محمد نادروسیم

محمد نادروسیم

Share

Muhammad Nadir Waseem
Resident of Bhakkar, Pakistan
Lecturer in Arabic at Govt. Associate College Darya Khan Bhakkar. PhD Scholar Gomal University D.I Khan.

Hobbies: Reading & Writing

13/05/2025
13/02/2025

استاد اور استاذ میں فرق

استاد:
ایسا شخص جو کسی کو ایسا کام سکھائے جس کا تعلق کسی فن وغیرہ سے ہو۔مثلاً گاڑی چلانا۔گاڑی ٹھیک کرنا۔انجن وغیرہ کا کام۔تعمیراتی کام۔کپڑے سینا۔لوہے۔لکڑ۔پتھر۔سونے۔اور دیگر کام سکھانا جن کا تعلق ہاتھوں سے ہو۔لفظ استاد کی جمع اساتید اور استادان ہے۔

استاذ:

ایسا شخص جو کسی کو علم سکھائے۔تعلیم دے۔اور علم کی بہ دولت اس کی زندگی میں ایسی تبدیلی لائے کہ دوسرے اس پر رشک کریں۔استاذ کی جمع اساتذہ ہے۔

عام طور پر استاد کی جمع اساتذہ کی جاتی ہے جو غلط ہے۔
استاذ کی جمع ؟؟ استاد فارسی کا لفظ ہے اس کی جمع اساتید ہے اور استاذ عربی کا لفظ ہے اس کا جمع اساتذہ

لفظ 'استاد' اور 'استاذ' میں تین لحاظ سے فرق ہے۔

پہلا فرق (لسانی):
اصل لفظ 'استاد' ہے جو کہ فارسی کا ہے ، پھر اسے معرب کرکے 'استاذ' کردیا گیا جس کی جمع کے صیغے 'ساتذہ' ، 'استاذون' اور 'اساتیذ' قرار پائے ( المعجم الوسیط) اور مؤنث کے لئے غالباً 'استاذة' ہے۔
اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ 'استادِ محترم' کہنا اولیٰ ہے اور یہی مستعمل ہے، البتہ خالص عربی تراکیب میں 'استاد' کہنا غلط ہوگا، جیسے 'استاذ الاستاذۃ' ، 'استاذی (میرے استاد)' ، 'استاذ الانام' وغیرہ ، جبکہ ترکیبِ فارسی کی صورت میں 'استاد' لانا بہتر ہے ، جیسے 'استادِ محترم' ، 'استادِ روزگار' ، اسی طرح اردو مرکبات میں بھی 'استاد' کہنا چاہئے، جیسے: 'استادوں کا استاد' ، 'استاد بیٹھے پاس ، کام آئے راس' ، اس کی اردو جمع 'استاد' اور 'استادوں' اور مؤنث 'استانی' ہے، جبکہ فارسی جمع 'استادان' ہے جیسے استادانِ گرامی، فارسی میں تذکیر و تانیث نہ ہونے کی وجہ سے مؤنث کے لیے بھی 'استاد' ہی استعمال ہوتا ہے۔
بعض حضرات اس تحقیق کا عکس بتاتے ہیں کہ "استاذ" اصل ہے اور "استاد" اس کا مفرس ہے ، مگر عربی اور فارسی الفاظ کی ساخت میں غور کرنے سے یہی واضح ہوتا ہے کہ "استاد" فارسی الاصل ہے، اسے عربی میں لے جاکر "دال" کو "ذال" سے بدل دیا گیا۔ نیز قدیم عربی لغات میں اس لفظ کا موجود نہ ہونا بھی اس بات کی علامت ہے کہ یہ عربی الاصل نہیں ہے، حتی کہ "معجم لغة الفقهاء" میں بصراحت لکھا ہے کہ "استاذ" معرب ہے۔

دوسرا فرق (معنوی):
لفظ "استاذ" جو کہ معرب ہے وہ محض "معلم" اور "سکھانے والا" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ، جبکہ لفظ "استاد" جو کہ اصل ہے اور فارسی کا ہے وہ اردو میں تین معنوں کے لیے مستعمل ہے:
(1)معلم ، ماسٹر ، ٹیچر
(2)ماہرِ فن ، تجربہ کار
(3)چالاک۔
مزید معانی بھی بتائے جاتے ہیں ، مگر وہ انھی تین سے نکلتے ہیں۔

تیسرا فرق (استعمالی):
مدرسے یا اسکول میں سکھانے والے کو "استاذ" (بالذال) کہنا چاہیے ، جبکہ کسی ہنر اور پیشے کے سکھانے والے کو "استاد" (بالدال) کا نام دینا چاہیے ، مگر یہ فرق بعض حضرات کا بیان کردہ ہے۔

11/02/2025

جلسہ دستار فضیلت اور اساتذہ کرام سے ملاقات

محمد نادروسیم، فاضل جامعہ اسلامیہ انوار مدینہ منکیرہ۔
لیکچرار عربی گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج دریاخان۔

آج میں بہت خوش ہوں۔ کالج میں اپنے لیکچرز دینے کے بعد منکیرہ کی طرف سفر شروع کیا جی ہاں وہی منکیرہ جس سے اپنی روحانی عقیدت وابستہ ہے۔ جہاں تعلیم کا اہم ترین حصہ علاقے بھر کی بہترین درسگاہ جامعہ اسلامیہ انوار مدینہ المعروف مدرسہ عیدگاہ میں مکمل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ وہی منکیرہ جس کے کوچے کوچے اور گلی گلی سے فقط اس لیے محبت ہے کہ اس شہر میں تعلیم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس منکیرہ میں میرے کئی ایک اساتذہ کرام رہتے ہیں۔
آج منکیرہ شہر کی مرکزی درسگاہ جامعہ اسلامیہ انوار مدینہ میں فارغ التحصیل طلباء کرام اور طالبات کے اعزاز میں شاندار جلسہ دستار فضیلت (برائے طلباء کرام) اور تقریب دوپٹہ پوشی (برائے طالبات) کا انعقاد کیا گیا تھا۔
میں تقریبا پونے ایک بجے درسگاہ میں پہنچا تو پنڈال کھچا کھچ بھر چکا تھا۔ علمائے کرام کے خطابات جاری تھے۔ اتنے وسیع مجمع کے لیے نہایت عمدہ انتظامات قبلہ استاذ گرامی جناب مفتی محمد موسیٰ طاہر حفظہ اللہ تعالیٰ اور ان کی ٹیم کی شاندار انتظامی صلاحیتوں کی غمازی کر رہے تھے۔ اس شاندار پروگرام کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے اور وقتا فوقتاً لکھا جائے گا۔ فی الحال اس کی ایک افادیت پر ضرور لکھنا چاہوں گا۔
اس پروگرام کی وساطت سے اپنے کئی اساتذہ کرام سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ گوکہ وقت کی نزاکت اور انتظامی امور میں مصروفیت کی وجہ سے تفصیلی ملاقات نہیں ہو سکی، لیکن ملاقات کر کے نہایت خوشی ہوئی۔ خاکسار ایسے پروگراموں میں میزبانوں اور انتظامیہ کے اصرار کے باوجود چند فوائد کی وجہ سے اسٹیج پر بیٹھنے کی بجائے سامعین میں بیٹھنا زیادہ پسند کرتا ہے۔
آج بھی سامعین میں بیٹھا تھا کہ قبلہ استاذ گرامی کی نظر شفقت پڑگئی۔ دور بیٹھے ہونے کی وجہ سے آپ نے دوران محفل ہی کال کر کے اسٹیج پر بیٹھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔ قربان جاؤں اپنے شاگردوں پر اتنی نظر کرم اور توجہ۔ اپنی کم مائیگی اور ان کی اعلی ظرفی و وسعت کا بہت احساس ہوا۔ تو کجا من کجا۔ حکم کی تعمیل کی اور علماء و مشائخ کی صحبت میں بیٹھنا نصیب ہوا۔
بیک وقت دور و اکناف سے تشریف لائے علمائے کرام و مہمانان گرامی کو شایان شان پروٹوکول دینا اور سامعین سے فردا فردا رابطہ کیے رکھنا آپ کا ہی خاصہ ہے۔ جامعہ کے دیگر اساتذہ کرام جناب علامہ عبد الستار صاحب، علامہ محمد اصغر صاحب اور علامہ محمد اقبال صاحب بھی جانفشانی کے ساتھ انتظامی امور میں مصروف عمل تھے۔ آج اس پروگرام میں شرکت کرکے دل باغ باغ ہے اور احساسات و جذبات مچل رہے ہیں۔ جلسہ کے اختتام پر واپس گھر کی طرف روانہ ہوا تو ہر دلعزیز، اپنے دور میں منفرد انداز تدریس کے حامل استاذ محترم جناب رانا محمد ایوب صاحب 209 ٹی ڈی اے سے ملاقات ہوئی۔ پھر انہی کی رفاقت میں کچھ سفر ہوا۔ دور طالب علمی کی یادیں تازہ ہوئیں۔ ان کے انداز تدریس پر بات ہوئی۔ میں نے استاذ گرامی سے عرض کیا کہ میرے چند مثالی اساتذہ کرام کی فہرست میں آپ بلاشک و شبہ نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ آج بھی آپ کا رعب و دبدبہ ملاقات میں رکاوٹ بنتا ہے۔ آپ کے دیے ہوئے ایک ایک لیکچر کی مکمل تقریر ذہن میں نقش ہے۔ جب آپ انگلش پڑھاتے تھے تو ایسے لگتا تھا آپ انگلش کے استاذ ہیں اور آپ سے بہتر کوئی انگلش نہیں پڑھا سکتا۔ جب آپ اردو پڑھاتے تھے تو وہاں بھی ایسے لگتا تھا کہ آپ سے بہتر اردو زبان کا استاذ نہیں۔ اردو اور انگریزی گرائمر تطبیقی انداز سے پڑھاتے تو کلاس کے دوران ہی سب کچھ ازبر بلکہ ذہنوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتا تھا۔
پھر جب آپ معاشرتی علوم پڑھاتے تھے تو ایسے لگتا تھا ابھی ریڈیو اور ٹیلی ویژن والوں کو خبر نامہ بھی گویا آپ ہی لکھ کر دے آئے ہیں۔ معاشرتی علوم کے اسباق کو حالات حاضرہ اور معاشرتی مسائل کے ساتھ جوڑ کر پڑھانے کا انداز کوئی آپ سے سیکھ لے۔
موقع کو غنیمت جانتے ہوئے چند ایک عنوانات، چٹکلے اور علمی لطیفوں کی طرف اشارہ کیا کہ سر جی آج بھی جب آپ کے مخصوص انداز میں طلبہ کے سامنے بیان کرتے ہیں تو طلبہ ہمہ تن متوجہ ہو جاتے ہیں۔ پھر آپ کا تذکرہ ہمارے کلاس رومز میں ہوتا رہتا ہے اور روحانی طور پر آپ کی بارگاہ میں حاضری نصیب ہوتی رہتی ہے۔
آج کے ان جذبات و احساسات نے مجبور کر رکھا تھا کہ جب تک ان کا اظہار نہ ہو جائے نیند حرام ہے اس لیے انہیں زیب قرطاس کرکے اپنے چاہنے والوں کی خدمت میں پیش کردیا ہے۔

02/02/2025

من طلب العلا سهر الليالي!
جو شخص عظمت کی تلاش میں ہو، وہ اپنی نیندیں قربان کرتا ہے!

26/01/2025

عربی میں دن کے مختلف اوقات کے نام
ہر گھنٹے بدلتا نام

26/01/2025

ایچ ای سی سے اسناد/رزلٹ کارڈز وغیرہ اٹیسٹ کروانے کے لیے گھر بیٹھے پروفائل بنوائیں اور آن لائن درخواست جمع کروائیں۔

Want your school to be the top-listed School/college in Bhakkar?

Click here to claim your Sponsored Listing.

Location

Telephone

Website

Address


Bhakkar

Opening Hours

Monday 15:00 - 22:00
Tuesday 15:00 - 22:00
Wednesday 15:00 - 22:00
Thursday 15:00 - 22:00
Friday 15:00 - 22:00
Saturday 03:00 - 17:00
Sunday 09:00 - 17:00