07/05/2026
قافلہ شھداء
مولانا حق نواز جھنگوی شہید قاتل نا معلوم علامہ ایثار القاسمی شہید قاتل نامعلوم علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید قاتل نامعلوم مولانا مختار احمد سیال شہید قاتل نامعلوم مولانا ضیاء الرحمن فاروقی شہید قاتل نامعلوم مولانا عبداللہ شہید قاتل معلوم مولانا اعظم طارق شہید قاتل نامعلوم مولانا اظہار الحق شہید قاتل نامعلوم علامہ شعیب ندیم شہید قاتل نامعلوم علامہ حبیب الرحمن شہید قاتل نامعلوم مولانا مفتی عبد السمیع شہید قاتل نامعلوم مفتی نظام الدین شامزئی شہید قاتل نامعلوم مولانا علی شیر حیدری شہید قاتل نامعلوم مولانا اللہ و سیا قاسم شہید قاتل نامعلوم مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید قاتل نامعلوم مولانا سمیع الحق شھید قاتل نامعلوم۔مولانا حامد الحق شہید قاتل نامعلوم مولانا عبد الجبار شہید قاتل نامعلوم مفتی حسن جان شہید قاتل نامعلوم مفتی عبد الشکور شہید قاتل نامعلوم مولانا مسعود الرحمن عثمانی شہید قاتل نامعلوم مفتی منیر معاویہ شہید قاتل نامعلوم مفتی امان اللہ شہید قاتل نامعلوم مولانا عبدالغفور ندیم شہید قاتل نامعلوم مولانا ادریس شہید قاتل نامعلوم مولانا شمس الرحمن معاویہ شہید قاتل نامعلوم یہ ملک علماء دین کی شکار گاہ بنا ہوا ھے
یہ چند نامور علماء کرام کے نام لکھے ہیں جن کے قاتل درندے دہشت گرد آج بھی دندناتے پھر رہے ہیں
یہاں کنجر کی عزت آبرو محفوظ ھے
یہاں ٹک ٹاکر کی جان محفوظ ھے
یہاں ناچنے والوں کی حفاظت ھے
یہاں ننگے ناچ ناچنے والوں کا تحفظ کیا جاتا ھے
یہاں فحاشی عریانی کا دفاع کیا جاتا ھے
یہاں گھمراہوں کی سپورٹ کی جاتی ھے
یہاں دین سے بےزاروں کی سرپرستی کی جاتی ھے
یہاں قاتلوں دہشت گردوں کو پناہیں مہیا کی جاتی ہیں
یہاں قاتلوں کو نوٹ دئیے جاتے ہیں
یہاں قانون غریب کی چوکھٹ پر کھڑا رہتا ھے
یہاں انصاف قاتلوں دہشت گردوں کو فراہم کیا جاتا ھے
یہاں انصاف بیچا جاتا ھے
یہاں دلیل دلائل کے مقابل گولی ماری جاتی ھے
یہاں حق سچ کو دبا کے رکھنا ہی طاقت سمجھا جاتا ھے
یہاں دلالی کرنے والے کو اچھا انسان بنا کر پیش کیا جاتا ھے
ہم چاہتے ہیں کسی بھی طبقہ سے کسی بھی فرقہ سے کسی بھی نظم یا تنظیم یا جماعت سے وابستہ شخص فرد کی عزت آبرو محفوظ ہونی چاھیے
لیکن پروفیسر محفوظ ہیں ڈاکٹر محفوظ ہیں وکیل محفوظ ہیں انجنئیر محفوظ ہیں ڈرائیور محفوظ ہیں پائلٹ محفوظ ہیں
مزدور محفوظ ہیں مرد و خواتین محفوظ ہیں
اگر محفوظ نہیں تو مدارس مساجد تبلیغ والے علماء اکرام طلباء مفتیان عظام محفوظ نہیں
باقی سب کے قاتل بھی پکڑے جاتے ہیں
قاتلوں کو سی ٹی ڈی کے حوالے کیا جاتا ھے
مظلوم بس دینی مدارس کے علماء بلخصوص دیوبند مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے شیخ الحدیث ہوں استاذ العلماء ہوں قاری قران ہوں حافظ قرآن ہون وہ بم دھماکوں کی نظر ہوتے ہیں
قاتلوں نے مظلوم علماء اکرام کو نشانے پر رکھا ہوا ھے
1988 سے اب تک 30 ہزار کے قریب علماء اکرام طلبہ مدارس مساجد کو شہید کر دیا گیا ھے
علماء دیوبند سے وابستہ عوام ہوں یا ورکر یا مدارس یا مساجد سب کو بموں سے اڑایا گیا گولیوں سے چھلنی کیا گیا
یہ ظلم آخر کب تک روا رکھا جائے گا
رب العزت شہداء کے درجات بلند فرمائے
07/05/2026