Behal Educator

Behal Educator

Share

I am a Pakistani, I want to update all of you about education

10/08/2025

اگر ہم زمین پر لاہور شہر کے بلکل نیچے زمین کی دوسری طرف جانا چاہیں تو ہمیں 20 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑے گا لیکن اگر ہم زمین کی سطح پر سفر کرنے کی بجائے لاہور شہر کے نیچے زمین کی دوسرے طرف ایک سیدھا سوراخ کریں اور اُس میں چھلانگ لگا دیں تو کیا ہوگا۔

اگر ہم ایسا سوراخ کرنے میں کامیاب ہو جائیں تو ہم زمین کی دوسری طرف ساؤتھ امریکہ کے سمندر میں نکلیں گے جہاں سے قریب ترین ملک چلی ہے اور وہ بھی 608 کلومیٹر کے فاصلے پر لیکن اگر ہم ارجنٹینا سے زمین میں ایک سیدھا سوراخ کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو سوراخ دوسری طرف چین میں نکلے گا۔
سائنس دان زمین کو زمین کی سطح کے بعد تین بُنیادی حصوں میں تقسیم کرتے ہیں
Mentle.
Outer core.
Inner core

انسان آج تک ان تین حصوں کے پار نہیں جاسکا اور اگر ہم زمین کی سطح پر سوراخ کرنا شروع کریں تو تقریباً ڈیڑھ کلومیٹر سے ساڑھے تین کلومیٹر نیچے ہمیں Devil Worm ملیں گے ڈیول وارم زیر زمین گہرائی میں رہنے والے واحد جانور ہیں جو انسان نے 2011 میں دریافت کیے تھے اور پھر 3600 میٹر کی گہرائی سے آگے درجہ حرارت بڑھنا شروع ہوجائے گا۔

زمین کی سطح کے 4000 میٹر نیچے زمین کا درجہ حرارت 60C تک پہنچ جائے گا جہاں سے نیچے مزید سوراخ کرنے کے لیے ہمیں ماحول کو ٹھنڈا کرنے کے لیے برف درکار ہوگی، سوراخ مزید گہرا کرتے ہُوئے جب 8800 میٹر نیچے پہنچے گا تو یہ زمین کے سب سے اُونچے پہاڑماونٹ ایورسٹ کی بُلندی جتنا گہرا ہوجائے گا اور آپ کو یہ جان کر خوشی ہوگی کہ انسان زمین کے اندر اس سے بھی آگے جا چُکا ہے اور
Kola Superdeep Borehole
کے نام سے سائندانوں نے اب تک زمین میں 12260 میٹر کی گہرائی تک سُوراخ کیا ہے۔

اس گہرائی پر زمین کا درجہ حرارت 180 ڈگری سے تجاوز کرجاتا ہے اور پریشر سطح سمندر کے پریشر سے 4 ہزار گُنا زیادہ ہو جاتا ہے اور اگر آپ سوراخ کرتے کرتے اس مُقام پر پہنچ جائیں تو آپ کو اس مُقام پر زندہ رہنے کے لیے سوراخ کے ارد گرد ایسی انسولیشن کرنی پڑے گی جو اس شدید درجہ حرارت کو سوراخ میں داخل ہونے سے روک دے وگرنہ آپ اپنے سوراخ کرنے کے سامان سمیت پگھل جائیں گے۔
اگر آپ سوراخ کرتے کرتے 40 ہزار میٹر نیچے پہنچ جائیں تو یہاں سے زمین کی دوسری تہہ Mantle شروع ہوگی اور اس مقام پر زمین کا درجہ حرارت 1 ہزار ڈگری کے قریب پہنچ جائے گا جہاں لوہا اور سلور پگھل جاتے ہیں مگر خوشخبری یہ ہے کے سٹیل نہیں پگھلے گا کیونکہ سٹیل کو پگھلانے کے لیے درجہ حرارت کا 1370 ڈگری سے زیادہ ہونا ضروری ہے چنانچہ آپ سٹیل کی ڈرل سے زمین کی تہہ مینٹل جس کی اوپر والی سطح چٹانوں سے بنی ہے ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے جانے میں کامیاب ہوجائیں گے اور جب آپ 1 لاکھ میٹر نیچے پہنچے گے تو آپ کی سٹیل ڈرل کام کرنا چھوڑ دے گی اور پگھل جائے گی اور آپ کو مزید نیچے جانے کے لیے کسی اور دھات کی ڈرل کی ضرورت ہوگی جو اُس درجہ حرارت پر نا پگھلے.
ڈرل کرتے کرتے جب آپ ڈیڑھ لاکھ میٹر نیچے پہنچیں گے تو آپ کو مزے ہی آجائیں گے کیونکہ یہاں آپ کو بیشمار ہیرے ملیں گے کیونکہ اس مُقام پر زمین کا پریشر اور گرمی کاربن کے ایٹم کی ساخت کو بدلتی ہے اور ہیرا وجود میں آتا ہے اور زمین کی اس گہرائی پر آپکو لوہے اور چٹانوں سمیت ہر چیز پگھلی ہُوئی ملے گی جیسے آتش فشاں کا لاوا ہوتا ہے۔

اگر آپ اس مقام پر سے زمین کی مزید تہہ میں جانے میں کامیاب ہوجائیں تو 4 لاکھ 10 ہزار میٹر کی گہرائی پر لاوا ختم ہوجائے گا اور دوبارہ چٹانوں کا سلسلہ شروع ہوگا زمین کی اس گہرائی پر درجہ حرات بے حد زیادہ ہوجاتا ہے مگر چٹانیں اس لیے نہیں پگھلتی کیونکہ زمین کا پریشربڑھتے بڑھتے اُس مقام پر چلا جاتا ہے جہاں مالیکول پگھل نہیں پاتے چنانچہ چٹانیں دوبارہ وجود میں آ جاتی ہیں۔

ڈرل کرتے کرتے جب آپ 3 ملین میٹر کی گہرائی پر پہنچیں گے تو آپ کو زمین کی تیسری تہہ Outer Core ملے گی اور یہ تہہ چٹانوں کی بجائے لوہے اور نکل سے بنی ہُوئی ہے اور اس مقام کا درجہ حرارت سُورج کی سطح کے برابر ہے اور تقریباً 5 سے 6 ہزار ڈگری گرم ہے یہ تہہ زمین کی انتہائی اہم تہہ ہے کیونکہ یہاں پر میگنیٹک فلیڈز بنتی ہیں جو زمین کی سطح سے باہر نکل کر خلا تک جا کر ایک بیرئر بناتی ہیں اور زمین کی سطح کو سولر ونڈز سے محفوظ رکھتی ہیں، زمین کی اس تہہ پر آپ کو لوہا اور نکل پگھلا ہُوا ملے گا اور ڈرل کرنے کے لیے کوئی سُپر مٹریل درکار ہوگا اور انسان کی عقل نے اب تک کوئی ایسی چیز دریافت نہیں کی جو 6 ہزار ڈگری سے اوپر کا درجہ حرارت برداشت کر سکے۔
اس مُقام پر آپ کو ڈرل کرنے میں دوسرا بڑا مسلہ یہ درپیش آئے گا کہ یہاں کشش ثقل بہت کم ہوئے گی اور آپ کو کوئی سُپر سب مرین درکار ہوگی جو اتنے پریشر اور حدت کو برداشت کرتے ہُوئے مزید گہرائی میں جا سکے اورجب آپ Outer Core کو ڈرل کرتے ہُوئے مزید نیچے پہنچیں گے تو تقریباً 5 لاکھ میٹر نیچے آپ کو زمین کی Inner Core ملے گی جو کے جمے ہُوئے لوہے کی بنی ہُوئی ہے یہاں پر کشش ثقل صفر ہوجائے گی اور زمین کی اس تہہ میں سوراخ کرنا آپ کے لیے مزید مشکل ہوجائے گا لیکن اگر یہاں بھی آپ کامیاب ہوگئے تو تقریبا 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے آپ زمین کے بلکل وسط میں پہنچ جائیں گے اور یہاں سے آگے ڈرل کرنے کے لیے آپکو نیچے جانے کی بجائے اوپر کی طرف Climb کرنا پڑے گا۔
مُجھے اُمید ہے کہ اگر آپ 6 اشاریہ 4 ملین میٹر نیچے پہنچ گئے تو پھر یقیناً وہاں سے زمین کی دوسری طرف Climb کرتے ہُوئے نکلنے میں بھی کامیاب ہوجائیں گے اور اگر آپ ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئے تو زمین کے آر پار ایک سوراخ ہوجائے گا اور ارجنٹینا سے چین کا سفر کرنے لیے آپکو صرف ایک گھنٹہ درکار ہوگا اور یہ سفر آپ سوراخ کی ایک سائیڈ سے چھلانگ لگا کر کریں گے اور یہ چھلانگ آپ کو سوراخ کے دوسری طرف نکال دے گی۔

زمین کے اس سوراخ میں چھلانگ لگانے کے لیے آپ کو اور بھی کئی طرح کی چیزیں درکا ہو گی جیسے خلائی سُوٹ جو پریشر کو برداشت سکے وغیرہ وغیرہ لیکن آج تک کوئی انسان ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہُوا اور مستقبل قریب میں بھی ایسا ناممکن ہی دیکھائی دیتا ہے مگر ایک چیز سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ نے انسان کو عقل سلیم عطا کی ہے اور عقل سلیم میں کوئی چیز نا ممکن ہے

27/04/2025

اینڈرائیڈ موبائل استعمال کرنے والوں کے لئے کچھ کارآمد ایپلیکیشنز...

BlackMart
یہ پلے سٹور کی طرز پر بنایا گیا ایک سٹور ہے۔جہاں پریمیم ایپلیکیشنز اور گیمز مفت میں انسٹال کی جاسکتی ہیں۔یہاں پر پریمیم ایپلیکیشنز کے لیے الگ سے کیٹیگری ہے جس میں تمام پریمیم ایپلیکیشنز پلے سٹور والی قیمت کے ساتھ ہوتی ہیں لیکن قیمت صرف دکھائی جاتی ہے باقی ڈاؤنلوڈنگ فری ہوتی ہے۔
(یہ پلے اسٹور پر موجود نہیں گوگل کروم پر دستیاب ہے)

BSR (Background Sound Recorder)
یہ آڈیو ریکارڈنگ ایپ ہے۔اس کی خاص بات بیک گراؤنڈ میں آڈیو ریکارڈنگ ہے۔موبائل میں بھلے آپ کچھ بھی کرتے رہیں یہ اپنا کام کرتی رہے گی۔
(یہ ایپ پلے اسٹور سے نہیں گوگل کروم پر ملے گی)

Clipstack
ٹیکسٹ تحریر وغیرہ کاپی کر کے محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک بہترین ایپ ہے آپ ٹیکسٹ تحریر کاپی کرتے رہیں جو بھی تحریر کاپی کریں گے وہ خودکار طریقے سے اس میں سیو ہوتی جائے گی بعد میں آپ کاپی شدہ ڈیٹا آپ نکال سکتے اور ان تمام تحریروں کا بیک اپ بھی بنا سکتے ہیں۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Degoo
یہ ڈیٹا بیک اپ کی مفت سہولت دینے والی ایپلیکیشن ہے جو آپ کو 20GB سے 100GB تک سٹوریج دیتی ہے۔آپ اپنے فولڈر سلیکٹ کریں اور یہ ان کا پہلے فل بیک اپ بنائے گی بعد میں انکریمینٹل بیک اپ بنتا رہے گا۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے لیکن کچھ موبائلز میں انسٹال نہیں ہوتی تو اسے گوگل کروم سے ڈاؤنلوڈ کیا جا سکتا ہے۔

Do it Later (Auto Text)
اس ایپلیکیشن کے ذریعے آپ اپنی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی پوسٹ مثلاً فیس بک، ٹوئٹر(ایکس) اور انسٹا گرام وغیرہ کے لیے یا کوئی ٹیکسٹ میسج لکھیں اور اس پر وقت اور تاریخ لگا دیں وہ اسی مقررہ وقت پر پوسٹ ہوجائے گا۔
نئے نام Auto Text کے ساتھ پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

E-book Droid (ReadEra)
پی ڈی ایف فائلز اور مختلف ڈاکومنٹس کو دیکھنے کے لیے یہ بہترین ایپلیکیشن ہے جس میں پیج دیکھنے کے مختلف انداز دستیاب ہیں پورٹریٹ اور لینڈ سکیپ موڈ کو لاک کیا جا سکتا ہے پیجز کو سپلٹ کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایپ نئے نام ReadEra کے ساتھ پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Es File Explorer Pro (Ex File Explorer)
اینڈرائیڈ موبائل فون کے لیے بہترین فائل منیجر جس میں فائل کو بالکل کمپیوٹر والے انداز میں ایڈٹ کیا جا سکتا ہے فائل ہائڈ، لاک، ایکسٹینشن تبدیل یا پھر ڈاؤنلوڈ بھی کیا جا سکتا ہے اسکا فری ورژن اپڈیٹ کے ساتھ بدترین ہوتا جا رہا ہے لیکن پرو ورژن گوگل پر سرچ کر کے ڈاؤنلوڈ کر لیں جو کہ ایک بہترین متبادل ہے۔
(فری ورژن گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے پرو ورژن گوگل کروم سے سرچ کرنا ہوگا۔)

Insta Saver
انسٹاگرام سے تصاویر یا ویڈیوز محفوظ کرنے کیلئے وہاں سے اس تصویر یا ویڈیو کا لنک کاپی کریں تو یہ ایپ خودکار طریقے سے اسے محفوظ کر لیتی ہے۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Journey
لکھنے لکھانے کے شوقین افراد کے لیے ایک نعمت ہے آپ اپنے نوٹس لکھیں جو کہ گوگل اکاؤنٹ کو لنک کر کے سیو کیے جا سکتے ہیں اور کہیں سے بھی ایکسیس کیے جا سکتے ہیں
ایپلیکیشن پر پاسورڈ بھی لگایا جا سکتا ہے جبکہ اپنے لکھے ہوئے ڈاکومنٹس کو پی ڈی ایف میں بھی کنورٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Mirror Go
یہ کمپیوٹر اور موبائل کو آپس میں جوڑنے کے لیے ہے۔کمپیوٹر پر ونڈر شیئر نامی سوفٹ ویئر انسٹال کریں اور اپنے موبائل کو اپنے کمپیوٹر سے کنٹرول کریں (بذریعہ وائی فائی یا ڈیٹا کیبل) کمپیوٹر سے میسج لکھیں کوئی بھی ایپلیکیشن کھولیں، چاہے گیم کھیلیں یا سیل میں موجود کوئی بھی آڈیو ویڈیو اپنے کمپیوٹر پر چلائیں۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

VidMate
کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے آڈیو، ویڈیو یا تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے بہترین ایپ ہے پھر آپ اپنی مرضی کے فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔آڈیو میں بھی 3/4 فارمیٹس کا آپشن اور ویڈیو میں بھی مختلف فارمیٹس اور سائز منتخب کیے جا سکتے ہیں۔
(پلے اسٹور پر دستیاب نہیں گوگل کروم سے ڈاؤنلوڈ ہوگی)

SnapTube
کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے آڈیو، ویڈیو یا تصاویر ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے بہترین ایپ ہے پھر آپ اپنی مرضی کے فارمیٹ میں ڈاؤنلوڈ کر سکتے ہیں۔آڈیو میں بھی 3/4 فارمیٹس کا آپشن اور ویڈیو میں بھی مختلف فارمیٹس اور سائز منتخب کیے جا سکتے ہیں۔
(پلے اسٹور پر دستیاب نہیں گوگل کروم سے ڈاؤنلوڈ ہوگی)

Blackhole
کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم سے ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے کیلئے بہترین ایپ ہے ہاں اس میں اشتہارات زیادہ آتے ہیں۔ویسے یہ بہت سادہ انٹرفیس کے ساتھ ہے۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Remove bg
کسی بھی تصویر کا بیک گراؤنڈ ہٹانے یا بدلنے کیلئے یہ ایک بہترین ایپ ہے جس کے فری ورژن سے تصویر کا رزلٹ تھوڑا سا ہلکا رہتا لیکن پرو ورژن بہترین نتائج دیتا ہے۔یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Novels Collection Urdu
اگر آپ کتابیں اور ناولز پڑھنے کے شوقین ہیں تو یہ بہترین سی ایپ آپ کیلئے ہے جس میں قریباً 250 مصنّفین کی دس ہزار کے لگ بھگ کتب موجود ہیں۔آپ مصنّف اور کتابوں کی قسم کے حساب سے بھی سلیکٹ کر سکتے ہیں۔یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Device info
اپنے موبائل بارے مکمل (ٹیکنیکل) معلومات چاہیئں تو آپ کیلئے یہ ایپ بہت مفید ہے جو آپ کے فون کا سارا کچا چٹھا کھول کر آپ کے سامنے رکھ دے گی۔آپ اس میں اپنے فون کا ڈسپلے، سگنلز، بیٹری، سینسرز، بٹنز وغیرہ سبھی چیک کر سکتے ہیں۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور ہر دستیاب ہے۔

Image to text
کاغذ یا اسکرین پر کچھ لکھا ہوا ہے جسے آپ نوٹ کرنا چاہتے ہیں تو بس اس کی تصویر لیں یا گیلری میں سے سلیکٹ کر لیں یہ ایپ اس تصویر کو آپ کیلئے الفاظ میں لکھ دے گی۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Clear Wave
آپ کے موبائل میں مٹی یا نمی وغیرہ جانے سے اس کی آواز کم ہو گئی ہے تو یہ ایپ آپ کیلئے ہے اس انسٹال کر کے آن کریں اور پلے کر دیں یہ مختلف ساؤنڈ ٹریکس چلائے گا اور آپ کے مائیک، اسپیکرز وغیرہ میں گئی ہوئی ڈسٹ، پانی اور کچرے کو نکال باہر پھینکے گی۔ہاں زیادہ مسئلہ ہو تو کسی ماہر ٹیکنیشن کو چیک کروائیں۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Home WorkOut
آپ فٹ رہنا چاہتے ہیں لیکن آپ کے پاس جم جانے کا وقت نہیں یا مینیج نہیں کر سکتے اور گھر میں بناء Equipments کے ورزش کرنا چاہتے ہیں تو یہ ایپ آپ کیلئے کسی نعمت سے کم نہیں یہ ماہانہ یا سہ ماہی بنیادوں پر آپ کا ٹرینر بن جاتی ہے اور گھر میں آسانی سے کون سی ورزش کیسے اور کتنی دیر کرنی ہے باقاعدہ ویڈیوز کی صورت میں آڈیو کے ساتھ آپ کو بتاتی ہے اور اس کا ریکارڈ بھی رکھتی ہے۔میں خود بھی اس سے مستفید ہوتا رہا ہوں۔
یہ ایپ گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

Video to MP3 Converter
یہ ایپ کسی بھی ویڈیو کو آڈیو میں بدلنے کیلئے ہے اسے اوپن کریں اور ویڈیو ایڈ جریں اور پروسیڈ کر دیں یہ اس ویڈیو کو آڈیو میں کنورٹ کر دے گی۔
یہ ایپ بھی گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ہے۔

(براہِ کرم ایسی پوسٹ شئیر کر کے دوسروں کے لیے بھی فائدہ مند بنایا کریں)

Copied

20/04/2025

*اچھی کتابيں اور اچھے دوست زندگی بدل دیتے ہیں ،*

06/02/2024

تین قسم کے بیوقوف ایسے ہوتے ہیں جن کو اپنی بیوقوفی کا احساس تک نہیں ہوتا۔۔۔

ایک بیوقوف وہ ہوتا ہے جو گھر سے کسی کام سے بھوکا نکلتا ہے اور جہاں جاتا ہے وہاں اس سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا کھانا کھاؤ گے؟

اور وہ جواب دیتا ہے نہیں میں کھا کر آیا ہوں۔۔

اسے کہتے ہیں ایک دن کا بیوقوف۔۔

جس نے مروت اور شرم میں اپنے پیٹ کے ساتھ برا کیا اور سارا دن بھوکا رکھا۔۔

دوسرا ہوتا ہے چھ ماہ کا بیوقوف۔۔

یہ وہ بیوقوف ہوتا ہے جو جوتا لینے جاتا ہے اور جوتا پاؤں میں پہن کر اچھی طرح چیک نہیں کرتا نا ہی چل کر دیکھتا ہے اور یہ تھوڑا سا تنگ جوتا پہن کر یہ سوچتا ہے کہ یہ کھل ہی جائے گا۔۔

جبکہ ایسا نہیں ہوتا اور وہ بیوقوف چھ ماہ تک اسی تنگ جوتے کے ساتھ گزارا کرتا ہے اور اپنے پیروں کو چھ ماہ تک اپنی بیوقوفی کی وجہ سے اذیت میں رکھتا ہے۔۔۔

تیسرا ہوتا ہے ایک سال کا بیوقوف۔۔۔

یہ وہ بیوقوف ہے جو عید کی عید کپڑے سلوانے کے لئے درزی کو ناپ دیتے وقت کہتا ہے کہ پورا پورا ناپ رکھنا جبکہ ناپ بھی سانس کھینچ کر دیتا ہے
اب جب سوٹ سل کر آتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ جسم پر کافی حد تک تنگ ہے۔۔۔

اور وہ اپنے سانس کھینچ کر ناپ دینے کا خمیازہ سارا سال دیتا ہے اور پورا سال تنگ سوٹ پہنتا ہے (پہلے زمانوں میں جوتا سیزن کی سیزن جبکہ سوٹ عید کی عید ہی بنا کرتے تھے )۔۔۔۔۔۔

*اس بات سے ذہن میں آتا ہے کہ کچھ بیوقوف پانچ سال کے لئے بھی تو ہوا کرتے ہیں۔۔۔ جو الیکشن میں اپنا قیمتی ووٹ تعلق، دوستی، مروت، بعض اوقات چند پیسوں کی وجہ سے ایسے شخص کو دیتے ہیں جس کا خمیازہ وہ ہی نہیں بلکہ پوری قوم مل کر پانچ سال تک بھگتتی ہے۔۔۔*

جس طرح ایک ایک قطرہ مل کر دریا بنتا ہے ویسے ہی ایک ایک ووٹ ایک ایک مُہر پانچ سال تک ہمارے لئے سُکھ یا دکھ بننے کا باعث بن جاتی ہے۔۔۔

کیوں نا ہم اس بار پانچ سال کے بیوقوف بننے سے بچیں۔۔

اور بہت سوچ سمجھ کر صرف حق سچ کا ساتھ دیتے ہوئے اپنے بچوں کے مستقبل کا سوچتے ہوئے فیصلہ لیں۔۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو خیر سمجھنے اور خیر کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے
آمین۔۔۔۔

05/11/2023

MA Msc private Admission Start
ایم اے، ایم ایس سی داخلے شروع ہیں۔
نوید اقبال 8894248-0343

26/07/2023

مکہ سے کربلا تقریباً 1731 کلومیٹر ہے۔
یہ فاصلہ گوگل میپ کے مطابق 18 گھنٹے بذریعہ مشینری مطلب گاڑی وغیرہ میں طے کیا جا سکتا ہے مگر آج سے1381 سال پہلے یہ فاصلہ ایک مُشکل اور تکلیف دہ راستہ تھا، جس پر امام حُسین علیہ السلام نے اپنا سفر 8 ذلحج 60 حجری یعنی 10 ستمبر 680 عیسوی کو اپنے اہل خانہ کیساتھ شروع کیا۔

سفر شروع کرنے کے بعد تاریخ کی کتابوں میں 14 مختلف مقامات کا ذکر ملتا ہے، جہاں امام نے یا پڑاؤ کیا یا مختلف لوگوں سے ملے اور یا لوگوں سے خطاب کیا۔۔
اس آرٹیکل میں ان 14 مقامات کا سرسری ذکر کیا جائے گا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں سفر اور راستے کی تھوڑی آگاہی ہوسکے۔

نمبر 1: الصفا
یہ پہلا مقام تھا امام اس جگہ پر عرب کے مشہور شاعر الفرزدق سے ملے اور اُس سے کوفہ کے حالات پُوچھے ، شاعر بولا ” کوفہ والوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں اور اُن کی تلواریں آپ کے خلاف ہیں”۔
شاعر نے امام کو کوفہ جانے سے روکا، مگر امام اپنا سفر شروع کر چُکے تھے۔

نمبر 2: ذات عرق
مکہ سے کوفہ جاتے ہُوئے یہ دوسرا مقام ہے جو مکہ سے تقریباً 92 کلومیٹر پر ہے، اس مقام پر امام اپنے کزن عبداللہ ابن جعفر سے ملے اور اس مقام پر عبداللہ ابن جعفر نے اپنے دونوں بیٹوں عون اور مُحمد کو امام کی خدمت میں پیش کیا اور ساتھ ہی امام کو کوفہ جانے سے روکا، جس پر امام نے جواب دیا:
”میری منزل اللہ کے ہاتھ میں ہے”۔

نمبر 3: بطن الروما۔
یہ مقام ذات عرق سے کُچھ کلومیٹر آگے ہے یہاں امام نے قیس بن مشیر کے ہاتھ کوفہ والوں کو خط لکھا اور یہاں امام کی مُلاقات عبداللہ بن مطیع سے ہُوئی جو عراق سے آرہا تھا۔ عبداللہ نے امام کو آگے جانے سے روکا اور بولا ” کوفہ والوں پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا وہ اہل وفا میں سے نہیں" مگر امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 4: زرود۔۔
حجاز کی پہاڑیوں پر یہ ایک چھوٹا سا ٹاون تھا اور یہاں پر حجاز کی پہاڑیوں کا سلسلہ ختم ہوجاتا ہے اور عرب کا تپتا ریگستان شروع ہوتا ہے۔ یہاں امام کی مُلاقات زُہیر ابن القین سے ہُوئی۔ اُسے جب پتہ چلا کہ امام کس مقصد کے لیے جارہے ہیں تو اُس نے اپنا تمام سامان اپنی بیوی کے حوالے کیا اور اُسے کہا کہ تم گھر جاؤ میری خواہش ہے کہ میں امام کے ساتھ قتل ہو جاؤں۔

نمبر 5: زبالہ
اس مقام پر امام کی مُلاقات دو آدمیوں سے ہُوئی جن کا تعلق عرب کے قبیلہ اسدی سے تھا انہوں نے امام کو کوفہ والوں کے ہاتھوں جناب مسلم بن عقیل کی شہادت کی خبر دی۔
امام نے فرمایا "بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اور بیشک وہ ہماری قُربانیوں کا حساب رکھنے والا ہے”۔
اس مُقام پر امام نے اپنے ساتھ چلنے والوں کو بتایا کے جناب مُسلم اور جناب ہانی کو شہید کر دیا گیا ہےاور کوفہ والے ہماری نُصرت نہیں کریں گے، امام نے اس مقام پر فرمایا جو چھوڑ کر جانا چاہتا ہے واپس چلا جائے۔

بہت سے قبائل جو راستے میں امام کے ساتھ اس اُمید پر چل پڑے تھے کہ اُنہیں مال و دولت ملے گی اس مقام پر ادھر اُدھر بکھر گئے اور واپس اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور امام کے ساتھ اُن کے اہل خانہ سمیت تقریباً پچاس لوگ رہ گئے۔

نمبر 6: بطن العقیق
اس مُقام پر امام اکرمہ قبیلے کے ایک آدمی سے ملے جس نے امام کو آگاہ کیا کہ "کوفہ میں آپ کا کوئی دوست نہیں، کوفہ کو یزید کے لشکر نے گھیرے میں لے لیا ہے اور اُس کے داخلی اور خارجی دروازے بند کر دئیے ہیں اور کوفہ تشریف نہ لے جائیں” ۔ یہاں بھی امام نے اپنا سفر جاری رکھا۔

نمبر 7: Sorat
اس مُقام پر امام نے رات بسر کی اور صبح اپنے قافلے سے کہا کہ جتنا پانی ہوسکتا ہے ساتھ لے لیں۔

نمبر 8: شرف
اس مُقام پر امام کے ساتھیوں میں سے ایک چلایا کے اُس نے ایک لشکر کو اپنی طرف آتے دیکھا ہے، امام فوراً قافلے کا رُخ موڑ کر قریب ایک پہاڑ کے پیچھے لے گئے۔

نمبر 9: ذو حسم۔۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات حُر اور اُس کے ایک ہزار سپاہیوں ہُوئی جو پیاسے تھے، امام نے سب کو پانی پلانے کا حُکم دیا اور بذات خُود بھی سب کو پانی پلایا اور جانوروں کو بھی پانی پلایا گیا، اس مُقام پر ظہر کی نماز ادا کی گئی اور سب نے ملکر امام کی امامت میں نماز ظہر ادا کی۔

اس مُقام پر امام نے حُراور اُس کی فوج سےخطاب کیا اور فرمایا ، مفہوم” او اہل کوفہ تُم لوگوں نے میرے پاس اپنے قاصد بھیجے اور مُجھے خطوط لکھے کہ تُم لوگوں کے پاس کوئی امام نہیں اور میں کوفہ آؤں اور تم لوگوں کو اللہ کے راستے میں اکھٹا کرؤں اور تم لوگ میری بیعت کر سکو، تم لوگوں نے لکھا کے آپ اہل بیعت ہیں اور ہمارے معاملات کو اُن لوگوں کی نسبت جو ناانصافی کرتے ہیں اور غلط ہیں، بہتر طریقے سے حل کر سکتے ہیں، مگر اگر تُم لوگوں نے اپنا ارادہ بدل لیا ہے اور مُنکر ہوگئے ہو اور اہل بیعت کے حقوق نہیں جانتے اور اپنے وعدوں سے پھر گئے ہوتو میں واپس چلا جاتا ہُوں”۔
حُر کے لشکر نے امام کو واپس نہیں جانے دیا اور اُنہیں گھیر کر کوفہ کی بجائے کربلا کی طرف لے گئے۔

نمبر 10: بیضہ
امام اگلے دن بیضہ پہنچے اور اس مقام پر پھر حُر کے لشکر سے خطاب کیا آپ نے فرمایا، مفہوم "لوگو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو اللہ کے حرام قرار دئیے کو حلال کہے ، خُدائی عہدوپیمان کو توڑے ، سنت رسول کی مخالفت کرے اور اللہ کے بندوں پر گُناہ اور زیادتی کیساتھ حکومت کرتا ہو، تو وہ شخص اپنی زبان اپنے فعل اور اپنے ہاتھ سے اُس بادشاہ کو نہ بدلے تو اللہ کو حق پہنچتا ہے کے ایسے شخص کو اُس بادشاہ کی جگہ جہنم میں داخل کرے”۔
امام نے اس مُقام پر مزید فرمایا ، مفہوم” لوگو تمہیں معلوم نہیں کہ جن لوگوں نے شیطان کی اطاعت اختیارکی اور اللہ سے مُنہ پھیرا، مُلک میں فساد برپا کیا، حدود شرح کو معطل کیا اور مال غنیمت کو اپنے لیے مختص کر دیا، ایسی صورت میں مُجھ سے زیادہ کس پر فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اصلاح کی کوشش کرے، میرے پاس تمہارےقاصد آئے اور خطوط پہنچے کے تُم نے بیعت کرنی ہے اور تُم میرے مدد گار بنو گے اور مُجھے تنہا نہ چھوڑو گے، پس اگر تُم اپنا وعدہ پُورا کرو گے تو سیدھے راستے پر پہنچو گے”۔

امام نے یہاں لوگوں کو اپنے حسب اور نسب کا حوالہ دیا اور فرمایا، مفہوم "اگر تُم اپنے وعدے سے پھر جاؤ گے تو تعجب نہیں، تُم اس سے پہلے میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی مُسلم کیساتھ ایسا ہی کر چُکے ہو اور عنقریب اللہ مُجھے تمہاری مدد سے بے نیاز کر دے گا”۔

امام کی تقریر سُن کر حُر نے امام سے کہا کہ اگر آپ نے جنگ کی تو آپکو قتل کر دیا جائے گا، امام نے فرمایا "تُم مُجھے موت سے ڈراتے ہو اور کیا تمہاری شقاوت اس حد تک پہنچے گی کہ مُجھے قتل کر دو گے”۔

حُر کے لشکر پر کوئی اثر نہ ہُوا اور وہ امام کو کربلا کی طرف گھیر کر لیجاتے رہے۔

نمبر 11: عزیب الحجنات۔
اس مُقام پر امام کی مُلاقات طرماح بن عدی سے ہُوئی جس نے امام کو کوفے والوں کے خطرناک ارادے سے آگاہ کیا، جسے امام پہلے ہی جانتے تھے اور امام سے اپنے ساتھ کوہ آجاہ چلنے کی درخواست کی تاکہ امام وہاں پناہ لے سکیں۔ امام نے فرمایا، مفہوم "اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری قوم کو جزائے خیر دے، ہم میں اور ان لوگوں میں عہد ہو چُکا ہے اور اب ہم اس عہد سے پھر نہیں سکتے”۔

نمبر 12: قصر بنی مقاتل۔۔
فیصلہ ہوچُکا تھا کہ امام کو کوفہ نہیں جانے دیا جائے گا چنانچہ حُر کے لشکر نے کوفہ کا راستہ بدل کر امام کوگھیر کر کربلا کی طرف لیجانا شروع کیا اور امام راستے میں قصر بنی مقاتل رُکے اور شام کے وقت میں امام نے فرمایا ” بیشک ہم اللہ کے لیے ہیں اور اُسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں”۔

امام کے 18 سالہ بیٹے علی اکبر امام کے قریب آئے تو امام نے فرمایا کہ اُنہوں نے خواب میں کسی کو کہتے سُنا ہے کہ یہ لوگ اُنہیں قتل کرنے والے ہیں۔ جس پر جناب علی اکبر نے امام کو تسلی دی اور فرمایا، مفہوم ” کیاہم سیدھے راستے پر نہیں ہیں”۔

نمبر 13: نینوا۔۔
اس مُقام پر حُر کو ابن زیاد کا خط ملا جس میں اُس نے لکھا تھا کہ امام جہاں ہیں اُنہیں وہیں روک لواور اُنہیں ایسی جگہ اُترنے پر مجبور کردو جہاں پانی اور ہریالی نہ ہو۔
حُر نے امام کو ابن زیاد کے خط سے آگاہ کیا۔ آپ نے فرمایا ہم اپنی مرضی سے نینوا میں خیمہ زن ہوں گے۔ جس پر حُر نے کہا کہ ابن زیاد کے جاسوس ہر چیز کی نگرانی کر رہے ہیں لہذا میں آپ کو ایسا نہیں کرنے دے سکتا، پھر امام کا قافلہ ایک مقام پر پہنچا تو امام نے پُوچھا اس جگہ کا کیا نام ہے؟ کسی نے جواب دیا کربلا۔ امام نے فرمایا یہ کرب و بلا کی جگہ ہے یہ وہ جگہ ہے جہاں ہمیں قتل کیا جائے گا۔

نمبر 14: کربلا
امام کے حکم پر کربلا کے میدان میں خیمے گاڑ دئیے گئے ۔ دریائے فرات خیموں سے کُچھ میل کے فاصلے پر تھا اور یہ 2 محرم 61 ہجری کا دن تھا اور عیسوی کلینڈر پر 3 اکتوبر 680 کی تاریخ تھی۔

نوٹ: اس آرٹیکل میں کربلا کے حالات تفصیلاً بیان نہیں کیے جارہے ۔
اس آرٹیکل کا مقصد امام کے مکہ سے کربلا تک کے سفر میں آنے والی منازل اور چیدہ چیدہ واقعات کا ذکر کرنا تھا تاکہ جو لوگ نہیں جانتے اُنہیں 1731 کلومیٹر کے امام کے اس سفر کی تھوڑی آگاہی ہو
نقل شدہ مضمون ۔

Photos from Behal Educator's post 17/07/2023

مفت کی دوائی
لیکن ہزاروں کا فائدہ
مکئی کے فصل میں ایک خود رو پودا ہوتا ہے اردو زبان میں اسے پتا نہیں کیا بولتے ہیں
اسے پھچاننے کی علامت یہ ہے کہ وہ کپڑوں کے ساتھ چمٹ جاتے ہیں
ترکیب۔۔۔ان بھرٹوں کا آدھا کلو لیکر ایک کلو پانی میں گرم کریں جب پانی ایک پاؤ بچ جائے تو اسے اتار کر محفوظ کر لیں
استعمال۔۔۔۔15 قطرے روزانہ ناشتے سے پھلے دھی کے ساتھ لیں
اللہ کے فضل سے بواسیر ،کتنی ہی خطرناک ہو بلکل ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔
درجنوں مریضوں پر آزمائی ہوئی ہے

14/07/2023

یہ واقعہ حیران کن بھی ہے اور دماغ کو گرفت میں بھی لے لیتا ہے‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا
’’ یا باری تعالیٰ انسان آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے؟‘‘

اللہ تعالیٰ نے فرمایا

’’ صحت‘‘۔

میں نے یہ واقعہ پڑھا تو میں گنگ ہو کر رہ گیا‘

صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت
اور
منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لیے کی اتنی شاید پوری کائنات بنانے کے لیے نہیں کی-

‘ ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے
‘ ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے۔

یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں‘ مگر ہماری قوت مدافعت‘ ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتے رہتے ہیں‘
مثلا
ً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کر دیتے ہیں
مگر
ہم جب تیز چلتے ہیں‘
جاگنگ کرتے ہیں یا واک کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے‘
ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں‘
یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیم کو مار دیتی ہیں اور
یوں ہمارا دل ان جراثیموں سے بچ جاتا ہے‘

مثلاً
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی 1960ء میں ہوا مگر
قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں‘ کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی‘ یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا‘

مثلاً گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن 17 جون 1950ء میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان ایسی جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے‘

ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں۔
یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلا دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں‘ یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے اپنی گردن سیدھی کر سکتے ہیں‘ نگل سکتے ہیں اور نہ ہی عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں

‘ سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کر دیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے‘

مثلاً ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے

‘ ہماری انگلی کٹ جائے‘ بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتا ہے

‘ سائنس دان حیران تھے قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی؟ آج پتہ چلا جگر عضو رئیس ہے‘
اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے‘

آپ دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں

‘ یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جب کہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں۔

ہم روزانہ سوتے ہیں‘
ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے‘ انسان کی اونگھ‘ نیند‘ گہری نیند‘ بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں‘

ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے‘ ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا‘

صحت دنیا کی ان چند نعمتوں میں شمار ہوتی ہے یہ جب تک قائم رہتی ہے ہمیں اس کی قدر نہیں ہوتی
مگر
جوں ہی یہ ہمارا ساتھ چھوڑتی ہے‘
ہمیں فوراً احساس ہوتا ہے یہ ہماری دیگر تمام نعمتوں سے کہیں زیادہ قیمتی تھی‘

ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاوں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے

‘ ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں۔
یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں‘ اگر یہ مسل جواب دے جائیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا

‘ دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں

‘ دنیا کے 50 امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لیے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘

ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے‘ یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے‘ ہم اس مائع کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں

‘ یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے‘
ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کر دیتے ہیں ‘

دنیا کے سیکڑوں‘ ہزاروں امراء آنسو کے برابر اس قطرے کے لیے کروڑوں ڈالر دینے کے لیے تیار ہیں‘

لوگ صحت مند گردے کے لیے تیس چالیس لاکھ روپے دینے کے لیے تیار ہیں‘

آنکھوں کا قرنیا لاکھوں روپے میں بکتا ہے‘

دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے‘

آپ کی ایڑی میں درد ہو تو آپ اس درد سے چھٹکارے کے لیے لاکھوں روپے دینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں‘

دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں۔

گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کر دیتی ہے‘

انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے

‘ قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے‘

دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنا دیتا ہے‘

آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا رہا ہے‘

شوگر‘
کولیسٹرول
اور
بلڈ پریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں
اور
آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی‘

منہ کی بدبو بظاہر معمولی مسئلہ ہے مگر لاکھوں لوگ ہر سال اس پر اربوں روپے خرچ کرتے ہیں‘

ہمارا معدہ بعض اوقات کوئی خاص تیزاب پیدا نہیں کرتا اور ہم نعمتوں سے بھری اس دنیا میں بے نعمت ہو کر رہ جاتے ہیں۔

ہماری صحت اللہ تعالیٰ کا خصوصی کرم ہے مگر
ہم لوگ روز اس نعمت کی بے حرمتی کرتے ہیں‘

ہم اس عظیم مہربانی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا نہیں کرتے‘
ہم اگر روز اپنے بستر سے اٹھتے ہیں
‘ ہم جو چاہتے ہیں ہم وہ کھا لیتے ہیں اور یہ کھایا ہوا ہضم ہو جاتا ہے‘
ہم سیدھا چل سکتے ہیں‘
دوڑ لگا سکتے ہیں‘
جھک سکتے ہیں
اور
ہمارا دل‘ دماغ‘ جگر اور گردے ٹھیک کام کر رہے ہیں
‘ ہم آنکھوں سے دیکھ‘
کانوں سے سن‘
ہاتھوں سے چھو‘
ناک سے سونگھ
اور منہ سے چکھ سکتے ہیں

تو پھر ہم سب اللہ تعالیٰ کے فضل‘
اس کے کرم کے قرض دار ہیں
اور
ہمیں اس عظیم مہربانی پر اپنے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے
کیونکہ
صحت وہ نعمت ہے جو اگر چھن جائے تو ہم پوری دنیا کے خزانے خرچ کر کے بھی یہ نعمت واپس نہیں لے سکتے‘

ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی سیدھی نہیں کر سکتے۔

یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے۔ —

14/07/2023
13/07/2023

کچھ دن پہلے فیس بک ہر میرے پاس ایک فرینڈ ریکویسٹ آئی.
یہ کسی ماھین نورکے نام سے تھی.
عموما میرے پاس مردوں کی ریکویسٹ تو آتی رہتی ہیں ...
مگر اس بار ایک فیمیل نے ریکویسٹ بھیجی تھی سو چوكنا فطری تھا.

ایکسیپٹ کرنے سے پہلے میں نے عادتاً اس کا پروفائل چیک کیا
تو پتہ چلا ابھی تک اس کی فرینڈ لسٹ میں کوئی بھی نہیں ہے.
شک ہوا کہ کہیں کوئی چاچا غفورا تو نہیں ہے .پھر سوچا نہیں ....، ہو سکتا ہے
فیس بک نے اسے نیا یوزر سمجھتے ہوئے اسے میرے ساتھ دوستی کرنے کے لئے سجیسٹ کیا ہو
پروفائل کی تصویر ندارد دیکھ کر میں نے اندازہ لگایا شاید نئی ہو
اور اسے تصویر اپ لوڈ کرنی نہیں آتی یا پھر وہ بہت دینی مزاج رکھتی ہو اور تصویر نہ لگانا چاہتی ہو ۔ ، ویسے میں نے ریکویسٹ ایکسیپٹ کرلی.
سب سے پہلے اس کی طرف سے شکریہ آیا پھر میرے ہر اسٹیٹس کو لائک اور کمنٹس ملنے شروع ہو گئے.

میں اپنے اس نئے قدردان کے حوالے سے بہت خوش ہوا، سلسلہ آگے بڑھا اور
اب میری نجی زندگی سے متعلق کمنٹس آنے لگے. میری پسند ناپسند کو پوچھا جانے لگا.
اب وہ کچھ رومانٹک سی شاعری بھی پوسٹ کرنے لگی تھی.
ایک دن محترمہ نے پوچھا: کیا آپ اپنی بیوی سے محبت کرتے ہیں؟
میں نے جھٹ سے کہہ دیا: جی ہاں.
وہ چپ ہو گئی.

اگلے دن اس نے پوچھا: کیا آپ کی بیوی خوبصورت ہے ؟
اس بار بھی میں نے وہی جواب دیا: جی ہاں بہت خوبصورت ہے ۔
اگلے دن وہ بولی: کیا آپ کی بیوی کھانا اچھا بناتی ہے؟
"بہت مزیدار " میں نے جواب دیا.
پھر کچھ دن تک وہ نظر نہیں آئی.

اچانک کل صبح اس نے اِن باکس میں میسیج کیا "میں آپ کے شہر میں آئی ہوں
کیا آپ مجھ سے ملنا چاہتے ہیں "
میں نے کہا: ضرور
"تو ٹھیک ہے آ جائیں قریبی پارک میں، مل بھی لیں گے اور سائن سٹار میں مووی بھی دیکھ لیں گے".
میں نے کہا نہیں- "میڈم آپ آ جائیں میرے گھر پر، میرے بیوی بچے آپ سے مل کر خوش ہوں گے.
میری بیوی کے ہاتھ کا کھانا بھی کھا کر دیکھیے گا.
بولی: نہیں، میں آپ کی بیو ی کے سامنے نہیں آؤں گی، آپ نے آنا ہے تو آ جائیں ،.

میں نے اسے اپنے ہاں بلانے کی کافی کوشش کی مگر وہ نہیں مانی.
وہ بار بار اپنی پسند کی جگہ پر بلانے کی ضد پر اڑی تھی
اور میں اسے اپنے ہاں.
وہ جھنجھلا اٹھی اور بولی: ٹھیک ہے میں واپس جا رہی ہوں. آپ بزدل اپنے گھر میں ہی بیٹھے رہیں ۔.
میں نے پھر اسے سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ نہیں مانی.
آخر کار ہار کر میں نے کہہ دیا: مجھ ملنا ہے تو میرے گھر والوں کے سامنے ملو نہیں تو اپنے گھر جاؤ.

وہ آف لائن ہو گئی. شام کو گھر پہنچا، تو ڈائننگ ٹیبل پر لذيز کھانا سجا ہوا تھا.
میں نے بیوی سے پوچھا: کوئی آ رہا ہے کیا کھانے پر؟
جی ہاں، ماھین نور آ رہی ہے.
میں : ماھین نور کون؟
بیوی : آپکی فیس بک فرینڈ
کیا !!
وہ تمہیں کہاں ملی ؟ تم اسے کس طرح جانتی ہو؟
"تسلی رکھئے آپ ،
وہ میں ہی تھی، آپ میری جاسوسی کے ٹیسٹ میں پاس ہوئے.
آپ واقعی میرے سچے ہمسفر ہیں ،
کھانا کھائیں، ٹھنڈا ہو رہا ہے ...
اللہ آپ جیسا مخلص شوہر سب کو دے ۔


۔
#ویسے اگر کچھ دنوں پہلے چپکے سے بیوی کا موبائیل چیک نہ کیا ہوتا تو آج یہ پوسٹ کرنے کے قابل نہ ہوتا.🤪🤪

06/07/2023

تمام اسلامی حکومتوں سے درخواست ہے کہ بائی روڈ حج کو دوبارہ رائج کیا جائے۔
اگر اپنی گاڑی پر کوئٹہ (پاکستان) سے حج یا عمرے کا سفر کریں تو اس سفر کیلئے کتنا وقت اور خرچ درکار ہوگا؟۔
گوگل کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے مکہ مکرمہ تک ایک طرف کا کل فاصلہ 4036 کلومیٹر ہے، اس اعتبار سے دوطرفہ فاصلہ لگ بھگ 8072 کلومیٹر ہوا،
اچھی اور آرامدہ کار عام طور پر کم از کم بھی 15 کلومیٹر کی ایوریج دیتی ہے، اگر 15 کلومیٹر فی لیٹر کی ایوریج کا حساب لگایا جائے تو سفر میں کل 538 لیٹر پیٹرول درکار ہوگا۔
پیٹرول اس وقت پاکستان میں 260 روپیہ لیٹر چل رہا ہے، اس حساب سے 538 لیٹر پیٹرول میں 140000روپے کا۔۔۔ ( یہ ریٹ پاکستان کے حساب سے لگایا گیا ہے، جبکہ ایران اور عرب ممالک میں جا کر پیٹرول سستا ہو جاتا ہے، اس حساب سے پیٹرول کا خرچ یقیناً اور کم آئے گا۔)
ایک کار میں چار افراد ہوں تو فی فرد 35000 لگے گا۔
باقی رہی بات وقت کی، تو گوگل ہی کے مطابق اس سفر میں ایک طرف کیلئے تقریباً 50 گھنٹے کا وقت درکار ہے، یعنی اگر مسافر روز صرف 12 گھنٹے بھی سفر کریں، اور باقی وقت آرام کریں تو بھی چار دن میں آرام و سکون سے ان شاء اللہ پہنچ سکتے ہیں۔ copied

Want your school to be the top-listed School/college in Bhakkar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Category

Website

Address


Bhakkar