Government High School Shamlai Battagram

Government High School Shamlai Battagram GHS SHAMLAI BATTAGRAM

21/08/2026
19/08/2026

محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا نے مختلف اضلاع کے جونیئر کیڈر سے سینئر ڈسٹرکٹ کیڈر (SCT, SDM, SAT, STT) میں ترقی کے لیے محکمانہ پروموشن کمیٹی (DPC) کا اجلاس 25 آگست کو طلب کر لیا ہے۔

18/08/2026
شاندار کامیابی 🌟گورنمنٹ ہائی سکول شملائی کے ہونہار طالب علم منیب الرحمن نے ضلعی سطح کے نعتیہ مقابلے میں شاندار کارکردگی ...
18/08/2026

شاندار کامیابی 🌟

گورنمنٹ ہائی سکول شملائی کے ہونہار طالب علم منیب الرحمن نے ضلعی سطح کے نعتیہ مقابلے میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تیسری پوزیشن حاصل کرلی۔

اس نمایاں کامیابی پر منیب الرحمن کو 30,000 روپے نقد انعام سے نوازا گیا۔ 🏆💐

گورنمنٹ ہائی سکول شملائی کے لیے یہ ایک قابلِ فخر لمحہ ہے۔
طالب علم، اساتذہ . والدین اور بزم ادب انچارج بنارس خان کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد! 🌹

17/08/2026

*بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق—وہ نابغۂ روزگار ہستی جن کی پوری زندگی اُردو کی خدمت میں بَسر ہوئی۔*

بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق کا شمار بَرِّصغیر پاک و ہند کے اُن معدودے چند اہلِ علم میں ہوتا ہے جن کی پوری زندگی اُردو زبان کی حفاظت، ترقی اور سَربُلندی میں صَرف ہوئی۔ وہ نام وَر محقّق، ماہرِ لسانیات، نقّاد، معلّم، لُغت نویس، مدوّن اور منتظم تو تھے ہی، لیکن اپنے اردو زبان کیلئے اپنے غیرمعمولی جذبے اور بے مثال لگن کے سبب اس کے بڑے محسنوں میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ اُن کی زندگی کا شاید ہی کوئی ایسا دن گزرا ہو جو اُردو کی فکر سے خالی رہا ہو۔ اُن کا اُٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، پڑھنا لکھنا، دوستیاں، تعلقات اور تمام علمی و عملی سرگرمیاں اُردو زبان کے لیے وَقف تھیں۔

۱۹۳۵ء میں جامعۂ عثمانیہ، حیدرآباد دکن کے ایک طالبِ علم، محمد یوسف، نے مولوی عبدالحق کی اُردو سے والہانہ وابستگی، خدمت اور جاں فِشانی کو قریب سے دیکھا تو فَرطِ جذبات میں اُنہیں ’بابائے اُردو‘ کا خطاب دے دیا۔ قدرت کا انصاف دیکھیے کہ ایک طالبِ علم کا دیا ہوا یہی لقب رفتہ رفتہ اِس قدر مقبول ہوا کہ مولوی عبدالحق کے نام کا مستقل جُزو بن گیا۔ آج اُن کا اصل نام لیا جائے یا نہ لیا جائے، لیکن ’بابائے اُردو‘ کہتے ہی ذہن میں مولوی عبدالحق کی شخصیت اُبھر آتی ہے۔

آج، ۱۶ اگست ۲۰۲۶ء کو، اُردو زبان کے اِسی عظیم محسن، ڈاکٹر مولوی عبدالحق، کی پینسٹھویں بَرسی منائی جارہی ہے۔ اُنہیں دنیا سے رُخصت ہوئے چھ دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، مگر اُردو زبان، تحقیق و تنقید، لُغت نویسی، اِصطلاح سازی، قدیم متون کی تدوین اور اُردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے لیے اُن کی خدمات آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ ہیں۔

مولوی عبدالحق ۲۰ اپریل ۱۸۷۰ء کو سَراواں، ہاپوڑ، ضلع میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اُن کے خاندان کا تعلق ہاپوڑ کے ہندو کائستھ گھرانے سے تھا، جس نے عہدِ مغلیہ میں اِسلام قبول کیا۔ اُن کے بزرگ محکمۂ مال سے وابستہ رہے اور اپنی خدمات کے باعث مختلف سرکاری مراعات اور معافیوں کے حق دار ٹھہرے۔ مغلیہ عہد میں حاصل ہونے والی یہ مراعات بعد میں اَنگریز حکومت نے بھی بحال رکھیں۔

مولوی عبدالحق نے اِبتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی اور اِس کے بعد میرٹھ میں زیرِ تعلیم رہے۔ مزید تعلیم کے لیے اُنہیں محمڈن اینگلو اورینٹل کالج، علی گڑھ، بھیج دیا گیا، جہاں سے اُنہوں نے ۱۸۹۴ء میں بی اے کیا۔ علی گڑھ میں اُن کی صلاحیتوں کو پھلنے پھولنے کا بھرپور موقع ملا اور اُنہیں سرسیّد احمد خاں کی صحبت اور براہِ راست رہنمائی نصیب ہوئی۔ سرسیّد کی آزاد خیالی، روشن دماغی اور علمی بصیرت نے مولوی عبدالحق کی شخصیت اور طرزِ فکر پر گہرا اَثر ڈالا۔

سرسیّد احمد خاں نے تصنیف و تالیف کا کچھ کام بھی مولوی عبدالحق کے سپرد کیا۔ یوں لکھنے، پڑھنے، تحقیق کرنے اور علمی مواد کو ترتیب دینے کی اُن کی پہلی باقاعدہ تربیت اِسی مردِ بزرگ کے ہاتھوں ہوئی۔ علی گڑھ ہی میں اُنہیں مولانا الطاف حسین حالی، نواب محسن الملک اور سرسیّد کے صاحب زادے جسٹس سیّد محمود، جیسی ممتاز علمی و اَدبی شخصیات سے ملاقات اور اِستفادے کا موقع ملا۔

تعلیم سے فراغت کے بعد مولوی عبدالحق ۱۸۹۵ء میں تلاشِ معاش کے سلسلے میں حیدرآباد دکن چلے گئے اور ایک مدرسے میں معلّم کی حیثیت سے ملازمت اِختیار کرلی۔ اپنی محنت، قابلیت اور اِنتظامی صلاحیت کے باعث وہ رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے مدارس کے اِنِسپکٹر اور بعد اَزاں صدر مہتممِ تعلیمات مقرر ہوئے۔ کچھ عرصے تک وہ عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ ترجمہ سے بھی وابستہ رہے۔ بعد میں اُنہوں نے عثمانیہ کالج، اَورنگ آباد، کے پرنسپل کی ذمّہ داری سنبھالی اور ۱۹۳۰ء میں اِسی عہدے سے سَبُکدوش ہوئے۔ اُنہوں نے عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات اَنجام دیں۔

جنوری ۱۹۰۲ء میں آل اِنڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس، علی گڑھ، کے تحت ایک علمی شعبہ قائم کیا گیا، جس کا نام “اَنجمن ترقیِ اُردو” تھا۔ مولانا شبلی نعمانی اِس کے پہلے سیکریٹری رہے۔ اُن کے بعد نواب حبیب الرحمن خاں شیروانی اور عزیز مرزا نے یہ ذمّہ داری سنبھالی۔ عزیز مرزا کے بعد ۱۹۱۲ء میں مولوی عبدالحق “اَنجمن ترقیِ اُردو” کے سیکریٹری منتخب ہوئے اور اُنہوں نے بہت کم عرصے میں اِسے بَرِّصغیر کے ایک فعّال، مؤثر اور معتبر علمی و اَدبی ادارے میں تبدیل کردیا۔

مولوی عبدالحق نے پاکستان میں اُردو کو اعلیٰ تعلیم کا وسیلہ بنانے کے لیے کراچی میں اُردو آرٹس کالج، اُردو سائنس کالج، اُردو کامرس کالج اور اُردو لا کالج جیسے اداروں کی بنیاد رکھی۔ اِنھی اداروں نے بعد میں ترقی کرتے ہوئے موجودہ وفاقی اُردو یونیورسٹی برائے فنون، سائنس اور ٹیکنالوجی کی تشکیل کی راہ ہموار کی۔ یوں مولوی عبدالحق نے ایک عالَم سے “اَنجمن ترقیِ اُردو” کی فعالیت پر مہر تصدیق ثبت کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔

بابائے اُردو کا ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ قدیم اُردو اَدب کے اُس سرمائے کا تحفظ ہے جو قلمی نُسخوں کی صورت میں مختلف صندوقچوں، نجی کُتب خانوں اور بوسیدہ الماریوں میں بند پڑا تھا اور جس کے ضائع ہوجانے کا شدید اَندیشہ تھا۔ مولوی عبدالحق نے ایسے نادر مخطوطات تلاش کیے، اُن کے متون کی چھان بین کی، اَغلاط درست کیں، حواشی اور مقدّمات لکھے اور باقاعدہ تدوین کے بعد اُنہیں شائع کرکے ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔

اُنہوں نے قدیم مصنّفین کے حالاتِ زندگی دریافت کیے، اُن کے عہد کی علمی، اَدبی اور تہذیبی خصوصیات واضح کیں اور اُن کی تصانیف کی قدر و قیمت متعیّن کی۔ اِس طرح مولوی عبدالحق نے اُردو تحقیق و تنقید کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کی۔ وہ کسی مشہور روایت یا خیال کو تحقیق کے بغیر قبول نہیں کرتے تھے۔ مثال کے طور پر اُنہوں نے اِس عام خیال کی تردید کی کہ میر اَمن کی ’باغ و بہار‘ فارسی کے ’قصّۂ چہار درویش‘ کا براہِ راست ترجمہ ہے۔ اُنہوں نے دلائل سے واضح کیا کہ اِس کا اصل ماخذ عطا حسین خاں تحسین کی ’نوطرزِ مُرصّع‘ ہے۔

مولوی عبدالحق کی زبان سادہ، سلیس، صاف اور براہِ راست تھی، جیسی سنجیدہ تحقیق کے لیے ضروری ہوتی ہے۔ وہ ثقیل اور پُرتکلّف زبان کے بجائے اپنا مطلب آسان اور عام فہم الفاظ میں اَدا کرنے کو ترجیح دیتے تھے۔ تاہم اُن کی سادگی بے رنگی کا نام نہیں تھی؛ اُن کی عبارت میں زورِ بیان، علمی وقار، شگفتگی اور دل کشی نمایاں رہتی تھی۔ ہندی، فارسی، عربی اور اَنگریزی الفاظ کی موزوں آمیزش بھی اُن کی نثر کو ایک مُنفرد رنگ عطا کرتی ہے۔

مولوی عبدالحق کی تصنیفی، تحقیقی اور تدوینی خدمات کا دائرہ نہایت وسیع ہے۔ اُن کی نمایاں کتابوں اور مرتّبہ متون میں ’مقدّماتِ عبدالحق‘، ’خطباتِ عبدالحق‘، ’تنقیداتِ عبدالحق‘، ’چند ہم عصر‘، ’قواعدِ اُردو‘، ’اُردو صرف و نحو‘، ’قدیم اُردو‘، ’مرحوم دہلی کالج‘، ’سرسیّد احمد خاں: حالات و اَفکار‘، ’اُردو کی اِبتدائی نشوونما میں صوفیائے کرام کا کام‘، ’پاکستان کی قومی و سرکاری زبان کا مسئلہ‘، ’نکاتُ الشّعرا‘، ’دیوانِ تاباں‘، ’قطب مشتری‘، ’سب رس‘، ’معراجُ العاشقین‘، ’باغ و بہار‘، ’ذکرِ میر‘، ’اَفکارِ حالی‘، ’اِنتخابِ کلامِ میر‘، ’اِنتخابِ داغ‘، ’کہانی رانی کیتکی اور کنور اُدے بھان‘، ’دریائے لطافت‘، ’تذکرۂ ریختہ گویاں‘، ’مخزنِ شُعرا‘، ’ریاضُ الفصحا‘، ’عقدِ ثریا‘، ’چمنستانِ شُعرا‘، ’گلشنِ عشق‘ اور ’نصرتی: حالات اور کلام پر تبصرہ‘ خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔

لُغت نویسی اور اِصطلاح سازی بھی مولوی عبدالحق کے اہم علمی مشاغل میں شامل تھی۔ اُن کی مرتّب کردہ لُغات میں ’پاکٹ اَنگریزی اُردو ڈکشنری‘، ’اسٹوڈنٹس اَنگریزی اُردو ڈکشنری‘، ’اُردو اَنگریزی ڈکشنری‘، ’اسٹینڈرڈ اَنگلش اُردو ڈکشنری‘، ’دی پاپولر اَنگلش اُردو ڈکشنری‘ اور ’لُغتِ کبیر‘ نمایاں ہیں۔ یہ تمام کام اُردو کو جدید علمی، تدریسی، دفتری اور سائنسی ضروریات کے قابل بنانے کی اُن کی جدوجہد کا حصّہ تھے۔

تحقیق، تنقید، تدوین، لُغت نویسی، اِصطلاح سازی، ترجمہ، تدریس، رسالہ نویسی، نادر مخطوطات کی بازیافت، ادارہ سازی اور قومی زبان کی تحریک، غرض اُردو کی خدمت کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جو اُن کی توجہ سے محروم رہا ہو۔ اُنہوں نے دوسروں کے حالات، اَفکار اور علمی کارنامے محفوظ کیے، شخصی خاکے لکھے اور قدیم مصنّفین کو گمنامی سے نکالا، لیکن اُنہیں اپنی مربوط اور مفصّل آپ بیتی لکھنے کی فرصت نہ مل سکی۔ حقیقت یہ ہے کہ اُن کی کتابیں، لُغات، مرتّبہ متون، قائم کردہ ادارے اور اَنجمن ترقیِ اُردو ہی اُن کی سب سے معتبر اور زندہ آپ بیتی ہیں۔

مولوی عبدالحق کی علمی و اَدبی خدمات کے اعتراف میں الٰہ آباد یونیورسٹی نے ۱۹۳۷ء میں اُنہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری عطا کی، جب کہ حکومتِ پاکستان نے ۲۳ مارچ ۱۹۵۹ء کو اُنہیں صدارتی اعزاز برائے حُسنِ کارکردگی سے نوازا۔ تاہم اُن کا سب سے بڑا اعزاز وہ محبت، عقیدت اور احترام ہے جو دنیا بھر کے اہلِ اُردو کے دلوں میں آج بھی اُن کے لیے موجود ہے۔

بابائے اُردو ڈاکٹر مولوی عبدالحق اپنی آخری سانس تک اُردو زبان کی ترقی، ترویج اور اِشاعت کے لیے سرگرم رہے۔ وہ ۱۶ اگست ۱۹۶۱ء کو کراچی میں وفات پاگئے۔ اُنہیں کراچی میں وفاقی اُردو یونیورسٹی کے عبدالحق کیمپس کے احاطے میں سپردِ خاک کیا گیا۔ یوں جس زبان کی خدمت، حفاظت اور سَربُلندی کے لیے اُنہوں نے اپنی پوری زندگی وَقف کردی، آج وہ اُسی زبان سے موسوم اُردو یونیورسٹی کی آغوش میں آسودۂ خاک ہیں۔ اُن کی زندگی اور آخری آرام گاہ کو دیکھ کر بے اِختیار یہ مصرعہ یاد آتا ہے:

پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی ریڈیو پاکستان


fans Radio Pakistan Bahawalpur Radio Pakistan Multan RadioPakistan Karachi Radio Pakistan Dera Ismail Khan Radio Pakistan Rawalpindi Radio Pakistan Peshawar University of Peshawar University of Oxford Allama Iqbal Open University

15/08/2026

Address

Battagram

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Government High School Shamlai Battagram posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The School

Send a message to Government High School Shamlai Battagram:

Shortcuts

Share

Category