Kahani House
Islamic stories, emotional story, Urdu stories, moral story
Saudia Arabia ki masjid ma 2 Muslim
ایک میاں بیوی ایک کاؤنسلر کے پاس گئے ۔ ان کا آپس میں شدید جھگڑا چل رہا تھا۔ وہ ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے کے بھی روا دار نہیں تھے۔ انہوں نے سوچا کہ لوگوں کے مشورے پر عمل درآمد کیا جائے اور تھوڑی سی تھیراپی کروا لی جائے۔ جب وہ دونوں آفس میں داخل ہوئے تو کاؤنسلر نے دونوں کے چہرے پر سخت کشیدگی دیکھی۔ اس نے ان دونوں کو بیٹھنے کے لیے بولا۔ جب وہ بیٹھ گئے تو اس نے بولا کہ اب آپ بتائیں کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے؟ تو وہ دونوں یکدم بولنا شروع ہو گئے اور ایک سانس میں ایک دوسرے پر تنقید کے پہاڑ ڈال دیے۔ دونوں اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھے۔کاؤنسلر نے ان دونوں کو اپنے دل کی بھڑاس نکالنے دی اور چپ کر کے ان کی لڑائی کی لڑائی ختم ہونے کا انتظار کرنے لگی۔
جب دونوں بول بول کر تنگ آگئے تو کاؤنسلر نے انہیں بولا کہ اچھا یہ تو لڑائی اور خامیوں والی کہانی ہو گئی اب ایک دوسرے کی خوبیاں بیان کرو۔ تم دونوں کو ایک دوسرے میں کیا کیا باتیں پسند ہیں؟ دونوں بالکل خاموش ہو گئے۔ بہت دیر تک دونوں نے کچھ نہیں بولا۔ کاؤنسلر سمجھ گئی کہ ان کو ایک دوسرے پر اتنا شدید غصہ ہے کہ ایک دوسرے کی کوئی اچھی بات یاد ہی نہیں ہے اور نہ ہی وہ یاد کرنا چاہتے تھے۔کاؤنسلر نے ایک ایک کاغذ اور پین دونوں کو تھما دیے اور میاں بیوی کو بولا کہ اپنے اپنے کاغذ پر ایک دوسرے کی خوبیاں تحریر کرو۔ ایک دفعہ پھر بہت دیر دونوں نے کچھ بھی نہ لکھا اور غصہ ان کے چہروں پر عیاں تھا۔ بہت دیر کے بعد خا وند نے جیسے ہی اپنے کاغذ پر کچھ لکھنا شروع کیا تو ایک دم ہی اس کی بیگم بھی تیز تیز اپنے کاغذ پر کچھ لکھنے لگ گئی۔ لگ رہا تھا کہ ابھی بھی دونوں مقابلے پر اپنا اپنا کاغذ بھرنے بیٹھ گئے تھے۔
جب انہوں نے لکھ لیا تو، بیوی نے اپنا کاغذ کاؤنسلر کو تھمایا۔ اس نے اسے واپس کرتے ہوئے بولا کہ اسے اپنے شوہر کو دو۔ وہ خود ہی پڑھے گا۔ بیوی نے اسے دے دیا اور اس کا کاغذ لے لیا۔ دونوں نے پڑھنا شروع کیا اور تھوڑی دیر بعد بیوی کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔وہ دونوں ایک دوسرے کی تعریفیں پڑھ کر بہت خوش ہوئے۔ کمرے کی فضا ایک دم تبدیل ہو گئی تھی۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ان دونوں کی کبھی لڑائی ہی نہ ہوئی ہو۔ کاؤنسلر کا فرض پورا ہو چکا تھا۔ وہ دونوں جیسے لڑتے بھڑتے اندر داخل ہوئے تھے ویسے ہی ہنستے مسکراتے بانہوں میں بانہیں ڈالے کمرے سے نکل رہے تھے۔
ہر انسان بہت سی خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اگر ہم دوسروں کے عیب تلاش کرنے لگیں تو ان کی اور اپنی زندگی عذاب بنا لیتے ہیں اور اگر ہم ہر ایک کی خوبیوں کو اپنی توجہ کا مرکز بنا لیں تو اپنی اور دوسروں کی زندگی آسان بنا دیتے ہیں۔
فیصلہ آپ لوگوں کے اپنے ہاتھ میں ہے ۔
"ظرف ظرف کی بات ہے"
میں ایک دکان پر موجود تھا یہاں ایک شخص آیا اور اس نے دکاندار کو کچھ رقم ادا کی۔ شعیب بھائی نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا " وسیم بھائی یہاں توجہ دیں۔ یہ شخص کچھ سال پہلے مجھ سے اپنی بیٹی کی شادی پر کوئی سامان لے گیا تھا۔ اب تو مجھے بھی وہ رقم یاد نہیں تھی لیکن آج یہ شخص میری رقم ادا کرنے آیا ہوا ہے۔ ہمارے ملک ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں"۔ 🌹 سن کر خوشی ہوئی اور میں مسکراتے ہوئے اس شخص سے مخاطب ہوا۔ پوچھا کہ دکاندار نے اس دوران آپ کو کالز کر کے تنگ نہیں کیا؟ راستے میں کسی جگہ ملاقات ہوئی تو آپ کو بھرے بازار میں لوگوں کے سامنے ذلیل نہیں کیا؟ جواب ملا " نہیں۔ کبھی نہیں"۔۔۔۔۔
اب مجھے مزید حیرت ہوئی۔ میں نے پوچھا شعیب صاحب اس کی کوئی خاص وجہ؟ آپ نے اپنی رقم کی واپسی کیلئے اس شخص کو تنگ کیوں نہیں کیا؟ کیا آپ نے ادھار پر سامان دے کر اضافی رقم لگائی تھی؟ " میں نے تنگ اس لیے نہیں کیا کہ یہ ضرورت مند تھا جو ایک ساتھ رقم ادا نہیں کر سکتا تھا۔ میں نے سوچا آ گئی تو ٹھیک ہے رقم نہ بھی ملی تو کوئی بات نہیں اور میں نے اصل قیمت پر ہی سامان دیا تھا کوئی اضافی رقم نہیں لگائی تھی۔ ہاں ایک بات جو قابلِ توجہ ہے یہ شخص مجھے وقتاً فوقتاً خود فون کرتا رہتا تھا کہ فلاں مجبوری یا مسئلہ تھا اس وجہ سے نہیں آ رہا میں جلد آپ کی رقم ادا کر دوں گا۔ اپنے کام یا بزنس میں سے ایسے کچھ لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے سے نقصان نہیں ہوتا بلکہ خود کیلئے بھی آسانیاں پیدا ہوتی ہیں" ۔۔۔
یہ کہانی دونوں طرف سے خوب صورت تھی دونوں کردار باکمال اور اعلیٰ ظرف تھے۔ آسانیاں پیدا کریں گے تو آسانیاں ہی پلٹ کر واپس ملیں گی۔ آپ کسی کی چھوٹی پریشانی حل کر دیجیے اللہ تعالیٰ آپ کی بڑی پریشانیاں اور مسئلے حل کر دے گا ۔۔۔
Sabaq amoz kahani
Hiii
Click here to claim your Sponsored Listing.
Location
Category
Address
Street 1
Bhakkar
30000