا ہیڈ فون پوری کردیتا ہے۰جبکہ انسان پر اپنی صحت کا خیال رکھنا شرعاً بھی لازم ہے.
(3)گانے سننے کی وجہ سے سر درد ہونے لگتا ہے اور دماغی بوجھ سا محسوس ھوتا ہے جسکی وجہ سے انسان چڑچڑا پن کا شکار ھوتا ہے ٹینشن کا مریض بن جاتا ہے۔
4)گانے باجوں میں گزرنے والا وقت الگ سے ضائع ہوتا ہے جبکہ یہی وقت مُفید(Useful) کاموں میں بھی خرچ کیا جاسکتا تھا حالانکہ یہ زندگی اور وقت اللہ تعالی کی طرف سے ایک مھلت ہے جسے گُناہ کبیرہ میں ضائع کرنا بہت بدقسمتی ہے۔
5) اس سے حافظہ Memory کا نقصان بھی ہوتا ہے ذھن اسی میوزیک میں اُلجھا رہتا ہے۔
6)گانے Songs اور میوزیک جن اَشعار پر مُشتمل ہوتی ہے وہ بھی اپنا اثر جماتے ہیں اور انسان منفی سوچ (Negative Mentality)کا شکار ھوتا ہے *اُداس رہنے لگتا ہے*
بلکہ بعض اوقات غم، پریشانی اور اُداسی خودکُشی (Suicide) پر اُبھارتی ہیں جو کہ بالکل حرام ہے۰
(7)عشق مَجازی کی تباہ کاریوں میں میوزیک اور گانوں کا بہت بڑا کردار ہے، عِشقیہ گانوں کے بول موسیقی کے ساتھ سُن سُن کر نام نہاد عاشق، معشوقہ کسی کام کے نہیں رہتے اور *اپنی زندگی فضول ایک مخلوق کی حرام محبت کی خاطر تباہ کر بیٹھتے ہیں* جبکہ اپنے خالق مالک رازق کو ناراض کر دیتے ہیں اسی عشق مجازی میں میوزیک کا بہت بڑا دخل ہے جو کہ شیطان کی ایک خطرناک جال ہے جس سے انسان الله سے دور رہ کر ایک فانی مخلوق کی سوچ میں ڈوبا رہتا ہے اور دن بدن گمراہی کے دلدل میں پھنستا رہتا ہے۰
(8)میوزِک سننے کا شوقین شخص اپنے ساتھ دوسروں کو بھی اس گناہ میں شریک کرتا ہے یہاں تک کہ اپنی فیملی،دوست احباب اور اگلی نسل (Next Generation) کو بھی اسکی عادت دلا کر فحاشی پر راغب کر کے الله سے دُور کر دیتا ہے۰
9)امام جلالُ الدّین سیُوطی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں: گانے میوزیک سے اپنے آپ کو بچاؤ! کیوں کہ یہ ”حیا“ کو کم کرتے، شَہوت کو اُبھارتے اور غیرت کو برباد کرتے ہیں اور یہ شراب کے قائم مقام ہیں، اس میں نشے کی سی تاثیر ہے۰(جسکے ذریعے شیطان انسان کو اپنے خالق سے دور کرتا رہتا ھے)
(📚تفسیر درمنثور، سورہ لقمان)
10)میوزیک اور گانے جیسے گناہ کبیرہ کیوجہ سے عبادت میں حلاوت مٹھاس محسوس ہونا اور توجہ برقرار رہنے کی توفیق چھین لی جاتی ہے جو کہ انتہائی خسارے کی بات ہے۔
*اللہ تعالی ہم سب کو اس گناہ کبیرہ سے بچنے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین*
*نوٹ* اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیے تاکہ اللہ کسی کی زندگی کو آپ کے ذریعے بدل دے