14/03/2026
تبیان القرآن
مفسر: مولانا غلام رسول سعیدی
سورۃ نمبر 21 الأنبياء
آیت نمبر 68
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
قَالُوۡا حَرِّقُوۡهُ وَانْصُرُوۡۤا اٰلِهَتَكُمۡ اِنۡ كُنۡتُمۡ فٰعِلِيۡنَ ۞
ترجمہ:
انہوں نے کہا اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو
تفسیر:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انہوں نے کہا اس کو جلا دو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تم (کچھ) کرنے والے ہو اللہ تعالیٰ ہم نے فرمایا : اے آگ ! تو ابراہیم پر ٹھنڈک اور سلامتی ہوجا انہوں نے ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلی سو ہم نے ان کو ناکام کردیا اور ہم ابراہیم کو اور لوط کو نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت فرمائی تھی (الانبیاء :68-71)
حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالنے والے کا مصداق
جب وہ لوگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دلائل سے لاجواب ہوگئے تو انہوں نے کہا، اس کو آگ میں جلا دو ۔ امام فخر الدین محمد بن عمر رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :
قرآن مجید میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا حکم کس نے دیا۔ مشہور یہ ہے کہ یہ حکم دینے والا نمروذ بن کنعان بن سنجاریب بن مروذ بن کوش بن حام بن نوح تھا۔ حضرت ابن عمر (رض) نے یہ کہا یہ شخص اعراب فارس کے قبیلہ کرد سے تھا، وہب بن منبہ نے شعیب الجبائی سے نقل کیا ہے اس کا نام ہیرین تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسادیا سو وہ قیامت تک زمین میں دھنستا رہے گا۔ (تفسیر کبیرج ٨ ص 157، جامع البیان رقم الحدیث :18618)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کی تفصیل
امام عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :
اہل تفسیر نے ذکر کیا ہے کہ نمروز اور اس کے کارندوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ایک گھر میں قید کردیا پھر ایک بلند پہاڑ کے دامن میں ان کے لئے ایک قلعہ بنایا، جس کی دیواریں 60 ذراع (نوے فٹ) اونچی تھیں اور بادشاہ نے لوگوں میں اعلان کردیا کہ ابراہیم کو جلانے کے لئے لکڑیاں جمع کرو اور اس کام کو کرنے میں کوئی بچہ یا بوڑھا کوتاہی نہ کرے، جو اس کام میں شریک نہیں ہوگا، اس کو بھی آگ میں جلا دیا جائے گا۔ تمام لکڑیاں اس دیوار کے برابر ہوگئیں، وہ چالیس دن تک اس مہم میں لگے رہے۔ حتیٰ کہ ان میں سے ایک عورت نذر مانتی تھی کہ اگر میری فلاں مراد پوری ہوگئی تو میں ابراہیم کی آگ کے لئے لکڑیاں چن کر لائوں گی پھر جب اس مکان میں تمام لکڑیاں جمع ہوگئیں تو انہوں نے اس مکان سے نکلنے کے راستے بند کردیئے اور اس میں آگ لگا دی۔ اس میں شعلے بھڑکنے لگے، اس کی تپش اس قدر زیادہ تھی کہ اس کے اوپر سے فضا میں بھی کوئی پرندہ گزرتا تو جل جاتا تھا پھر انہوں نے اس قلعہ کے لئے ایک بہت بلند جگہ منتخب کی اور اس پر منجنیق نصب کی اور اس منجنیق میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو رکھ دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور عرض کیا : اے اللہ ! تو آسمان پر واحد ہے اور میں زمین پر واحد ہوں اور اس زمین پر میرے سوا اور کوئی تیری عبادت کرنے والا نہیں ہے، اللہ مجھے کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے، پھر آسمانوں، زمینوں، پہاڑوں اور فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب ! ابراہیم (علیہ السلام) کو تیرے نام کی سربلندی کی وجہ سے جلایا جا رہا ہے تو ہمیں اس کی مدد کرنے کی اجازت دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : مجھے اس کا خوب علم ہے اگر وہ تم کو مدد کے لئے پکارے تو تم اس کی مدد کرو، پھر ان کافروں نے آپ کو آگ میں ڈال دیا۔ اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی اور ایک قول یہ ہے کہ آپ کی عمر اس وقت چھبیس سال تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا حسبی اللہ و نعم الوکیل، حضرت جبریل، حضرت ابراہیم کے پاس آئے اور کہا اے ابراہیم ! آپ کی کوئی حاجت ہے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے تم سے کوئی کام نہیں ہے، پھر اس نے کہا آپ اپنے رب سے سوال کیجیے۔ آپ نے فرمایا اس کو جو میرے حال کا علم ہے، وہی کافی ہے۔ (یعنی الگ سے دعا کرنے کی ضرورت نہیں ہے) (زاد المسیر ج ٥ ص 366-367، مطبوعہ المکتب الاسلامی بیروت، 1407 ھ)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کیوں نہ کی ؟
امام بغوی متوفی 516 ھ امام ابن جوزی متوفی 597 ھ امام رازی متوفی 606 ھ علامہ قرطبی متوفی 668 ھ قاضی بیضاوی متوفی 658 ھ علمہ آلوسی متوفی 1270 ھ اور مفتی محمد شفیع متوفی 1396 ھ سب نے اس حدیث کا مفصل ذکر کیا ہے جس میں مذکور ہے، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جب جبریل (علیہ السلام) نے دعا کے لئے کہا تو انہوں نے کہا اللہ کو جو میرے حال کا علم ہے وہی کافی ہے۔
امام ابن جریر متوفی 310 ھ حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے اس قصہ میں اس جملہ کا ذکر نہیں کیا۔ (معالم المتنزیل ج ٣ ص 211، زاد المسیر ج ٥ ص 367، تفسیر کبیرج ٨ ص 158، الجامع لاحکام القرآن ج ٦ ص 211، انوار التنزیل و اسرار التاویل مع الشہاب ج ٦ ص 455-456 روح المعانی جز ١٧ ص 101 معارف القرآن ج ٦ ص 202)
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد خفا جی متوفی 1069 ھ لکھتے ہیں :
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس قول کا معنی یہ ہے کہ اس کو جو میرے حال کا علم ہے وہ کافی ہے اور وہ علم مجھے سوال کرنے سے غنی کردیتا ہے اور یہ مقام انبیاء (علیہم السلام) کے دعا کرنے کے منافی نہیں ہے۔ ان کا دعا کرنا اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی احتیاج کو ظاہر کرنے کے لئے ہے اور گڑ گڑا کر اپنی پیشانی کو ذلت کی مٹی پر رکھنے کے لئے ہے کیونکہ حدیث میں ہے، اللہ تعالیٰ گڑ گڑا کر دعا کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ہر مقام کی ایک توجیہ ہوتی ہے۔ (عایتۃ القاضی ج ٦ ص 456، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1417 ھ)
میں کہتا ہوں کہ اس جملہ سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مصیبتوں اور شدائد میں اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیروی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور جب انہوں نے ایسی شدید مصیبت میں اللہ تعالیٰ سے نہ صرف یہ کہ دعا نہیں کی بلکہ دعا کرنے سے بھی منع کردیا تو کیا ہم بھی مصیبتوں میں دعا نہ کیا کریں ؟ حالانکہ ابراہیم (علیہ السلام) خلیل اللہ ہیں اور مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ سے دعا کا انکار کرنا انکی شان کے لائق نہیں ہے۔ اس لئے صحیح یہ ہے کہ اس قصہ میں یہ جملہ الحاقی ہے۔ اسی وجہ سے امام ابن جریر، حافظ ابن کثیر اور حافظ سیوطی نے اس قصہ میں اس جملہ کا ذکر نہیں کیا اور قرآن مجید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو بہت زیادہ دعا کرنے والا فرمایا ہے :
ان ابراہیم لحلیم اواہ منیب (ھود :75) بیشک ابراہیم متحمل مزاج، بہت گڑا گڑا کر دعا کرنے والے اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔
اس لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے یہ متصور نہیں ہے کہ جبان سے یہ کہا جائے گا کہ آپ اللہ سے دعا کریں تو وہ کہیں کہ جب اللہ کو میرے حال کا علم ہے تو وہ کافی ہے، دعا کی کیا ضرورت ہے۔ اس کی توجیہ میں کہا جاسکتا ہے کہ چونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان کا موقع تھا اس لئے اس موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا نہیں کی کیونکہ اس موقع پر دعا کرنا اس امحتان سے بچنے کے مترادف ہوتا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالتے وقت جو کچھ انہوں نے کہا، اس کا ذکر حدیث صحیح میں ہے :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا جا رہا تھا تو ان کا آخری قول یہ تھا : حسبی اللہ و نعم الوکیل (صحیح البخاری رقم الحدیث :4564، صحیح مسلم رقم الحدیث :1811)
چھپکلی کو مارنے کا حکم
سائبہ بیان کرتی ہیں کہ وہ حضرت عائشہ (رض) کے پاس گئیں تو دیکھا کہ گھر میں ایک جگہ نیزہ رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا اے ام المومنین آپ اس نیزہ سے کیا کرتی ہیں ؟ انہوں نے فرمایا ہم اس نیزہ سے چھپکلیوں کو مارتے ہیں کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں یہ خبر دی ہے کہ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا تو روئے زمین کا ہر جانور اس آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہا تھا، ماسوا چھپکلی کے وہ آگ میں پھونک مار رہی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو مارنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ (سنن ابن ماجہ رقم الحدیث :3231، مصنفابن ابی شیبہ ج ٥ ص 402، مسند ابویعلی رقم الحدیث :4358، صحیح ابن حبان رقم الحدیث :3631)
حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے پہلی ضرب میں چھپلی کو مار دیا، اس کو اتنی اور اتنی نیکیوں کا اجر ملے گا اور جس نے دوسری ضرب میں مارا اس کو اتنی اور اتنی نیکیوں کا اجر ملے گا اور یہ اجر پہلی ضرب سے کم ہوگا اور جس نے اس کو تیسیر ضرب میں مارا اس کو اتنا اور اتنا اجر ملے گا اور یہ دوسری بار کے اجر سے کم ہوگا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ (صحیح مسلم رقم الحدیث :2240، سنن ابو دائود رقم الحدیث :2563، سنن الترمذی رقم الحدیث :1482، مسند احمد ج ہ ص 355)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کا ٹھنڈا ہونا
امام ابن جریر اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
حضرت علی بن ابی طالب (رض) نے یا نار کونی بردا وسلاما علی ابراہیم کی تفسیر میں فرمایا، وہ آگ اس طرح حضرت ابراہیم پر ٹھنڈی ہوئی کہ ان کو اس سے کوئی ضرر نہیں پہنچا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18622)
ابوالعالیہ بیان کرتے ہیں کہ سلاما کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ٹھنڈک نقصان نہیں دے گی اور اگر اللہ تعالیٰ و سلاما نہ فرماتا تو اس کی ٹھنڈک آگ کی گرمی سے زیادہ نقصان دہ ہوتی۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18629)
منہال بن عمرو بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے فرھمایا مجھ پر اللہ کی سب سے زیادہ نعمتیں ان دنوں تھیں جب مجھے آگ میں ڈالا گیا تھا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18623)
امام فخر الدین رازی متوفی 606 ھ لکھتے ہیں :
مجاہد نے کہا حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر وہ آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی نہ ہوت تو حضرت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس کی ٹھنڈک سے فوت ہوجاتے اور دنیا میں جس جگہ بھی آگ تھی وہ بجھ جای۔ سدی نے کہ کا فرشتوں نے حضرت ابراہیم علیہ اسللام کو بغلوں سے پکڑ کر اٹھایا، وہاں میٹھے پانی کا چشمہ تھا اور انواع و اقسام کے پھول تھے۔ اس آگ نے صرف حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بیڑیوں اور زنجیروں کو جلایا تھا۔ منہال بن عمرو نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اس آگ میں چالیس یا پچاس دن رہے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میری زندگی کے سب سے اچھے ایام وہ تھے جو اس آگ میں گزرے تھے۔ امام ابن اسحاق نے کہا اللہ تعالیٰ نے سائے کے فرشتے کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس بھجیا، وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آ کر بیٹھ گیا اور آپ کا دل بہلاتا رہا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) آپ کے پاس جنت سے ریشم کی قمیض لے کر آئے اور کہا اے ابراہیم ! آپ کا رب فرماتا ہے کیا آپ کو یہ معلوم نہیں کہ آگ میرے محبو بندوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتی، پھر نموذ نے اپنے قلعہ سے جھانک کر دیکھا تو حضرت ابراہیم باغ میں بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے اردگرد لکڑیاں جل رہی تھیں، پھر نموز نے چلا کر ہا اے ابراہیم ! کیا تم اس آگ سین کل سکتے ہو ؟ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں ! اس نے کہا پھر نکل آئیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چل پڑے حتیٰ کہ اس آگ سے نکل آئے۔ نموز نے پوچھا : میں نے آپ کی صورت میں جو ایک شخص کو آپ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا تھا، وہ کون تھا ڈحضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا۔ وہ سائے کا فرشتہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے میرا دل بہلانے کے لئے بھیجا تھا۔ نمروز نے کہا میں نے آپ کے رب کے نزدیک آپ کی عزت اور جاہت دیکھی ہے تو میں اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے چار ہزار گایوں کو ذبح کرنا چاہتا ہوں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا جب تک تم اپنے دین پر قائم ہ، اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی قبول نہیں فرمائے گا۔ نموز نے کہا میں اپنے دین کو چھوڑنا نہیں چاہتا لیکن میں عنقریب گایوں کو ذبح کروں گا پھر اس نے گایوں کو ذبح کیا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تعرض کرنا چھوڑ دیا۔ بعض روایات میں ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بہت بڑا گڑھا کھودا پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس میں ڈالا گپھر ان پر سات دن تک آگ جلتی رہی پھر اس گڑھے کو پاٹ دیا پھر اگلے دن اس گڑھے کو کھولا تو اس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بیٹھے ہوئے تھے اور آپ پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوا تھا، پھر ان سے حضرت لوط کے باپ ہار ان نے کہا ان پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوگا کیونکہ انہوں نے آگ پر جادو کردیا ہے لیکن ان کو کسی چیز پر بٹھا کر اس کے نیچے آگ جلائو تو یہ اس کے دھوئیں سے مرجائیں گے، تو انہوں نے ایک کنوئیں کے اندر آگ لگا کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اس کے اوپر بٹھا دیا اس آگ کی ایک چنگاری حضرت لوط کے باپ ہاران کی ڈاڑھی میں جا کر گری اور وہ خود جل کر مرگیا۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر جلائی ہوئی آگ کے ٹھنڈی ہونے کی کیفیت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر وہ آگ کس کیفیت سے ٹھنڈی ہوئی، اس میں حسب ذیل اقوال ہیں :
(١) اللہ تعالیٰ نے اس آگ سے جلانے اور تپش کے فعل کو زائل کردیا تھا اور اس کی روشنی اور چمک کو باقی رکھا تھا۔
(٢) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جسم میں ایسی کیفیت پیدا کردی تھی جس کی وجہ سے آگ کی اذیت آپ کو نہیں پہنچ سکتی تھی۔ جس طرح جہنم کے فرشتوں کو آگ ضرر نہیں پہنچاتی اور جس طرح سمندل ایک کیڑا ہے جو صرف آگ میں زندہ رہتا ہے۔
(٣) اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آگ کے درمیان ایک حاحئل چیز پیدا کردی جس کی وجہ سے آگ کا اثر آپ تک نہیں پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے آگ سے فرمیایا تو ابراہیم (علیہ السلام) پر ٹھنڈی ہوجا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ خود وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک اس کا اثر نہیں پہنچا، اور وہ آگ اپنی حالت پر بای نہیں رہی پھر فرمایا : سلاماً اس کا معنی یہ ہے کہ جب کوئی چیز بہت زیادہ ٹھنڈی ہو تو وہ بھی آگ کی طرح ہلاک کردیتی ہے۔ اس لئے فرمایا کہ وہ اعتدال کے ساتھ ٹھنڈی ہو۔
پھر فرمایا : انہوں ن ابراہیم کے ساتھ ایک چال چلی سو ہم نے ان کو ناکام کردیا۔ اس کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے مباحثہ اور مناظرہ کیا اور اس میں وہ مبہوت اور لاجواب ہوگئے پھر انہوں نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں جلانا چاہا لیکن وہ اس میں بھی ناکام ہوگئے۔ (تفسری کبیرج ٨ ص 158-160 ملحضاً ، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت، 1415 ھ)
نمروذ اور اس کی قوم کا عذاب سے ہلاک ہونا
حافظ عماد الدین اسماعیل بن عمر بن کثیر متوفی 774 ھ اور امام ابن جوزی متوفی 597 ھ لکھتے ہیں :
زید بن اسلم نے کہا اللہ تعالیٰ نے اس ظالم بادشاہ (نمروذ) کی طرف ایک فرشتہ بھیجا جو اس کو اللہ پر ایمان لانے کا حکم دیتا تھا۔ نمروذ نے اس کی دعوت کا انکار کیا پھر دسوری بار بھیجا پھر انکار کیا پھر تیسری بار بھیجا پھر انکار کیا، پھر اس فرشتہ نے کہا تم اپنا لشکر جمع کرو، میں اپنا لشکر جمع کرتا ہوں۔ سو نمروذ نے اپنے حواریوں اور سپاہیوں کا لشکر جمع کیا پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف مچھر بھیجے جن کو دھوپ کی وجہ سے انہوں نے دیکھا پھر اللہ تعالیٰ نے وہ مچھر ان پر مسلط کردیئے۔ مچھروں نے ان کا خون پی لیا اور ان کا گوشت کھا گئے اور جنگل میں صرف ان کی ہڈیاں پڑی رہ گئیں۔ ایک مچھر نمروز کے نتھنے کے راستہ سے اس کے دماغ میں داخل ہوگیا اور چار سو سال تک وہ اس عذاب میں مبتلا رہا۔ اس عرصہ میں اس کے سر پر ہتھوڑے مارے جاتے رہے حتیٰ کہ اللہ عزوجل نے اس کو ہلاک کردیا۔ (البدایہ والنہایہ ج ١ ص 224، مطبوعہ دارالفکر بیروت، 1418، طبع جدید، المنتظم لابن الجوزی ج ۃ ص 169، دارالفکر بیروت، 1415 ھ)
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے امتحان میں سرخ رو ہوئے اور نموذ اور اس کی قوم اللہ کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگئی۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا حضرت لوط (علیہ السلام) کے ساتھ عراق سے شام کی طرف ہجرت فرمانا
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اور ہم ابراہیم کو اور لوط کو نجات دے کر اس سر زمین کی طرف لے گئے جس میں ہم نے تمام جہان والوں کے لئے برکت فرمائی تھی۔ (الانبیاء :71)
اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو ان کے دشمنوں کے علاقہ سے نکال لیا اور ان کو برکتوں والے علاقہ میں بھیج دیا۔ یعنی عرقا سے شام کی طرف بھیج دیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنی قوم اور اس کے دین کو ترک کر کے شام کی طرف روانہ ہوگئے۔
اس قصہ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعہ کی خبر دی ہے اور سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قوم قریش کو بتایا ہے کہ تمہاری طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم بھی بت پرستی کرت تھی اور جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو اذیت پہنچائی تھی، اسی طرح قریش بھی آپ کو اذیت پہنچاتے تھے۔ آپ ان کو پیغم حق سناتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کی دعوت دیتے تھے، وہ اس دعوت کی مخالفت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ سنا کر یہ بتایا کہ جس طرح حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی ایذائوں پر صبر کیا تھا، آپ بھی اپنی قوم کی ایذا رسانیوں پر صبر کریں اور جس طرح انہوں نے عراق سے شام کی طرف ہجرت کی تھی، آپ کو بھی مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنی ہوگی۔
شام کا برکت والی سر زمین ہونا
امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی 310 ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں :
قتادہ نے اس آیت کی تفسیر میں کہا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) دونوں سر زمین شام میں تھے، اسی سر زمین کو ارض محشر بھی کہا جاتا ہے۔ قیامت کے دن تمام لوگ یہیں پر جمع ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ بن مریم بھی یہیں پر آسمان سے اتریں گے اور دجال کذاب بھی یہیں پر ہلاک ہوگا۔ ہمیں ابوقلابہ نے یہ حیدث بیان کی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ فرشتے کتابوں کا ڈھیر اٹھا کر لائے اور اس کو شام میں لا کر رکھ دیا۔ میں نے اس کی یہ تعبیر لی کہ جب فتنے پھیل جائیں گے تو ایمان شام میں ہوگا، اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ میں فرمایا ایک جماعت شام میں ہوگی اور ایک جماعت عرقا میں ہوگی اور ایک جماعت یمن میں ہوگی۔ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! میرے لئے ان میں سے کسی جگہ کو منتخب کیجیے۔ آپ نے فرمایا تم شام میں رہنا کیونکہ اللہ تعالیٰ میرے لئے شام کا اور وہاں کے رہنے والوں کا ضامن ہوگیا ہے، اور ہم کو بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے کعب سے کہا اے کعب ! تم مدینہ سے کیوں منتقل ہو رہے ہو ؟ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجرت کی جگہ ہے، یہیں آپ کی قبر (مبارک) ہے۔ کعب نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے اللہ کی نازل کردہ کتاب (تورات) میں پڑھا ہے کہ اللہ کی سر زمین میں شام اللہ کا خزانہ ہے اور اس کے پسندیدہ بندے بھی وہیں ہیں۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18635)
امام ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب کی طرف ہجرت کی اور ان کے ساتھ حضرت لوط (علیہ السلام) بھی گئے اور آپ نے اپنی عم زاد حضرت سارہ سے نکاح کرلیا۔ وہ اپنے دین، اپنے رب کی عبادت اور اپنی جان اور عزت کی حفاظت کرتے ہوئے نکلے۔ حتٰی کہ حران (ایک جگہ کا نام) میں ٹھہرے اور جب تک اللہ نے چاہا، وہاں رہے پھر آپ ہجرت کر کے مصر چلے گئے پھر مصر سے شام واپس چلے گئے اور فلسطین میں ٹھہرے اور حضرت لوط (علیہ السلام) الموتفکۃ میں ٹھہرے جو وہاں سے ایک دن رات کی مسافت پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو نبی بنا کر بھیجا۔ (جامع البیان رقم الحدیث :18638)