05/07/2026
اس سبق آموز کہانی کو ایک بہترین دلچسپ اور ادبی انداز میں ذیل میں ترتیب دیا گیا ہے، جسے آپ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ بلاگ یا ویڈیو کے اسکرپٹ کے لیے استعمال کر سکتے ہیں
مکافات عمل اور جج سے بدلہ ایک سبق آموز داستان ا یہ کہانی ہے ایک ایسے شخص کی جو پیشے کے لحاظ سے نانبائی تھا اور صبح سے رات تک تندور پر پسینہ بہا کر اپنے چھوٹے بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ مگر ایک رات اس کی زندگی نے ایسا موڑ لیا کہ وہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی پھانسی کے پھندے تک پہنچ گیا۔
وہ رات جو تقدیر بدل گئی 1 # # #
ایک رات جب تندور بند کر کے گھر لوٹ رہا تھا، تو اس نے سڑک کے کنارے ایک شخص کو تڑپتے ہوئے دیکھا۔ ہمدردی کے تحت وہ اس کے قریب گیا تو دیکھا کہ اس کے سینے میں خنجر گھپا ہوا تھا۔ یار محمد نے جیسے ہی خنجر باہر نکالا، مقتول نے اس کی گود میں دم توڑ دیا۔ عین اسی لمحے پولیس کی گاڑی وہاں سے گزری ہاتھوں میں خون آلود خنجر اور گود میں لاش دیکھ کر پولیس نے یار محمد کو ہی قاتل سمجھ کر گرفتار کر لیا۔ عدالت میں تمام ظاہری ثبوت اس کے خلاف تھے، جس کی بنا پر جج نے اسے پھانسی کی سزا سنا دی۔ معصوم جان کی آہ مکافات عمل 2 # # #
جیل میں جج نے جب یار محمد سے تنہائی میں پوچھا کہ کیا تم سے زندگی میں کوئی ایسا گناہ ہوا تھا جس کا یہ بدل ہے؟" تو یار محمد نے روتے ہوئے ایک سچا اعتراف کیا جج صاحب ایک بار تندور پر کام کے دوران شدید تھکن اور < غصے کی حالت میں ایک بلی نے میرا گوندھا ہوا آنا خراب کر دیا۔ میں نے طیش میں آکر اسے جلتے تندور میں پھینک دیا۔ اگرچہ مجھے فوراً احساس گناہ ہوا اور میں نے اپنا ہاتھ جلا کر بھی اسے نکالنا چاہا مگر وہ راکھ ہو چکی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ آج میں ایک معصوم جان کو تڑپانے کے اسی مکافات عمل کا شکار ہوا ہوں۔
>
موت کے سائے میں جج کا لالچ 3 # # # پھانسی سے چند لمحے پہلے یار محمد زار و قطار رو رہا تھا۔ جج نے پوچھا: کیا موت کے خوف سے رو رہے ہو؟ یار محمد نے جواب دیا
نہیں جج صاحب موت کا خوف نہیں، افسوس اس بات کا < ہے کہ غربت سے تنگ آ کر میں نے کچھ عرصہ پہلے ایک بینک سے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے لوٹے تھے۔ وہ رقم میں نے بیوی سے چھپا کے اندر (TV) کر کباڑ خانے میں پڑے ایک پرانے ماڈل کے ٹی وی رکھ دی تھی۔ اب میرے بعد میری معصوم بیوی وہ ٹی وی کباڑی کو سستے داموں بیچ دے گی اور میری ساری رقم ضائع ہو جائے گی کاش میں اسے بتا پاتا۔
>
جج کے دل میں لالچ جاگ اٹھا۔ اس نے یار محمد کو تسلی دی کہ تم فکر نہ کرو تمہاری بیوی تک یہ بات میں پہنچا دوں گا۔ فجر کے وقت یار محمد کو پھانسی دے دی گئی۔ جج کو ملا تاریخی چونا 4 # # #
یار محمد کے مرتے ہی جج نے اپنے ملازمین کو بھیس بدل کر اس کے گھر بھیجا تاکہ وہ پرانا ٹی وی حاصل کیا جا سکے۔ ملازمین نے کباڑ اور پرانی چیزیں خریدنے والے بن کر یار محمد کی بیوه سے رابطہ کیا۔ عورت نے بتایا کہ گھر میں ایک پرانی لالٹین ایک پیانو اور ایک پرانا ٹی وی موجود ہے مگر وہ اسے بیچنا نہیں چاہتی۔
رقم کے لالچ میں اندھے جج کے کہنے پر ملازمین نے قیمت بڑھانا شروع کی اور دیکھتے ہی دیکھتے ان تینوں بیکار چیزوں کے بدلے اس عورت کو 77 لاکھ روپے ** نقد ادا کر دیے۔ جج نے لالٹین اور پیانو ملازمین کو انعام میں دیا اور خود کروڑوں روپے نکالنے کے لیے ٹی وی لے کر ایک بند کمرے میں چلا گیا۔ جیسے ہی جج نے بے تابی سے ٹی وی کی اسکرین کو توڑا اس کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی! ٹی وی کے اندر کوئی رقم نہیں تھی بلکہ صرف دو مرے ہوئے چوہے ** پڑے تھے۔ (Conclusion) حاصل کلام # # #
جج سر پکڑ کر وہیں بیٹھ گیا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ مرنے والے یار محمد نے جاتے جاتے اس کے لالچ کا ایسا فائدہ اٹھایا کہ جج کی اپنی ہی دولت سے یار محمد کی بیوہ اور یتیم بچوں کی پوری زندگی کا بہترین اور حلال بندوبست ہو گیا۔ سبق: ** انسان کا لالچ اکثر اسے اندھا کر دیتا ہے، اور کائنات کا ** نظام بر ظالم اور لالچی کو اس کے اپنے ہی جال میں پھنسا دیتا
ہے۔
اگر آپ کو یہ پوسٹ پسند آئی ہو تو اسے اپنے دوستوں کے*
ساتھ ضرور شیئر کریں